کیا آپ جنگ میں دشمن کو قتل کرنے کی بھاری قیمت سے واقف ہیں


جب ایک نوجوان بڑے ذوق و شوق سے فوج میں بھرتی ہوتا ہے
برس ہا برس کی محنت، مشقت اور ریاضت سے فوجی بنتا ہے
وردی پہن کر بندوق اٹھاتا ہے
پھر جنگ کا انتظار کرتا ہے
جنگ شروع ہونے پر محاذ پر جاتا ہے
اور ایک دن
اپنے دشمن کو اپنے سامنے دیکھتا ہے
بندوق اٹھا کر لبلبی پر انگلی رکھتا ہے
تو کیا وہ لبلبی دبا کر دشمن کو قتل کر دیتا ہے؟
یا کچھ سوچ کر بندوق نیچے رکھ دیتا ہے؟

یہ وہ سوال تھے جن کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک امریکی فوجی اور ماہر نفسیات لیفٹیننٹ کرنل ڈیو کروسمین نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے
ON KILLING
یہ کتاب فوجیوں کی نفسیات پر ایک مستند تصنیف ہے۔

اس کتاب میں ڈیو کروسمین نے بہت سے محققین کی آرا کو یکجا کیا ہے۔ میں اس کالم میں اس کتاب کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ڈیو کروسمین لکھتے ہیں کہ جب دوسری جنگ عظیم کے بعد فوجی محقق مارشل نے ہزاروں فوجیوں کے انٹرویو لیے تو انہیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان فوجیوں میں سے صرف پندرہ فیصد نے وقت آنے پر گولی چلائی۔ اپنی تمام تر تیاری اور ٹریننگ کے باوجود جب دشمن ان کے سامنے آیا تو وہ اس پر گولی نہ چلا سکے۔ ان کے اندر کوئی ایسی طاقت تھی جس نے انہیں دشمن کو قتل کرنے سے روک دیا۔

ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک پراسرار طاقت ہے جو اسے کسی دوسرے انسان کی جان لینے سے روکتی ہے۔ بعض ماہرین اسے زندگی سے محبت کی جبلت کہتے ہیں، بعض انسانی ہمدردی اور بعض اسے ضمیر کا نام دیتے ہیں۔

امریکہ میں جب جنگ کے ماہرین اور جرنیلوں کو اس حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نے اسے اپنی ٹریننگ کی ناکامی جانا۔

انہوں نے یہ سمجھا کہ ہم نے اپنے فوجیوں کی اعلیٰ ٹریننگ نہیں کی کیونکہ اگر کامیاب ٹریننگ کی ہوتی تو وقت آنے پر وہ دشمن کو مار ڈالتے کیونکہ ان جرنیلوں کی نگاہ میں جنگ کا مقصد دشمن کر ہرانا اور ان کے سپاہیوں کو مارنا ہی تو ہوتا ہے۔

اس آگہی کے بعد ماہرین جنگ نے یہ نفسیاتی تحقیق کی کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو فوجیوں کو دشمن کو قتل کرنے سے روکتے ہیں۔ ان کی تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ دشمن جتنا فوجی کے قریب ہوتا ہے وہ جتنا اس کا چہرہ اور آنکھیں دیکھ سکتا ہے اس کے لیے گولی چلانا نفسیاتی طور پر مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جنگ کی تیاری کرنے والوں نے یہ کوشش کی کہ دشمن کو دور سے مارا جائے تا کہ اس کا چہرہ دکھائی نہ دے۔

ماہرین جنگ نے جانا کہ دشمن کو پانچ فٹ کے فاصلے سے گولی مارنا مشکل ہے لیکن اس پر پانچ سو فٹ دوری سے بم پھینکنا آسان ہے۔

فوجی جرنیلوں نے اپنی ٹریننگ کے اصول و ضوابط بھی بدلے۔ ایک تبدیلی یہ تھی کہ فوجیوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ سمجھیں کہ وہ کسی انسان کو نہیں بلکہ ایک، ٹارگٹ، پر گولی چلا رہے ہیں۔ کسی انسان کو ٹارگٹ کہنے سے اس میں سے اس کی انسانیت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی ٹارگٹ پر گولی چلانا کسی انسان کو قتل کرنے سے آسان ہے۔

فوجی ماہرین نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر وہ دشمن کو ایسا غیر انسانی منفی نام دیں جس سے نفرت کرنا آسان ہو تو اسے قتل کرنا بھی آسان ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے دشمن کو
شدت پسند
دہشت پسند
کہنا شروع کیا۔

وہ جان گئے کہ فوجیوں کا کسی دہشت گرد اور کسی ٹیررسٹ کو قتل کرنا کسی نیک انسان کو مارنے سے آسان ہے
چنانچہ اس فیصلے کے بعد امریکی جرنیلوں نے دشمن کو
جانور۔ دہشت گرد۔ انسانیت کا دشمن۔ غدار۔
جیسے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا۔ اس طرح فوجیوں کے لیے ان کو قتل کرنا آسان ہو گیا۔

فوجی ٹریننگ میں ان نفسیاتی حربوں کے استعمال کا امریکی جرنیلوں کو یہ فائدہ ہوا کہ
دوسری جنگ عظیم میں دشمن پر گولی چلانے والوں کی تعداد پندرہ فیصد تھی
تو
کوریا کی جنگ میں وہ تعداد پچپن فیصد ہو گئی
اور
ویت نام کی جنگ میں وہ بڑھ کر پچانوے فیصد ہو گئی۔

فوجی جرنیل تو اس تبدیلی سے بہت خوش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی ٹریننگ کامیاب ہوئی ہے لیکن وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر تھے کہ اس قتل و غارت کی بھاری قیمت ان فوجیوں نے ادا کی۔

وہ قیمت کیا تھی؟

وہ امریکی فوجی جنہوں نے ویت نام کی جنگ میں دشمنوں کو قتل کیا یا اس قتل میں مدد کی ان کی بھاری اکثریت کو
PTSD…POST TRAUMATIC STREE DISORDER
کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ٹی ایس ڈی کے نفسیاتی مسئلے کے شکار فوجیوں کو
نہ دن کو چین آتا ہے
نہ راتوں کو نیند
نیند آئے بھی تو ڈراؤنے خواب آتے ہیں
اور وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں
اس عارضے سے وہ فوجی خود بھی اور ان کے خاندان بھی بڑی اذیت سے گزرتے ہیں۔

ویت نام کے فوجیوں کو ایک اور مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سماجی رد عمل تھا۔ چونکہ بہت سے امریکی ویت نام کی جنگ کے خلاف تھے اس لیے جنگ کے بعد جب وہ ان فوجیوں کو گلیوں بازاروں سڑکوں اور بسوں میں دیکھتے تھے تو ان کے منہ پر تھوکتے تھے اور نعرے لگاتے تھے

تم قاتل ہو
تم جابر ہم
تم ظالم ہو
بہت سے امریکی فوجی اس رد عمل کے لیے تیار نہ تھے۔

عراق کی جنگ میں جو امریکی فوجی پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہوئے ان کی کہانیاں پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ نہتے اور معصوم شہریوں کو قتل کریں۔ نہتے شہریوں پر گولی چلانا جلد یا بدیر فوجیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ساری دنیا میں بہت سے فوجی جو نوجوانی میں بڑے ذوق و شوق سے فوج میں شامل ہو گئے تھے اور جنگ میں محاذ پر گئے تھے ان میں سے بہت سے فوجی بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے احساس ندامت و خجالت کا شکار ہو گئے۔ میں نے ایسے بوڑھے فوجیوں کے حوالے سے کئی برس پیشتر ایک نظم لکھی تھی جو آپ کی خدمت میں حاضر ہے

بوڑھا فوجی
زمانہ اس کو بیتا ہے
میں فوجی تھا
میں اپنے دیس کا ادنیٰ سا خادم تھا
میں اپنے ملک و مذہب کا بہت مخلص سپاہی تھا
بہت سی جنگوں میں میں جان کی بازی لگا کر لوٹ آیا تھا
بہت سے معرکوں میں موت کو چھو کے آیا تھا

مجھے ہر جنگ میں ہر معرکے میں فخر تھا اس کا
حقیقت کا میں پیرو تھا
صداقت کا مبلغ تھا
محبت میرا مذہب تھا
مجاہد بن کے زندہ تھا
شہادت میرا مقصد تھا

مگر پھر رفتہ رفتہ مجھ کو اپنے ساتھیوں کے حکمرانوں کے
چھپے منصوبوں اور ہر راز درپردہ سے آگاہی ہوئی حاصل
ہوا معلوم یہ مجھ کو
صداقت تھی کہاں کشور کشائی کا جنوں تھا اک
حقیقت جو بظاہر تھی سراپا اک تعصب تھا
محبت نام تھا۔ فرعونیت تھی اس کے پردے میں

مری اس آگہی کے بعد مجھ پر اک قیامت ہی تو گزری تھی
مرے دل میں مرا احساس کانٹا بن کے چبھتا تھا
مرے دل میں سوالوں کا عجب طوفان اٹھتا تھا
میں خود سے پوچھتا یہ تھا کہ میری اصلیت کیا ہے؟
سپاہی ہوں کہ ظالم ہوں؟
مجاہد ہوں کہ قاتل ہوں؟
اسی احساس کا اس سوچ کا اب یہ نتیجہ ہے
کہ اپنی فوج کو چھوڑے ہوئے عرصہ ہوا لیکن
مرا ماضی مرے کاندھوں پہ بھاری بوجھ ہے اب تک۔
۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 689 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments