زندگی کی کامیابی کا راز: اچھی صحت
جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو اس کے سامنے زندگی کے ہزاروں خواب، منصوبے اور خواہشات ہوتی ہیں۔ مگر جیسے ہی صحت خراب ہو، سب کچھ غیر اہم لگنے لگتا ہے۔ انسان کے سارے خواب، منصوبے، کامیابیاں، حتیٰ کہ دولت بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ”صحت ہے تو سب کچھ ہے“ ۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں علاج معالجے کی سہولیات مہنگی اور محدود ہیں، وہاں صحت کا خیال رکھنا اور روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لانا انتہائی ضروری ہے۔
سائنس اور طب کی دنیا میں اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ورزش اور جسمانی سرگرمیاں نہ صرف بیماریوں سے بچاتی ہیں بلکہ ذہنی سکون، نیند اور زندگی کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ دنیا کی معروف طبی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق روزانہ صرف 30 منٹ کی چہل قدمی، دل کے امراض، شوگر، بلند فشار خون اور موٹاپے جیسے مہلک مسائل کو کم کر سکتی ہے۔ ایک اور تحقیق جو ہارورڈ میڈیکل اسکول میں کی گئی، اس سے پتا چلا کہ جو لوگ ہفتے میں کم از کم پانچ دن ہلکی پھلکی ورزش کرتے ہیں، ان کی زندگی کی اوسط مدت (life expectancy) اُن لوگوں سے کئی سال زیادہ ہوتی ہے جو بالکل غیر فعال (inactive) زندگی گزارتے ہیں۔
پاکستان میں غیر متوازن غذا، بیٹھے بیٹھے گھنٹوں گزارنا اور سُست طرزِ زندگی عام ہو چکی ہے۔ دیسی کھانوں میں گھی، نمک اور شکر کا بے تحاشا استعمال دل، جگر اور گردوں کی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ورزش صرف وزن کم کرنے کے لیے ہوتی ہے، حالانکہ یہ جسم کو تندرست، ہڈیوں کو مضبوط، اور دماغ کو توانا رکھنے کا ذریعہ ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد صرف اس لیے موت کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی نہیں کرتے۔
ایک تحقیق 2020 میں ”برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن (British Journal of Sports Medicine)“ میں شائع ہوئی، جسے یونیورسٹی آف سڈنی اور دیگر اداروں نے مشترکہ طور پر کیا۔ تحقیق میں تائیوان کے 4 لاکھ سے زائد افراد کو کئی سالوں تک فالو کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ لوگ جو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش کرتے تھے، چاہے وہ سگریٹ نوش تھے، ناقص خوراک لیتے تھے یا شراب نوشی کرتے تھے، ان کی زندگی کی متوقع مدت ان لوگوں سے زیادہ تھی جو صحت مند طرز زندگی تو رکھتے تھے لیکن بالکل غیر فعال (inactive) تھے یعنی کوئی ورزش نہیں کرتے تھے۔
سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوا جو ورزش کے ساتھ ساتھ صحت مند عادات بھی اپناتے تھے، لیکن حیران کن طور پر صرف ورزش بھی صحت پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے کافی طاقتور ثابت ہوئی۔
اگر آپ صرف یہ سوچتے ہیں کہ ”میں سگریٹ نہیں پیتا، اچھی خوراک کھاتا ہوں، تو مجھے ورزش کی ضرورت نہیں“ ، تو یہ تحقیق بتاتی ہے کہ صرف صحت مند خوراک اور سگریٹ سے پرہیز کافی نہیں۔
اگر آپ ورزش نہیں کرتے تو آپ کی زندگی کی مدت کم ہو سکتی ہے، چاہے آپ کے باقی سب عادات اچھی ہوں۔ ورزش ایک طاقتور دوا ہے، جو انسانی جسم کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔
ورزش سے صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ روزانہ کی ہلکی ورزش دماغ میں ”خوشی والے ہارمونز“ (Endorphins) کو بڑھاتی ہے، جو ڈپریشن، چڑچڑاہٹ اور تناؤ کو کم کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ذہنی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، وہاں ایک سادہ سی چہل قدمی یا سائیکل چلانا بھی ایک بڑی ذہنی دوا بن سکتی ہے۔
صحت کا خیال رکھنا صرف ڈاکٹر کے پاس جانے یا مہنگی دوائیاں خریدنے کا نام نہیں، بلکہ روزمرہ کی عادات کو بہتر بنانا اصل علاج ہے۔ صبح جلدی اٹھنا، تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، پانی کی مناسب مقدار پینا، نیند پوری کرنا، اور روزانہ کچھ وقت جسمانی حرکت میں گزارنا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو ہر شخص بغیر کسی خاص خرچے کے کر سکتا ہے۔
یاد رکھیں، صحت ایک امانت ہے۔ یہ امانت آپ کے بچوں، گھر والوں اور معاشرے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر آپ خود صحت مند ہوں گے تو ہی دوسروں کا سہارا بن سکتے ہیں۔ جب تک صحت ساتھ ہے، وقت، پیسہ، کام، رشتے اور خواب سب خوبصورت لگتے ہیں۔ اور جب صحت جاتی ہے تو باقی سب کچھ ایک لمحے میں بیکار محسوس ہوتا ہے۔
اس لیے کچھ بھی کرنے سے پہلے، زندگی کے کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے، صرف ایک بات یاد رکھیں :
اپنے جسم کا خیال رکھیں، یہ آپ کا اصل گھر ہے۔

