نہ ہونے والا آشیانہ


اس کو اس بات کا ہمیشہ سے ادراک تھا کہ کچھ کمی سی ہے مگر اس ادراک نے اس کے احساس اور اعصاب پر کھل کر حکومت نہیں کی تھی۔ بہت سے کربناک خیالوں اور حادثوں کے ساتھ اس کا یہ ادراک بھی لاشعور کے پاتال میں پناہ لئے ہوئے تھا۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی میں کئی بار اس کا یہ خاموش کیا گیا ادراک شور مچائے گا۔ اتنا شور مچے گا کہ اس کا دل اس شور کے ریلا میں کہیں بہہ جائے گا۔ یہ وہی وقت تھا جب پہلی بار اس کے احساس کے لب کھلے تھے اور رستے ہوئے زخموں سے چور کچھ اصوات پیدا کر رہے تھے۔ برسوں سے بوسیدہ سمجھے جانے والی حسرت نے جو کینچلی بدلی تو سینے کو ہی ڈس لیا۔ ”بتایا نہیں جا رہا تو سہنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟“ اس نے رک کر خود سے سوال کیا اور میرے ہاتھ تھام لئے۔

وہ سب کی کہانیاں جمع کرتی تھی، لکھتے لکھتے ہاتھ رکتے نہیں تھے مگر جب خود پر بنی تو خاموش ہو گئی۔ ”بیان سے باہر تو ہے مگر قابل بیان بھی تھا مگر الفاظ اور جذبات کی ڈوریوں کے بننے کا فن جیسے معدوم سا ہو گیا ہو“ ۔

اس نے مجھ سے کہتے ہوئے یوں بلک کر رونا شروع کیا جیسے وہ صدیوں کی تجربہ کار ہو جس نے اس کو رونے میں کمال عطا کیا ہو۔ ماتم تھا مگر ہچکی تک کی آواز بھی میری سماعتوں سے ٹکرانے سے باز رہی۔ شکوے اور حزن کی حیا ہی ایسی تھی کہ کسی کو سنائی نہ دے۔ اس کے سینے میں ابلنے والے غم کا حجاب تھا کہ کسی کو اس کا دکھ بھرا چہرہ دکھائی تک نہ دیا۔ اس روز اس کی آنکھ سے آنسو چھلک کر ساحل پر پتھروں سے ٹکراتی لہروں کی طرح چاروں طرف بکھرتے رہے۔

کوئی اس کی رخسار سے ٹپکتے گردن تک گرتے تو کوئی اس کی قمیض کے گلے سے ہو کر اس کی چھاتی میں چھپتے تھے کہ روتے روتے وہ اپنے گلابی رنگ کے ململ کے آنچل سے آنکھیں اور چہرہ ہی نہیں قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر نمی کو بھی مسلسل سکھاتی رہی۔ اس کے سینے کے اندر لگی درد کی لو سینے پر گرتے آنسو بجھا نہیں پا رہے تھے۔ وہ بارش تھی، جس کے بے تحاشا قطرے اس کی گالوں پر پڑے پڑے سوکھتے تو اس کو وہاں کھجلی ہونے لگتی جس کو دھیما سا کھجا کر وہ گال لال کر بیٹھتی۔

پھر اس کے درد کی ہمت جواب دیتی تو آنسو کا یہ ریلا تھم جاتا۔ چند لمحوں پر محیط ہی سہی مگر اس کو صبر آتا۔ یہ لحظے آنکھ جھپکنے کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچتے اور بنا آواز کے ماتم کا نیا دور شروع ہوتا۔ ایسا خاموش طبع کہرام تھا کہ اس کے بیدار ہوئے ٹوٹے خوابوں اور ہلچل کرتی مستقبل کی آرزوئیں چلاتی اور کسی کو آواز تک نہ جاتی۔

”مجھے یہ بڑے بڑے اور روشن مالز اور سوپر مارکیٹوں میں جانا کبھی بھلا نہیں لگا۔ ہمیشہ سے مجھے ان جگہوں نے صدمہ پہنچایا ہے، مجھے وہاں جا کر اک عجیب سا دکھ گھیر لیا کرتا ہے۔ میرے دل کے بہت سے خانے خود بہ خود خالی ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ میری سہمی ہوئی تمنائیں مزید خود زدہ ہوتی، دنیا بھر کی خلش اور کسک کا جیسے ملاپ میرے دہشت زدہ احساسات میں ہی ہوتا۔ یہ جگہیں میرے ذہنی سکون کو روندتی تھیں اور میں کھل کر کچھی اظہار نہ کر پاتی۔

