کیا پاکستان میں جمہوریت ناکام ہو رہی ہے؟


پاکستان میں انتخابات کے بعد سماجی اور سیاسی سطح پر الزامات اور افواہ سازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ملک کی راہ متعین کرنے اور حکومت سازی کے بعد معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی مسائل حل کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے، اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ کس پارٹی کو ہرا دیا گیا اور کسے جان بوجھ کر جتوایا گیا ہے۔ جمہوریت میں ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کر کے حکومت قائم کرنا بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ ’حق‘ اسی وقت موثر اور فعال ہو سکتا ہے جب ہر کسی کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔

انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں لینا ہی بہت بڑا معرکہ نہیں ہوتا بلکہ اس اکثریت کی بنیاد پر ذمہ داری کا مظاہرہ اور سیاسی استحکام و پر امن انتقال اقتدار میں کردار ادا کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے بعد سے بزعم خویش سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی تحریک انصاف، اس پر مطمئن نہیں ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں اسے ووٹ دیے ہیں اور حکومت سازی نہیں تو پارلیمانی نظام میں اسے موثر طریقے سے کردار ادا کرنے کا ایک بار پھر موقع دیا ہے۔ بلکہ وہ اس پر شکوہ کناں ہے کہ دوسری پارٹیاں کیسے کامیاب ہو گئیں۔

پارٹی لیڈروں کا اصرار ہے کہ انہیں تو ڈیڑھ سو سے پونے دو سو سیٹیں ملی ہیں۔ وہ اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ گویا تحریک انصاف کے لیڈر صرف اس وقت خوش و مطمئن ہوسکتے ہیں جب باقی پارٹیوں کی جیتی ہوئی نشستیں انہیں دلوا دی جائیں۔ اور پورا نظام یہ کہتے ہوئے گردن جھکا دے کہ چونکہ آپ کے پاس سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے اور آپ کا لیڈر اشتعال انگیزی کا نئے سے نیا ہتھکنڈا اختیار کرنے کے طریقے جانتا ہے، اس لیے باقی سب سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ، دست بستہ عمران خان کا ’حق حکمرانی‘ قبول کر لیں۔ اس کے بعد عمران خان جس کے ساتھ جو سلوک روا رکھنا چاہیں، ’مدینہ ریاست‘ کے نام پر اسے جائز اور منصفانہ سمجھا جائے۔ اس سیاسی رویہ کے ساتھ کوئی جمہوریت کام نہیں کرتی۔ جس جمہوری نظام میں ایک دوسرے کو قبول کرنے اور مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت مفقود ہو، اسے جمہوری کہنا بجائے خود جمہوریت کی توہین ہے۔

8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے بارے میں بے شمار اعتراضات کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی نا اہلی اور انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر سے بدگمانیوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن سیاسی لیڈروں کا کام ان بدگمانیوں کو ختم کر کے قوم کی قیادت کرنا ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے مختصر المدت سیاسی مفاد کے لیے پہلے سے پریشان کن صورت حال کو خراب کرنے کی بجائے، اس میں سے اصلاح کا پہلو نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ملکی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ حکومت سازی کے عمل میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر رہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں باری باری عسکری قیادت کا دست و بازو بن کر اس طریقہ کو مستحکم کرتی رہی ہیں۔ اب یہ دعویٰ یا توقع کرنا کہ ایک ہی انتخاب میں اور ایک ہی جست میں 70 سال پر پھیلی ہوئی خرابیاں ٹھیک ہوجائیں گی، دیوانے کے خواب جیسا ہو گا۔ نام نہاد ’حقیقی آزادی‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اگر لوگوں کو آپس میں لڑانے کی ایک نئی مہم شروع کی جائے گی اور سیاسی فساد میں اضافہ ہو گا تو جان لینا چاہیے کہ اس سے اسٹیبلشمنٹ کمزور ہونے کی بجائے مزید توانا ہوگی۔ اور قوم نے 8 فروری کو جمہوری عمل میں جو ایک قدم آگے بڑھایا ہے، اسے ناکارہ کیا جائے گا جس کے بعد ملکی نظام کو واپس جمہوریت کی طرف لانے میں طویل مدت درکار ہوگی۔

انتخابی نتائج میں تینوں بڑی پارٹیوں کو مناسب حصہ ملا ہے۔ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے خلاف روا رکھے گئے غیر منصفانہ طریقوں سے انکار ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے لئے سیاسی راستہ دشوار بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ان حالات میں قومی اسمبلی میں 90 سے 100 کے درمیان نشستیں جیت کر تحریک انصاف نے ایک اہم سیاسی سنگ میل عبور کیا ہے۔ اسے عمران خان یا تحریک انصاف کی کامیابی کی بجائے عوامی شعور کی کامیابی کہنا چاہیے جنہوں نے سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالے اور ایسے لوگوں کو منتخب کرایا جو بظاہر اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ملک کا ووٹر اس سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ملک کا آئین اور جمہوری طریقہ انتخاب اسے صرف یہی موقع دیتا ہے۔ پاکستانی عوام نے اسے بھرپور طریقے سے استعمال کر کے کسی حد تک اپنی سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن اگر ایک یا زیادہ سیاسی گروہ ان نتائج کی بنیاد پر مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی بجائے، تصادم کا ایک نیا باب کھولنا چاہیں گے تو یہ طریقہ عوامی حکمرانی کی بجائے، انتخابی طریقہ کار کو ناکارہ بنانے اور غیر منتخب عناصر کو مضبوط کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔ یعنی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جن طاقتوں کو کمزور کیا ہے، ان کے منتخب کیے ہوئے لیڈر اپنی انا و گھمنڈ میں انہی قوتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنیں گے۔

یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سو فیصد شفاف اور منصفانہ تھے اور اس دوران میں کسی قسم کی کوئی بے قاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان میں کبھی بھی کوئی انتخاب مکمل طور سے شفاف نہیں ہوئے۔ پاکستان جیسا سماجی نظام اور تعلیمی استعداد رکھنے والے کسی بھی ملک میں انتخابات کی شفافیت سو فیصد نہیں ہو سکتی۔ حتی کہ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جسے دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت مانا اور لکھا جاتا ہے، وہاں منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی نعرے، زور زبردستی، دھاندلی اور سرکاری اثر و رسوخ کے کئی ہتھکنڈے بروئے کار ہوتے ہیں لیکن سیاسی لیڈر جمہوری نظام چلانے اور وقت کے ساتھ بہتری لانے کی امید پر نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں تاکہ غیر جمہوری طاقتوں کو مداخلت کرنے اور سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع نہ ملے۔ پاکستان میں اس کے برعکس انتخاب جیتنے کے بعد سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور اسٹیبلشمنٹ کی ’ثالثی‘ پر اتفاق کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں۔ اس طریقہ سے کیسے جمہوریت مستحکم ہو سکے گی؟

انتخابی نظام کے معمول کے نقائص سے قطع نظر، ذمہ داری سے کہا جاسکتا ہے کہ 8 فروری کے دن منعقد ہونے والے انتخابات موجودہ ملکی حالات میں ’شفاف‘ ہی تھے اور انہیں ملک میں جمہوریت کو فعال بنانے کے لئے قبول کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان انتخابات میں تینوں بڑی پارٹیوں کو مناسب تعداد میں نمائندگی ملی ہے۔ تحریک انصاف خیبر پختون خوا، مسلم لیگ (ن) پنجاب اور پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت سازی کے قابل ہوئی ہیں۔ مرکز میں ان میں سے کوئی بھی دو جماعتیں مل کر ایک مضبوط حکومت قائم کر سکتی ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت میں چھوٹے گروہ سیاسی بندر بانٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو دباؤ میں نہیں لا سکیں گے۔ جمعرات کو ہونے والے انتخاب کا سب سے اہم پہلو یہ حقیقت ہے کہ کسی مذہبی گروہ کو قابل ذکر نمائندگی نہیں مل سکی۔ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان کوئی نشست بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں حالانکہ انتخابات سے پہلے ان دونوں پارٹیوں نے کامیابی کا ڈھول پیٹا تھا۔ ان انتہا پسند مذہبی گروہوں کی ناکامی بھی عوامی شعور کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ حتی کہ مولانا فضل الرحمان کے نام سے منسوب جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی قوت بھی کمزور ہوئی ہے اور ان کی پارٹی کو اب تک قومی اسمبلی کی محض تین سیٹیں ہی مل سکی ہیں۔

انتخابات کے نتیجہ میں تین بڑی پارٹیوں کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ ملک میں جمہوری انتخابی نظام کی کامیابی کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ کسی پارلیمانی جمہوری نظام میں اگر تین سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تو وہ چیک اینڈ بیلنس کا بہتر طریقہ استوار کر سکتی ہیں اور ملک میں ایک بہتر اور ذمہ دار حکومت کے قیام میں معاون ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر تحریک انصاف پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کر لے تو وہ مضبوط حکومت ہوگی لیکن ستر پچھتر سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس مضبوط حکومت کے غلط فیصلوں کی نشاندہی کرنے اور حکومت کو مناسب اور عوام دوست پالیسی بنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بناتی ہیں تو تحریک انصاف مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ البتہ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے اگر تینوں پارٹیاں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو قبول کریں اور صرف ا نہیں ووٹوں کو جائز نہ سمجھیں جو کسی ایک پارٹی کے حق میں استعمال ہوئے تھے۔ انتخاب میں ہر ووٹ قیمتی ہوتا ہے اور ہر منتخب ہونے والا رکن اسمبلی قابل احترام ہونا چاہیے۔ البتہ یہ بنیاد اسی وقت فراہم ہو سکتی ہے، اگر ان تینوں پارٹیوں کی قیادت ہوشمندی سے کام لے اور جمہوری عمل کو مستحکم کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ تاہم اگر ایک دوسرے کو چور کہنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں جمہوریت کمزور اور اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہوگی۔

8 فروری کے انتخابات میں تین سیاسی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور بظاہر انتخابات سے خاص نتائج حاصل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی ناکام ہوئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی اور پرویز خٹک کی تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے ذریعے سیاسی دباؤ کے گروہ مستحکم کرنا چاہتی تھی۔ اس حکمت عملی کے باوجود جہانگیر ترین اور پرویز خٹک اپنی نشستیں جیت نہیں سکے۔ پرویز خٹک کی پارٹی کو تو قومی اسمبلی میں ایک سیٹ بھی نہیں ملی اور استحکام پارٹی کو صرف دو سیٹیں مل سکیں۔ گویا حکومت بنانے والی پارٹیوں پر دباؤ برقرار رکھنے کا جو ’منصوبہ‘ بنایا گیا تھا، وہ ناکام ہو گیا۔ اب فوجی قیادت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے انتخابی نتائج تبدیل کروائے اور مسلم لیگ (ن) کو مضبوط کیا۔ اگر اسٹیبلشمنٹ پولنگ کے بعد کامیاب امیدواروں کا فیصلہ کرنے پر قدرت رکھتی یا اس کی ضرورت محسوس کرتی تو جہانگیر ترین اور پرویز خٹک سب سے پہلے کامیاب ہوتے۔

پاکستان کے انتخابی نتائج قابل قبول ہونے چاہئیں۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے پاس اپنا انتخابی نشان ہوتا یا عمران خان آزاد ہوتے تو شاید اسے دس بیس سیٹیں زیادہ مل جاتیں۔ لیکن یہ باور کر لینا پاکستان کی سیاسی حرکیات سے مکمل ناشناسائی ہوگی کہ ’شفاف انتخاب‘ میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی دو چار سیٹوں سے زیادہ پر کامیاب نہیں ہو سکتی تھیں۔ یہ دونوں پارٹیاں طویل عرصہ سے ملکی سیاست کا حصہ ہیں اور دونوں کو معقول تعداد میں ووٹروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔

بہتر ہو گا کہ تینوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے جمہوری حق نمائندگی کو کھلے دل سے قبول کریں اور ووٹروں کی طرف سے سیاسی قوتوں کو دی گئی طاقت کو ضائع کرنے کی بجائے، باہمی اشتراک سے اسٹیبلشمنٹ کی قوت فیصلہ سازی کو محدود کریں۔ بصورت دیگر یہ قیاس کیا جائے گا کہ پاکستان میں جمہوریت ناکام ہو رہی ہے۔ اور اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں بلکہ سیاسی لیڈروں پر عائد ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2790 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments