تنہائی اور جدید گیجٹ


سہ پہر ڈھل گئی اور دن نے چوتھے پہر میں قدم دھر دیا تو میری آنکھوں، ماتھے اور سر میں تھکن کی ٹیسیں بہت بڑھ گئیں۔ چنانچہ میں نے فون کو بیڈ پر اچھال دیا، نظر کی عینک اتار کر ہاتھوں سے آنکھوں کو سہلایا اور باہر لان میں آ گیا۔ چارپائی پر چت لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔ سوچا کہ اب کچھ دیر یا تو آنکھیں بند رکھوں گا اور اگر کھولیں تو بس فطرت کو دیکھوں گا۔ نیچر کو نیچر کے حوالے کردوں گا، وہ جو ازل کے ساتھی ہیں۔ دو پیروں پر چلنے والا ہومو سیپئن جب بھی پہلی دفعہ زمین کے سینے پر چلا ہو گا تو بصارت اس کے ساتھ ہی فعال ہوئی ہوگی۔ فطرت کی عطا کردہ بصارت سے اس نے فطرت کے مناظر ہی تو دیکھے ہوں گے۔ درخت، پھول، گھاس، پرندے، آسمان سبھی کچھ۔

میں نے آنکھیں کھولیں تو شمالی دیوار کے ساتھ کھڑے دونوں درختوں اور ہماری چھت کی باؤنڈری وال کے درمیان سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا۔ اس کی نیلاہٹ میں بے پانی کی سفید بدلیوں کی ہلکی دھند گھلی ہوئی تھی۔ انسان کی آنکھ کا لینز ایک سو اسی درجے کی تصویر کشی کرتا ہے، افق تا افق۔ میرے دائیں بائیں فطرت پھیلی ہوئی تھی، سوائے دائیں جانب تاروں پر سوکھتے کپڑوں اور میرے بالیں جانب کھڑی گھر کی عمارت کے۔ ان دو کے علاوہ ہر سو فطرت تھی۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں فطرت کے پرانے لفظی مصوروں کی طرح درختوں، پودوں اور بیلوں کے نام لے لے کر منظر بیان کروں مگر اس میں دو قباحتیں ہیں۔ ایک تو درختوں کے نام انسان نے رکھے ہیں، سو یہ کلچر تو ہیں فطرت نہیں۔ دوسری قباحت یہ ہے کہ مجھے درختوں، پودوں کے نام آتے ہی نہیں۔ آم، ٹاہلی اور کیکر، ان تین درختوں کے علاوہ مجھے کسی کی پہچان نہیں۔

بہر حال، میں نے تاروں پر سوکھتے کپڑوں اور عمارت کی طرف سے دھیان ہٹایا تو مشرقی دیوار کی بیلیں اور ان پر کھلے سرخ پھول میرے ہم رکاب تھے۔ فرش پر بچھی گھاس اور اوپر درختوں کی شاخوں پر بیٹھتے، اڑتے پرندے جن میں چڑیاں تھیں اور بلبلوں کا وہ جوڑا بھی جو پڑوس میں خانہخدا کے وضو خانے پر کھڑے چھتنار پیڑ میں رہتا ہے۔ دور اوپر آسمان پر چیلیں تیرتی تھیں۔ دو چار پر مار کے بلندی پر پہنچ جاتیں اور پھر اپنے طویل پر پھیلا کر ہوا کے دوش پر دیر تک تیرتی تھیں۔

ان سے ذرا نیچے کوے یہاں سے وہاں اڑے پھرتے تھے۔ شام ہو جانے کو تھی سو وہ واپسی کا قصد کرتے تھے۔ صدیوں سے یہ درخت یونہی کھڑے ہیں، ہزاروں برس سے یہ فضائیں ان پرندوں کا مسکن ہیں۔ نہ درختوں نے اپنی وضع بدلی اور نہ پرندوں نے اپنی خو۔ چرند اور درند بھی اپنے قدیمی معمول کے اسیر ہیں۔ اللہ کی زمین پر چل پھر کے رزق تلاش کرتے ہیں اور کسی کھوہ میں، کسی غار میں پڑ کے سو رہتے ہیں۔ میں بھی کبھی ایسے ہی رہتا تھا۔ درختوں پر ، پتھروں کی اوٹ میں اور پہاڑ کے غاروں میں۔ پھر میں ان سے دور ہو گیا اور یہ سمجھا کہ میں نے آرام خرید لیا لیکن دراصل میرے حصے میں آنکھ، سر اور ماتھے کی ٹیسیں آئیں۔

آپ کو پتہ ہے ناکہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی سے انسان کس قدر ”مصروف“ ہو گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ شہروں میں بسنے والا انسان شاید ایک لمحہ بھی خالی نہیں بیٹھ سکتا۔ خود کو دیکھتا ہوں تو کتاب، فون، ٹی وی میں ہر وقت گم۔ ریسٹ روم جاتے ہوئے بھی یہ موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے کہ وہاں جو پانچ سات منٹ کی کارروائی برپا ہوگی، اس دوران فارغ وقت بھلا کیوں کر گزرے گا۔ ایک مدت ہو گئی مجھے خود اپنے ساتھ وقت گزارے۔ اگلے روز ایک نوجوان کہہ رہا تھا کہ اب تو واٹر پروف فون آ گئے ہیں۔ شاور کے نیچے کھڑے ہو کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ تحریر اتوار کی شام ڈھل چکنے کے بعد لکھی جا رہی ہے۔ میں چھٹی کے دن کا معمول یاد کرتا ہوں تو صبح اٹھنے کے بعد سب سے پہلے فون دیکھا، پھر گھنٹہ بھر اخبارات دیکھے۔ کچھ دیر کتاب پڑھی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے لئے سو گیا۔ اٹھ کے نیٹ فلیکس پر ایک فلم دیکھی۔ واٹس ایپ پر دوستوں کے ساتھ چیٹ کی۔ فیس بک پر ایک پوسٹ چڑھائی۔ دوستوں کی پوسٹیں دیکھیں۔ گھر کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کیا اور پھر سہ پہر کے وقت لنچ، تب بھی سامنے ٹی وی چلتا رہا۔

ڈھلتی سہ پہر جب میری آنکھیں دکھنے لگیں، ماتھا بھاری ہو گیا اور سر بوجھل تو میں نے سوچا میرے بچپن، لڑکپن، جوانی میں جب یہ آلہ نہیں تھا تو میرا وقت کیسے گزرتا تھا؟ مجھے یاد آیا تب گھروں کے آنگن آباد تھے۔ آس پڑوس کے بچے کسی ایک آنگن میں مل کر کھیلا کرتے تھے۔ درختوں کی چھاؤں میں منڈلیاں لگتیں۔ انسان، انسانوں کے دکھ سکھ سنا سنایا کرتے تھے۔ اس شعر کی تفسیر

غم بانٹنے کی چیز نہیں پھر بھی دوستو
اک دوسرے کے حال سے واقف رہا کرو

میں نے سوچا ہم گھر کے لوگ اک دوسرے سے بس ضرورت کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے موضوعات کہاں کھو گئے ہیں؟ انٹر نیٹ سے پہلے وہ کون سے ایشوز تھے جن پر لوگ اک دوجے سے باتیں کیا کرتے تھے؟

فون کو بیڈ پر اچھال کر باہر نکل آیا کہ گھر کے لوگوں سے گپ شپ کروں مگر وہ سب اپنے اپنے فون کی سکرین میں گم تھے۔ ان کی آنکھیں، دماغ او ر ماتھا ابھی نہیں تھکے تھے۔ باہر لان میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ برآمدے میں ہمارا بلو لیٹا ہوا تھا۔ پرندے اور درخت ہوا کھا رہے تھے۔ مغرب کو جھکا سورج مشرقی افق پر الوداعی نگاہیں ڈالتا تھا۔ ہوا رسان سے بہہ رہی تھی۔ یکایک مسجد کے وضو خانے والے چھتنار پیڑ کی شاخوں سے کوئل بولی۔ یہ سب اپنے گرد و پیش کا لطف اٹھا رہے تھے کیونکہ ان کے پاس جام جہاں نما نہیں تھا۔ ان کو سکرین اور انٹرنیٹ کا شعور نہیں کہ دور والوں سے جڑے رہیں اور پاس والوں سے بے خبر۔

ایک نظر پیڑوں پر اور منڈیر کے بیچ سے جھانکتے آسمان پر ڈالی اور سوچا ابھی سورج منہ چھپا لے گا تو ایک ایک کر کے ستاروں کے چراغ روشن ہونے لگیں گے۔ ملکی وے کے ستارے اور وہ ہم سے پچیس لاکھ نوری برس دور اینڈرومیڈا کے ستارے۔ میں فطرت کے حسن میں گم ستارے دیکھ رہا ہوں گا تو ہو سکتا ہے کہ یک بہ یک فقط ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دور اڑتے امریکی کمپنی سپیس ایکس کے ان سیٹلائٹس کی روشن قطار بھی دخل در معقولات کو دکھائی پڑ جائے جو سٹارلنک پراجیکٹ کے تحت چھوڑے گئے ہیں۔ تین سے سات میٹر لمبے اور ڈیڑھ سے تین میٹر چوڑے بائیس سو سیٹلائیٹ فضا میں چھوڑے جا چکے ہیں۔ یہ ایک روشن ٹرین کی صورت آسمان میں تیرتے ہیں۔ مجموعی طور پر بیالیس ہزار ایسے سیٹلائٹ زمین کے گرد چھوڑے جانے ہیں۔ یہ پراجیکٹ (سٹارلنک) مکمل ہو جائے گا تو زمین کے ایک ایک انچ پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہوگی۔

گویا آنے والے دنوں میں پوری دنیا سے جڑا انسان شاید اپنی ذات میں مجھ سے بڑھ کر تنہا ہو گا۔

Latest posts by سجاد جہانیہ (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments