واہگہ بارڈ پر انڈیا کا بڑا جھنڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

19 مارچ کو خوشی خوشی واہگہ بارڈر پر پاکستان اور انڈین آرمی کی مشترکہ بارڈر پریڈ دیکھنے وقت سے بہت پہلے پہنچ گیا تاکہ سٹیڈیم بھر جانے وجہ سے ناکام واپس نہ جانا پڑے۔ باٹا پور سے ہی انڈیا کا ایک انتہائی بڑا اور اونچا جھنڈا نظر آنا شروع ہوا۔

سب سے پہلا سوال جو بچوں کا تھا کہ

“پاکستان کا جھنڈا کدھر ہے؟ کیا ہم انڈیا میں ہیں؟ ”

عجیب سا تو خیر مجھے بھی محسوس ہوا کہ ان کی سر زمین پہ لگا جھنڈا پاکستان سے کیوں نظر آ رہا ہے اگر آ بھی رہا ہے تو اتنا ہی بڑا جھنڈا ہمارا کیوں نہیں ہے؟

انسان شاید لاشعوری طور پہ کبھی بالغ نہیں ہوتا۔ بچپن میں چاہتا ہے کہ اڑوس پڑوس میں سب سے بڑا جھنڈا اس کے گھر پہ لگا ہو اور بالغ ہونے یہی اڑوس پڑوس دوسرے ملک اور گھر اپنا ملک بن جاتا ہے۔

خیر، برے سے دل کے ساتھ ہم سب پریڈ سٹیڈیم بیٹھے گئے جھنڈا شاید ہماری طرح بہت سوں کے دل میں ہی کھب گیا تھا اردگرد تقریباً سب کا ردعمل کچھ ایسا ہی تھا۔

آرمی والے لگتا تھا پہلے بھی ہزاروں لوگوں کو اس بات کا جواب دے چکے تھے اس لیے جب میرے بچوں نے پوچھا کہ پاکستان کا جھنڈا کدھر ہے تو انہوں نے کہا ہمارا جھنڈا اس سے بھی بڑا ہو گا اور جلد ہی سل کر آ جائے گا۔ بچے مطمئن ہو گئے۔

اس دن پریڈ سٹیڈیم میں بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ماضی کا طوق گلے میں لٹکائے پھرتا ہے خواہ قابلِ​ شرم ہو یا باعثِ افتخار۔ اگر یہی اصول ریاست پر بھی لاگو کر دیا جائے پھر نہ تو پاکستان کا کروڑوں ریڈ انڈینز کو قتل کر کے ان کے ملک پہ قبضہ کرنے جیسا مکروہ ماضی ہے، نہ ہم نے پوری دنیا کو تہذیب سکھانے کے نام پہ غلام بنایا، نہ ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ اسلحہ ہے اور نہ ہم نے افریقہ میں کھانا دے کے لوگوں کے مذاہب​ تبدیل کرائے۔ کس بات کا احساسِ ندامت ہے کہ آپ سرحدیں مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ کون سی ایسی غلطی ہوئی کہ آپ اس ملک کے وجود پہ سوال اٹھاتے ہیں؟

مذہب​ کی بنیاد پہ لوگوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، چلیں نہیں ہونی چاہیے۔ کیا ستر برس گذرنے کے بعد بھی سرحدوں کی دونوں جانب بسنے والے ایک ارب سے زیادہ انسانوں کے دلوں میں اہک دوسرے کے لیے نفرت نہیں؟ کیا یہ نفرت پاکستان کے وجود کا جواز نہیں؟

ہم سے انڈیا کا بڑا جھنڈا برداشت نہیں ہوتا اور آپ پاکستان کے وجود کا جواز ڈھونڈتے ہیں؟

(ابھی سننے میں آیا ہے کہ 5 مارچ کو لگایا جانے والا 360 فٹ اونچا ترنگا جس پہ تقریباً 5۔ 5کروڑ پاکستانی روپے لاگت آئی ابھی تک تیز ہواؤں کی وجہ سے تین بار پھٹ چکا ہے اور آخرکار بھارتی گورنمٹ نے کسی پائیدار حل کے ملنے تک دوبارہ نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).