سارے جہاں سے اچھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ جمعہ حیدرآباد (دکن) ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے متعلق خبر نظر سے گزری ۔ میری محدود سمجھ کے مطابق فیصلہ کچھ یہ تھا ، ’’عدالت نے آندھرا پرادیش اورتلنگا نا حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گائے کے ذبیحہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کے لئے قانون سازی کریں۔ اس سلسلے میں دونوں ریاستوں کو سات جولائی تک مہلت دی گئی ہے ۔ فیصلے میں جسٹس بی سیوا سنکارا رائو نے اُپنشد، وِیدا، پرانا اور مہابھارت کے حوالا جات کی روشنی میں گائے کو مخلوقات کی ماں قرار دیا ہے ۔ فیصلے میں کہا گیاہے کہ گائے کو خواب میں بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہئے اور روزانہ سونے سے پہلے ایک بار گائے کوضرور یاد کرنا چاہئے ۔ یہ سورج کی طرح کائنات کو روشنی اور طاقت بخشتی ہے ۔‘‘
اس خبر کو صحیح طرح سمجھنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ بابری مسجد کے معاملے پر سال 2010میں الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا توکوئٹے سے لیکر کولکتے تک محسوس کیا گیا کہ شاید ہندوستان اب بدل گیا ہے۔ دنیا سمجھ رہی تھی کہ اِس ملک میں مذہب کی بنیاد پر تنازعات بہت جلد قصہ پارینہ بن جائیں گے ۔ لیکن پچھلے برسوں میں واضع ہوگیا کہ یہ قیاس دُرست نہیں تھا۔ سچ یہ ہے کہ آزادی کے بعد سوشلسٹ اور سیکولر بنیادوں پر قائم ہونے والا ہندوستان اِس وقت مذہبی انتہاپسندی کی لپیٹ میں ہے۔
انتہا پسندی کی یہ لہر بظاہر 2014کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعدسے اپنا رنگ دکھارہی ہے۔ اِن دِنوں ہندوستان کی گلیوں میں ’ گائے‘ سے متعلق کوئی بھی بات فساد کا سبب بن سکتی ہے ۔ حال یہ ہے کہ اب گائے کو ٹہلانے پر یا کسی گائے کو سڑک پر گاڑی کے سامنے سے ہٹانے کے لئے ’’ہش ہش ‘‘ کرنے پر بھی جھگڑا ہوسکتاہے ۔ ذہن یہ تک سوچنے پر مجبور ہے کہ بچپن میں یادکرائے گئے اسماعیل میرٹھی کے شعر، ’’ رب کا شکر ادا کربھائی / جس نے ہماری گائے بنائی‘‘ کا اصل مفہوم کیا تھا؟ شاید وہ نہیں جو ہم اب تک سمجھتے رہے ہیں۔اس کے باوجود یہ سوچ لینادرست نہیں کہ یہ سب کچھ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی شروع ہوا ہے۔ اس منظر نامے کے پیچھے ایک طویل سیاسی عمل کار فرما ہے ۔
یہ کہانی 1923سے شروع کی جاسکتی ہے جب ویناک دامودر سورکر نامی ایک اسکالر نے ہندو ئوں میں ذات پات کے تصورات ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے ’ہندوتوا‘ کی اصطلاح استعمال کی! یہ قصہ اُس دور سے بھی شروع کیا جاسکتا ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے ’ہندوتوا‘ کو باقاعدہ اپنی پارٹی پالیسی میں شامل کیا۔یہ کہانی ایک انتہا پسند کے ہاتھوں گاندھی جی کے قتل سے بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہاں اس باب کوراجیو گاندھی کے اقتدار کے آخری دنوں سے شروع کیا جانا چاہئے کیوں کہ اس دور میں ہندو انتہا پسندی کے رجحانات بہت تیزی سے جنم پارہے تھے ۔
وشوا ہندو پریشد نے 1989میں مشرقی اترپرادیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر’راما مندر‘ کی تعمیر کا اعلان کردیا۔ ہندو دھرم چاریوں کے مطابق یہ مقام رام کی جنم بھومی ہے لہٰذا تنظیم کا موقف تھا کہ یہاں راما مندر قائم کرنا ’کار سیوا ‘ ہے اور تعمیر میں شریک ہر شخص ’کارسیوک ‘ کہلائے جانے کا حقدار ہے۔ پورب کے اس علاقے میں یوپی کے شہر فیض آباد سے لیکر بہارمیں مظفرپور تک مسلمان نہ صرف کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں بلکہ یہاں بہت سے شہرو ں ، قصبوں اور شاہ راہوں کے نام اسلامی ہیں ۔ لہٰذا ہندومسلم کشیدگی کا بڑھنا انتہائی فطری تھا!
اُدھر کانگریس کو بھی کم و بیش اسی دور میں بو فورس اسکینڈل سمیت بہت سے مسائل درپیش تھے ۔ سال 1984کے انتخابات میں کل 514میں سے 404 سیٹوں پر فتح حاصل کرنے والی نیشنل کانگریس، 1989 میں صرف 197سیٹیں جیت سکی ۔ اِس کے برعکس جہاں پہلی بارانتخابات میں حصہ لینے والی بی جے پی نے 1984میں صرف دوسیٹیں حاصل کی تھیں، وہیں 1989میں اس پارٹی نے 85سیٹیں جیت کر دنیا کے سب سے بڑے سیکولر ملک میں ’ہندوتوا‘ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تصدیق کردی ۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’ہندوتوا‘ کی اصل پرورش کانگریس کے ادوار میں ہوئی ۔ انڈین نیشنل کانگریس کی عمر اب 130برس سے زیادہ ہوچکی ہے۔یہ پارٹی نصف صدی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہ چکی ہے اور بلاشبہ ہندوستان میں جمہوریت، سیکو لرزم اور انسانی حقوق کی بہتری کے لئے فعال کردار ادا کرتی رہی ہے۔ لیکن اتنی قدیم سیاسی پارٹی کا نفسیاتی اورفکری سطحوں پر اسٹیبلشمنٹ کے انداز میں سوچنااور فیصلے کرنا ایک فطری عمل ہے ۔ اندرا گاندھی کے قتل اور اس کے بعد ہندوستان بھر میں ہندوئوں اور سکھوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں ’ہندوتوا ‘ کا انتہائی موثر طریقے سے پرچار ہوتا رہا! اب صورتحال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے واقعات آئے دن رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جن سے ’بگڑے ہوئے ہندوستان ‘ کے حالات کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ ٹوئٹر اور فیس بک پر رابطہ رکھنے والے کچھ لبرل اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی دوستوں کے پیغامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صورتحال میں شدت بڑھتی ہی جارہی ہے۔
اس سال مارچ میں انتہا پسند یوگی ادیتیا ناگ کی یو پی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تقرری کے خلاف سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ تنقید خود ہندوستانی شہریوں کی جانب سے کی گئی ۔ بنارس سے تعلق رکھنے والے امرتا داس گپتا سوشل میڈیا پرمود ی سرکار کے خلاف اپنے پیغامات کے باعث شہرت رکھتے ہیں ۔ دودن قبل فیس بک پر ان کے اس پیغام پر بحث جاری تھی کہ’ ’مودی ، آر ایس ایس ، بی جے پی کے ہوتے ہوئے ہندوستان کا مستقبل صرف تباہی ہے ۔‘ ‘ اگلے روز ان کا یہ پیغام تھا ،’ ’ایک ہندوستانی کو کسی مذہبی شاخت کی ضرورت نہیں۔‘‘ منگل کوفون پر رابطہ کیاتو گپتا جی نے دلّی سے بنارس کے سفرکے دوران ٹرین میں بیٹھے بیٹھے بتایا کہ ہندوئوں کی اکثریت مودی حکومت سے بیزار ہے اور شاید ملک میں جلد کوئی تبدیلی دیکھنے کو ملے۔ متضاد رسوچ کے حامل ایک اور ہندوستانی فیس بک فرینڈ اشوتوش مشرا کہتے ہیں، ’’امرتاداس گپتا جی بھارت کے دوست نہیں ہوسکتے۔‘‘
دوسری جانب دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی پاکستانی تجزیہ کار یا صحافی کسی بھارتی نیوز چینل پر ’ہندوتوا‘ سے متعلق کوئی بات کرتا ہے تو میزبان تجزیہ کار برا مان جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ تو ان کے دیش کا اندرونی معاملہ ہے ! لیکن مجھے خدشہ ہے کہ ہندوستان کا یہ اندرونی معاملہ اگر جلد قابو میں نہ آیا تو کسی بھی وقت سرحد کے اِس پار منفی اثرات مرتب کرسکتاہے ۔ ا نتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی شدت اگلے انتخابات میں ہندوستانی ووٹوں کا ایک بڑا دھارا نریندر مودی کی جانب موڑ سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے خلاف محدود پیمانے پر کسی جنگ یا لائن آف کنٹرول پر صورتحال کی خرابی کے کچھ نہ کچھ امکانات موجود ر ہیں گے ؛ کم از کم ہندوستان میں اگلے انتخابات ہونے تک!

(بشکریہ جنگ نیوز)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •