وہ خصوصیات جو ایک سویٹر کو ’زندگی بھر کا ساتھی‘ بناتی ہیں

فاران کرینٹسِل - بی بی سی سٹائل


سویٹر، ڈیزائنر ڈریسز، سردیاں، پاکستان
دنیا بھر میں سویٹرز بنانے کے لیے ‘نِٹنگ’ کی تکنیک کا سہارا لیا جاتا ہے

دُنیا بھر کی فیشن مارکیٹ میں اونی ملبوسات کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ ان ملبوسات کا زمین اور اُس پر رہنے والی مخلوق پر کیا اثر پڑے گا۔

کیا اونی سویٹر کا استعمال ماحولیاتی جیت ہے یا پھر یہ ہمارے سیارے کو نقصان پہنچا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب سردیوں کی شاموں کی طرح کچھ دُھندلا سا ہے۔

ساسکیا جیکسٹرا ایمسٹرڈم میں ‘ایکسٹریم کیشمیر’ نامی فیشن برانڈ کی بانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم کہ ایک اچھا سویٹر اُن اشیا میں سے ہے جو لوگوں کو زمین اور قدیم روایات سے براہ راست جوڑتا ہے۔’

سسکیا کی کمپنی سویٹر بنانے کے لیے اون ایک فارم سے منگواتی ہے جو گذشتہ 25 برسوں سے ایک ہی خاندان چلا رہا ہے۔ سسکیا اسی اون کے ذریعے برسوں سے جوزف، ایگنس بی اور بنانا ریپبلک جیسے بڑے فیشن برانڈز کے لیے سویٹر بنوا رہی ہیں۔

سسکیا کہتی ہیں کہ ‘میں بغیر کسی چھوٹ کے سویٹر بنانا چاہتی ہوں، مجھے انتہائی ذمہ دار ذریعے کے توسط سے بہترین اون چاہیے، اچھا ڈیزائن چاہیے، میں ایسے سویٹرز بنانا چاہتی ہوں جسے زندگی بھر پہنا جا سکتے اور سویٹر کا کام بھی یہی ہے۔’

ان کے مطابق ایک اچھا سویٹر زندگی بھر کا ‘ساتھی’ ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں سویٹرز بنانے کے لیے ‘نِٹنگ’ کی تکنیک کا سہارا لیا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں سویٹرز کو ایک سوئی اور دھاگوں کی مدد سے گراہیں لگاگر بنایا جاتا ہے اور اس عمل کو سویٹر بُننا کہا جا تا ہے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو 11ویں صدی میں بُنے گئے موزے کھدائی کے دوران بھی ملے تھے۔ وِکٹوریہ اینڈ ایلبرٹ میوزیم کے مطابق سوئی دھاگے سے بنے ملبوسات سکینڈنیویا، جرمنی اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔

سویٹر، ڈیزائنر ڈریسز، سردیاں، پاکستان
ہاتھ سے تیار کی جانے والی یہ ملبوسات ماحول پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں

دُنیا میں 17ویں صدی میں ہاتھوں سے بُنے گئے ملبوسات مچھیرے ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ 18ویں صدی میں یہ سویٹرز فیشن کے طور پر استعمال ہونا تب شروع ہوئے جب لوگوں نے کرکٹ، ٹینس، گالف اور سائیکلنگ میں دلچسپی لینا شروع کی۔

اس دوران شمالی امریکہ میں آباد لوگوں نے اپنے ورایتی ڈیزائنز کو مشینوں سے بنائے گئے اونی دھاگوں سے بنانا شروع کیا اور کوویچن سویٹرز جیسا منفرد ڈیزائن وجود میں آگیا۔

کوویچن سویٹرز بڑھی گراہیں لگاکر بنائے جاتے ہیں۔ 1960 کی دہائی میں ہاتھوں سے بنائے گئے یہ سویٹرز پاپولر کلچر کی نشانی سمجھے جانے لگے اور مشہور اداکار اور گلوکار یہ ملبوسات پہننے لگے۔

سال 2023 میں ‘نِٹ ووتھیل’ نامی پہلا آن لائن بوتیک کھولا گیا جس نے کینیڈا میں قدیم قوموں سے تعلق رکھنے والے ڈیزائنرز کو فیشن انڈسٹری سے براہِ راست طور پر جوڑا۔

بزی ریڈ برٹش سٹارٹ اپ ‘اینڈ ڈاٹر’ کی شریک بانی اور کریٹو ڈائریکٹر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کاروبار اپنی آئرش جڑوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کھولا تھا۔

ان کے مطابق میری نانی سویٹر بننے میں حیرت انگیز مہارت رکھتی تھیں اور انھوں نے یہ گُر میرے والد کو بھی سکھایا۔ انھوں نے پھر آئرش اور سکاٹش برینڈ کے اعلیٰ کوالٹی کے سویٹر متعارف کروائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘مجھے ابھی بھی جس طرح یہ سویٹر تیار کیے جاتے ہیں یہ سارا عمل بہت پسند ہے۔ دیگر ملبوسات کے مقابلے میں شاید ہاتھ سے بنے ہوئے ان سویٹر کا ہر ایک ’سِٹچ‘الگ کہانی ہے۔’

ہاتھ سے تیار کی جانے والی یہ ملبوسات ماحول پر بھی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر جب ان سویٹرز کو بُننے والے یہ بات جانتے ہوں کہ ان کے لیے اُون کہاں پیدا کی جا رہی ہے۔

آئرش نژاد امریکی ڈیزائنر ماریہ میک مینس کا کہنا ہے کہ چھوٹے فارمز کی مدد محض اچھا کام نہیں بلکہ یہی بہتر کام ہے۔

‘ڈیزائنر وُول‘ کو تب ہی سپر پریمیم سمجھا جاتا ہے جب بھیڑ اور بکریوں کی صحت اچھی ہو اور ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہو۔ ’لینڈ مینجمنٹ‘ اور مزدوری کے طریقہ کار دیگر عوامل ہیں کہ کیسے پہلی قینچی سے لے کر آخری ’سِٹچ‘ یا سلائی تک یہ سفر طے ہوا۔

ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کا تعلق ان نسلوں سے ہے جو صدیوں سے یہ کام کرتے آ رہی ہیں۔ امریکہ میں ڈاٹ رینچ اور آسٹریلیا میں ڈاؤرینس جیسے فارمز میں مقامی صنعت کار اپنے ہی خاص انداز میں چھائے ہوئے ہیں۔

یقیناً اون مقامی کاشتکاروں کے لیے بہت فائدہ مند ہے مگر یہ سبزی خوروں کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ یہ پلاسٹک پر مبنی مصنوعی مواد یا فیوسل فیول بھی نہیں ہے جو ہماری آبی گزرگاہوں سے ہوتے ہوئے ہماری جسم کے اندر داخل ہو سکے۔

اون سمیت ہر طرح کی اشیا کی فیکٹری میں پیداوار غیر اخلاقی اور جابرانہ عمل ہے۔ جانوروں پر تحقیق کرنے والے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسانی ہاتھوں سے تیار کردہ مصنوعات اون کے اعلیٰ معیار اور انسانی فلاح کے لیے ضروری ہے۔

جانوروں کی صحت پر تحقیق کرنے والے مشی گن یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر رچرڈ ارہارڈٹ کا کہنا ہے کہ اگر اونی دھاگہ حاصل کرنے کے لیے درست عمل اختیار کیا جائے تو بھیڑوں کو بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے اور اس کے اچھے اثرات ان کی پیدا ہونے والے بچوں پر بھی بڑھتے ہیں۔

ان کے مطابق اس عمل کے ذریعے نہ صرف ‘ماں اور بچوں میں اُنسیت’ بڑھتی ہے بلکہ بہن اور بھائیوں میں بھی محبت بڑھتی ہے۔

آج دُنیا بھر میں استعمال ہونے والی اس تکنیک کو لیپنگ بنی جیسی بڑی فلاحی تنظیم ‘ظلم سے پاک’ قرار دے چکی ہے جبکہ نیپال میں واقع تنظیم فرینڈ شیپ بھی اسی تکنیک کو درست قرار دیتی ہے۔

ریسرچرز کا یہ بھی خیال ہے کہ اون فارمنگ اگر چھوٹے پیمانے پر کی جائے تو اس کے مٹی پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ پروفیسر کیرن لانچبف اور ڈاکٹر جون واکر کے مطابق بھیڑوں کی موجودگی سے مٹی میں ذرخیزی بھی بڑھتی ہے۔

سویٹر، ڈیزائنر ڈریسز، سردیاں، پاکستان
ریسرچرز کا یہ بھی خیال ہے کہ اون فارمنگ اگر چھوٹے پیمانے پر کی جائے تو اس کے مٹی پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں

جنگلوں اور ویرانوں میں بکریاں اور بھیڑیں وہاں موجود چھوٹے درختوں، جھاڑیوں اور پودوں کو صاف کر دیتی ہیں جس کے سبب جنگلوں میں لگنے والی آگ کے اثرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق چھوٹے پارکوں اور علاقوں میں بھیڑوں کی مٹرگشت کا اثر انسانوں پر بھی پڑتا ہے اور ان کے خوشی کے احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بھیڑیں خوش ہیں ہمیشہ اپنے ڈیزائنرز سے پوچھیں کہ ان کے پاس اونی دھاگہ آتا کہاں سے ہے اور اُن سے یہ بھی دریافت کریں کہ اونی دھاگہ حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

اکتوبر میں دا اٹلانٹک میں چھپنے والے آرٹیکل میں امینڈا مُل نے لکھا تھا کہ ‘آپ کے سویٹرز کچرا ہیں۔’ ان کے مطابق سستے اونی دھاگوں اور خراب بُنائی نے سویٹرز پہننے کا مزہ کِرکِرا کردیا ہے۔

وہ مزید لکھتی ہیں کہ ‘مہنگے سویٹرز کی بھی چمک اب مانند پڑتی جارہی ہے۔ ان کے اس آرٹیکل کے جواب میں بہت سے سوشل میڈیا صارفین ان کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے۔

اس حوالے سے نیویارک کی ایک نوجوان ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ ‘مجھے بہت غصہ آتا ہے جب میں کوئی مہنگا سویٹر خریدتی ہوں اور پہلی بار پہننے کے بعد ہی خراب ہو جاتا ہے۔’

میک مینس اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ‘جب آپ سستا اون خریدتے ہیں اس وقت یہ تمام معاملات خراب ہونا شروع کرتے ہیں۔’

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments