ادارہ یادگار غالبؔ (1)


”ادارہ یادگار غالبؔ“ کراچی ماضی میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ رہا ہے۔ فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن کا شمار اس ادارے کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ غالبؔ کی صد سالہ برسی کے موقع پر کراچی میں 1969 ءمیں قائم کیا گیا۔ غالبؔ لائبریری کا قیام بھی اسی ادارے کے تحت عمل میں آیا۔ اس ادارے کے پہلے صدر فیض احمد فیض اور جنرل سیکرٹری ظفر الحسن منتخب ہوئے۔ غالبؔ لائبریری میں نادر اور نایاب کتابوں اور رسالوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے یہ کتب خانہ عطیات کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

یہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے، یکم ستمبر 1971 ء میں اس ادارے کے تحت ”غالبؔ لائبریری“ کا افتتاح ہوا۔ ”غالبؔ لائبریری“ میں اس کے بنیاد گزاروں کی تصاویر آویزاں ہیں جن میں مرزا ظفر الحسن، فیض احمد فیض، مجید ملک، سبط حسن، فاطمہ ثریا بجیا اور بیگم آمنہ مجید کی تصویریں شامل ہیں۔ مرزا ظفر الحسن اور فیض احمد فیض نے چند برسوں میں اس کتب خانے کو اردو تحقیق کا ایک بڑا مرکز بنا دیا تھا۔ غالبؔ ہند ایرانی اور اسلامی تہذیب کے نمائندے تھے کراچی ان تینوں تہذیبوں کے امتزاج کا ایک بڑا مرکز تھا۔

کراچی میں ”ادارہ یادگار غالبؔ“ سے قبل کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں تھا کہ جہاں ”غالبؔ“ جیسی عظیم شخصیت کے حوالے سے اس قدر کتب و رسائل اور مضامین جمع ہوں۔ ماضی میں اس کتب خانوں میں اوسطا ہر سال کئی ہزار خواتین و حضرات تشریف لایا کرتے تھے۔ اس لائبریری میں روزنامے، ہفتہ وار اخبارات اور فلمی جرائد نہیں منگوائے جاتے تھے اور نہ ہی غیر ادبی کتب موجود تھیں۔ اس کے باوجود کثیر تعداد میں تحقیق کے طلبہ اردو ادب سے متعلق کتابیں پڑھنے آیا کرتے تھے۔

غالبؔ کی صد سالہ برسی کے موقع پر یہاں سے ”جریدہ غالبؔ“ بھی جاری ہوا جس میں مرزا ظفر الحسن اور سحر انصاری نے لکھا ہے کہ غالبؔ لائبریری میں پانچ ہزار سے زائد کتابیں موجود تھیں۔ پانچ سو جرائد کے گیارہ ہزار شمارے موجود تھے۔ لائبریری کیٹلاگ میں تین سو سے زیادہ غالبؔ کارڈ، دو سو اقبال کارڈ، تین سو پچاس مولوی عبدالحق کارڈ، سر سید، حالی، اور جوش کے ایک سو پچیس کارڈ، میر ابوالکلام آزاد اور جگر کے سو کارڈ، شبلی، حسرت موہانی، منٹو اور فیض کے پچھتر کارڈ، محمد حسین آزاد، اکبر الہ آبادی، پریم چند، فراق اور مجاز کے پچاس کارڈ، ٓتش، اختر شیرانی، اصغر گونڈوی، انشا، انیس، خسرو، حشر، داغ، ذوق، رشید احمد صدیقی، سودا، شرر، فرحت اللہ بیگ، کرشن چندر، مصحفی، ظفر علی خان، میرا جی، یگانہ، نذیر احمد دہلوی کے پچاس کارڈ، موجود تھے اور بہت سی کتابیں اور شاعر ایسے تھے کہ جن کے کارڈ اس وقت تک بنائے ہی نہیں گئے تھے۔

اصناف ادب کی کیٹلاگنگ الگ تھی۔ اردو افسانہ، تنقید، داستان، غزل، نظم، گیت، رسم الخط، ڈرامہ، ناول، تذکرہ۔ سوانح عمری وغیرہ۔ غالبؔ لائبریری کے رسائل پر پہلا اشاریہ جولائی 1971 تک کے رسائل پر مبنی تھا۔ 1976 میں ”غالبؔ لائبریری“ میں تقریباً ساڑھے سات ہزار ادبی کتابیں موجود تھیں۔ جن میں کم از کم پانچ کا شمار نادر اور نایاب کتابوں میں ہو گا۔ بر صغیر پاک و ہند کے 700 رسائل کے بیس ہزار سے زیادہ شمارے ہیں۔ ان میں خاص نمبروں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ ہے۔

2019 میں غالبؔ لائبریری میں کتابوں کی تعداد 4354 تھی اس وقت کمپیوٹر میں محفوظ کتابیں 25 ہزار اور لائبریری میں محفوظ رسائل کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ غالبؔیات، اقبالیات پر تحقیق و تنقید، تاریخ، سوانح، تاریخ، سفر نامے، لسانیات، خود نوشت، وغیرہ کے الگ سیکشن ہیں۔ غالبؔ لائبریری اردو ادب کے لحاظ سے ایک مکمل کتب خانہ ہے۔ اس کا رقبہ زیادہ بڑا نہیں ہے۔ کتب خانے میں 60 افراد کے بیٹھنے کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ دو کمرے ہیں پہلا کمرہ لائبریرین اور خواتین کے لیے وقف ہے۔ دوسرے کمرے میں ادارہ یادگار غالبؔ سے چھپنے والی کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے جس میں دو شیلف کتابیں رکھنے کے لیے موجود ہیں اور ایک میز اور کمپیوٹر، کمپیوٹر انچارج کے بیٹھنے کے لیے موجود ہے۔

”ادارہ یادگار غالبؔ“ کے قیام کے کچھ مقاصد تھے جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔ اس ادارے کا ایک مقصد یہ تھا کہ ہر سال غالبؔ کی برسی منائی جائے۔ ان کے نام پر ایک رسالہ شائع کیا جائے۔ اب ”ادارہ یادگارِ غالبؔ کراچی“ ایک جریدہ ”غالبؔ“ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ اس رسالے کے پہلے مدیر فیض احمد فیض تھے۔ اس ادارے کے تحت مختلف کتابوں کا ترجمہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس منصوبے کے تحت کئی کتابوں کے اردو تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

یہ ادارہ ادبی تحقیق کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر افسوس کہ اسے حکومتی اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ یہ ادارہ نجی کوششوں کی وجہ سے قائم ہے اور فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی ادبی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔ پیسہ نہ غالبؔ کے پاس تھا اور نہ ”ادارہ یادگار غالبؔ“ کے پاس ہے۔ غالبؔ بھی ساری زندگی مقروض تھے اور شدید مالی مشکلات کا شکار رہے اور ”ادارہ یادگار غالبؔ“ کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ اس کتب خانے میں اردو کے بیش قیمت ذخائر موجود ہیں جن کا ہر جگہ ملنا تقریباً ناممکن ہے۔

اس کتب خانے کے اوقات کار شام ساڑھے چار سے ساڑھے سات بجے تک ہیں یہ کتب خانہ اتوار کے دن اور سرکاری چھٹیوں میں بند رہتا ہے۔ یہ کتب خانہ ادبی تحقیق کو فروخت دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ غالبؔ لائبریری میں کتابیں انتہائی منظم صورت میں موجود ہیں جس کی وجہ سے محققین ان تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے۔ ہیں کئی قیمتی خطوط موجود ہیں جس میں رال رسل کا خط بنام سبطِ حسن ہے۔ جوش کا خط بنام سبطِ حسن بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ سلمان تاثیر سابق گورنر کی والدہ بیگم تاثیر کا خط بھی شامل ہے جس میں انھوں نے اپنے شوہر کی مرتب کردہ کتاب ”کراچی“ کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔ ”ادارہ یاد گارِ غالبؔ“ نے فیصلہ کیا کہ ان خطوط کو اصل شکل میں شائع کیا جائے اور تمام ادبی خطوط کو ایک عام خطوط سے الگ کر دیا گیا ہے تاکہ ادبی خطوط کو شائع کروایا جا سکے کچھ خطوط ان کی اصل حالت میں شائع کر دیے جائیں تاکہ پڑھنے میں آسانی رہے۔

ادارہ یادگار غالبؔ سے تقریباً چالیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ کتابیں خریدی بھی جاتی ہیں لیکن محدود مالی وسائل کی وجہ سے کتابوں کا زیادہ انحصار عطیات پر ہوتا ہے۔ کئی علمی اور ادبی شخصیات نے اپنی کتابیں غالبؔ لائبریری کو تحفتا بھی دی ہیں۔ مرزا ظفر الحسن کے انتقال کے بعد کئی علمی ادبی لوگوں نے اس ادارے کی خدمت کی۔ جس میں مشفق خواجہ، فرمان فتح پوری، بیگم آمنہ مجید ملک مختار زمن، رعنا فاروقی، احمد حسین صدیقی، ذوالفقار مصطفیٰ، فاطمہ ثریا بجیا، معین الدین عقیل، ڈاکٹر رؤف پاریکھ اور ڈاکٹر تنظیم الفردوس شامل شامل ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments