حجاب کی تعلیمی پالیسی پر بدنیت دانشوروں کے چودہ سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متبادل بیانیہ صرف باتوں سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہ تو خوش قسمتی ہے خادم اعلی اور جناب وزیر اعظم کی، کہ ان کی صفوں میں محترم سید رضا گیلانی جیسے نابغہ روزگار مجاہد موجود ہیں۔ ان کے ہوتے اب کسی کو متبادل بیانیے کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ متبادل بیانیہ تو آوے ہی آوے۔ سید صاحب وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب ہیں اور سچ پوچھیے تو صوبائی سطح کے وہ واحد وزیر ہائر ایجوکیشن ہیں جن کا نام ہم نے سنا ہے۔ حضور کے ذہن رسا کی داد دینی چاہیے کہ اس کے سبب برسوں بعد ہائر ایجوکیشن میں انقلابی تبدیلیوں کی شنید ہے۔

ابھی کل ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں جہاں انہوں نے اور بہت سی باتیں کیں وہاں دو انتہائی معرکتہ الآراء تجاویز نے میلہ لوٹ لیا۔ ان میں پہلی تجویز تو یہ تھی کہ اساتذہ لیکچر کا آغاز حدیث سنا کر کریں۔ غالباً ان کو علم ہو گا ہی کہ شیوخ الحدیث اور اکابر علما حدیث سناتے ہوئے غلطی کے احتمان کے باعث خوف سے کیسے لرز لرز جاتے تھے اور اب عامیانہ قابلیت کے اساتذہ سے بجا طور پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ خوف خدا کے بغیر ایسا کر سکیں۔

دوسرا یہ کہ حجاب کو لازمی قرار دیا جائے اور حجاب لینے والی لڑکیوں کو پانچ فیصد صد اضافی حاضری کی سہولت دی جائے۔ کچھ نے رپورٹ کیا کہ پانچ اضافی نمبروں کا بھی کہا گیا۔ ہماری رائے میں اگر حجاب لینے والی طالبہ کو پانچ اضافی نمبر ملتے ہیں تو نقاب لینے پر دس ملنے چاہئیں اور شٹل کاک برقعے والی طالبات کو بیس اور جو طالبہ اس شٹل کاک برقعے میں اپنی جگہ امتحان دینے کو اپنی ٹیوشن والی استانی جی کو ہی بھیج دے وہ پورے سو فیصد نمبر پائے۔

آج خبر چل نکلی کہ پنجاب حکومت نے یہ اصولی فیصلہ لے لیا ہے تو بد نیت دانشوروں نے ایک طوفان بپا کر دیا۔ کم بخت متبادل بیانیہ کرتے پھر رہے تھے، لیکن اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھتا یہ تاریخی فیصلہ پتہ نہیں کیوں انہیں ہضم نہیں ہوا۔

اگرچہ پنجاب حکومت نے کہہ دیا ہے کہ ایسا فیصلہ ابھی نہیں ہوا لیکن یہ وقتی انکار جناب سید رضا گیلانی کے پائے استقامت میں جنبش نہیں لا سکا۔ حضرت نے کہا ہے کہ ایک دفعہ جو کہہ دیا سو کہہ دیا۔ وہ حجاب والی تجویز پر بس خادم اعلی کی منظوری کے منتظر ہیں۔ کل ہونے والی ایک تقریب میں بھی انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا۔

ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم ہمیں یہ جان کر سخت مایوسی ہوئی ہے کہ بجائے ان کی تحسین کرنے کے، دو دو ٹکے کے دانشوروں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیر محترم اس منفی مہم سے گھبرائیں گے نہیں اور تندی باد مخالف والا شعر پڑھتے ہوئے اور اونچا اڑیں گے اور چٹانیں ڈھونڈ کر وہاں نشیمن الاٹ کرا لیں گے۔ کیا بعید کہ اس معرکے میں سے مزید خیر برآمد ہو جائے۔ کوشش کی جائے تو آہستہ آہستہ پورے سو فی صد نمبروں کو اسی طرح تقسیم کر دیا جائے۔ اس سے تعلیم میں برکت پڑے گی اور تمام کفار کو کان ہو جائیں گے۔ نیز پڑھائی کا بوجھ بھی صنف نازک کے کندھوں سے کم ہو جائے گا۔ صرف کتابیں پڑھ لینا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔

ہمارے کچھ بدخواہ دوست متبادل بیانیے کے راستے کی دیوار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام سے اب تک انہوں نے اپنے تئیں بڑے سوال اٹھائے ہیں لیکن ہم نے بھی سب کو دندان شکن جواب دے کر چپ کرا دیا ہے۔ یہ ڈر بہرحال ہمیں ہے کہ اگر یہ سوال وزیر محترم سے کر لیے گئے تو شاید کچھ کے جواب وہ نہ دے پائیں۔ ہمیں ان کی ذہانت، فراست، متانت اور دیانت وغیرہ میں کوئی شبہہ نہیں لیکن وزیر کو اور بھی بہت کام ہوتے ہیں اور ان کا ذہن بھی ہمہ وقت ایک چو مکھی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اس لیے کہیں کہیں چوک جانے کا اندیشہ ہے۔ تو ہم اپنی خدمات حاضر کیے دیتے ہیں۔ اس کے بدلے جو ہدیہ وزیر عالی جناب کو مناسب لگے وہ ہم ان کا دل رکھنے کو لے لیں گے ویسے ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

ہم سوال یہاں پیش کیے دیتے ہیں تاکہ جناب گیلانی صاحب بھی دیکھ لیں کہ بدنیت اور بدطینت دانشور کیسے بال کی کھال اتارتے ہیں اور ان کے جواب دینے کے لیے ہمارے جیسا ہمدرد کیوں ضروری ہے تو جناب یہ رہے ان کے سوال۔

1۔ حجاب کی تشریح کس طرح ہوگی؟ سر پر دوپٹہ لینا، اوڑھنی کو آگے لٹکا لینا، راجستھانی طرز کا گھونگٹ نکالنا، شال کو سر پر لپیٹنا، گریس کیلی کی طرح کا اسکارف یا کشمیری طرز میں کپڑے کو سر پر باندھ لینا کیا سب حجاب کے زمرے میں آئے گا یا محض شیخ عنایت اینڈ سنز سے خریدا گیا ایچ ایس وائی یا امیر عدنان کا ڈیزائنر حجاب اس تعریف میں شامل ہو گا؟

۔ 2 کیا سر پر حجاب لینے کے بعد دوپٹہ لینے سے استثنی ہو گا؟ کیا سینے پر دوپٹہ لینے کے الگ نمبر کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس پالیسی کے نفاذ کے بعد دوپٹہ لینا کیا ایک بیکار اور غیر افادی امر نہیں ہو گا؟

3۔ نمبر تو سال میں یا سمسٹر میں ایک دفعہ ملیں گے۔ اضافی حاضریوں کا مسئلہ بھی سال یا سمسٹر کے آخر میں اٹھے گا جب کسی کا امتحان میں بیٹھنا یا نہ بیٹھنا حاضری پر منحصر ہو گا تو سارا سال حجاب کی حاضری کیسے لگےگی؟ کیا حجاب کی حاضری یونیورسٹی یا کالج میں داخلے کے وقت لگے گی یا ہر پیریڈ میں الگ الگ؟ اس کا ریکارڈ کیسے رکھا جائے گا؟ اگر ایک لڑکی دن کے پانچ پیریڈ میں سے چار میں حجاب لیتی ہے اور ایک میں اتار دیتی ہے تو کیا اس دن کا پورا حجاب گنا جائے گا یا اسی فی صد حجاب؟ اس ضمن میں حساب مزید گنجلک بھی ہو سکتا ہے اگر لڑکی کلاس میں حجاب لے اور کیفے میں حجاب اتار دے، لیبارٹری میں حجاب لے اور لائیبریری میں اتار دے، وغیرہ وغیرہ؟ اگر کالج میں داخل ہوتے ہوئے حجاب تھا لیکن واپسی پر نہیں تو کیا اس دن کا پچاس فیصد صد حجاب مانا جائے گا؟ اگر لڑکی دن کے چھ گھنٹے کالج میں گزارتی ہے لیکن حجاب صرف چار گھنٹے بیس منٹ اور آٹھ سیکنڈ تک پہنتی ہے تو کیا اس کی ایک حجاب حاضری لگے گی یا چھیاسٹھ اعشاریہ تین دو فی صد حاضری؟

4۔ روز ہر لڑکی کے حجاب کی مکمل مانیٹرنگ کے لیے ایک ایسے کالج میں جہاں لڑکیوں کی تعداد چار سو بیالیس ہو، کتنا اضافی اسٹاف رکھنا ہو گا؟ کیا اس اسٹاف کو ویڈیو کیمرے اور دوربینیں مہیا کی جائیں گی؟ اس بات کا کتنا امکان ہے کہ اسٹاف کو رشوت دے کر حجاب حاضری لگوانے کی کوشش کی جائے گی؟ اگر سارے سال کا ریکارڈ نہیں رکھا جائے گا تو لڑکیوں میں حجابی اور غیر حجابی کی تخصیص کیا صرف استاد کے کہنے پر ہوگی؟ اگر ایسا ہے تو اس میں غلط لڑکی کو نمبر دیے جانے کے امکان کی اسٹینڈرڈ ڈیوی ایشن کس فارمولے کے تحت نکلے گی؟

5۔ کیا لڑکیاں حجاب کے ساتھ ٹائٹس، جینز، اسکرٹ یا اسے قبیل کے دیگر کپڑے زیب تن کر سکتی ہیں؟ اگر اس پر نمبر کاٹے جانے کی شنید ہے تو کیا ایک دفعہ میں سارے نمبر کٹیں گے یا سال کے دنوں پر ہر غلطی کو تقسیم کر کے نمبر کاٹنے کا فارمولہ بنے گا؟ کیا سنا سفیناز کی آر پار دکھائی دینے والی لان کا توازن موٹے کپڑے کے حجاب سے ممکن ہے؟

6۔ کیا حجاب کلچر کالج کے اندر تک ہی رہے گا؟ لڑکی کالج یا یونیورسٹی کے مین گیٹ سے کتنے گز دور جا کر حجاب اتار سکتی ہے کہ اس کے نمبر کٹنے کا امکان نہ ہو؟ اس فاصلے کا تعین کیا اسلامی نظریاتی کونسل سے کرایا جائے گا یا انجینئرنگ کونسل سے؟

7۔ اگر یہ تجویز منظور ہوجاتی ہے تو لڑکوں کو ایک امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے ان کو داڑھی کے 5 اضافی نمبر دیے جائیں گے یا نہیں؟ اگر نہیں تو لڑکوں کا کیا قصور ہے؟ اور اگر ہاں تو ایسے لڑکے جن کی داڑھی ابھی نہیں آئی کیا انہیں شیخ عنایت اینڈ سنز سے رعایتی نرخوں پر کرائے کی داڑھی دلوانے کا کوئی انتظام زیر غور ہے؟ کیا فیشنی داڑھی اور شرعی داڑھی کے الگ الگ نمبر ہوں گے یا ایک جیسے؟ اگر لڑکے بھی حجاب لینا چاہیں تو کیا اس پر کوئی اعتراض کیا جا سکتا ہے؟

8۔ کیا لڑکیوں کو چھٹی والے دن حجاب کی بھی چھٹی ہو گی؟

9۔ کیا حجاب نہ لینے والی لڑکیوں کو لادین سمجھنا جائز ہو گا؟ کیا یہ فارمولا عیسائی، ہندو، پارسی اور سکھ لڑکیوں پر بھی لاگو ہو گا؟ کیا حجاب نہ لینے والی لڑکیوں کو شرم دلانا یا ان پر آوازے کسنا یا استاد کا انہیں کلاس میں غصیلی نظروں سے گھورنا قابل قبول رویہ سمجھا جائے گا؟

10۔ کیا نمبر کے لیے یا حاضریوں میں رعایت کے لیے حجاب لینا شرعی طور پر مکر کے زمرے میں آئے گا یا اس کا ثواب دوسرے جہان میں بھی ملے گا؟

11۔ حجاب لینے والی لڑکیاں چونکہ آگے بڑھنے کے بہتر مواقع حاصل کر پائیں گی اس لیے کیا یہ سمجھنا ٹھیک ہو گا کہ انجینئر، ڈاکٹر یا معلم بننے کے لیے حجاب لینا آج سے ایک اہم ضرورت ہے؟

12۔ حجاب کے کلچر کے فروغ پانے سے ہماری قومی پیداوار میں فی کس کتنا اضافہ ہو گا؟ ایجادات کی تعداد کتنے گنا بڑھ جائے گی؟ حقوق دانش میں ہمارے حصے میں کیا مثبت تبدیلی آئے گی؟ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے فارغ التحصیل طلباء کے لیے روزگار کے کون سے نئے مواقع پیدا ہوں گے؟

13۔ کیا یہ پیغام مناسب ہو گا کہ ریاست ایک دو فٹ بائی دو فٹ کپڑے کی بنیاد پر اپنی بچیوں کے درمیان فرق روا رکھے گی؟ کیا تہذیب، تمدن اور مذہب کے شعائر کی ترغیب اصول اور تعلیم نہیں بلکہ لالچ کی بنیاد پر رکھنے سے معاشرے میں منافقت کو فروغ نہیں ملے گا؟

14۔ کیا اگلا منطقی قدم یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر وہ لڑکی جو گھر میں رہے اور تعلیمی اداروں کے حرام اختلاط سے پرہیز کرے اسے اسی بنا پر ڈگری کا مستحق قرار دے دیا جائے؟ کیا اس سے ہمارا معاشرہ پاکیزہ نہیں بن جائے گا؟

دیکھیے جناب من۔ ڈٹے رہیے۔ انہی خطوط پر سوچیے جن سے یہ حالیہ تجویز برآمد ہوئی ہے۔ ابھی پنجاب حکومت تھوڑا گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی ہے لیکن آپ کو اس وزارت کا ملنا ہی عقل والوں کے لیے نشانی ہونی چاہیے کہ درون خانہ معاملات کس نہج پر لے جانا مقصود ہے۔ باقی رہا یہ بزعم خود دانشوروں کے پھیلائے ہوئے سوالات کا مسئلہ تو خادم تو حاضر ہے ہی۔ آپ لگے رہیے۔

 (اشاعت مکرر) 14 مارچ 2017

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 143 posts and counting.See all posts by hashir-irshad