میرے اظہار کی وقعت بھی کیا تھی؟ یہ میری لڑائی تھی اور اس کو لڑنا میری ازلی ذمہ داری۔ میں نہیں لڑوں گی تو کھائی جاؤں گی، نگلے جانے کا احساس کیسا ہیبت ناک ہوتا ہے۔ جیسے ایک بڑا سا اژدہا اپنی موج میں پھدکتے کودتے ہرن کو نگلتا ہے، بالکل ویسا احساس۔ مگر اس روز میری جنگ کا پہلا نشانہ میں تھی۔ مجھے زخم تازہ لگا تھا۔ ٹیسیں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ اٹھ رہی تھیں اور ملبے سے اٹھنے والے دھوئیں میں تپش بھی تھی اور زہر بھی۔

گائناکالوجسٹ نے مجھے کہہ دیا کہ اگر شادی کرنی ہو تو کسی ایسے مرد سے کرنا جس کی پہلی بیوی مر گئی ہو۔ میں نے یہ کس کو کہا کہ میں مرض کی دوا کرنے نہیں گئی تھی؟ میں بہت ہمت والی ہوں، کسی کے سامنے روتی نہیں ہوں، سچ بتاؤں تو رونا آتا بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ روتے ہوئے بری لگتی ہوں مگر ہاں وہ رات تو بہت بھاری تھی، اس شب کے بعد جب جب سورج طلوع ہوا میرے لئے اپنی کرنوں میں جیسے ہزاروں مایوسیوں کا سامان لے کر ہوا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ جس کی بیوی مر گئی ہو وہ اچھا بھلا نہیں ہوتا نہ میں یہ کہہ رہی ہوں کہ میں سورج کے لئے کوئی معنی رکھتی ہوں۔ آپ سمجھ رہی ہیں نا؟

کیا آپ کو برسوں پرانی قلت درد نہیں دیتی۔ برسوں پرانا غم جو روز آپ کے زندہ ہونے کے ثبوت کے ساتھ تازہ رہتا ہے۔ میں چاہتی تھی کہ اس رات ساری دنیا میں خاموشی طاری ہو جائے اور اندھیرا چھا جائے۔ اس ہو اور سناٹے میں میرے تک کوئی آواز، کوئی سایہ، کوئی فرد نہ پہنچ سکے۔ میرا ہر انسان سے رابطہ کٹ جائے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ تنہا ڈاکٹروں کے پاس جانا، ڈھیروں ٹیسٹ کروانا کیسا لگتا ہے؟ یہ نہیں کہ میں اکیلی ہوں۔ یہ بھی نہیں کہ اکیلا انسان کمزور ہوتا ہے۔ بس ایک ریت جو ہے نا۔ ہاں میں اپنی ذات میں تو اب اکیلی ہوں اور اس میں بڑائی ہی ہے برائی نہیں مگر۔ جب کوئی نالی لگی سوئی لگا کر خون نکالتا ہے آپ تب اکیلا ہونا یا درد محسوس نہیں کرتے، تب دماغ بالکل خالی ہوتا ہے۔ آپ کو کوئی پشیمانی اور ندامت نہیں ہو رہی ہوتی الٹراساؤنڈ، ایم آر آئی، یا ایکسرے کرواتے وقت آپ بالکل تنہا ہوتی ہیں۔

وہاں آپ، آپ کا مرض، لیب ٹیکنیشن اور وہ مشینیں ہی ہوتی ہیں۔ وہ مشینیں ہمارے جسموں کے روئیں روئیں کو پرکھتی ہیں، اس سے پہلے کہ کوئی اور پرکھے اور جھٹلا دے۔ یہ مشینیں پرکھ کر تنبیہ کر دیتی ہیں۔ یہ آنے والے ان جسمانی اور اعصابی دردوں کا پہلے سے ہی سراغ لگاتی ہیں۔ مگر ان بند کمروں میں آپ اور وہ مشین ہوتی ہے، جہاں ڈاکٹر یا لیب ٹیکنیشن آپ کے جسم کو پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے ہیں۔ کوئی آ کر آپ کی قمیض اتارتا ہے تو کوئی شمیض کا حوالہ دیتا ہے۔ اس میں اخلاقی طور پر کچھ غلط تو نہیں۔ بس یہ تو ان قابل ذکر اور ناقابل بیان لمحات کی آپ بیتی ہے جو ہماری ذات تک ہے۔

بستر پر پڑے میں بہت اکیلی تھی، کمرے کی چھت جو ان لمحوں جب الٹراساؤنڈ مشین کا ناب میرے اندر کھب رہا تھا تب مجھے وہ چھت ظلمتوں سے بھری خلا محسوس ہوئی۔ خالی اور ویران۔ یہ عجیب، شرمندہ کرنے والا، بے چین کرتا تکلیف کا احساس ہے جو ان مشینوں کے آس پاس ٹیکنیشنز کے ہاتھوں جسمانی اعضاء اور لباس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر ہوتا ہے۔ ان عجیب و غریب اور نادم لمحات میں چھائی خاموشی مجھے احساس دلاتی رہی کہ یہ سب میرے ساتھ کیسے ہو سکتا تھا؟ بچپن میں جھولے سے گرتی اور بڑی عمر کے لڑکوں سے بھائی کی خاطر لڑتی وہ چھوٹی سی بچی یہاں کیسے آ گئی؟ مجھے خود سے زیادہ اس معصوم بچی کے مستقبل کو دیکھ کر چھت پر چھایا وہ خلاء بھاری محسوس ہوا جو بڑھتے بڑھتے میری آنکھوں کو اپنے اندر ڈبونا چاہتا تھا۔

وہ بچی میرے سامنے آ گئی تو میں اس کو کیا جواب دوں گی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی مساوی دنیا میں میرا وہ بچپن ابھی ہو، میں اس بچی کو کچھ مفید مشورے دینا چاہوں گی۔ مجھے خود بھی خدشہ ہے کہ اس نے مجھ سے سوال کر ڈالا تو میں کیا جواب دوں گی؟ کیا ہم دونوں ایک دوجے کا ہاتھ تھام کر گلے لگیں گی؟ ایک دوسرے کی اپنے اپنے وقت کی دنیاؤں میں ڈھارس بنیں گی؟ کیا ممکن ہے میں اپنے مستقبل میں اپنی ذات سے مل کر پوچھ سکوں کہ یہ سب کہاں تک ستائے گا؟ ”

اس وقت اس کے آنسو تھم چکے تھے مگر وہ گفتگو کا سلسلہ ایسے جاری رکھے ہوئے تھی جیسے اس کے سینے پر لادا گیا بوجھ بڑھتا جا رہا ہو۔

تمہیں بڑے بڑے سٹورز اور مالز میں جانا کیوں پسند نہیں؟

”ہاں، اس روز میرا دل میرے اختیار سے کوسوں دور باہر نکل گیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار مجھے شدت سے میری محرومی کا احساس ہوا تھا۔ پہلے یہ محرومی میرے اندر رچ بس چکی تھی مگر یوں ڈاکٹر اور ٹیسٹوں کے سلسلے نے میرے اندر جیسے اس کو ایسے بیدار کیا جو شاید اس مرض کا حق تھا، جو میں نے ہی اس کو خود کو بہادر اور اعصابی طور پر مضبوط ہونے کے گمان میں نہیں دیا۔ میں نے اپنے وجود کی ترتیب کا ہی حق مار ڈالا تھا؟ مجھے شاید پہلی بار اکیلے رہ جانے کا احساس ہوا، اس لئے کہ میں اس محرومی اور مرض میں مبتلا ہوں۔

میں خود کے لئے کافی ہوں۔ ہاں میں اس پر قابو پا لوں گی۔ مگر ابھی یہ گھاؤ تازہ ہے اور بہت عرصے تک رہے گا۔ میں نے اس روز اس سوپر مارکیٹ میں اپنے نہ پورے ہونے والے مستقبل کو دیکھا، میں نے نوجوان جوڑوں کو ان کے ننھے منے بچوں کے ساتھ دیکھا، میں نے لڑکیوں کو ان کی گود میں اٹھائے نونہالوں کو دیکھا۔ میں نے اپنے نہ ہونے والے ساتھی اور کبھی نہ بننے والے آشیانے کو دیکھا“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments