ماہرِ نفسیات کی ڈائری ۔۔۔ محبت، جنس اور شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجانے کتنے لوگ محبت کرتے ہیں لیکن اپنے محبوب سے کبھی جنسی تعلقات قائم نہیں کر سکتے

نجانے کتنے محبوب سے ہمبستری کرتے ہیں لیکن شادی نہیں کرنا چاہتے

نجانے کتنے شادی تو کر لیتے ہیں لیکن اپنے شریکِ سفر سے محبت نہیں کر پاتے

نجانے کتنوں کی محبوبائیں کبھی بیویاں نہیں بنتیں اور بیویاں کبھی محبوبہ نہیں بن پاتیں

کیا ہونا چاہیے اور کیا ہوتا ہے، میں بہت فاصلہ ہے بہت بعد ہے

آدھی زندگی مشرق اور آدھی زندگی مغرب میں گزار کر مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ہم ابھی بھی محبت، جنس اور شادی کے بارے میں حقیقتوں کی بجائے خوابوں اور سرابوں میں زیادہ زندگی گزارنے کے عادی ہیں شاید اس لیے کہ حقائق بہت تلخ ہیں اور سچ بہت کڑوے ہیں۔

پچھلے تیس برس سے کینیڈا میں ماہرِ نفسیات کے طور پر کام کرنے اور لوگوں کی ان کے نفسیاتی، ازدواجی ، اور خاندانی مسائل میں مدد کرنے کی وجہ سے میرے چند تجربات اور مشاہدات ہیں جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

مغربی والدین کی اکثریت نے یہ حقیقت قبول کر لی ہے کہ ان کو اپنے جوان بچوں کے شریکِ سفر تلاش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جوان بیٹے اور بیٹیاں اپنے لیے خود اپنے محبوب اور شریکِ سفر تلاش کرتے ہیں۔ ایک آسٹریلین باپ نے اپنے جوان بیٹے کے بارے میں کہا کہ اگر وہ اپنے لیے بیوی نہیں تلاش کر سکتا تو وہ ابھی نفسیاتی طور پر بالغ نہیں ہوا۔

ایک ٹی وی کے پروگرام کے دوران انٹرویو کرنے میزبان نے امریکی فلاسفر JOSEPH CAMPBELL سے پوچھا کہ آپ مائیتھالوجی کے ماہر ہیں آپ کی انسانی تاریخ پر گہری نگاہ ہے آپ بتائیں کہ پچھلی چند صدیوں میں انسان کے رومانوی رشتوں میں بنیادی طور پر کیا تبدیلی آئی ہے۔ جوزف کیمبل چند لمحے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کہ ہم نے پچھلی چند صدیوں کے سماجی ارتقا میں TRIBIDO سے LIBIDO تک کا سفر طے کیا ہے۔ میزبان نے کہا لیبیڈو سے تو میں واقف ہوں لیکن ٹریبیڈو کیا ہے۔ جوزف کیمبل کہنے لگے یہ لفظ TRIBE سے ہے۔ ایک وہ دور تھا جب نوجوانوں کی شادی کا فیصلہ ان کا قبیلہ اورخاندان کرتا تھا لیکن اب نوجوان اپنی زندگی کے رومانوی فیصلے خود کرتے ہیں اور پھر ان فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یہ عاقل اور بالغ ہونے کی نشانی ہے۔ جن لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے ان کے والدین کرتے ہیں وہ ابھی ذہنی طور پر بچے ہی ہیں اس لیے جب ان کی شادی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ اپنے والدین اور خاندان والوں سے ناراض ہوتے ہیں اور انہیں اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

مغربی جوڑوں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ اگر وہ شادی سے خوش نہیں تو وہ خوش اسلوبی سے جدا ہو سکتے ہیں۔ مغرب میں بھی ایک وہ زمانہ تھا جب طلاق لینا ناممکن تھا۔ کیتھولک چرچ اس کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ عورت کو طلاق لینے کے لیے یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ اس کا شہر یا تو ظالم ہے یا بے وفا لیکن اب کینیڈا میں ایک نیا قانون بنا ہے جو NO FAULT DIVORCE کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی اگر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ اکٹھے نہیں رہنا چاہتے تو وہ خوش اسلوبی سے جدا ہو سکتے ہیں۔

میں نے ایک کیتھولک پادری کا ٹی وی پر انٹرویو سنا۔ میزبان نے حیرت سے کہا کہ آپ کیتھولک ہیں اور طلاق کے حق میں ہیں۔ ہم نے تو سنا تھا کہ عیسائیت میں شادی عمر بھر کے لیے ہوتی ہے اور میاں بیوی یہ عہد و پیماں کرتے ہیں کہ ہم تاحیات اکٹھے رہیں گے TILL DEATH DO US APARTکیا آپ اس آدرش کو نہیں مانتے۔ پادری نے کہا میں مانتا تو ہوں لیکن میری نگاہ میں موت کا مطلب جسمانی موت نہیں محبت کی موت ہے۔ جب میاں بیوی کی محبت مر جاتی ہے تو نفسیاتی طور پر ان کی طلاق ہو جاتی ہے چاہے وہ اسے مانیں یا نہ مانیں۔ محبت کی موت کے بعد بہتر یہی ہے کہ طلاق لے لی جائے۔

محبت کی موت ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے لیکن مغرب میں بہت سے مرد اور عورتیں یا تو وقت کے ساتھ اور یا تھیریپی سے اس بحران سے باہر نکل آتے ہیں اور نئی رومانوی زندگی شروع کر دیتے ہیں۔

مغرب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ شادی ایک  TIME LIMITED CONTRACTہونا چاہیے۔ جرمنی کی حکومت اس مشورے پر غور کر رہی ہے کہ شادی کے معاہدے کو ہر تین سال کے بعد RENEWکیا جائے تا کہ میاں بیوی یہ جانیں کہ اگر انہوں نے اپنے شریک سفر کی عزت اور قدر نہ کی تو وہ انہیں چھوڑ کر چلا جائے گا۔

مغربی خواتین نے یہ راز بھی جان لیا ہے کہ انہیں تعلیم حاصل کر کے اور نوکری کر کے تنخواہ کمانی چاہیے تا کہ وہ خود مختار ہو جائیں اور اپنے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے پر اقتصادی طور پر DEPENDENT نہ ہوں۔ وہ یہ راز جان گئی ہیں کہ نفسیاتی اور سماجی آزادی کا گہرا تعلق اقتصادی آزادی پر ہے۔ جس گھر میں میاں بیوی برابر کی تنخواہ لے کر آتے ہیں وہاں ان دونوں کے برابری کے رشتے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بعض مشرقی لوگ مغرب کی طلاقوں پر معترض ہوتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ بہت سے مردوں اور عورتوں کی دوسری شادی پہلی شادی سے زیادہ کامیاب اور خوشحال ہوتی ہے۔ مغربی میاں بیوی اکثر اوقات اس بات کی فکر نہیں کرتے کہ ’لوگ کیا کہیں گے”۔ عوام نے اس حقیقت کو مان لیا ہے کہ محبت، جنس اور شادی دو عاقل اور بالغ لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے جس میں باقی لوگوں کی مداخلت کی چنداں ضرورت نہیں۔

میرے پاس بہت سے جوڑے آتے ہیں جو اپنی شادی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ایسے طریقے جاننا چاہتے ہین جن سے وہ اپنی شادی کر کامیاب بنائیں ۔ میں ان کی نفسیاتی مدد کر کے خوشی محسوس کرتا ہوں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ جوڑے جو اپنے رشتے میں CONFLICT RESOLUTION سیکھ جاتے ہیں وہ اپنے مسائل کا خوشگوار حل تلاش کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور ایک خوشحال ازدواجی زندگی گزارتے ہیں۔

مغربی لوگوں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ ماہرِ نفسیات سے مدد حاصل کرنا کوئی عیب کی بات نہیں۔ جیسے وہ اپنے جسمانی مسائل کے بارے میں میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ ویسے ہی نفسیاتی، ازدواجی اور خاندانی مسائل کے حل کے لیے تھیریپسٹ سے مدد مانگتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 421 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail