شاہ نعمت اللہ ولیؒ کی ہندوستان کی فتح کی پیش گوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ مضمون میں حضرت شاہ نعمت اللہ ولیؒ کرمانی کشمیری کی روحانی پیش گوئیوں کی روشنی میں ہم نے یہ منطقی تجزیہ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان کے ہاتھوں امریکہ کی تباہی یقینی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت شاہ نعمت اللہ ولیؒ کی پیش گوئیوں کی روشنی میں بھارت کا کیا بنے گا جو امریکہ کا اتحادی بن کر پاکستان کے خلاف کھڑا ہو رہا ہے۔

لیکن پہلے ہم حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ کی چند گزشتہ پیش گوئیوں کا ذکر کر دیں تاکہ آپ کو یہ یقین ہو جائے کہ ہم یہ سو فیصد روحانی منطقی تجزیہ کرتے ہوئے جذباتیت کا شکار نہیں ہو رہے ہیں۔

از سکندر چوں رسد نوبت بہ ابراہیم شاہ
ایں یقیں دار فتنہ در ملک آں پیدا شود
​ترجمہ: جب سکندر لودھی سے ابراہیم تک نوبت پہنچ جائے گی، تو اس بات کو یقین سے سمجھ کہ اس کی حکومت میں فتنہ پیدا ہو گا۔بابر کے متعلق حضرت شاہ نعمت اللہ ولیؒ بابر اور خاندان مغلیہ کے اقتدار میں آنے سے کئی صدیوں قبل پیش گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
شاہ بابر بعد ازاں در ملک کابل بادشاہ
پس بہ دہلی والئی ہندوستاں پیدا شود​
ترجمہ: اس کے بعد ملک کابل کا بادشاہ بابر دہلی میں ہندوستان کا والی ظاہر ہو گا۔
​باز نوبت از ہمایوں مے رسد از ذوالجلال
ہم درآں افغاں یکے از آسماں پیدا شود
​ترجمہ:پھر اللہ تعالٰی کی طرف سے بادشاہی ہمایوں تک پہنچے گی۔ جبکہ اسی دوران قدرت کی طرف سے ایک افغان (شیرخان) ظاہر ہو گا۔
حادثہ رُو آورد سوئے ہمایوں بادشاہ
آنکہ نامش شیر شاہ اندر جہاں پیدا شود​
ترجمہ: پھر ہمایوں بادشاہ کو حادثہ پیش آ جائے گا کیوں کہ شیر شاہ (سُوری) نام کا ایک شخص دنیا میں ظاہر ہو گا۔
پس ہمایوں بادشاہ بر ہند قابض مے شود
بعد ازاں اکبر شاہ کشور ستاں پیدا شود​
ترجمہ: اس طرح ہمایوں بادشاہ ہندوستان پر قبضہ کر لے گا اور اکبر (بیٹا) ملک کا بادشاہ بن جائے گا۔

قصہ مختصر ایسی تفصیلی پیش گوئیاں نام لے لے کر جہانگیر، شاہجہاں، اورنگ زیب وغیرہ کے بارے میں کی گئی ہیں۔ سکھ مت کی پیدائش اور عروج کا ذکر ہے۔
قوم سکھا نش چیرہ دستی ہا کند در مسلمین
تا چہل ایں جورو بدعت اندر آں پیدا شود​
ترجمہ: سکھ قوم مسلمانوں پر بہت ظلم و ستم کرے گی۔ یہ ظلم و بدعت چالیس سال تک اس میں ظاہر ہوتا رہے گا۔

اور پھر فرنگیوں کے برصغیر میں اقتدار کا اس وقت بتایا جاتا ہے جب ملک انگلستان ایک کمزور سا غریب جزیرہ تھا اور اس کے عروج میں ابھی کئی صدیاں باقی تھیں۔
بعد ازاں گیرد نصاریٰ ملک ہندویاں تمام
تا صدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود​
ترجمہ:اس کے بعد عیسائی تمام ملک ہندوستان پر قبضہ کر لیں گے۔ ایک سو سال تک ان کا حکم ہندوستان پر چلتا رہے گا۔

آحتواء سازد نصاریٰ را فلک در جنگ جیم
نکبت و ادبا را ایشاں رانشاں پیدا شود​
ترجمہ: آسمان جنگ جیم (یعنی جرمن کی جنگ) میں عیسائیوں کو مبتلا کر دے گا اور ان کے لئے تباہی و بربادی کا نشان ظاہر ہو گا۔
وقت کہ جنگ جاپاں با چین افتاباں شد
نصرانیاں بہ پیکار آیند باہمانہ​
ترجمہ: جس وقت جاپان کی جنگ چین کے ساتھ واقع ہو گی، عیسائی آپس میں لڑائی کریں گے۔
فاتح گردد نصاریٰ لیکن از تا راج جنگ
ضعف بیحد در نظام حکم شاں پیدا شود​
ترجمہ: اگر چہ اہل برطانیہ جرمنوں پر فتح پا لیں گے لیکن جنگ کی تباہ کاریوں سے ان کے نظام حکم میں بہت زیادہ کمزوری پیدا ہو جائے گی۔

پھر انگریزوں کے فتنے کا بیج بو کر ہندوستان چھوڑنے کا ذکر ہوتا ہے۔
واگزارند ہندرا از خود مگر از مکرشاں
خلفشار جانگسل در مرد ماں پیدا شود​
ترجمہ: اگرچہ انگریز ہندوستان کو خود ہی چھوڑ جائیں گے لیکن وہ اپنے مکر و فن سے لوگوں میں ایک جان لیوا جھگڑا چھوڑ جائیں گے۔

پاکستان کے قیام، عروج اور سقوط ڈھاکہ کا ذکر ہوتا ہے
دو حصص چوں ہند گردد، خوں آدم شد رواں
شورش و فتنہ فزوں از گماں پیدا شود​
ترجمہ:جب ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ انسانوں کا خون بے دریغ جاری ہو گا۔ شورش و فتنہ انسانی سوچ سے بعید ہو گا۔
مومناں یابند اماں در خطہء اسلاف خویش
بعد از رنج و عقوبت بخت شاں پیدا شود​
ترجمہ: مسلمان اپنے اسلاف کے علاقے (پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان) میں پناہ حاصل کر لیں گے۔ اس رنج اور مصیبت کے بعد ان میں بخت آوری ظاہر ہو گی۔

نعرہء اسلام بلند شد بست وسہ ادوار چرخ
بعد ازاں بار دگر یک قہرشاں پیدا شود​
ترجمہ: اسلام کا نعرہ تئیس سال (1947ء تا 1970ء) تک بلند رہے گا۔ اس کے بعد دوسری بار ان پر ایک قہر ظاہر ہو گا۔
تنگ باشد بر مسلمانان زمین ملک خویش
نکبت و ادبار در تقدیر شاں پیدا شود​
ترجمہ: مسلمانوں پر اپنے ملک کی زمین تنگ ہو جائے گی اور تباہی و بربادی ان کی تقدیر میں ظاہر ہو گی۔

آپ نے دیکھ لیا کہ حضرت شاہ نعمت اللہ ولی نے کئی صدیوں قبل ہی آج کے حالات سو فیصد صحت کے ساتھ بتا دیے تھے۔ آپ غور کریں کہ انہوں نے جگہوں اور قوموں کا نام لیتے ہوئے وہ نام بھی استعمال کر ڈالے جو ان کے زمانے میں مستعمل نہیں تھے اور بسا اوقات تو درست نام لینے کی خاطر وہ حروف تہجی بھی استعمال کیے جو فارسی میں وجود نہیں رکھتے تھے اور آج کی اردو میں لکھے جاتے ہیں۔ اب ہم قطعیت سے یہ ثابت کر چکنے کے بعد کہ شاہ صاحب کی پیش گوئیاں ماضی میں درست ثابت ہوتی رہی ہیں، مستقبل کی طرف چلتے ہیں۔

یہ اشعار بظاہر نریندر مودی کے عروج اور اس کے بعد ہندتوا کے داعی انتہا پسند ہندو گروہوں کے مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دینے کے بارے میں دکھائی دیتے ہیں۔
بعد آں شود چوں شورش در ملک ہند پیدا
فتنہ فساد برپا بر ارضِ مشرکانہ​
ترجمہ: اس کے بعد ہندوستان کے ملک میں ایک شورش ظاہر ہو گی۔ مشرکانہ زمین پر فتنہ و فساد برپا ہو گا۔
درحین خلفشارے قومے کہ بت پرستاں
بر کلمہ گویاں جابر از قہر ہندوانہ​
ترجمہ: اس خلفشار کے وقت بت پرست قوم کلمہ گو مسلمانوں پر اپنے ہندوانہ قہر و غضب کے ذریعے جابر ہوں گے۔

یہ حالات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟
بعد از تذلیل شاں از رحمتِ پروردگار
نصرت و امداد از ہمسائیگاں پیدا شود​
ترجمہ: ان کی ذلت کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے نصرت اور امداد پڑوسی ملکوں سے ظاہر ہو گی۔
لشکر منگول آید از شمال بہر عون
فارس و عثمان، ہمچارہ گراں پیدا شود​
ترجمہ: منگول لشکر شمال کی جانب سے مدد کے لئے آئے گا۔ ایران(فارس) والے اور ترکی (عثمان) والے بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

یعنی ترکی کے عظیم اسلامی حکمران سید رجب طیب ایردوان بھی اپنی افواجِ قاہرہ پاکستان کی مدد کے لئے بھیج دیں گے۔ یہ کسی ترک سلطان کی جانب سے ہندوستان پر پہلا حملہ ہو گا۔ دوسری طرف وہ اصل ہیرو منظر عام پر آئے گا جو مسلمانوں کی فتح کا باعث بنے گا۔
چوں شود در دور آنہا جور و بدعت را رواج
شاہ غربی بہر و فعش خوش عناں پیدا شود​
ترجمہ: جب اس کے دور میں ظلم و بدعت رواج پا جائے گا تو غرب کا بادشاہ ان کو دفع کرنے کے لئے حکومت کی اچھی باگ دوڑ سنبھالنے والا پیدا ہو گا۔
قاتل کفار خواہد شد شہ شیر علی
حامی دین محمد پاسباں پیدا شود​
ترجمہ: شیر علی شاہ کافروں کو قتل کرنے والا ہو گا اور دین محمدی کا پاسبان بنے گا۔
آپ جان چکے ہوں گے کہ جلد ہی شیر علی شاہ نامی ایک شخص مغرب میں پیدا ہو گا جو ہمارا نجات دہندہ بنے گا۔ مغرب سے مراد یورپ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے مغرب کا ذکر ہے جو ظاہر ہے افغانستان یا ایران سے نمودار ہو گا۔

آلات حرب و لشکر درکار جنگ ماہر
باشد سہیم مومن بے حد و بیکرانہ​
ترجمہ: جنگی ہتھیار اور جنگی کاروائی کا ماہر لشکر آئے گا، جس سے مسلمانوں کو زبردست اور بے حساب تقویت پہنچے گی۔
عثمان و عرب و فارس ہم مومنانِ اوسط
از جذبہء اعانت آیند والہانہ​
ترجمہ: ترکی ، عرب، ایران اور مشرق وسطیٰ والے امداد کے جذبہ سے دیوانہ وار آئیں گے۔
اعراب نیز آیند است کوہ و دشت و ہاموں
سیلاب آتشیں شد از ہر طرف روانہ​
ترجمہ: نیز پہاڑوں، بیابانوں اور صحراؤں سے عراب بھی آئیں گے۔ آگ والا سیلاب ہر طرف رواں دواں ہو گا۔

چترال، ناگا پربت، باسین ، ملک گلگت
پس ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنہ​
ترجمہ: چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔
یکجا چوں عثمان ہم چینیاں و ایراں
فتح کنند ایناں کُل ہند غازیانہ​
ترجمہ: ترکی ، چین اور ایران والے باہم یکجا ہو جائیں گے۔ یہ سب تمام ہندوستان کو غازیانہ طور پر فتح کر لیں گے۔
غلبہ کنند ہمچوں مورو ملخ شباشب
حقا کہ قوم مسلم گردند فاتحانہ​
ترجمہ: یہ چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات غلبہ حاصل کر لیں گے۔ میں قسم کھاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی کہ مسلمان قوم فاتح ہو گی۔

کابل خروج سازد در قتل اہل کفار
کفار چپ و راست سازند بسے بہانہ​
ترجمہ: اہل کابل بھی کافروں کو قتل کرنے کیلئے نکل آئیں گے، کافر لوگ دائیں بائیں بہانہ سازی کریں گے۔
از غازیان سرحد لرزد زمیں چو مرقد
بہر حصول مقصد آیند والہانہ​
ترجمہ: سرحد کے غازیوں سے زمین مرقد کی طرح لرزے گی۔ وہ مقصد کے حصول کے لئے دیوانہ وار آئیں گے۔ برٹش دور کے شمال مغربی سرحدی صوبے کا نام لے کر شاہ صاحب نے اس خطے کے مجاہدین کی شجاعت کی تعریف کی ہے۔

درمیان ایں و آں گردد بسے جنگ عظیم
قتل عالم بے شبہ در جنگ شاں پیدا شود​
ترجمہ: اسی دوران ایک بڑی جنگِ عظیم لڑی جائے گی۔ اس جنگ سے ایک عالم کا قتل بغیر شک و شُبہ ظاہر ہو گا۔
فتح یا بدشاہ غربستان بزور تبر و تیغ
قوم کافر را شکست بے گماں پیدا شود
ترجمہ: شاہ غربستان ہتھیاروں اور اسلحہ کے زور پر فتح حاصل کرے گا، جبکہ کافر قوم کو ایسی شکست سے دوچار ہونا پڑے گا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گی۔

از خاص و عام آیند جمع تمام گردند
درکار آں فزایند صد گونہ غم افزانہ​
ترجمہ: عام و خاص سب کے سب لوگ جمع ہو جائیں گے۔اس کام میں سینکڑوں قسم کے غم کی زیادتی ہو گی۔
بعد از فریضہء حج پیش از نماز فطرہ
از دست رفتہ گیرند از ضبطِ غاصبانہ​
ترجمہ: فریضہء حج کے بعد اور عید الفطر کی نماز سے پہلے ہاتھ سے نکلے ہوئے علاقہ کو حاصل کر لیں گے جو انہوں نے غاصبانہ ضبط کیا ہوا تھا۔

رودِ اٹک نہ سہ بار از خوں اہل کفار
پر مے شود بہ یکبار جریان جاریانہ​
ترجمہ: دریائے اٹک (دریائے سندھ) کافروں کے خون سے تین مرتبہ بھر کر جاری ہو گا۔
نوٹ کریں کہ شاہ صاحب نے شعر میں دریائے سندھ کے فارسی نام ”رود ہند“ کی بجائے ”رود اٹک“ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ان کی روحانی صلاحیت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ حرف ٹ کے فارسی میں نہ ہونے کے باوجود اس فارسی شعر میں اس کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ یہ پیش گوئیاں موجودہ پاکستان کے اردو دان طبقے کے لئے کی گئی ہیں۔

پنجاب، شہر لاہور، کشمیر ملک منصور
دوآب ، شہر بجنور گیرند غالبانہ​
ترجمہ: پنجاب، شہر لاہور، ملک کشمیر نصرت شدہ ، دریائے گنگا اور جمنا کا علاقہ اور بجنور شہر پر مسلمان غالبانہ قبضہ کر لیں گے۔ یعنی مشرقی پنجاب کے علاوہ یوپی کا پورا علاقہ بھی فتح کرنے کی خوشخبری دے دی گئی ہے۔

از دُختران خوشرو از دلبران مہ رو
گیرند ملک آں سُو خلقے مجاہدانہ​
ترجمہ: خوبرو لڑکیاں اور حسین دلربائیں ، مجاہدین مال ِ غنیمت کے زمرے میں اپنی ملکیت میں لے لیں گے۔
اس شعر سے ہمیں یہی سمجھ آتا ہے کہ ممبئی بھی فتح ہو جائے گا اور اس کی فلم انڈسٹری جو اپنی ہر فرضی فلم میں پاکستان کو شکست دیتی ہے، حقیقی جنگ میں پاکستان کے قبضے میں آ جائے گا۔

بعد از عقب ایں کار مغلوب اہل کفار
مسرور فوج جرار باشند فاتحانہ​
ترجمہ: اس کام کے بعد کافر مغلوب ہو جائیں گے اور مسلمانوں کی جری افواج فتح حاصل کر کے خوش ہو جائیں گی۔

ایں غزوہ تا بہ شش ماہ پیوستہ ہم بشر ہا
مسلم بفضل اللہ گردند فاتحانہ​
ترجمہ: یہ لڑائی چھ ماہ تک انسانوں کے بیچ چلتی رہے گی۔ مسلمان اللہ کے فضل سے فاتح ہوں گے۔

خوش می شود مسلماں از لطف و فضل یزداں
خاق نماید اکرم از لطف خالقانہ​
ترجمہ: خدا کے حکم سے مسلمان خوش ہو جائیں گے،اللہ پاک خالقانہ لطف و کرم فرمائیں گے۔

کشتہ شوند جملہ بد خواہ دین و ایماں
کل ہند پاک باشد از رسم ہندوانہ​
ترجمہ: دین اور ایمان کے جملہ بد خواہ لوگ قتل کر دئیے جائیں گے۔ تمام ہندوستان ہندوؤں کی عملداری سے پاک ہو جائے گا۔

غلبہء اسلام باشد تا چہل در ملک ہند
بعد ازاں دجال ہم از اصفہاں پیدا شود​
ترجمہ: اسلام کا غلبہ چالیس سال تک ہندوستان کے ملک میں رہے گا۔ اس کے بعد دجال ایران کے شہر اصفہان سے ظاہر ہو گا۔

چوں ہند ہم بہ مغرب قسمت خراب گردد
تجدید یاب گردد جنگ سہ نوبتانہ​
ترجمہ: ہندوستان کی طرح مغرب یعنی یورپ کی تقدیر بھی خراب ہو جائے گی۔ تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے گی۔

یہ پیش گوئیاں پڑھ کر آپ جان چکے ہوں گے کہ ہم نہ صرف کشمیر بلکہ پورا ہندوستان بھی فتح کرنے والے ہیں۔ ان پیش گوئیوں میں صرف دریائے اٹک کے خون پر بھرنے سے ہمیں تشویش ہے۔ کفار کا لشکر کیا کشمیر کی طرف سے یلغار کرتا ہوا اٹک تک پہنچے گا جہاں اسے فیصلہ کن شکست ہو گی، یا پھر یہ لاہور کی طرف سے حملہ آور ہو گا اور پورے پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد دریائے اٹک تک پہنچے گا اور جہنم واصل ہو گا؟

یہ بھی نوٹ کریں کہ شاہ صاحب کی پیش گوئیوں سے یہ بات واضح ہے کہ نہ تو پاکستان اٹک تک کا وسیع رقبہ گنوانے کے باوجود ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا، اور نہ ہی ہندوستان مکمل طور پر فتح ہونے کے باوجود اپنے ایٹمی اسلحے کو استعمال میں لائے گا۔ یا ممکن ہے کہ ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کی کوشش کی جائے مگر روحانی اثر کی وجہ سے وہ ناکارہ ہو جائے تاکہ مسلمان ایک مرتبہ پھر مکمل برصغیر پر اپنا سبز جھنڈا لہرا سکیں۔ یاد کریں کہ سنہ 1965 کی جنگ میں بھی معتبر رپورٹس آئی تھیں کہ ہندوستانی ہوائی جہازوں کے گرائے ہوئے بم سبز پوش بزرگ ہوا میں ہی پکڑ لیتے تھے اور وہ پھٹ نہیں پاتے تھے۔

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہر ذی شعور شخص یہی منطقی تجزیہ کرے گا کہ یہ نہ صرف طبعی بلکہ ایک روحانی جنگ بھی ہو گی۔ ایک طرف برہمن پنڈت بیٹھے کالا جادو جگا رہے ہوں گے اور پاکستان کے ایٹمی اسلحے کو ناکارہ بنا رہے ہوں گے، اور دوسری طرف ہمارے بزرگ اپنے روحانی اعمال و وظائف سے نہ صرف یہ کہ ہندوستانی ایٹمی اسلحے کو ناکارہ بنا رہے ہوں گے بلکہ ہندوستانی فوجوں کو اٹک تک گھیر کر لائیں گے اور مجاہدین کے سامنے ڈال دیں گے تاکہ وہ نیست و نابود ہو جائیں۔


اسی بارے میں
امریکہ کی یقینی تباہی کا وقت آ گیا

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.