سنسان راستے لٹے ہوئے لوگ!


مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں بہت چھوٹا سا تھا تو ابو دفتر جایا کرتے تھے، ہماری امی جان با آواز بلند کہتی تھیں جائیں اللہ تعالیٰ آپ کو خیریت کے ساتھ لے جائے اور ساتھ خیریت کے واپس لائے آمین۔ مگر آج جب مائیں بہنیں، بہو بیٹیاں اپنے پیاروں کو دفتر روانہ کرتی ہیں، ہاتھ میں کھانے کا ٹفن دیتی ہیں تو سب سے پہلے کہتی ہیں دیکھ بھال کر جانا کوئی چور ڈاکو نہ ٹکر جائے، مائیں نوافل پڑھتی ہیں جب ان کا بیٹا یا بیٹی ملازمت سے یا اسکول کالج سے گھر واپس پہنچتے ہیں، پہلے صرف سڑک پر ہونے والے حادثوں کا ڈر خوف رہتا تھا مگر اب تو ایسے لگتا ہے جیسے ہمیں دفتر کے لیے رخصت نہیں کیا جا رہا بلکہ کسی جنگ پر بھیجا جا رہا ہے، اور جنگ بھی ایسی کے ہم نہتے ہیں اور دشمن کے پاس تمام ہتھیار پستول، ٹی ٹی، کلاشنکوف، چھرے، چاقو غرض کے ہر وہ ہتھیار ہے جس سے کسی غریب، نہتے اور معصوم شہری کی جان لے لی جائے گی۔

یہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں، ہم اپنے ملک میں اپنے شہر، اپنے گلی محلے میں بھی محفوظ نہیں ہم گھرے کے گیٹ پر آ کر لوٹ کر چلے جاتے ہیں یہ دندناتے ڈاکو، یہ کیسا دور چل رہا ہے، کون لوگ ہیں یہ؟ جو صبح صادق، دن دیہاڑے، شام ڈھلے، رات کے اندھیروں میں ہمیں لوٹ لیتے ہیں۔ پہلے ہمیں سنسان راستوں پر کتوں یا کسی وحشی جانور سے ڈرل لگتا تھا اب انسانوں سے ڈر لگتا ہے، پہلے ہم رات میں قبرستان اس لیے نہیں جاتے تھے کے وہاں کوئی روح یا بھوت پریت نہ مل جائے مگر اب ڈر لگتا ہے یہ ڈاکو وہاں گھات لگائے بیٹھے ہوں گے، مجھے تو لگتا ہے قبرستان میں بھٹکنے والے ان دیکھی چیزیں بھی ان سے ڈر کر کہیں اور شفٹ ہو گئی ہوں گی، وہ بھی سوچتی ہوں گی کہ ہم انسانوں کو کیا ماریں یہ تو خود اپنوں کے ہی ہاتھوں مرنے والے ہیں۔

کوئی بھی چینل، ویب لنک، واٹس ایپ، فیس بک پر چاکر دیکھے ان گنت خبریں، ویڈیوز، لگی ہوتی ہیں روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں کسی معصوم، بے گناہ شہری کے لٹنے کی، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے ہاتھوں قتل ہونے کی ویڈیوز اور خبریں بھری پڑی ہوتی ہیں، جہاں دیکھیں وہاں لوٹ مار ہو رہی ہے، یہ بات درست ہے کہ ہر گلی اور ہر محلے میں ایک پولیس والا تو کھڑا نہیں ہو سکتا مگر اس میں علاقے کے پولیس اسٹیشن والوں کو اپنے اپنے علاقوں میں منظم کارروائی کرنا ہو گی، اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے پر نظر رکھیں کے آخر یہ مشکوک چور، ڈکیت اور بدمعاش آتے کہاں سے ہیں، اگر کسی بنک، پوسٹ آفس یا

ایزی پیسہ کی دکانوں کے سامنے کوئی مشکوک شخص یا افراد کھڑے ہیں،

تو کس لیے اب تو پولیس بھی ان ڈاکوؤں سے شدید تنگ آ چکی ہے، اور کئی جگہوں پر تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رات کو دیر سے نہ نکلیں، سناٹے میں نہ جائیں، بنک سے پیسے نکالنے جائیں یا اے ٹی ایم کے ذریعے دیکھ بھال کر جائیں، جیب میں ضرورت سے ہٹ کر زیادہ پیسے نہ رکھیں، اے ٹی ایم، بنک کریڈیٹ کارڈز نہ رکھیں، بلا وجہ کسی علاقے میں نہ جائیں، رات کو دیر گئے کہیں نہ جائیں، جن راستوں سے آپ واقف نہ ہوں ان پر تو ہر گز دیر سے نہ جائیں، اپنے علاقے پر بھی نظر رکھیں۔

اس کے علاوہ کوشش کریں کے گلیوں محلوں میں فضول میں کہیں باہر نہ بیٹھیں۔ یہ وحشی درندے ڈاکو دونوں صورتوں میں ہی ہمارا نقصان کرتے ہیں کچھ ہونے پر سب کچھ لوٹ لیتے ہیں اور نہ ہونے پر بھی مار کر یا زخمی کر کے چلے جاتے ہیں کیوں کہ یہ تو نکلے ہی مرنے مارنے کے لیے ہیں، ان کی سمجھنے کی صلاحیت اور انسانیت تو مر ہی چکی ہوتی ہے۔ یہ کسی کو انسان تو سمجھتے ہی نہیں، دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ لوگ نشے کر کر کے، شرابیں پی پی کر اپنے اندر کا درد، انسانیت کھو چکے ہوتے ہیں اور ان کے اندر حیوانیت بہت ہی بری طرح پھیل چکی ہوتی ہے۔

میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کے آج کے دور کے انسان میں ایک بہت بڑی تبدیلی آ گئی ہے، ایک تو ٹیکنالوجی جدید ہونے سے دوسرا نفسیاتی مسائل بڑھ جانے سے، غربت، بھوک افلاس کے بڑھ جانے سے ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے جو چیز پسند آ جائے یا تو وہ اسے پیسوں سے حاصل کر لے یا پھر چھین کر۔ میں نے زیادہ تر پکڑے جانے والے چوروں اور ڈکیتوں کے تاثرات سنے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کا بھی دل چاہتا ہے کہ وہ ہر وہ اچھی چیز استعمال کریں جو دوسرے کرتے ہیں مثلاً اچھا بڑا موبائل فون، ٹیبلیٹ، موٹر سائکل، گھڑی عیاشی کرنا جب وہ یہ چیزیں حاصل نہیں کر سکتے تو وہ ہمارے پاس بھی نہیں رہنے دیتے اس لیے چھین لیتے ہیں، ہم سے چھینے اور لوٹ جانے والے پیسوں کو حصوں میں بانٹ کر نیا موبائل فون خریدتے ہیں، اپنا نشۂ پورا کرتے ہیں، کئی پکڑے جانے والے ڈاکو تو ایسے بھی تھے کے جن کے گھر والوں کو ان کی ایسی حرکتوں اور وارداتوں کا علم بھی نہیں تھا۔

میرا مشورہ ہے آپ کو کہ براہ کرم احتیاط کریں، دور رہیں ایسی جگہوں سے، ایسے دوستوں سے اور ایسی بیٹھک میں نہ جائیں جہاں آپ کو نقصان پہنچے۔ اس بات کو بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کے چوری ڈکیتی اور کرائم کی وارداتوں نقصان ایک عام اور شریف آدمی کا ہی ہوتا ہے اس لیے خیال رکھیں اور کوشش کریں کے نہ تو ایسے دوست بنائیں اور نہ ہی ایسے دوستوں کے پاس جائیں، ڈیوٹی پر جانا ہو تو سیدھا آفس جائیں اور واپسی پر اگر کوئی کام نہ ہو تو سیدھا گھر واپس جائیں۔ کوشش کریں کے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانا مقصود ہو تو کسی رش والی جگہ سے نکالیں اور باہر کسی کو کھڑا کریں تاکہ وہ آپ پر نظر رکھے اور کسی بھی

ایمرجنسی میں 15 پر کال کر سکے یا مدد کے لیے کسی کو بلا سکے۔ اسی طرح اگر بنک پیسے نکالنے جائیں تو خیال رکھیں آگے پیچھے دیکھ کر جائیں، ان ڈکیتوں کے کارندے بنکوں کے آگے پیچھے ریکی کرتے رہتے ہیں اور ہر آنے جانے والے کسٹمرز پر گہری نظر جما کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے علاقے میں پولیس وین اور موبائلز بھی گشت کرتی رہتی ہیں اور کسی بھی بنک کے آگے اگر کوئی مشکوک شخص کھڑا ہو تو اسے روک کر پوچھتی بھی ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں خود بھی اپنی حفاظت کرنی ہے۔

اس وقت لوگ بھوکے ہو چکے ہیں غربت، مہنگائی، بے روزگاری نے سب کو نفسیاتی بنا ڈالا ہے، لوگ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کے انہیں کیا کرنا چاہیے، ہر طرف چھینا چھپٹی لگی ہوئی ہے اور میں اس سلسلے میں ایک اور بات بھی سمجھ پایا ہوں کے آخر وہ شخص جس کے پاس کھانے پینے کو پیسے نہیں ہوتے وہ اتنی مہنگی ٹی ٹی پستول یا کلاشنکوف کہاں سے لے آتے ہیں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان ڈاکوؤں کو چلانے والا بھی کوئی نیٹ ورک چل رہا ہے جو ان ڈاکوؤں کو اسلحہ دیتا ہے ان سے وارداتیں کرواتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ٹی ٹی پستولیں کرائے پر ملتی ہوں ان کو، بہت ساری باتیں ہیں جن پر سے پردہ اٹھنا باقی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments