EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مفتی پوپلزئی کا چاند متنازع کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسجد قاسم خان ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے رویت ہلال کی شہادتیں جمع کر کے اس کا اعلان کر رہی ہے۔ اس وقت مسجد قاسم خان کی طرف سے یہ اعلان مفتی شہاب الدین پوپلزئی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ان کے ماننے والے ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن بقیہ ملک میں اب ’پشاور کا چاند‘ اور مفتی پوپلزئی کی رویت ہلال باقاعدہ لطائف کا نشانہ بننے لگے ہیں۔

رمضان اور عیدین کے متعلق یہ کہا جانے لگا ہے کہ پشاور کا چاند ایک دن پہلے ہی نکل آتا ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ یہ سعودی عرب اور کابل کا اعلان شدہ چاند ہے جو مسجد قاسم خان میں دیکھا جاتا ہے۔

دوسری طرف مفتی پوپلزئی کے عقیدت مند یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا تھا مگر مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہماری گواہی کو نہیں مانتی ہے۔ اب کھلے لفظوں میں اس کا الزام مفتی منیب کے بریلوی مسلک سے ہونے پر لگایا جاتا ہے۔ لیکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں تو ملک بھر سے ہر مسلک کے علما شامل ہیں، پھر مفتی منیب اس پوری کمیٹی کے مشترکہ اعلان کے تن تنہا ذمہ دار کیوں قرار دیے جاتے ہیں؟

دوسری طرف یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش، مفتی منیب الرحمان یا پاکستانی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو نہیں مانتے مگر ان ممالک میں بھی عموماً اسی وقت چاند دیکھنے کا اعلان کیا جاتا ہے جب پاکستان میں چاند دکھائی دیتا ہے۔ بھارت میں واقع دارالعلوم دیوبند کو بھی مفتی منیب کا چاند ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس مرتبہ بھی یہی ہوا ہے۔

دو چار برس پہلے ایک چاند کے ایک دن پہلے ہی نکلنے کی گواہی مسجد قاسم خان کو موصول ہو گئی تھی۔ اگلے دن ملک بھر نے چاند دیکھا جو واضح طور پر اتنا پتلا تھا کہ پہلی کا ہی تھا۔ اس پر مفتی منیب نے طنز کیا تھا کہ ’چاند ہوتا ہے تو سب کو دکھائی دیتا ہے‘۔

اس مرتبہ جو چاند ملک بھر نے دیکھا وہ باریک نہیں ہے بلکہ کچھ موٹا تازہ ہے۔ اس مرتبہ مفتی پوپلزئی کے حامیوں نے نعرے بلند کیے کہ یہ واضح طور پر دوسری تاریخ کا چاند ہے۔ ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح یہ مبینہ طور پر دوسری تاریخ کا چاند پورے ملک میں پشاور سے کراچی تک دیکھا گیا تو پہلی کا وہ چاند کیوں اتنا شرمیلا تھا کہ صرف مسجد قاسم خان کے ماننے والوں کو دکھائی دیا۔

چاند کے موٹا ہونے کا سبب ماہرین فلکیات اور کئی مفتیان نے یہ بتایا کہ اگر سابقہ مہینہ تیس دن کا ہو تو اگلا چاند کچھ موٹا ہوتا ہے۔ چاند دکھائی دینے سے قبل ہی فیصل آباد کے ممتاز مذہبی عالم شیخ الحدیث مولانا محمد زاہد صاحب نے یہ لکھا تھا: ’آج تیس شعبان ہے۔ آج شام کو چاند کافی واضح اور بڑا ہوسکتا ہے، عامیانہ سوچ کی بات تو الگ ہے شرعی اور فنی دونوں اعتبار سے ایسا ہونا بالکل ممکن ہے، یہ کوئی قابل اشکال بات نہیں‘۔ انہوں نے تکنیکی اور فنی معلومات کے لئے جامعہ الرشید کے فیس بک پیج ’رویت ہلال اپڈیٹس‘ کو دیکھنے کا مشورہ بھی دیا جس نے مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب کی کتاب آسان فلکیات سے یہ اقتباس دیا ہے:

عام طور پر لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ اکثر و بیشتر پہلی کا چاند بہت موٹا ہوتا ہے جس کو دیکھ کر بہت سے لوگ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ دوسری کا چاند ہے۔

یہ طرز عمل ٹھیک نہیں کیونکہ ایک تو حدیث میں اس کو قیامت کی علامات میں سے کہا گیا ہے (حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’چاند کا موٹا ہونا قرب قیامت کی علامت ہے اور پہلی کا چاند دیکھ کر لوگ کہیں گے کہ یہ دوسری کا ہے‘ ( طبرانی و ابن شیبہ)

دوسری بات یہ ہے کہ انتیس دنوں کے بعد نظر آنے والا چاند تیس دنوں کے بعد نظر آنے والے چاند سے باریک ہوتا ہے محققین کے نزدیک چار مہینے مسلسل انتیس دنوں کے ہوسکتے ہیں اور اسی طرح چار مہینے مسلسل تیس دنوں کے بھی ہوسکتے ہیں اب اگر کوئی چاند دو انتیس دنوں والے مہینے کے بعد نظر آرہا ہے تو وہ اور زیادہ باریک ہوگا اور تین انتیس دنوں والے مہنے کے بعد نظر آنے والا چاند اور زیادہ باریک ہوگا اس کے برعکس دو تیس دنوں کے مہینے کے بعد نظر آنے والا چاند ایک تیس دنوں والے مہینے کے بعد نظر آنے والے چاند سے زیادہ موٹا ہوگا اسی طرح ایسے تین مہینوں کے بعد نظر آنے والا چاند اور زیادہ موٹا ہوگا ۔

خلاصہ یہ ہے کہ جو چاند جتنے مسلسل انتیس دنوں والے مہنوں کے بعد آئے گا اتنا زیادہ باریک ہوگا اور جو جتنے زیادہ تیس دنوں والے مہینے کے بعد آئے گا وہ اتنا زیادہ موٹا ہوگا لہذا محض چاند کے پتلے یا موٹے ہونے کی بنیاد ہر تاریخ کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ۔

تیسری بات یہ ہے کہ بعض مرتبہ مطلع کے بدلنے سے بھی چاند کے سائز میں فرق آجاتا ہے اسے بطور مثال یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلاً چاند پیدا ہونے کے سولہ گھنٹے بعد اس کے نظر آنے کا امکان ہے اب ایک جگہ جب سورج غروب ہوا تو اس وقت چاند کو پیدا ہوئے 15 گھنٹے گزرے تھے اس لئے چاند نظر نہیں آسکا لیکن 15 درجے طول البلد کا سفر طے کرنے کے بعد جب چاند کو سولہ گھٹے گزرگئے تو دوسری جگہ پر چاند نظر آگیا، اگلے روز (24 گھنٹے گزرنے کے بعد) جب پہلی جگہ کے افق پر نظر آئے گا تو اس وقت اس کی عمر انتالیس گھنٹے ہوگی (24+ 15 = 39) ظاہر ہے کہ یہ چاند کافی موٹا ہوگا لیکن پہلی کا چاند ہوگا جبکہ دوسری جگہ کے افق پر دوسرے دن چالیس گھنٹے کا چاند ہوگا (24+16 =40) اور دوسری رات کا ہوگا ۔

(دونوں چاند پہلی رات کے ہیں دوسری جگہ کے افق پر اس کی عمر دگنا ہوجانے کے باعث چاند اسی قدر موٹا دکھائی دے گا اور اسی حساب سے افق سے کافی بلند ہوگا جسے لوگ غلطی سے دوسری رات کا چاند خیال کریں گے )۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محض چاند کے قدرے موٹے ہونے کی بنیاد پر اسے دوسری تاریخ کا چاند کہنا درست نہیں۔

اس اقتباس سے یہ علم ہو جانا چاہیے کہ اس مرتبہ رمضان کا چاند اتنا موٹا کیوں تھا۔

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور یہاں ایک سے زیادہ چاند دکھائی دے سکتے ہیں۔ کیا پاکستان سعودی عرب سے بڑا ملک ہے؟ پاکستان کا رقبہ آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جبکہ سعودی عرب کا اکیس لاکھ مربع کلومیٹر۔ اس کے باوجود پورے سعودی عرب میں ایک ہی چاند نکلنا ہے اور پاکستان میں دو تین۔

لیکن ایک مزید پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ علم فلکیات اب بہت زیادہ ترقی کر گیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے خلائی جہاز اب نظام شمسی کی آخری حدود تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا ہدف طے کیا جاتا ہے کہ دس برس یا بیس برس کے بعد اس جہاز نے فلاں سیارے کی حرکیات کی کیلکولیشن کر کے وہاں پہنچنا ہے۔

سنہ 2006 میں امریکی خائی ادارے ناسا نے نیو ہورائزن نامی خائی جہاز لانچ کیا تھا جو 23 لاکھ کلومیٹر کا فیصلہ طے کر کے ڈیڑھ برس بعد مشتری تک پہنچا اور اس کا ڈیٹا بھیجا۔ تقریباً دس برس بعد یہ خائی جہاز تقریباً پانچ ارب کلومیٹر دور پلوٹو تک جا پہنچا۔ پلوٹو سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں تقریباً ڈھائی سو ارضی سال لگاتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ زمین سے روانہ ہونے کے دس برس بعد خلائے بسیط میں اس کے بالکل درست مقام کا تعین کر کے خلائی جہاز وہاں پہنچا تھا۔

جبکہ چاند تو زمین سے محض پونے چار لاکھ کلومیٹر دور ہے اور زمین پر نصب کردہ دوربینوں کے علاوہ مصنوعی سیارے بھی ہر وقت اسے دیکھتے ہیں تو ماہرین فلکیات کے لئے اس کی نقل و حرکت کا حساب رکھنا کتنا آسان ہے۔

مفتی پوپلزائی کے عقیدت مند جب یہ کہتے ہیں کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں غلط نکلتی ہیں تو وہ یہ پہلو نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں کہ اجرام فلکی کو دیکھنا محکمہ فلکیات، یعنی سپارکو کا کام ہے۔ محکمہ موسمیات صرف کرہ ارضی کی فضا اور موسم کا حساب رکھتا ہے اور اجرام فلکی سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ مطلع صاف ہو گا یا بادل ہوں گے۔

ایسے میں جب ماہرین فلکیات یہ بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ چاند نظر آنے کا امکان ہی نہیں ہے یا فلاں جگہ ننگی آنکھ سے چاند دکھائی نہیں دے گا اور صرف دوربین کی مدد سے ہی دکھائی دینے کا امکان ہے اور پھر بھی مسجد قاسم خان میں رویت ہلال کی گواہیاں آ جاتی ہیں تو منچلے پشاور کے چاند کے متعلق لطائف بنانے لگتے ہیں اور علما کا قد گھٹتا ہے کہ وہ سائنس اور جدید علوم سے یکسر نابلد ہیں۔

لیکن ہمیں مسجد قاسم خان کی رویت ہلال سے اصل اختلاف کچھ اور ہے۔

اگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور علما کا اجماع اس کے دستور پر ہے، تو پھر چاند کی گواہی لینا اور عید کا اعلان کرنا حکومت کے نمائندوں کا اختیار ہے اور کوئی دوسرا حکومت کی ذمہ داری زبردستی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے تو وہ فساد فی الارض کا موجب ہو گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے طالبان یا لال مسجد ریاستی نظام کے متوازی اپنا نظام عدل قائم کر لیں اور ادھر جزا و سزا کے فیصلے ہونے لگیں۔

اگر حکومت عید اور رمضان کی کی مناسبت سے چھٹیوں کا اعلان کرتی ہے یا احترام رمضان کے قوانین بناتی ہے، تو پھر ان ایام کا تعین بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر مذہبی معاملات سے حکومت کو الگ رکھنا ہے اور ہر ایک فرد یا تنظیم نے مذہبی معاملات نجی طور پر طے کرنے ہیں تو دو عملی چھوڑیں اور حکومت سے مذہبی امور کا اختیار واپس لے کر پاکستان کو سیکولر ملک قرار دے دیں۔

اگر حکومتی نمائندے ان امور پر غلط فیصلہ بھی کر رہے ہیں تو تفرقے سے بچنے کے لئے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ حکومت آپ کا کوئی روزہ کھا گئی ہے تو اسے بعد میں قضا رکھا جا سکتا ہے۔ تفرقے اور فساد سے بچنا زیادہ اہم ہے۔ یہ بات فساد کی سب سے زیادہ قیمت چکانے والے پختونخوا اور فاٹا والوں سے بڑھ کر دوسرا کون جانتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1405 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar