بادشاہ اور اس کی بیٹی


 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ریاست کے ایک بادشاہ تھا۔ اس کی تین بیٹیاں تھیں۔ وہ ہر روز اپنی تینوں بیٹیوں سے دریافت کرتا کہ آپ کس کا دیا کھا رہی ہیں۔

دو بیٹیاں کہتی کہ ہم آپ کا دیا ہوا سب کچھ کھاتی ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک بیٹی تھی جو کہتی تھی کہ میں اپنے نصیبوں کا کھاتی ہوں۔ بادشاہ کو یہ سن کر بہت غصہ آتا تھا کہ وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ وہ میرا دیا ہوا رزق کھاتی ہے۔ ایک دن بادشاہ کو غصہ آ جاتا ہے اور وہ اپنے نوکروں سے کہتا ہے کہ اس کو آپ کسی ویران جنگل میں چھوڑ کر آیائیں۔ پھر پتہ چلے گا کہ یہ میرا دیا کھا رہی ہے یا نصیبو کا دیا کھا رہی ہے۔

اس بادشاہ کے نوکر اسی طرح کرتے ہیں۔ اس کو ایک ویران جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک دن ایسا آتا ہے کہ اس جنگل میں اس کو کچھ ساتھی مل جاتے ہیں۔ جو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزار بسر کرتے تھے۔ وہ ایک دن مایوس بیٹھے ہوئے تھے کہ جتنا ہم ان لکڑیوں کو فروخت کر کے کماتے ہیں اس سے گزرا کرنا مشکل ہے۔ اتنے میں بادشاہ کی بیٹی نمودار ہوتی ہے۔ اور وہ یہ سب سن لیتی ہے۔ ان کو وہ بتاتی ہے کہ جہاں آپ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اس جگہ سات بادشاہوں کی سلطنت کا ذخیرہ موجود ہے۔

پہلے تو وہ سب اس کی بات کا یقین نہیں کرتے۔ مگر بادشاہ کی بیٹی کی ضد کے آگے وہ ہار جاتے ہیں۔ اور زمین کو کھودنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں تو واقعی وہ ذخیرہ موجود ہے۔ وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور بادشاہ کی بیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وہ سب اپنا اپنا حصہ لیتے ہیں اور وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ بادشاہ کی بیٹی اپنے حصے کی دولت سے بہت بڑا محل تعمیر کرواتی ہے۔ جب محل تیار ہو جاتا ہے تو وہ اپنے اس باپ کو اپنے نوکر کے ہاں پیغام بھیجتی ہے۔

کہ ایک غریب عورت کا پیغام ہے کہ آپ ان کے ہاں آ کے کھانا کھائیں۔ بادشاہ یہ سن کر آگ بگولہ ہو گیا کہ میں غریب کے ہاں کھانا کھانے جاؤں؟ بادشاہ اس نوکر کو یہ کہے کر واپس بھیج دیتا ہے کہ اس عورت سے کہیں کہ کہ غریبوں کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ ہم ہماری دعوت کر سکیں۔ وہ نوکر واپس آتا ہے اور اپنی اس بادشاہ کی بیٹی کو بتاتا ہے کہ بادشاہ نے اس طرح مجھے کہا ہے۔ کچھ دن گزر جانے کے بعد وہ پھر بادشاہ کو پیغام بھیجتی ہے۔

اور کہتی ہے کہ ایک دفعہ آپ آئیں تو سہی اگر آپ کے مطابق کھانا نہ ہو تو آپ چلے جائیے گا۔ تو بادشاہ بڑی مشکل سے اس بات پر آمادہ ہوتا ہے۔ وہ بادشاہ بیزار ہو کر جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس عورت کے پاس خود کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے وہ مجھے کیا کھلائے گی۔ جب وہ وہاں پہنچتا تو کیا دیکھتا کہ اس عورت کے ہاں جو باغات ہیں جانور ہیں وہ تو بادشاہ کے پاس بھی نہیں ہیں۔

بادشاہ کو کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ اس عورت کو پیغام بھیجا جاتا ہے کہ بادشاہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤں گا ورنہ نہیں کھاؤں گا۔ وہ عورت برقعہ پہنے ہوئے آتی ہے۔ وہ جب اپنے ہاتھ برقعے میں سے نکلتی ہے۔ تو بادشاہ دیکھتے ہی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ میں نے پہلے کہیں ہاتھ دیکھے ہیں! ۔ کھانے کھانے کے بعد بادشاہ عورت سے رخصت طلب کرتا ہے۔ اور چلا جاتا ہے بادشاہ منتظر رہتا ہے کہ ایک بار پھر وہ مجھے کھانے پر بلایا اور میں اس کے ساتھ مل کر کھانا کھاؤں۔

وہ بہت بے چین رہنے لگتا ہے۔ لیکن پھر اسی طرح ہوتا ہے کہ وہ عورت اس بادشاہ کو کھانے کی دعوت دیتی ہے۔ جب اس کو بلایا جاتا ہے تو وہ اس عورت کے گھر پہلے سے بھی زیادہ شان و شوکت کے ساتھ جاتا ہے۔ اور اس عورت کو شادی کا پیغام دیتا ہے۔ تو وہ عورت اپنا برقعہ اتارتے ہوئے کہتی ہے کہ بیٹیوں سے شادیاں نہیں کی جاتی۔

وہ بادشاہ کی بیٹی اپنے باپ کو بتاتی ہے کہ آج بھی میں اپنے نصیبوں کا دیا کھاتی ہوں۔ آپ کا دیا ہوا رزق نہیں کھاتی۔ یہ سن کر بادشاہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنی بیٹی سے معافی مانگ لیتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments