جوتے سامنے رکھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ (مکمل کالم)


میرا ایک دوست پانچ وقت کا نمازی ہے، کبھی کبھار مجھے بھی تبلیغ کے لیے مسجد لے جاتا ہے، مگر جب بھی ہم اکٹھے جاتے ہیں تو اس بات پر بحث ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے جوتے کیوں سامنے سجا کر نماز پڑھتا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ اس طرح تم عملاً جوتوں کو سجدہ کرتے ہو جو کسی طور بھی مناسب نہیں، اگر تمہیں اپنے جوتے نماز سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بحث عموماً لا حاصل ہی رہتی ہے کیونکہ نہ میں اسے قائل کر سکا ہوں اور نہ وہ مجھے۔ لیکن اللہ کو جان دینی ہے، مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ مسجد میں ہر نمازی جوتوں کی جوڑی ہاتھ میں پکڑ کر کیوں گھومتا ہے اور پھر بالآخر جوتوں کے سامنے سجدہ ریز کیوں ہوجاتا ہے۔ اول تو مسجد میں کوئی بھی شخص گوچی یا بالی کے جوتے پہن کر نہیں آتا، زیادہ سے زیادہ لوگ ہوائی چپل یا ربڑ کا جوتا پہن کر آتے ہیں، سو اگر آپ کا یہ جوتا چوری بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن نہیں، اپنی نماز خراب کر لیں گے مگر ربڑ کی جوتی کو سینے سے لگا کر رکھیں گے۔ میں تو خیر ایک گناہگار انسان ہوں، جتنی مرتبہ بھی مسجد میں نماز پڑھی، ہمیشہ جوتے مسجد کے باہر ہی اتارے، غالباً ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ واپسی پر جوتے نہیں ملے تھے تو میں کسی غریب کی ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر نکل آیا، یقیناً ”اس غریب نے بھی کسی اور کے ساتھ یہی حرکت کی ہوگی۔

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ نمازی ہی مسجد سے جوتے چوری کرتے ہیں تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہو گا کہ مذہب انسان کی اخلاقی تطہیر نہیں کر سکتا؟ یقیناً یہ بات درست نہیں کیونکہ مذہب تو انسان سے مطالبہ ہی یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے ظاہری اور باطنی وجود کو پاک رکھے اور اس بات کا اہتمام کرے کہ اس کا کوئی قول اور فعل اپنے پروردگار کی رضا کے خلاف نہ ہو، لہذا اگر کسی شخص کے عمل سے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچتا ہے تو لامحالہ مذہب کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم کارل مارکس کو تو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے کس درد مندی کے ساتھ محنت کشوں کے لیے کمیونزم اور سوشلزم کا نظام متعارف کروایا مگر اس نظام کے نام پر جب سٹالن نے لاکھوں بندے مار دیے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں کارل مارکس کا قصور تھا۔ جب بھی کوئی باریش شخص کسی سکینڈل میں ملوث پایا جاتا ہے، کسی مدرسے کا مولوی بدفعلی کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے یا کوئی مذہبی شخص جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس شخص کی ذات کے ساتھ ساتھ مذہب پربھی تنقید کی جاتی ہے جس کے جواب میں مذہبی اکابر کہتے ہیں کہ اس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں، یہاں انہیں کمیونزم اور کارل مارکس والی دلیل پسند آجاتی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ یہ سارا مسئلہ قانون کی عملداری کا ہے، آپ رٹ آف سٹیٹ قائم کر دیں، یہ مسائل ختم ہوجائیں گے۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک مذہبی جماعت دارالحکومت میں دھرنا دیتی ہے، پوری ریاست کو مفلوج کرتی ہے، حکومتی مشینری اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوجاتی ہے، وہ جماعت کہتی ہے کہ ہمیں فلاں وزیر کا عقیدہ پسند نہیں، اس کا استعفیٰ لاؤ، ریاست اس جتھے کا حکم بجا لاتے ہوئے استعفیٰ لاکر پیش کرتی ہے، پوری دنیا میں ایٹمی طاقت کی جگ ہنسائی ہوتی ہے، ہم دست بستہ پوچھتے ہیں کہ اس سارے معاملے میں کس کا قصور ہے، جواب ملتا ہے کہ اس میں بھی قانون کی عملداری کا نہ ہونا ہی وجہ ہے، آپ ملک میں قانون کی عملداری کو یقینی بنا دیں کسی کو جرات نہیں ہوگی کہ آئندہ اس قسم کی حرکت کرے۔ ایک اور مثال۔ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجر پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے، چند نوجوان اسے سڑک پر گھسیٹتے ہیں، اس کو ڈنڈوں سے مار کر ہلاک کرتے ہیں اور اس کی لاش کو آگ لگا دیتے ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے کہ جناب والا اس معاملے میں کسے الزام دینا ہے، جواب ملتا ہے کہ عدالتی نظام کو، آپ عدالتی نظام ٹھیک کر دیں، mob justice ختم ہو جائے گا۔

کسی بھی قسم کی بحث میں جائے بغیر ہم مان لیتے ہیں کہ یہ تمام باتیں درست ہیں، یعنی مسجد میں جوتا چوری ہونے سے لے کر ایک ملزم کو مذہب کے نام پر زندہ جلا دینے تک، مذہب کا کوئی قصور نہیں، قصور ہے تو فقط ریاست کا اور اس فرسودہ نظام کا جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں وہ کون سے ممالک ہیں جہاں قانون کی عملداری ہے، جہاں نظام عدل پوری شفافیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور جہاں ریاست کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ اس سوال کا جواب دینا زیادہ مشکل نہیں، آپ کو صرف انٹرنیٹ پر مختلف قسم کے اشاریے تلاش کرنے پڑیں گے اور پتا لگانا پڑے گا کہ کون سے ممالک عدالتی نظام کی فعالیت، جمہوریت کی بالادستی، انسانی حقوق کی پاسداری، مذہبی رواداری، قانون کی عملداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں سب سے اوپر ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ہر اشاریے میں مغربی، سیکولر اور لبرل ممالک ہی درجہ بندی میں اوپر نظر آئیں گے، کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ملے گا جہاں کسی مذہبی جماعت کی حکومت ہو اور وہ یہ دعویٰ کرے کہ ہم نے یہاں اسلامی نظام نافذ کر رکھا ہے۔ جب ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں تو ہمارے کچھ دوست ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ اسلامی نظام کے خلاف ہیں حالانکہ ہم انہی کا استدلال استعمال کرتے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ قبلہ آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ریاست کی عملداری قائم کردو تو پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے، جب یہ ماڈل تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیکولر، لبرل اور جمہوری ماڈل ہے نہ کہ تھیوکریسی پر مبنی نظام جہاں ملائیت ہو۔ اب ناراضی کس بات کی؟

ناراضی دراصل اس بات کی ہے کہ جس نظام نے مسائل حل کیے ہیں اس میں دین کی گنجایش نہیں، مذہب وہاں انسان کا ذاتی معاملہ ہے، اسی وجہ سے جب وہاں دو بالغ لوگ ایک ساتھ بغیر نکاح کے رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں، یا نایٹ کلب میں جاتے ہیں یا عورتیں ساحل سمندر پر بکنی پہن کر غسل آفتابی کرتی ہیں تو ہم بہت جزبز ہوتے ہیں، کیونکہ ان باتوں کی اسلامی ریاست میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ناراضی کی دوسری وجہ ریاست کے فیصلہ سازی کے عمل میں مذہبی پیشواؤں کی عدم مداخلت ہے، وہاں پاپائے اعظم کسی کیتھولک نظریاتی کونسل کا سربراہ نہیں، بلکہ وہاں سرے سے ایسی کونسل کا تصور ہی نہیں۔ عدالت بھی ایک ہی ہے جہاں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے مقدمات سنے جاتے ہیں، پروٹسٹنٹ یا کیتھولک پادریوں نے کسی شرعی عدالت کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے دماغ میں کبھی یہ اچھوتا آئیڈیا آیا کہ ریاست میں ایک متوازی نظام عدل بھی ہونا چاہیے جہاں مذہبی تعبیرات کے مطابق مقدموں کی سماعت ہو اور مسند پر ان کے نمائندے براجمان ہوں۔ ظاہر ہے کہ جس ریاست میں اس قسم کی باتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی اور اس کے باوجود وہاں کے عوام کی جان و مال محفوظ ہوگی اور انہیں انصاف مل رہا ہو گا تو ایسی ریاست مذہبی پیشواؤں کو کیوں کر قبول ہوگی؟

اصل میں دینی رجحان کے حامل دانشوروں کو اچھی طرح علم ہے کہ مغربی ممالک نے کس قدر طویل اور صبر آزما جد و جہد کے بعد یہ ریاستی نظام بنایا ہے جس نے ان کے وہ سب مسائل حل کر دیے ہیں جو ہمارے ہاں موجود ہیں اور جن پر ہم آئے دن سینہ کوبی کرتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ مذہبی دانشور اس مغربی نظام کی افادیت سے انکار نہیں کرتے مگر اسے قبول بھی نہیں کرتے کیونکہ جس دن انہوں نے اعتراف کر لیا کہ یہی نظام پاکستان میں نافذ ہونا چاہیے اس دن مذہب کی بنیاد پر تعمیر کردہ ان کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 512 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments