’سدرہ ہماری لاڈلی بیٹی تھی ہم نے کبھی اس پر ڈاکٹر بننے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا‘  


’سدرہ میری اور اپنی والدہ دونوں کی لاڈلی تھی۔ ہم اس سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور ہم نے اس پر کبھی یہ دباﺅ نہیں ڈالا کہ اس نے ہر قیمت پر ڈاکٹر بننا ہے۔‘

یہ کہنا تھا کہ بلو چستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے امجد رحیم کا، جن کی بیٹی سدرہ بی بی نے مبینہ طور پر میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ میں نمبر کم آنے پر دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لے لی تھی۔

سدرہ بی بی نے گذشتہ اتوار کو کوئٹہ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے منعقدہ ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔

امجد رحیم کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ داخلہ ٹیسٹ میں نمبر کم آنے پر ان کی بیٹی مایوس ہوئی ہو لیکن ہمارے گھر کے کسی فرد کی جانب سے اس پر کسی بھی قسم کا کوئی دباﺅ نہیں تھا۔‘

سدرہ بی بی کون تھی؟

سدرہ بی بی کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے دوردراز ضلع کیچ سے تھا۔

انھوں نے ایف سی تک تعلیم ضلع کیچ سے حاصل کی تھی۔ سدرہ بی بی کے والد امجد رحیم نے کیچ سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو جنون کی حد تک ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔

چونکہ کیچ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں میڈیکل اور دیگر پروفیشنز سے متعلق کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے سلسلے میں مناسب مراکز نہیں اس لیے ہزاروں طلبا ایف ایس سی کرنے کے بعد پروفشنل تعلیمی اداروں میں داخلے کی ٹیسٹ کی تیاری کے لیے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔

امجد رحیم نے بتایا کہ سدرہ گذشتہ سال ایف ایس سی کرنے کے بعد نومبر میں کوئٹہ آئی تھی اور رواں ماہ ان کو کوئٹہ میں ایک سال پورا ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئٹہ میں اپنی بہن اور علاقے کی چند دیگر لڑکیوں کے ساتھ کرائے کے گھر میں مقیم تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ اتوار کو کوئٹہ میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ ہوئے تھے جس کے اگلے روز ان کی موت واقع ہوئی۔

ذہنی دباؤ

’ہم نے اپنی بیٹی پر ڈاکٹر بننے کے لیے دباﺅ نہیں ڈالا‘

امجد رحیم کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں تھے جب سدرہ کے ساتھ مقیم میری بڑی بیٹی نے اس افسوسناک واقعے کے بارے میں مجھے اطلاع دی۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس کمرے میں تمام لڑکیاں کم عمر تھیں اس لیے وہ میری بیٹی کو سنبھال نہیں سکیں۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سارے لوگ جب اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہیں تو وہ کوئی چٹھی وغیرہ لکھتے ہیں لیکن میری بیٹی نے کوئی چٹھی وغیرہ نہیں لکھی۔

 ان کا کہنا تھا کہ سدرہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اور اس کو ہر وقت یہ پریشانی تھی کہ میں ڈاکٹر بن سکوں گی یا نہیں۔

’میری بیٹی کی ایف ایس سی میں فرسٹ ڈویژن آئی تھی لیکن ان کی نمبر سات سو سے کچھ اوپر تھے۔ نمبر کم ہونے کے باعث بھی وہ پریشان تھی لیکن ہم نے اس کو بتایا کہ نمبر بہتر ہو سکتے ہیں۔‘

 

امجد رحیم کا کہنا تھا ’ہاں ہم والدین کی حیثیت سے اس کو نصیحت ضرور کرتے تھے کہ بیٹی جب اتنی دور پڑھائی کے لیے جارہی ہو تو وہاں اپنی پڑھائی پر زیادہ توجہ دینا۔ لیکن ہم نے کبھی بھی اس پر کوئی دباﺅ نہیں ڈالا۔‘

امجد رحیم کا کہنا تھا کہ ’میری بڑی بیٹی نے بتایا کہ سدرہ کبھی کبھار اس حوالے سے بھی پریشانی کا اظہار کرتی تھی کہ والد کس طرح ہمارے تعلیمی اخراجات کو پورا کرسکیں گے؟

میری بڑی بیٹی نے بتایا کہ وہ اس کو سمجھاتی رہتی تھی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اللہ ابو کو سلامت رکھے وہ ہماری اخراجات کا بندوبست کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی وجوہات کیا ہیں؟

’سکول میں بچے میرے بیٹے کی جنس کے بارے میں سوال پوچھتے اور اسے ہراساں کرتے تھے‘

بی این یو میں طالبہ کی خودکشی: ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

نوجوان طالب علموں میں خودکشی کے رحجان میں اضافہ کیوں؟

ذہنی دباؤ

حالیہ کچھ عرصے میں نوجوان طالب علموں میں امتحانات میں ناکامی، نمبرز کم آنے یا دیگر ایسی وجوہات کے باعث خودکشی کرنے کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟

بلوچستان کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے

انسان میں خود کشی کرنے کی کئی وجوہات ہیں لیکن جس بچی کا آپ حوالہ دے رہے ہیں ان کا نہ کبھی میں نے معائنہ کیا ہے اور نہ ہی اس نے کوئی تحریر چھوڑی ہے جس کی وجہ سے یہ ضرروی نہیں ہے کہ اس بچی نے صرف داخلہ ٹیسٹ میں ناکامی کی بنیاد پر یہ قدم اٹھایا ہو، اس کی متعدد دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔

 پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کوئی بیماری ہو کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو یا کوئی سماجی مسئلہ ہو۔ اکثر سماجی دباؤ کی وجہ سے بھی کچھ لوگ اپنی زندگی کو چیلنج کی نظر کرتے ہیں۔ جب چیلنج میں ناکامی ہو تو مایوسی ہوتی اور جب مایوسی ہوتی تو لوگ خود کشی کرتے ہیں۔‘

 انھوں نے کہا کہ نوجوانوں خصوصاً طلبا کو اپنے لیے ایک ہی ہدف مقرر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ کئی ٹاسک سامنے رکھنے چاہیے تاکہ اگر ایک حاصل نہ ہو سکے تو دوسرے پر توجہ دی جائے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان طلبا دباﺅ کا شکار ہوں تو ان کی کونسلنگ ہونی چاہیے اور یہ دنیا بھر میں ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے ہمارے میڈیا اور تعلیمی اداروں میں مناسب کیریئر کونسلنگ کی بات نہیں کی جاتی۔

جب نوجوان طلبا کسی الجھن کے شکار ہوں تو ان کو خاندان اور تعلیمی اداروں کی جانب سے کونسلنگ فراہم کی جانی چاہیے اور ان کو ان کے مستقبل کے حوالے سے رہنمائی دی جائے کہ اگر ایک شعبے میں کامیابی نہ بھی ہوئی تو دوسرا یا تیسرا اپنایا جائے گا۔ اس طرح بچوں میں مایوسی نہیں پھیلتی۔

انھوں نے یہ بھی تجویز دی کہ عمومی طور پر والدین کو بچوں کو سخت چیلنج نہیں دینا چاہیے بلکہ اگر کسی چیز میں ان کو کامیابی نہیں ملی تو ان کو حوصلہ دینا چاہیے اور ان کی مناسب کیریئر کونسلنگ کی جانی چاہیے۔

ذہنی دباؤ

’ہر کسی نے ڈاکٹر یا انجینئیر نہیں بننا ہے‘

تعمیر نو کالج کوئٹہ کے پرنسپل پروفیسر عابد مقصود اس بارے میں کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہیں کیریئر کونسلنگ جیسے  موضوع کو اہمیت نہیں دی جاتی اور تعلیمی اداروں میں بھی اس حوالے سے خاطر خواہ آگاہی نہیں ملتی ۔

وہ کہتے ہیں کہ طلبا ہوں یا ان کے والدین وہ آج بھی صرف ڈاکٹری یا انجئنئرنگ کو ہی اہم سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ طلباء کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اس دنیا میں سب ڈاکٹر نہیں ہیں اور نہ ہی سب نے ڈاکٹر یا انجئنیر  بننا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں نے پیسے کے لیے علم حاصل کرنا ہے تو صرف ڈاکٹر زیادہ پیسے نہیں کما رہے ہیں بلکہ بہت سارے دوسرے ایسے شعبے ہیں جن سے تعلق رکھنے والے لوگ ڈاکٹروں سے زیادہ پیسہ کما رہے ہیں اور ان کی زندگی ڈاکٹروں کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔

پروفیسر عابد مقصود نے کہا کہ ’بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر ڈاکٹر نہ بھی بن سکے تو اس سے متعلق کئی دیگر شعبے ہیں جیسا کے فارمیسی، بائیو کیمسٹری اور ڈینٹسٹری وغیرہ۔

انھوں نے اپنے خاندان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی اور میری بیٹی دونوں ڈاکٹرز بننا چاہتے تھے مگر نہ بن سکے۔ جب وہ دلبرداشتہ ہوئے تو میں نے انھیں سمجھایا تھا کہ علم کی دنیا میں دیگر شعبے بھی ہیں جنھیں اختیار کیا جا سکتا ہے۔  

پروفیسر عابد مقصود کا کہنا تھا کہ والدین کو بچوں کی صلاحیتوں کے مطابق ان کی حوصلہ افزائی اور سپورٹ کرنا چاہیے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 26836 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments