انڈیا: ریاست اتراکھنڈ میں مدرسے کی عمارت کو گرائے جانے پر پرتشدد ہنگامے، پانچ ہلاک


ِانڈیا

انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی میں جمعرات کی شام مبینہ طور پر غیر قانونی مسجد اور مدرسے کو منہدم کیے جانے کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور تشدد کے بعد بندوقوں کے سائے میں حالات پرامن ہیں۔

ہلدوانی کے علاقے بنبھول پورہ میں ہنگامہ آرائی کے ایک دن بعد جمعہ کو علاقہ سرکاری اہلکاروں کا مرکز بنا رہا اور وزیر اعلیٰ، انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران ہلدوانی پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔

ہلدوانی میں جمعرات کی رات سے کرفیو نافذ تھا جس میں سنیچر کی صبح نرمی کر دی گئی اور اب کرفیو بنبھول پورہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک محدود ہو گیا ہے۔

ضلعی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلدوانی تھانہ کے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے دوران پتھراؤ شروع ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ ہلدوانی کے علاقے بنبھول پورہ میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے مدرسہ کو منہدم کرنے کے دوران مقامی لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا تھا جس کے بعد آگ بھی لگائی گئی۔ میونسپل ملازمین اور پولیس اہلکار مدرسہ کو ہٹانے کے کام میں مصروف تھے۔

ان کے علاوہ کچھ صحافی جو اس واقعہ کی کوریج کرنے گئے تھے وہ بھی زخمی ہوئے۔

ایسے ہی ایک صحافی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا تھا کہ جمعرات کو کسی طرح ان کی جان بچ گئی۔

نینیتال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وندنا سنگھ نے کہا کہ ’ہجوم نے کئی گاڑیوں کو جلا دیا، زیادہ تر موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کیا گیا تاہم ان کی صحیح تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔‘

پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کی طرف سے پتھراؤ اور آتش زنی کی گئی جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔

https://twitter.com/pushkardhami/status/1755617934528094393

نینی تال ضلعے کی ڈی ایم وندنا سنگھ نے کہا کہ ہلدوانی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔

سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیکورٹی فورسز کی چار بٹالین کے ساتھ ساتھ قریبی اضلاع سے پولیس فورس کو جمعرات کی شام کو ہلدوانی بلایا گیا۔

جس علاقے میں یہ کارروائی جاری تھی وہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور وہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔

لوگوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جمعرات کی شام جیسے ہی مدرسہ کو گرانے کا کام شروع ہوا اسی وقت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آگئے اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد پتھراؤ شروع ہوا جس کے جواب میں پولیس نے اپنی کارروائی کی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے مقامی تھانے پر حملہ کیا اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

بی جے پی رہنما نیہا جوشی نے اس تشدد کو ریاست میں حالیہ دنوں میں نافذ ہونے والے ’یونیفارم سول کوڈ‘ سے جوڑا ہے جس کی چند مسلمانوں نے مخلافت کی تھی اور مسلمانوں کے حقوق کی وکالت کرنے والی ایک تنظیم نے اس قانون کو ’غیر ضروری، نامناسب، باہم مخالف اور ناقابل عمل‘ کہا تھا۔

یہ قانون پرانے ’پرسنل لا‘ کی جگہ شادی، طلاق، جانشینی اور ’لیو ان‘ تعلقات کو ریگولیٹ کرے گا۔

مقامی انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟

ضلع نینی تال کی ڈی ایم وندنا سنگھ نے کہا ہے کہ گزشتہ 15-20 دنوں سے ہلدوانی کے مختلف علاقوں میں میونسپل کارپوریشن کی جائیدادوں سے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی جا رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اس کے لیے قانون کے تحت مکمل طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ہر جگہ نوٹس دیے گئے اور سب کو سننے کا موقع دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا۔

اس پراپرٹی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک خالی جائیداد ہے، جس پر دو ڈھانچے بنائے گئے ہیں۔ یہ نہ تو کسی مذہبی ڈھانچے کے طور پر رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان کو کہیں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان ڈھانچے کو مدرسہ کہا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ انھیں ’نماز پڑھنے کی جگہ‘ (مسجد) کہتے ہیں۔ دستاویزات میں ان کا کوئی قانونی وجود نہیں ہے۔‘

علاقے میں ہونے والے تشدد کے بارے میں ڈی ایم نے کہا: ’پولیس اور انتظامیہ نے نہ تو کسی کو اکسایا، نہ ہی کسی کو مارا، اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔‘

ہلدوانی کے لوگ کیا کہتے ہیں؟

جمعرات کو ہونے والے تشدد کے دو دن بعد ہلدوانی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کنکشن بند ہیں اور لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔

ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بنبھول پورہ کے لوگ خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ دروازہ یا کھڑکی بھی کھول کر باہر جھانکیں تو پولیس والے اپنی بندوقوں سے اشارہ کر کے آپ کو اندر جانے کا کہہ رہے ہیں۔‘

بنبھول پورہ کے ایک اور باشندے کا کہنا ہے کہ اس دن تین مقامات پر افراتفری تھی۔ پہلا مقام باغ، دوسرا گاندھی نگر اور تیسرا تھانہ بنبھول پورہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تینوں جگہوں پر بھیڑ مختلف تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ گاندھی نگر میں جس جگہ ہنگامہ ہوا اسے مسلم اور ہندو آبادی کی سرحد سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف مسلم آبادی ہے اور دوسری طرف ہندو آبادی ہے۔ پتھراؤ بھی ہوا اور چار مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں ایک شخص کی موت ہو گئی۔

اس کے بعد بنبھول پورہ تھانے میں پتھراؤ اور آتش زنی کے بعد فائرنگ میں چار افراد کی موت ہوگئی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمارتیں نزولی زمین پر تھیں۔ نزولی زمین وہ ہوتی ہیں جس کا مالکانہ حق کسی کے پاس نہیں ہوتا ہے وہ خالی ہوتی ہیں اور اور سرکار کا اس پر حق ہوتا ہے لیکن اس کا سرکاری طور پر ریونیو دستاویزات میں ذکر نہیں ہوتا ہے۔

مقامی رہائشی ظفر صدیقی نے انڈین اکیسپریس اخبار کو بتایا کہ یہ مسجد عبدالمالک نامی شخص نے بنوائی تھی۔ جس شخص سے انھوں نے یہ زمین خریدی تھی اس نے لیز پر لی تھی۔

انتظامیہ کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پچھلے چار پانچ دنوں سے پولیس اس علاقے میں آ رہی تھی اور وہ بتا رہی تھی کہ مدرسے اور مسجد کو ہٹا دیا جائے گا۔ جمعرات کی صبح انتظامیہ کے لوگ جے سی بی (بلڈوزر) مشین لے کر یہاں پہنچے۔ میں یہاں چھ بجے کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہاں پتھراؤ ہو رہا ہے اور کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور لوگوں نے اپنے گھروں کو تالے لگا دیے ہیں۔

شرپسندوں کی نشاندہی کے بعد کارروائی کی جائے گی: دھامی

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی جمعہ کی دوپہر ہلدوانی پہنچے اور بنبھول پورہ میں ہنگامہ آرائی میں زخمی ہونے والی خواتین پولیس ٹیم اور دیگر پولیس اہلکاروں، انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اور صحافیوں کی خیریت دریافت کی۔

انھوں نے کہا کہ قانون توڑنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کی تمام ویڈیو اور فوٹیج دستیاب ہیں۔ تمام شرپسندوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر اے پی انشومن کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنبھول پورہ میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے متاثرہ علاقے میں کیمپ لگائیں۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح ریاست کی چیف سکریٹری رادھا راتوری اور ڈی جی پی ابھینو کمار نے ہلدوانی پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ پہلے وہ پوری صورتحال کا مکمل مطالعہ کریں گے اور پھر اس کے قانونی پہلو دیکھیں گے۔

انتظامی غفلت کا الزام

جمعہ کو کئی مسلم تنظیموں نے ہوم سکریٹری سے ملاقات کی اور بنبھول پورہ واقعہ کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا اور ذمہ دار افسران کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ہلدوانی کے علاقے ’ملک کا باغ‘ میں انتظامیہ کی جانب سے ایک غیر منصفانہ کارروائی میں ایک مسجد اور ایک مدرسے کو زبردستی مسمار کردیا گیا، جس کے خلاف احتجاج کرنے والی مقامی خواتین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد ماحول پرتشدد ہو گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس ہنگامے اور پرتشدد مظاہرے سے ہلدوانی میں رہنے والے مسلمان خوفزدہ ہیں، جو کہ تشویشناک ہے۔‘

وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم برادری کے وفد کو متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ امن کی اپیل کر سکیں اور زمینی مسائل کو سمجھ کر حکومت کو آگاہ کر سکیں، کسی بے گناہ کو گرفتار نہ کیا جائے اور نہ ہی انھیں ہراساں کیا جائے۔

جبکہ عوامی تنظیموں، دانشوروں اور اتراکھنڈ کے شہریوں کی طرف سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں علاقے میں امن کی اپیل کے ساتھ ساتھ اس واقعے میں انتظامیہ کی جانب سے لاپرواہی برتنے، جلد بازی اور متعصبانہ رویہ اپنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32026 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments