نمک کا استعمال کم کرنے کی فوری ضرورت


آپ کو شاید یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر پاکستانی نمک خوری کے حوالے سے ایک آتش فشاں پر کھڑے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے نمک کے استعمال اور اس کے نتائج پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں نمک خورانی کی صورت حال تسلی بخش نہیں۔ رپورٹ میں چار بنیادی اقدامات کا ذکر ہے جو کسی حکومت کو اپنے ہاں نمک سے ہونے والی زہر خورانی کے تدارک کے لئے اٹھانے چاہئیں۔ ان میں سے ایک بھی قدم پاکستان میں نظر نہیں آتا۔

اس رپورٹ کی اہمیت اور اس کے پاکستان سے تعلق کی تفصیل میں جانے سے پہلے تین باتوں کا جاننا ضروری ہے۔ نمبر ایک، اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی کھانے میں نمک کی مناسب مقدار سے دوگنا نمک استعمال کرتے ہیں۔ نمک میں بنیادی جزو سوڈیم ہے۔ نمک کے ایک پیکٹ میں چالیس فیصد سوڈیم اور بقیہ ساٹھ فیصد کلورائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک بالغ اور صحت مند انسان کو چوبیس گھنٹے میں دو گرام سوڈیم کافی ہوتا ہے جو ایک چھوٹے، چائے کے چمچ برابر نمک میں موجود ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں عمومی طور پر لوگ اس سے دوگنا، یعنی دو چمچ کے قریب نمک استعمال کرتے ہیں۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ یہ کچھ بڑھا کر بیان کی ہوئی بات ہے، لیکن آگے چل کر جان جائیں گے کہ یہ ایک حقیقت ہے۔

نمبر دو، نمک کا ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال پاکستان میں بلڈ پریشر کی بیماری میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ انسانی جسم میں گردے وہ عضو ہیں جو جسم کے اندر سوڈیم کا ایک توازن برقرار رکھتے ہیں۔ جب ہم فالتو نمک کھاتے ہیں تو گردوں کو فالتو سوڈیم کے تناسب سے اضافی پانی بھی جسم میں قابو کر کے رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اضافی پانی خون میں شامل ہو کر اس کی مقدار بڑھا دیتا ہے جسے گردش میں رکھنے کے لئے دل کو زیادہ زور اور زیادہ رفتار کے ساتھ دھڑکنا پڑتا ہے۔ یوں دل اور خون کی نالیاں، دونوں میں پریشر بڑھ جاتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں بلڈ پریشر کی بیماری کہتے ہیں۔ پاکستان کی بالغ آبادی کا تقریباً چالیس فیصد اس بیماری کا شکار ہے۔ اوسطاً ایک گھر میں پانچ افراد ہوتے ہیں تو اس تخمینہ کے مطابق ہر گھر میں ایک سے دو بالغ افراد بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

نمبر تین، بلڈ پریشر اگر مسلسل زیادہ رہے تو یہ اہم انسانی اعضا یعنی دل، دماغ اور گردوں میں شدید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ دل کا دورہ یا ہارٹ فیل ہو جانا، دماغ کی شریان کا پھٹ جانا اور اس سے سٹروک یا فالج، اور گردوں کے فیل ہونے سے ڈائلیسز یا مصنوعی گردوں کا ضرورتمند ہو جانا بلڈ پریشر کے شاخسانے ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ بلڈ پریشر جو پہلے بڑے بوڑھوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا، اب نوجوانوں میں بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ سے انتیس سال تک کے نوجوان مرد اور عورتوں میں سے تئیس فیصد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔

نمک کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو خوراک میں نمک کی زیادہ مقدار کے ذرائع کا علم ہی نہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تازہ یا بغیر فیکٹری پیکنگ کے ملنے والی اشیا مثلاً سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ یا دالیں وغیرہ میں معمولی نمک ہوتا ہے اور انہیں گھر میں ہلکا نمک ڈال کر پکانے سے نمک کی زیادتی نہیں ہوتی۔ البتہ لفافوں یا ڈبوں میں بند کھانے جو بازار سے لائے جائیں، ان میں عموماً زیادہ نمک ہوتا ہے اور یہی اس زیادہ مقدار کا باعث ہے جس کا اوپر اعداد و شمار میں ذکر کیا گیا۔

کاغذ میں لپٹی ڈبل روٹی ہو یا پلاسٹک کی بوتل میں کیچپ، شیشے کے جار میں کوئی آمیزہ ہو یا ٹین کے ڈبے میں بند پکا پکایا کھانا، چپس اور نمکو کا پیکٹ ہو یا کوک، سپرائیٹ جیسا ڈرنک۔ ان سب میں ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ نمک ملا ہوتا ہے۔ ان کھانوں میں نمک کی زیادتی ذائقے کے لئے نہیں، بلکہ پیکٹ میں بند کھانے میں جراثیم کی افزائش کو روکنے کے لئے ہوتی ہے کیونکہ نمک پریزرویٹو کا کام بھی کرتا ہے۔ اس لئے ہر پیک ہوئے کھانے کے بارے میں محتاط رہیے کہ اس میں نمک باقی اشیا کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہو گا۔

نمک کے زیادہ استعمال کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اگر جانتے بھی ہیں کہ نمک صحت کے لئے اچھا نہیں، تو بھی اسے کنٹرول کرنے پر ان کا بس نہیں چلتا۔ پاکستان میں حکومت کی جانب سے خوراک میں نمک کا کوئی درجہ متعین نہ ہونا اور اسے برقرار رکھنے کے لئے موثر پالیسی کا موجود نہ ہونا اس کی اہم وجوہات ہیں۔ اگر یہ درجہ متعین کر دیا جائے اور اس کے تحت کھانے کی تمام اشیا کے پیکٹوں پر ان میں موجود نمک کی مقدار چھاپنا لازمی قرار دیا جائے، اور ایسے ہی کھانے پینے کی تمام جگہوں پر یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہاں کم نمک والے کھانے بھی مہیا ہوں تو وہ لوگ جو کم نمک کھانا چاہتے ہیں لیکن یہ چوائس موجود نہ ہونے کی وجہ سے نیم دلی کے ساتھ زہر کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، وہ اس سے بچ جائیں۔

پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر نمک کے استعمال کو کم کرنے اور بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماری کا راستہ روکنے کی ایک اہم وجہ پاکستان کی نوجوان آبادی میں اس بیماری کی بڑھتی ہوئی شرح ہے۔ اٹھارہ سے انتیس برس کی عمر کے نوجوان مرد و عورتیں جو پاکستان کی کل آبادی کا بیس فیصد ہیں ان میں سے تقریباً ہر چوتھے نوجوان کو یہ بیماری ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ زیادہ نمک والے کھانے مثلاً برگر، پیزا، چپس، کیچپ، سافٹ ڈرنک کا رجحان بھی انہی میں زیادہ ہے۔ آج اگر یہ نوجوان اپنی صحت کا خیال نہیں کریں گے، ان کے گھرانے ان کو بیماری سے بچانے میں ان کی مدد نہیں کریں گے اور حکومت اس اہم مسئلہ پر ایک ایمرجنسی سمجھ کر توجہ نہیں کرے گی تو اس کے دو نقصان ہوں گے۔

اول، انفرادی اور حکومتی، دونوں سطح پر بلڈ پریشر کے علاج پر بے تحاشا رقم خرچ ہوتی رہے گی، ایک ایسا خرچہ جس سے ایک معمولی قدم اٹھا کر بچا جا سکتا تھا۔ دوسرا یہ کہ بلڈ پریشر کی پیچیدگیاں یعنی دل کا دورہ، ہارٹ فیل ہونا، اور فالج وغیرہ اس نسل میں وقت سے بہت پہلے ہی نمودار ہو جائیں گے۔ وہ نوجوان نسل جو ہمارا اثاثہ ہے اور جسے ایک لمبی عمر میسر ہے کہ وہ اپنے لئے، اپنے گھر کے لئے اور اپنے ملک کے لئے ترقی کے رستے کھول سکے، بیماری اور پیچیدگیوں کی وجہ سے ان نوجوانوں پر اور ان کے ملک پر، یہ دروازہ وقت سے پہلے ہی بند ہو جائے گا۔

نمک کے استعمال کو انفرادی اور اجتماعی طور پر کم کرنے کی کوششوں میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کام پر کوئی خرچہ نہیں آتا بلکہ اخراجات میں کمی ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا سا قدم دوائیوں کے اخراجات اور اس سے بھی بڑھ کر پیچیدگیاں پیدا ہونے پر ہسپتال میں علاج کے اخراجات سے بچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بیماری انسان کی کارکردگی میں جو کمی لاتی ہے، اور ترقی کا راستہ روکتی ہے، اس سے بچاؤ بھی اس چھوٹے سے قدم سے وابستہ ہے۔

یہ قدم آج ہی اٹھایا جا سکتا ہے اور آج ہی اٹھایا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر زعیم الحق

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 15 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments