پارٹیشن (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دوپہر کی بات ہے۔ ایک بیل گاڑی والے نے ٹھیک ان کی دکان کے سامنے گاڑی روکی۔ بیل کھولے اور گاڑی کا اگلا حصہ قربان بھائی کے چبوترے پر ٹکا دیا۔ گاؤں سے آنے والے اسی چوک میں گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ بیل کھولتے ہیں اور انہیں چارہ ڈال کر اپنا کام کاج نپٹانے چلے جاتے ہیں۔ شام کو لوٹتے ہیں اور انہیں لے کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن وہ گاڑی کسی کے دکان کے بالکل سامنے کھڑی نہیں کرتے اور کسی چبوترے پر ٹکانے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس شخص نے تو اس طرح گاڑی کھڑی کی تھی کہ اس کی وجہ سے اب کوئی گاہک قربان بھائی کی دکان پر پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔ بلکہ وہ خود بھی پڑوسیوں کے چبوترے سے ہوئے بنا نیچے نہیں اتر سکتے تھے۔گاڑی والا روکھ چند کا ‘ہالی’ تھا اور قربان بھائی کو معلوم تھا کہ ابھی یہ گاڑی کھڑی کرکے گیا ہے تو شام کو ہی لوٹے گا۔ قربان بھائی نے اس سے گاڑی ذرا بازو میں کھڑی کرنے اور بیلوں کو کنارے باندھ دینے کو کہا۔ اس نے ان سنی کر دی۔ قربان بھائی نے پھر کہا تو ایک نظر انہیں دیکھ کر اپنے راستے چل پڑا۔ قربان بھائی نے خود اٹھ کر چبوترے پر ٹکے اس گاڑٰی کو اٹھایا اور دھکا دے کر۔۔۔۔۔۔ لیکن تبھی اس آدمی نے قربان بھائی کا گریبان پکڑ لیا۔ گالیاں بکنے لگا۔ قربان بھائی کا چشمہ نوچ لیا اور دھکا مکی کرنے لگا۔ ٹھیک اسی وقت وکیل روکھ چند ادھر سے گزرے اور انہوں نے بلند آواز میں پوچھا۔

” کیا ہوا رے گومیا؟”

گومیا بولا ” ہم نیئے کوٹے۔” یعنی وہی مار رہا ہے۔

وکیل روکھ چند نے پوچھا ” کون ؟

گومیا بولا ” ارے یہ میاں “

قربان بھائی سن رہ گئے۔ بات سمجھ میں آتے آتے اندر تک سہر گئے۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔ وہیں زمین پر اکڑوں بیٹھ گیئے۔ سر پکڑ لیا۔ اندھیرے کا ایک ٹھوس گولہ کلیجے سے اٹھا اور حلق میں آ کر پھنس گیا۔ برسوں سے جمے آنسو ایک ساتھ پھوٹ پڑنے کو زور مارنے لگے۔

 یہ کیا ہوا؟۔۔۔۔۔ کیسے ہوا؟ کیا گومیا انہیں نہیں جانتا؟ ایک ہی منٹ میں وہ قربان بھائی سے ‘میاں’ کیسے بن گیئے؟ ایک منٹ بھی نہیں لگا۔۔۔۔ برسوں سے اندر ہی اندر سہج کر جو عزت انہوں نے بنائی تھی۔۔۔ ہر دن، ہر پل جیسے ایک اگنی پریکچھا سے گزر کر عزت کا جو پہاڑ بٹورا۔۔۔ ہر دن خود کو سمجھا کر۔۔۔ کہ پاکستان جا کر بھی کوئی نوابی نہیں مل جاتی۔۔۔ جیسے ہیں یہیں مست رہیں گے۔۔۔۔ اللہ سب دیکھتا ہے۔۔۔ جانے دو ‘جوش’ کو ، ڈوبنے دو ‘ثریا’ کا ستارہ۔۔۔ بھلا دو دوستوں کو۔۔۔ لٹ جانے دو کاروبار کو۔۔۔ جھوٹے بد معاشوں کے قبضے میں چلی جائے حویلیاں۔۔۔ گمنام پڑی رہنے دو بھائیوں کی قبریں۔۔۔ دفنا دو بھرے پرے گھر کا سپنا۔۔۔ شائد پھر کبھی اپنے بھی دن آئیں، تب تک صبر کر لو۔ کیا کیا قیمتیں روز چکا کر قبضے میں تھوڑا سا اپنا پن۔۔۔ تھوڑا سا سماجی تحفظ۔۔۔ تھوڑی سی خود اعتمادی۔۔۔ تھوڑی سی نرمی انہوں نے بٹوری تھی۔۔۔۔ اور کتنی بڑی دولت سمجھ رہے تھے اس کو۔۔۔ اور لو۔۔۔ ! ذرہ ذرہ کر کے بنا پہاڑ ایک پھونک میں اڑ گیا ! ایک جاہل آدمی۔۔۔ لیکن جاہل وہ ہے یا میں ؟ میں ایک منٹ میں قربان بھائی سے ‘میاں’ ہو جاؤں گا، یہ کبھی سوچا کیوں نہیں؟ اپنی محنت کا کھاتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ ہمیں اپنی چھاتی کا بوجھ ہی سمجھتے ہیں۔ یہ بات کبھی نظر کیوں نہیں آئی؟ پاکستان چلے جاتے تو لاکھ غربت جھیلنی پڑتی، کم از کم ایسی اوچھی بات تو نہ سننی پڑتی۔ حیف ہے۔ لعنت ہے۔۔۔۔ دھتکار ہے ایسی زندگی پر۔

اللہ ، یا اللہ !

وکیل روکھ چند گومیا ہالی کو سمجھاتے ہوئے ساتھ لے گیئے۔ گاڑی بیل وہیں چھوڑ گیئے۔ پڑوسیوں نے قربان بھائی کو سنبھالا۔ ان کی بتیسی بھنچ گئی تھی اور ہونٹوں کے کناروں سے جھاگ نکل رہے تھے۔ لوگوں نے گاڑی بیل ہٹائے۔ قربان بھائی کو چبوترے پر لٹایا۔ منہ پر پانی کے ٹھنڈے چھینٹے مارے۔ پنکھا جھلا۔ وکیل روکھ چند کو گالیاں دیں۔ قربان بھائی کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ مگر انہیں کیا معلوم قربان بھائی کے اندر کیا ٹوٹ گیا ہے۔ ابھی ابھی، جسے انہوں نے اتنے برس نہیں ٹوٹنے دیا تھا۔ اندر کی چوٹ دکھائی کہاں دیتی ہے؟

 لوگ اکٹھے ہو گئے۔ سارے قصبے میں خبر پھیل گئی۔ جس کو پتہ چلتا گیا، آتا گیا۔ ہم لوگ بھی پہنچے۔ اب بیسیوں لوگ تھے اور بیسیوں باتیں۔ کافی دیر بھننانے پھنکارنے کے بعد طے ہوا کہ یہ بدتمیزی چپ چاپ برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ تھانے میں رپورٹ لکھانی چاہیے۔

 لہذا چلا جلوس تھانے۔۔۔۔ مگر راستے میں کسی کو پیشاب لگ آیا۔ کسی کو کوئی کام یاد آ گیا۔ تھانے پہنچتے پہنچتے صرف ہم لوگ رہ گیئے قربان بھائی کے ساتھ۔

 تھانے دار نہیں تھے۔ ابھی ابھی موٹر سائیکل لے کر کہیں نکل گئے تھے۔ منشی نے رپورٹ لکھنے سے صاف انکار کر دیا۔ کیوں نہ کرتا؟ تھانے دار کے پاس پہلے ہی وکیل روکھ چند کا ٹیلی فون آچکا تھا۔ وکیل روکھ چند موجودہ حکومت کے ضلع منسٹر تھے۔ قربان بھائی کون تھے؟ ہم لوگ کون تھے؟

 آدھے گھنٹے تک بحث اور ڈیڑھ گھنٹے تک تھانےدار کا انتطار کرنے کے بعد اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے، شام کو پھر آئیں گے کہ کر۔ شام کو ہم لوگوں کے علاوہ دکان پر کوئی نہیں پہنچا اور ہم لوگوں کے ساتھ تھانے چلنے کی ذرا بھی بےچینی قربان بھائی نے نہیں دکھائی۔ دکان داری نے انہیں جیسے ایک دم مصروف کر لیا۔ جیسے ہم سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں ہو ان کے پاس۔

 ایک احساس گناہ کے زیر اثر ہم بھی قربان بھائی سے کٹے کٹے رہنے لگے۔ حالانکہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا جسے طول دیا جائے۔ تھانے دار کیا۔۔۔ کوئی بھی ہوتا۔۔۔ پولیس کے چکر میں پڑنے کے بجائے جو ہو گیا اسے ایک جاہل آدمی کی بےوقوفی مان کر بھول جانے کو تیار ہو جاتا۔۔۔۔ مگر ہم۔۔۔۔۔ ہمیں لگ رہا تھا ، ہمارے دوست پر حملہ ہوا اور ہم کچھ نہیں کر سکے۔ کسی کام نہیں آ سکے۔ یہ بھی لگ رہا تھا زیادہ جوش دکھایا تو قربان بھائی کے لیئے مصیبتیں کھڑی ہو جائیں گی۔ ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔ یہ بھی لگ رہا تھا جو ہوا اس میں پولیس کی دخل اندازی اور مدد کی امید بےکار ہے۔ اس کا مقابلہ سیاسی سطح پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے جلدی سے جلدی اپنی طاقت بڑھانی چاہیئے۔۔۔۔ پانچ سے پچاس ہو جانا چاہیئے۔

 لیکن یہ سب بہانے بازی تھی۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے قربان بھائی کو ایک دم اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ شائد ہم ان کی تکلیف کو شیئر نہیں کر سکتے تھے۔ پر ہمیں کوشش ضرور کرنی چاہیے تھی۔

قربان بھائی کی دکان پر کئی دنوں تک پہلے کا سا دوستوں کا جمگھٹا نہیں ہوا۔ وہ بہت کم بولتے تھے اور ہمیں دیکھتے ہی دکان داری میں مصروف ہو جاتے۔ وہ گھٹ رہے تھے اور گھل رہے تھے۔ مگر کھل نہیں رہے تھے۔ ہم انہیں نہیں کھول پائے۔ ایک دن جب میں پہنچا، میری طرف ان کی پیٹھ تھی ، کسی سے کہہ رہے تھے ” آپ کیا خاک ہسٹری پڑھاتے ہیں ؟ کہہ رہے ہیں، پارٹیشن ہوا تھا۔ ہوا تھا نہیں، ہو رہا ہے۔۔۔ جاری ہے۔” اور مجھے دیکھتے ہی چپ ہو کر کام میں لگ گئے۔

 اس کہانی کا اختتام اچھا نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں، آپ اسے نہ پڑھیں اور پڑھیں بھی تو یہ ضرور سوچیں کہ کیا اس کا کوئی اور اختتام ہو سکتا تھا ؟ اچھا اختتام ؟ اگر ہاں، تو کہیئے۔

 بات بس یہ بچی ہے کہ کئی دن بعد جب ایک دوپہر کو میں آزاد چوک سے گزر رہا تھا، جس کا نام اب سنجے چوک کر دیا گیا ہے، وہ جمعہ کا دن تھا۔ میں نے دیکھا، قربان بھائی کی دکان کے سامنے لطیف بھائی کھڑے ہیں اور قربان بھائی دکان میں تالہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹوپی پہن رکھی ہے۔ پھر دونوں مسجد کی طرف چل پڑے۔

(ہندی سے ترجمہ: ترنم جہاں شبنم)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سوئم پرکاش کی دیگر تحریریں