جوہری پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہونے چاہیں سعودی عرب میں نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خورشید شاہ

AFP

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ دوسروں کے دروازے کھٹکھٹانے کی بجائے پاکستان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیے۔

پاکستان کی حزب اخلاف کی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الگ الگ پریس کانفرنسوں میں کہا کہ ایک اور این آر او لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے شریف برادران کے سعودی عرب جانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قوم اب کی بار انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے کہ سعودی عرب کیوں گئے ہیں،کس لیے جا رہے ہیں اور وجہ کیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں‘

کیا نواز شریف سیاسی لڑائی جیت رہے ہیں؟

نواز شریف کا عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے ہی سعودی عرب جا چکے ہیں جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق نواز شریف بھی کل سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں بہت احترام کے ساتھ کہتا ہوں کہ محبت، عقیدے اور احترام کے حوالے سے سعودی عرب کا کوئی جوڑ نہیں ہے، مگر پاکستان ایک جوہری ملک ہے، اس کا اپنا آئین ہے، اس کی اپنی پالیسی ہونی چاہیے، قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کی ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں تو نواز شریف کی جانب سے تحریک چلائے جانے کا شدت سے انتظار تھا۔

عمران خان

AFP

عمران خان نے کہا کہ ’مجھے تو انتظار تھا کہ نواز شریف تحریک چلانے کے لیے نکلیں گے اور عوام ان سے حساب مانگیں گے، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ وہ تو تحریک چلانے سعودی عرب جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ان کا یہ خیال ہے کہ انھیں کسی طرح کی چھوٹ مل جائے گی اور طاقتور ملک کو لوٹ کر این آر او لے لیں، تو ایسا نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ’سڑکوں پر نکلیں گے پھر نہ کہنا کہ عمران خان پھر سڑکوں پر آگیا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بھی عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’شہباز شریف کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ سعودیوں نے ان کے لیے جہاز بھیجا ہے، لیکن ان کے اور شریف خاندان کے لیے بری خبر یہ ہے وہ جہاں جاہے جائیں مگر اس بار انھیں کہیں سے بھی این آر او نہیں ملے گا۔‘

این آر او کے بارے میں خورشید شاہ نے مزید کہا کہ ’آج جو ہو رہا ہے وہ معافی تلافی کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے ہر کوئی این آر او کا سوال کر رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی کے این آر او اور اس این آر او میں بہت فرق ہے، اگر اس قسم کی بات ہوگئی تو پھر ہمیں اپنے اداروں کو بڑے بڑے موٹے تالے دینے پڑیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19337 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp