سیاست اور عدالت میں فرق ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ کے چیئرمیں رضا ربانی نے اس بات پر صدمے کا اظہار کیا ہے کہ حکومت سعودی عرب میں منعقد ہونے والی اسلامی کانفرنس اور اس کی نگرانی میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کے بارے میں سوالوں کے جواب دینے سے گریز کررہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید رد عمل ظاہر کیا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز درخواست کے باوجود سینیٹ میں آکر ان اہم معاملات پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ آج کل سیاست کا اکھاڑہ بنی ہوئی ہے۔ تین ججوں پر مشتمل ایک بینچ پاناما کیس میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی کرپشن کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے ذریعے معاملات کی نگرانی کررہا ہے تو دوسری طرف چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک دوسرا سہ رکنی بینچ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مالی معاملات کے بارے میں چھان بین کررہا ہے۔

اب سپریم کورٹ نے عمرا ن خان کو ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے کہ وہ بنی گالہ میں بنی ہوئی اپنی رہائش گاہ کی خرید کے لئے وسائل کا ریکارڈ ایک ہفتہ کے اندر عدالت کے سامنے پیش کریں ۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو بیرون ملک سے وصول ہونے والے فنڈز کا حساب بھی مانگا جارہا ہے۔ عمران خان کے خلاف یہ معاملہ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے زیر سماعت آیا ہے۔ یہ اقدام عمران خان کی طرف سے میاں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے معاملہ میں سپریم کورٹ کو ملوث کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ گویا ملک کے سیاست دان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جاکر تو اہم قومی معاملات پر بحث کرنے، ان پر غور کرنے اور مل جل کر ان کا حل تلاش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں لیکن ایک دوسرے کی ضد میں سپریم کورٹ کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ اگرچہ اس قسم کی درخواستوں کی سماعت کرنے سے انکارسکتی تھی لیکن سیاسی لحاظ سے ملک میں ایسا سنسنی خیز ماحول پیدا کردیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کو مجبوری کے عالم میں سیاسی معاملات کو قانون شکنی کا فعل سمجھتے ہوئے غور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

عمران خان کی سیاست کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کی جاسکتی ہے اور ان سے اختلاف کے درجنوں پہلو ہو سکتے ہیں لیکن ملک میں جن چند افراد کی دیانت داری اور شفافیت کے بارے میں دو رائے موجود نہیں ہیں ، عمران خان کا نام بلا شبہ ان میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سیاست کے گھناؤنے کھیل میں اب عدالت میں ان کی رہائش گاہ کے لئے فراہم کئے گئے وسائل اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے ساتھ مالی سمجھوتہ کو بنیاد بناکر اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انہیں بدعنوان قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل کیا جائے۔ اگرچہ اس افسوسناک ہتھکنڈے کا آغاز عمران خان نے ہی کیا تھا جو پاکستان کے وزیر اعظم کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے گزشتہ ایک سال سے ان کے خلاف سیاسی مہم چلاتے رہے ہیں۔ سیاسی طور پر ناکامی کے بعد اب وہ اس معاملہ پر سپریم کورٹ کی اعانت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ انہیں امید ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد سپریم کورٹ نواز شریف کو نااہل قرار دے گی اور ان کے لئے سیاسی کامیابی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

عمران خان کے علاوہ حکمران پارٹی کے رہنماؤں کو بھی اس حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اول تو اس قسم کی کوششوں سے غیر ضروری معاملات میں سپریم کورٹ کو ملوث کرکے دیگر سینکڑوں مقدمات کو مزید التوا کا شکار کیا جارہا ہے۔ دوسرے عدالتیں اگر کسی معاملہ کو قانون کی باریک بین نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کسی سیاست دان کو نااہل قرار دے بھی دیں تو اس سے نظام کو تبدیل کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ اس سے سیاسی ماحول کشیدہ ہوگا اور لوگوں میں یہ تاثر قوت پکڑے گا کہ سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا کھیل ہے اور سارے سیاست دان اسی دوڑ میں ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ رویہ ملک میں پاؤں پاؤں چلتی اور پروان چڑھنے کی کوشش کرتی ہوئی جمہوریت کے لئے مہلک ثابت ہو رہا ہے۔

سیاست دانوں کو یہ طے کرنا ہے کہ ان کی سیاست اپنے منشور اور کردار کی بنیاد پر لوگوں کو متوجہ کرنے اور ان کی حمایت کرنے کے اصول پر استوار ہونی چاہئے یا وہ دوسروں کا قد چھوٹا کرکے اپنا قد بڑا کرنے کی تگ و دو کرتے رہیں گے۔ اگر یہ رویہ ترک نہ کیا گیا تو عدالتوں میں سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھلتی رہیں گی اور پارلیمنٹ کے ایوان بے مقصد راہداریوں کی صورت اختیار کرلیں گے۔ جمہوریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرکے ملک کے عوام کی حالت بدلنے کے دعویدار سب سیاست دانوں کو اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی اور لیڈر کو نیچا دکھانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ عوام سے اپنے پروگرام کے لئے تائد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور ووٹروں کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے کہ وہ اگر غلط لوگوں کو منتخب کرسکتے ہیں تو ان کی ناقص کارکردگی پر انہیں ووٹ ہی کی طاقت سے اقتدار سے محروم بھی کرسکتے ہیں۔

یہ اصول طے نہ ہؤا تو سینیٹ اور قومی اسمبلی ویران رہیں گی اور سپریم کورٹ میں خود کو درست اور دوسرے کو بے ایمان ثابت کرنے کا رجحان فروغ پائے گا۔ یہ طریقہ جمہوریت کے مستقبل کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1772 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali