آخر کب تک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ دن سے جو کچھ نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری صاحب کے منہ سے ایک دوسرے کی کرپشن کے خلاف نعرے سن رہا ہوں، اس پر حیران ہوں کہ آخر کب تک؟
مجھے دو ہزار سات یاد آتا ہے‘ جب لندن میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ایک نیا سوشل کنٹریکٹ سائن ہوا تھا اور جس میں نئی شروعات کی بات کی گئی تھی۔ لوٹ مار کرکے بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے باوجود وہ دونوں نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پر جو خواب دکھائے گئے تھے، وہ میرے جیسے بیوقوف اور سادہ لوح گاہکوں نے فوراً خرید لیے کہ اس بار نواز شریف اور بینظیر بھٹو پاکستان کی دنیا بدل دیں گے۔ سوچا کرتا تھا‘ یہ لوگ اب بدل گئے ہیں۔ انہوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں۔ ‘زرداری صاحب کے آٹھ سال جیل میں‘ کا رونا ختم نہیں ہوتا تھا تو نواز شریف جب بھی ڈیوک سٹریٹ دفتر میں ملتے‘ یہیں سے شروع کرتے کہ کیسے انہیں وزیر اعظم ہائوس سے گرفتار کرکے‘ ہتھکڑیاں لگا کر اور سیٹ سے باندھ کر کراچی لے جانے کے لیے ایسے جہاز میں بٹھایا گیا جو بہت سست رفتار تھا تاکہ انہیں زیادہ تکلیف ہو۔ کتنی دفعہ ان کے منہ سے سنا: اس بار موقع ملا تو دنیا بدل دیں گے‘ پاکستان کو درست کر دیں گے، اپنی ذات پر کوئی نیا داغ نہیں لگنے دیں گے۔ میں ان جذباتی تقریروں کا گواہ ہوں۔ بینظیر بھٹو بھی لندن میں میڈیا سے اس طرح کی گفتگو کرتی تھیں۔ ایک جنوں تھا، ایک خواب تھا کہ پاکستان بدل جائے گا۔ پاکستان جاگ رہا تھا۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف قوم جاگ رہی تھی۔ قوم آمر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھی۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو‘ وطن لوٹ کر ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ نواز شریف صاحب کا پہلا مشن یہ تھا کہ کارگل پر عدالتی کمشن بنے گا اور متعلقہ جرنیلوں کو سزائیں ملیں گی۔ وہ اب کبھی جرنیلوں کے ساتھ مل کر منتخب حکومتوں کے خلاف سازش نہیں کریں گے۔ اس دفعہ آمریت کی باقیات کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے گا۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ میں ان کی ایسی رٹی رٹائی تقریروں پر سر دُھنتا رہتا اور میرے ساتھ میرے صحافی دوست بھی۔
پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ میں نے پچھلے دنوں نواز لیگ کے ایک اہم رکن سے پوچھا: کیا ہوا؟ کہاں ہم سے غلطی ہوئی‘ اور ہم نے ان لوگوں کے ارادے نہیں جانے‘ بیوقوف بن گئے؟ ہم تو سمجھتے تھے انسان مشکلات سے سیکھتا ہے، اور تکلیف سے گزرنے کے بعد میچور ہوتا ہے۔ چودہ ماہ جیل، وزیر اعظم ہائوس سے گرفتاری، جدہ اور لندن میں طویل جلا وطنی سے زیادہ کیا مشکل زندگی ہوگی؟ نواز لیگ کے وہ صاحب‘ جو آج کل نواز شریف صاحب کی گڈ بُکس سے دور ہیں، سوچتے رہے اور پھر بولے تو اس کا ایک ہی جواب تھا: ان کے نزدیک یہ سب تکلیفیں تکلیفیں نہیں ہوں گی کہ وہ سیکھتے اور نئی شروعات کرتے۔ ان کے نزدیک شغل تھا، سیر و تفریح تھی۔
زرداری صاحب نے اس سے زیادہ اور کیا مشکلات دیکھنا تھیں کہ وہ ایک اچھے لیڈر بنتے اور کرپشن سے دور رہتے؟ جیل میں اپنی زبان خود کاٹی یا کٹوائی۔ اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے سیکھنے اور توبہ کرنے کے لیے؟ کراچی کے ایک پولیس افسر نے خود مجھے بتایا کہ ایک دفعہ صدر زرداری نے انہیں کہا: کب تک ایمانداری سے چمٹے رہو گے۔ کچھ کما لو۔ بچے ہیں تمہارے۔ کسی کو کہہ دیتا ہوں کاروبار میں تمہارا حصہ ڈلوا دیتا ہوں۔ وہ پولیس افسر حیرانی سے ملک کے سابق صدر کی یہ گفتگو سنتا رہا۔ زرداری کے اسلام آباد میں ایک قریبی‘ جن کے حوالے انہوں نے پورا سی ڈی اے حوالے کر دیا تھا کہ کھل کر کھائو اور عیش کرو‘ میری موجودگی میں کسی سے کہہ رہا تھا: یار کوئی پارٹی پکڑو اور سندھ میں کام کراتے ہیں۔ موصوف بولے: کوئی پاور پلانٹ کی بڑی پارٹی پکڑو تاکہ تگڑا کمشن ملے۔ وہ بندہ میری طرف دیکھ کرگھبرا گیا کہ صحافی کی موجودگی میں کیا کہہ رہے ہو۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ بندہ زرداری کا دوست ہو اور شرمندہ ہو۔ وہ موصوف ایک لمحے کے لیے بھی شرمندہ نہ ہوئے اور ہنس کر بولے: یہ ہمارے دوست ہیں انہیں پتہ ہے ہم مال بناتے ہیں۔
میں اس دوست پر تین حرف بھیج کر اس محفل سے اٹھ آیا۔ ہر دوسرے پیپلز پارٹی لیڈر اور سندھ کے وزیر کی دوبئی میں جائیداد ہے اور سندھ قرون وسطیٰ کی شکل پیش کر رہا ہے۔
نواز شریف صاحب لندن میں ہر وقت جرنیلوں کے پاکستان پر حکمرانی کے نقصانات گنواتے رہتے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ پاکستان لوٹے تو کچھ عرصہ بعد پتہ چلا جنرل کیانی، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی دن رات خفیہ ملاقاتیں چل رہی ہیں۔ لندن میں فرمایا گیا تھا: اب کی دفعہ کسی جنرل سے کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔ ایک پریس کانفرنس میں سوال پوچھا گیا تو نواز شریف صاحب بولے: ان کے علم میں لائے بغیر شہباز شریف جنرل کیانی سے خفیہ ملتے رہے۔ میں یہ سن کر ہنس دیا کیونکہ مجھے لندن کے دنوں سے ان بھائیوں کے سٹائل کا اندازہ ہو چکا تھا کہ کیسے وہ گُڈ کاپ بیڈ کاپ کی گیم کھیلتے ہیں اور ایسی خوبصورتی سے کھیلتے ہیں کہ اگلا دیکھتا رہ جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل کیانی صاحب کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی تھی‘ جس کے لیے رات کو شہباز شریف اور چوہدری نثار کی جانب سے جی ایچ کیو کا پچھلا دروازہ کھٹکانا ضروری تھا؟
جنرل برے تھے۔ مشرف امر تھا‘ تو نواز شریف اور زرداری‘ دونں صاحبان نے کیا نیا پاکستان دیا؟ پہلے پانچ سال زرداری تو اب پانچ سال نواز شریف صاحب۔ ان دس برسوں بعد کیا نتیجہ نکلا ہے؟ کیا ترقی ہوئی ہے؟ زرداری صاحب کہہ رہے ہیں: نواز شریف اور شہباز شریف کوئی بھی پروجیکٹ نہیں چھوڑتے‘ سب میں مال بناتے ہیں۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ زرداری سے بڑا کرپٹ پیدا نہیں ہوا۔ دس برس بعد ہم دو کرپٹ لیڈروں اور پارٹیوں میں فیصلہ کریں گے کہ کون بڑا کرپٹ ہے اور کون چھوٹا‘ لہٰذا چھوٹے کو ووٹ دے دیتے ہیں؟
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان پارٹیوں کی جاری لڑائی‘ جس میں ڈرامہ اور جعلی سمجھتا ہوں، میں لفظ پانامہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ زرداری صاحب نواز شریف اور شہباز شریف پر ہر حملہ کریں گے لیکن وہ پانامہ کا ذکر تک نہیں کریں گے اور نہ ہی اعتزاز احسن کو کہا کہ جائو سپریم کورٹ میں حکمران خاندان کو ایکسپوز کرو‘ جیسا ٹی وی پر کرتے ہو۔
کیا ملا ہے ان دس برسوں میں؟ کراچی گندا ترین شہر ہو گیا ہے۔ لاہور میں کھربوں لگ گئے اور بقول زرداری صاحب سب مال بنایا گیا ہے۔ لاڑکانہ میں نوے ارب روپے کھا لیے گئے۔ پیپلز پارٹی جو کبھی شہیدوں کی پارٹی تھی‘ کرپٹ ٹولے کی پارٹی بن کر رہ گئی۔ اب عاصم حسین، ایان علی اور شرجیل میمن جیسے کردار اس کی پہنچان بن گئے ہیں۔ شہباز شریف اور نواز شریف صاحبان اس دفعہ کورین کی بجائے ترک اور چینی کمپنیوں کی طرف نکل گئے۔ دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ کہتے ہیں۔ یقینا دونوں حکومتوں میں رہے ہیں، ایک دوسرے کی اوقات اور کرپشن جانتے ہیں۔۔۔ وہ دونوں ایک ہی سچ بول رہے ہیں۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ کہہ رہے ہیں۔ یہ وہ جملہ ہے جس پر انہیں جھوٹا نہیں کہا جا سکتا ۔
لندن میں دس برس پہلے دیکھے گئے ایک خوابوں کو بکھرتے دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔ انسان کتنی جلدی بدل جاتے ہیں۔۔۔ طاقت، پیسہ اور اختیار بندے کو کیسے ایکسپوز کر دیتے ہیں۔۔۔ زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب نے جہاں سے سفر شروع کیا تھا آج دونوں وہیں جا کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔! دونوں ایک دوسرے کو کرپٹ کہہ رہے ہیں اور دکھ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو طعنے دینے کے قابل نہیں رہے۔
آخر کب تک ان دو خاندانوں کی طویل غلامی کا ہمارا سفر جاری رہے گا؟ یہ ملک کب تک ایسے لوگوں کی چراگاہ بنا رہے گا۔۔۔ کسی نے پانچ ارب روپے کے کرپشن ریفرنس کے مرکزی ملزم شرجیل میمن کو سونے کا ہار اور وزیر اعظم نواز شریف‘ جن کے حوالے سے پانامہ سکینڈل کا فیصلہ آیا ہی چاہتا ہے‘ کے لیے بھی سونے کے تاج کی بازگشت پر کیا خوبصورت جملہ فیس بک پر لکھا۔۔۔ جن کے تاج اچھالے جانے چاہیے تھے، انہیں تاج پہنائے جا رہے ہیں ۔۔۔!
آخر کب تک ۔۔۔!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •