پاکستان کے نظام تعلیم بارے بہت سی تحریر لکھی جا چکی ہیں۔ تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب دو الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ عام طور پر لکھاری ان دونوں چیزوں میں خلط مبحث پیدا کرتے ہیں۔ تعلیمی نصاب کا تعلق صرف یہ متعین کرنا ہوتا ہے کہ بچوں کو بنیادی تعلیم کے لئے کون سے مضامین اختیار کروائے جائیں۔ مثال کے طور پر پرائمری حصے میں کون سے مضامین شامل کیے جائیں؟ اسی طرح مڈل، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ وغیرہ۔ پاکستان میں اس وقت نصاب کی بجائے نظام پر توجہ کی ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان میں تین اقسام کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ جس میں اردو میڈیم، انگلش میڈیم اور دینی مدارس۔ پاکستان بننے سے لے کر اب تک بہت سی حکومتوں نے تعلیمی پالیسیاں مرتب کی۔ تاہم زیادہ تر تعلیمی نصاب کی تجدید نو اور بجٹ بارے بنائی گئی۔ شاید اس بات کا درست ادراک نہیں ہوسکا اور اسی کشمکش میں تعلیمی پالیسیاں بنتی رہی کہ اصل تعلیمی نظام سارا کا سارا نصاب پر منحصر کرتا ہے۔ شاید یہی خلا ہے جسے مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے وفاقی وزیر تعلیم کی نگرانی میں تعلیمی نظام کو ازسرنو جائزہ اور نظام تعلیم کو درست کرنے کے لئے سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے انہیں ٹاسک سونپا گیا۔ وزارت تعلیم نے مرحلہ وار یکساں نظام تعلیم کو رائج کرنے کا حتمی اعلان کیا اور پرائمری نصاب یکساں کیا۔ اور تمام پرائیویٹ و سرکاری اداروں میں وہی پڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد مڈل، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

لیکن بات وہی پر ٹھہرتی ہے کی تعلیمی نظام کو درست کرنے کے چکر میں تعلیم نصاب پر فوکس کیا اور ملک میں تین اقسام کا نظام جوں کا توں ہے۔ دینی مدارس اور انگلش میڈیم ادارے پورے زور و شور کے ساتھ اپنے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم تب ہی یکساں ہو گا جب یکساں نصاب کے ساتھ ساتھ دینی مدارس اور انگلش میڈیم اداروں کا مکمل صفایا کیا جائے۔ تاہم اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے مذہبی طبقے کی طرف سے آئی گی کہ جب دینی مدارس کو ختم کیا جائے گا۔

بارہ سال کی تعلیم جسے (وسیع بنیاد) تعلیم کہا جاتا ہے۔ ہر بچے کو لازمی دی جائے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ اس میں بچے کو اختیار دیا جاتا ہے وہ چاہے دین کا عالم بنے، انجینئر، ڈاکٹر یا وکیل۔ یونیورسٹی کی تعلیم میں بچے کو اختیار دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بارہ سال کی تعلیم دی جائے۔ انسانی نفسیات کا بھی یہی تقاضا ہے کہ پہلے بچے کو بنیادی تعلیم سے بنیادی علم و ہنر سکھایا جائے بعد میں بچہ خود فیصلہ کرے گا کہ وہ یونیورسٹی میں کس مضمون کا انتخاب کرتا ہے۔ کیونکہ دینی تعلیم ہر بچے یا انسان کی ضرورت نہیں۔

ویسے بھی ہر انسان پیدائشی طور پر مختلف خواہشات و جستجو لے کر آتا ہے۔ اگر بچے کو پچپن میں ہی دینی مدرسے میں داخل کر دیا جائے گا تو یہ اس کی مرضی کے منافی ہو گا اور اس پر محض ٹھونسنے والی بات ہوگی۔ وہ جس مکتب فکر کے مدرسے سے تعلیم حاصل کرے گا وہ اسی کا کلٹ ہو کر رہ جائے گا۔ اس سے بچے کے نفسیاتی و سماجی مسائل جنم لیں گے۔ اسی طرح اگر کسی بچے کو بچپن میں ہی اس سکول میں داخل کروا دیا جائے جہاں ڈاکٹر بنائے جاتے ہیں تو شاید بچہ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر لے بعد میں معلوم پڑے کہ بچہ ڈاکٹر نہیں وکیل بننے کی چاہت و جستجو لے کر پیدا ہوا ہے۔ اس سے بچے کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ اکثر ہمارے والدین کی اپنی اپنی خواہشات ہوتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے ہیں حالانکہ اس بات کا مکان ہو سکتا ہے کہ بچہ وکیل بننے کی آرزو کے ساتھ پیدا ہوا ہو؟