مالیاتی بل 2017-18اور غیر منافع بخش تنظیموں پر ٹیکسوں کی بھرمار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 وزارتِ خزانہ نے جون،2017ء میں ایک مالیاتی بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا ہے اور یہ کام اُس وقت سرانجام دیا گیا جب اپوزیشن جماعتوں کے تمام ممبران اسمبلی سے باہر اپنا اجلاس کر رہے تھے۔ مجوزہ بل کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی پاکستانی غیر منافع بخش تنظیموں پر بھی مزید انکم ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ تنظیمیں جو منافع نہیں کماتیں اور ملکی ترقی و غریبوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہی ہیں ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ اس نئے قانون کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق نمبر100-Cمیں اضافی شق نمبر D کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جس کے تحت غیر منافع بخش تنظیموں کو پابند کیا گیا ہے کہ ان تنظیموں کے انتظامی اخراجات 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ایک اور نیا قانون بھی پاس کیا گیا ہے جس کے مطابق اگرغیر منافع بخش تنظیموںکے اضافی فنڈز ایک سال میں  25 فیصد سے زیادہ بچے ہوں گے تو اُن پر 10 فیصد مزید ٹیکس لگایا جائیگا۔

ان نئی ٹیکس ترامیم کے غیر منافع بخش تنظیموں پر منفی اثرات پڑیں گے مثلاً ایسی تمام غیر منافع بخش تنظیمیں/ادارے جو غریبوں اور نادار پاکستانیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے کام کر رہے ہیں اُن کے لیے 15فیصد انتظامی اخراجات کی شرط پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ ان تنظیموں میں سکول ، ہسپتال، یونیورسٹیاں ، تربیت فراہم کرنے والے اور انسانی حقو ق کےلئے کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ بھی اہم ہے کہ غریب لوگوں کو چھوٹے قرضے دینے والی تنظیمیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ ایسے اداروں کے لیے 15فیصد انتظامی اخراجات کی شرط ان کے کاموں میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا کرے گی۔ جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعدادمیں غریب عورتیں، مرد، کاشتکار، مزدور اور بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے۔

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس کا خسارہ 3.2 کھرب روپے ہے اور پاکستان میں بمشکل 1 فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں بجائے اس کے کہ ہماری حکومت ٹیکس کے حصول کی اس شرح میں اضافہ کرے اُنہوں نے غیر منافع بخش تنظیموں پر یہ قانون لاگو کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون پر عملدرآمد کے نتیجے میں پاکستان میں زیادہ سے زیادہ 10 ہزار تنظیمیں ایسی ہونگی جن پر یہ قانون لاگو ہوگا جس کے نتیجے میں ٹیکس کے خسارے میں صرف 0.03 فیصد کمی آئے گی جس سے اس خسارے میں خاطر خواہ بہتری نہیں ہو گی ، تاہم ان ٹیکسوں کے نقصانات اور منفی اثرات ہمیں لاکھوں غریب اور نادار پاکستانیوں کی زندگیوں پر نظر آئیں گے۔

یہاں یہ عمل قابلِ غور ہے کہ ساری دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں پر حکومتوں کی طرف سے خیراتی اور فلاحی کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں پراس طرح کے ٹیکس لگائے گئے ہوں۔ فنانس بل میں جہاں ایک طرف حکومت خود کہہ رہی ہے کہ یہ غیر منافع بخش تنظیمیں ہیں تو پھراُن پرٹیکس کیوں؟ اصولی طور پر تو حکومت کو ایسی تمام تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کےلئے آسانیاں پیدا کرے تا کہ وہ عام لوگوں کی بہتری کےلئے مزید کام کر سکیں نہ کہ یہ کہ اُن پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جائے۔

بہت ساری غیر منافع بخش تنظیموں کو اپنا کام جاری رکھنے کےلئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے اور اُن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کچھ فنڈز اُن کے پاس رہیں تا کہ مشکل حالات میں اُن فنڈز کو استعمال کیا جا سکے اوروہ اپنا بھلائی اور ترقی کا کام جا ری رکھ سکیں۔ لیکن اگر موجودہ قانون پر عملی جامہ پہنایا گیا تو پھر ان غیر منافع بخش تنظیموں کےلئے کام کرنا انتہائی مشکل ہو جائیگا۔

٭ اس سے یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ بہت ساری ناگہانی آفات کے وقت یا خیراتی کام کرنے کےلئے اس بچے ہوئے پیسے کا استعمال کیا جا سکے۔

٭ غیر منافع بخش تنظیمیں اور اُن کو عطیہ دینے والی تنظیموں یا افراد ایک دوسرے کے ساتھ تحریری معاہدے کرتے ہیں اور یہ دونوں اُس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بناتے ہیں۔ حکومت کا یہ کہنا کہ کس چیز پر کتنا خرچ ہو وہ عطیہ دینے اور لینے والے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

٭ مزید برآں عطیہ دینے والی غیر ملکی تنظیمیں اپنی عوام سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم پاکستان جیسے ممالک میں ترقیاتی کاموں کےلئے فنڈز دیتی ہیں اگر ہم اُن کی دی ہوئی اس رقم پر اضافی آمدن کی مد میں ٹیکس لگا دیں گے تو کیا وہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہمیں دیں گے؟

پاکستان میں غربت میں کمی کرنے میں غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار:

پاکستان کا شمار ایسے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے نیز یہاں پر بسنے والوں کا ایک خاص حصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہاں پر کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں کا پاکستان میں غربت کم کرنے میں بہت اہم کردار رہا ہے جس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ 50لاکھ خاندانوں اور پورے ملک میں تقریباً 3 کروڑ غریبوں تک پہنچ چکے ہیں۔ جن کو ان غیر منافع بخش تنظیموں نے غربت کی دلدل سے باہر نکالا ہے۔ اس کے علاوہ صرف چھوٹے کاروبار کےلئے10لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں،جن میں 50فیصد خواتین شامل ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو اپنے روزگار سے اپنے خاندان اور بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔

معیاری تعلیم کی فراہمی میں غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار:

پاکستان کی تعلیمی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مختلف حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 58 فیصد ہے۔ اس شعبہ میں بھی غیر منافع بخش تنظیموں کے کردار کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا۔ ان غیر منافع بخش تنظیموں کے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے تعلیم کے فروغ کےلئے مختلف پروگراموں کے تحت رسمی و غیر رسمی نظامِ تعلیم میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 10لاکھ بچے جو پہلے سکول جانے سے محروم تھے اب مختلف غیر منافع بخش تنظیموں کی بدولت اپنے اپنے علاقوں میں معیار ی تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں 50 فیصد بچیاں شامل ہیں۔

روزگار کی فراہمی میں غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار:

خوش قسمتی سے پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پر بسنے والے لوگوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ان نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ہیں۔ اس صورتحال میں 10ہزار سے زائد یہ غیر منافع بخش تنظیمیں مل کر 5لاکھ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے تقریباً ہر ضلع میں غریب لوگوں کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں تاہم 25 ہزار سے زائد نوجوانوں کو گاﺅں گاﺅں کی سطح پرکام کرنے والی چھوٹی تنظیمیں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے فنی مہارتیں دلوا کر انہیں چھوٹے کاروبار کروا رہی ہیں جو کہ درج بالا تعداد میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

زچہ و بچہ کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کردار:

پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں زچگی کے دوران ماﺅں کی شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ حکومت اپنی طرف سے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس شعبہ کو بہتر بنا رہی ہے۔ تاہم ان شعبہ میں غیر منافع بخش تنظیموں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غیر منافع بخش تنظیمیں پاکستان بھر میں 2کروڑ 30لاکھ سے زائد افراد کوصحت کی بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد حاملہ خواتین اور بچوں کی ہے جو صحت کی ان بنیادی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ غیر منافع بخش تنظیمیں گاﺅں گاﺅں کی سطح پر غریب اور محروم طبقات کےلئے فری ڈسپنسریاں ، ایمبولینسز اور زچہ و بچہ کی صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اپنے مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔

قدرتی آفات سے بچاﺅ اوربحالی میں غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار:

یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے جب بھی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے اُس میں پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ صرف یہی غیر منافع بخش تنظیمیں غریب اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ قدرتی آفات کے دوران اوربعد میں گاﺅں گاﺅں جا کر لوگوں کی مدد کرتی ہیں۔ یہ غیر منافع بخش تنظیمیں نہ صرف اُن متاثرہ گھرانوں کو قدرتی آفات کے دوران اُن کی صحت کو درپیش خطرات سے بچاﺅ کےلئے ادویات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ کچھ تنظیمیں ایسی بھی نہیں جو غریب اور مستحق افراد کوراشن کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اور گھر تک بنا کر دیتی ہیں۔

 مختلف عوامی مسائل اور نئے موضوعات پر آگاہی میں غیر منافع بخش تنظیموں کا کردار:

پاکستان میں جہاں تعلیم ،صحت اور بنیادی حقوق جیسے شعبوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے آگاہی میں بھی غیر منافع بخش تنظیموں کے کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ حکومتی سطح پر جب بھی نئے پروگرام ”خواہ وہ زراعت کے شعبہ سے متعلق ہوں یا ماحولیات سے متعلق“ شروع کیے جاتے ہیں اوراُن کی تشہیر اور عوامی آگاہی کےلئے حکومت ذرائع ابلاغ کے مختلف طریقوں پر ایک خطیر رقم صرف کرتی ہے، ایسے میں یہ غیر منافع بخش تنظیمیں ہی ہیں جو گاﺅں گاﺅں یہ معلومات ایسے لوگوں تک پہنچاتی ہیں جن تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دینے میں غیر منافع تنظیمیں پیش پیش ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت:

ڈاکٹر اختر حمید خان اور ایدھی صاحب سے لے کر محترمہ عا صمہ جہانگیر صاحبہ تک نے پاکستان کی عزت بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہاں پر ان بہت ساری غیر منافع بخش تنظیموںنے بھی پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کردار کو عالمی سطح پر سراھا جاتا ہے۔

جمہوریت ،آزادی اظہار اور انسانی حقوق:

پاکستان میں غیر منافع بخش تنظیموں نے ہمیشہ جمہوریت اور آزادی اظہار کیلئے جدوجہد کی ہے، ہر اس وقت جب سیاسی پارٹیاں میدان میں نہیں تھیں ان تنظیموں نے پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ مزید برآں اگر کبھی انصاف فراہم کرنے والے اداروں(اعلیٰ عدلیہ) کے حق کےلئے جدوجہد کرنا پڑتی تب بھی یہ غیر منافع بخش تنظیمیں پیش پیش رہیں۔

نئی ٹیکس ترامیم غریبوں پر کس طرح اثرانداز ہونگی خصوصاً جن کی غیر منافع بخش تنظیمیں خدمت کر رہی ہیں:

1۔            پاکستان بہت سے ترقیاتی مسائل کا شکار ہے مثلاً غربت اور تعلیم کی کمی دو بنیادی مسائل ہیں۔ اس طرح کی ترامیم ان مسائل میں اضافہ کریں گی۔

2۔            پاکستان صنفی ترقی کے حوالے سے بہت پیچھے ہے جس کے باعث ہمیں نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ بیرون ِ ملک بھی شرمندگی اُٹھانا پڑتی ہے۔ ان ترامیم کی وجہ صنفی ترقی کےلئے کوششوں میں کمی آئے گی اور سماج مزید مسائل کا شکار ہوگا۔

3۔            پاکستان میں غربت کی شرح 26.5فیصد ہے۔ جبکہ تعلیم کی شرح 58فیصد ہے اور ان دونوں شعبوں میں خواتین سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔ اس طرح پاکستان میں2کروڑ 60لاکھ بچے اور بچیاں سکول جانے سے محروم ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ترامیم سے اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

4۔            پاکستان میں کل آبادی کا 85فیصد اُن افراد پر مشتمل ہے جن کو مشکل حالات میں یا بوقتِ ضرورت مالی معاونت تک رسائی نہیں ہے۔ ان مجوزہ ترامیم کی بدولت اُن کی محرومیوں میں مزیداضافہ ہوگا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک غریب شخص بیماری کے علاج کیلئے قرضہ لیتا ہے اور پھر تا مرگ وہ اور اس کا خاندان اس قرضہ کو اتارنے میں لگا دیتا ہے یہ غلامی کی ایک بہت بری شکل ہے۔

5۔            عام غریب لوگوں کی صحت کے تحفظ کےلئے پاکستان میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں بالخصوص زچہ و بچہ کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ہمارے ملک میں زچگی کے دوران ماﺅں کی شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایسی وہ تنظیمیں جو ماں اور بچوں کی صحت کےلئے کوشاں ہیں ان مجوزہ ترامیم کی بدولت اُن پر بہت منفی اثرات مرتب ہونگے۔

6۔            دوسرے لفظوں میں پاکستان انسانی ترقی کو ماپنے کے جتنے بھی پیمانے ہیں ان میں بہت پیچھے ہے۔ چاہے ہم جتنا بھی اس احمقوں کی جنت میں رہیں کہ ہم معاشی ترقی کے تمام پیمانوں میں بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے

7۔            یہ نئے ٹیکس کے بوجھ سے غیر منافع بخش تنظیموں کو مستقبل میں ترقیاتی کاموں کےلئے پیسے ملنے کے امکانات کم ہیں جس کے باعث یہ تنظیمیں غریب علاقوں اور ان مےں بسنے والے غریبوں تک پہنچے میں مشکلات کا شکار ہوں گی۔ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی معاونتی تنظیموں سے فنڈز کا حصول مشکل ہوگا۔

8۔            نئے ٹیکس کی ترامیم پر عمل کےلئے غیر منافع بخش تنظیموں کو ٹیکس ماہرین (کنسلٹنٹس) کی ضرورت ہوگی جو کہ بہت مہنگے ہیں اس کےلئے مزید فنڈز درکار ہونگے جو کہ ان کےلئے مزید مشکلات کاباعث بنے گا۔

9۔            بجائے اس کے کہ یہ تنظیمیں لوگوں کی بھلائی کےلئے وقت لگائیں اُن کا زیادہ وقت ان ترامیم پر عملدرآمد پر صرف ہوگا جو کہ سرا سرغلط ہے۔

10۔         اس میں کوئی شک نہیں کہ مجوزہ ٹیکس کا نظام غیر منافع بخش تنظیموں کو ہراساں کرنے کےلئے استعمال ہو گا اور بدعنوانی کو فروغ دے گا۔

غیر منافع بخش تنظیمیں پہلے ہی مختلف قسم کے قواعدو ضوابط کا شکار ہیں جن پر عملدرآمد کےلئے وہ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ لگا رہی ہیں۔ تمام غیر منافع بخش تنظیموں کو اپنے ترقیاتی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے کام کرنے کےلئے پی سی پی سے سرٹیفکیٹ لینا پڑتا ہے ای اے ڈی اور وزارتِ داخلہ سے این او سی لینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر سے ٹیکس معافی کےلئے اجازت لینا پڑتی ہے۔ مزید برآں کمپنی ایکٹ کے تحت رجسٹر تنظیموں کو ایس ای سی پی کے سیکشن 42 کے تحت ریگولیٹ ہونا پڑتا ہے۔ ان تمام اقدامات پر عملدرآمد کے بعد ان نئے ٹیکس کا اجراءاس بات کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے کہ حکومت ان غیر منافع بخش تنظیموں کو ترقیاتی کام کرنے سے نہ صرف روکنا چاہتی ہے بلکہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے اُنہیں مفلوج کرنا چاہتی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان تنظیموں کےلئے نیا بینک اکاونٹ کھلوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے تمام بینکوں کو ہدایت ہے کہ غیر منافع بخش تنظیموں کے اکاﺅنٹ کھولنے سے پہلے پچاس قسم کی مختلف ہدایات پر عمل کیا جائے۔ علاوہ ازیں ہر تنظیم کے پاس مختلف خفیہ ایجنسیوں کے لوگ اکژ و بیشتر آتے ہیں جو انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں کرتے ہیں۔

غیر منافع بخش تنظیمیں بہت سارے شعبوں میں حکومت کی معاونت کر رہی ہےں اور وہ بنیادی سہولیات لوگوں تک پہنچا رہی ہےں جو کہ بنیادی طور پر حکومت کا کام ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے کئی سالوں میں ان کے کاموں کے سماج میں مثبت اور ٹھوس نتائج نظر آ رہے ہیں۔

 حکومت کو ان تنظیموں کو اپنا دشمن یا مخالف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ایک معاون کی شکل میں دیکھنا چاہیے اور اُن کے کاموں کو سراہتے ہوئے ان تنظیموں کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دینی چاہیے۔

حکومت کو پاکستان میں ایک مضبوط اور موثر سول سوسائٹی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ یہ تنظیمیں غریبوں کی صحیح طرح سے مدد کرسکیں۔ اگر اس نئے قانون کا مقصد جعلی این جی اوز اور دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانا ہے تو ٹیکس کا یہ قانون اصل میں اُس مقصد میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیگا۔ کیونکہ اس قانون کے تحت سب سے زیادہ متاثر وہ فلاحی اور ترقیاتی کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیمیں ہونگی جو کئی سالوں سے بڑھتے ہوئے مذہبی جنون اور دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس قانون پر اطلاق کو روکے اور غیر منافع بخش تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کرے تا کہ ان ترامیم میں جو خامیاں ہیں اُن کو نہ صرف بہتر کیا جا سکے بلکہ جعلی این جی اوز اور دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے کےلئے بھی مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے۔

اس مضمون کے لکھنے میں کشف فاﺅنڈیشن کی روشانہ ظفر صاحبہ اور اُن کی ٹیم کا بے حد شکرگزار ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد تحسین کی دیگر تحریریں
محمد تحسین کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں