”یا خدا“ از قدرت اللہ شہاب کا تشخیصی مطالعہ

”یا خدا“ میں فکری اعتبار سے تقسیم ہند کے موقع پر انسانی المیے کو موضوع بنا یا گیا ہے۔ کل صفحات 102 ہیں جب کہ اصل کہانی لگ بھگ 50 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کہانی کے لیے مصنف نے مجموعے ہی میں، افسانہ اور ناولٹ، دونوں نام استعمال کیے ہیں، مختلف نئے پرانے نسخوں پر اسے باقاعدہ ”ناولٹ“ لکھا دیکھا گیا ہے۔ یہ گمان ہی کیا جا سکتا ہے کہ دم تحریر اردو میں ناولٹ کی ہیئت کے خد و خال مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے ہوں گے، سو اس لیے روا روی میں ایسا کہا گیا ہو، لیکن انگریزی میں مبینہ تبحر علمی کے باوجود مصنف کا اپنی ایک مشمولہ تحریر میں اسے طویل افسانہ اور پھر ناولٹ کہنا حیران کن ہے۔ اسے صرف بے خبری پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے کچھ اضافی مناظر کے باوجود مجموعی تاثر کے حوالے سے اسے طویل افسانہ ہی کہا جا سکتا ہے جو تین حصوں میں منقسم ہے۔
”یا خدا“ اس کہانی کا عنوان ہے، یہ مجموعی طور پر انسانیت پر گزری اس قیامت پر حرف تاسف ہے۔ کہانی میں بیان کردہ واقعات پر جہاں ہر حساس دل انسان کی اس سفاکی پر لرز اٹھتا ہے وہاں مظلوم و مجبور، اپنے جیسے انسانوں کے ہاتھوں بدترین ظلم کا شکار ہونے پر ، خاص تناظر میں، بے بسی سے فقط خدا ہی کو یاد کر سکتا ہے۔
انتساب کے درج الفاظ میں مہاجرین کی دردناک زندگی کی طرف اشارہ فقط اشارہ نہیں، بے مثال، اور بلیغ استعارہ ہے، یہ پوری کہانی کے مجموعی تاثر سے الگ اور منفرد طرز اظہار کا حامل ہے، کہانی کے تینوں اجزا کے ذیلی عنوانات سورۃ الرحمٰن کی آیات کے اجزا اور کلام اقبال کے مصارع ہیں۔ آیات کے حوالے سے دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ مشرق سے مغرب میں ہجرت اور امید کے باوجود دل شاد اور زبیدہ سمیت تمام مظلوم مہاجرین کے حالات میں تبدیلی نہیں آئی کہ جو پروردگار مشرق کا ہے آخر کو مغرب کا پروردگار بھی ہے، جبکہ آخری باب کے عنوان میں، رب العالمین،
کے عنوان سے مختلف کرداروں کے اپنی اپنی دنیاؤں میں مگن ہو کر عزت و ذلت اور شرف انسانی کے تصور سے بے گانگی کا مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں پہلے دو اجزا میں قرآنی متن کے مطابق اعراب کا استعمال ہی زیادہ بہتر ہوتا، اگرچہ نیچے خطاب کیا گیا ہے۔ ابتدائیے میں انسانی زندگی کی مصائب پر کئی بار صرف مرنے اور جینے کے حوالے سے آواگون کے تصور کی طرف اشارہ مبہم اور نامکمل ہے بلکہ اس تصور کے محل استعمال کو درست نہیں کہا جاسکتا۔
کہانی کے پہلے ہی منظر میں گاؤں میں سنگین ترین حادثے اور غارت گری کے باوجود مرکزی کردار دلشاد کا امریک سنگھ کی کرپان سے پسلیاں گدگدائے جانے پر مسکرا دینا نا قابل تصور اور غیر منطقی ہے، جسمانی، جنسی حتٰی کہ سماجی طور پربھی تشدد اور عدم تحفظ کا شکار بیس سالہ لڑکی کا عین اسی جگہ اپنے باپ کے بہیمانہ قتل اور دور دور تک کسی اپنے کی عدم موجودگی کے عالم میں یہ مسکراہٹ کہانی کا پہلا نقص بن کر سامنے آتی ہے۔ ابتدائی سطور ہی میں اس عیب کا موجود ہونا کہانی کے تاثر کو بھی بے وقعت کرتا ہے جب کہ دل شاد کی جذباتی اور ذہنی کیفیت اور غیر متحرک کردار کو پوری کہانی میں بآسانی گنا بھی جاسکتا ہو مثلاً پہلے حصے میں رحیم خان کو مایوس کرنے کا سوچ کر بجا طور پر خود پر غصہ آنا، اپنے باپ اور رحیم خان کی یاد میں آنسو بہانا۔ پہلے حصے میں مصنف، جہاں دل شاد کی موجودگی سے گردوارے سے زیادہ مسجد آباد ہونے، سکھوں کے باریاں باندھ کر آنے اور رات بھر مسجد کے آستانے پر حاضری دینے کا پر رونق منظر دکھاتے ہیں، وہاں آدھی رات گئے دل شاد کا کنویں کی منڈیر پر بیٹھ کر باپ کے لیے روتے رہنا اور اس کی آخری سسکی کی آواز کے انتظار میں کانوں کے تھکنے کا ذکر، پیش کیے گئے منظر سے میل نہیں کھاتا ہے۔
پہلے حصے کے اختتام پر مجبور خواتین، ریل کے سفر میں آہستہ آہستہ کافی حد تک پُرسکون ہوجاتی ہیں اور مل کر گیت تک گانے لگتی ہیں۔ دوسرے حصے کا آغاز پھر ناقابل فہم منظر سے ہوتا ہے جب ساتھ گیت گاتی اور روتی ہم سفر خواتین منزل پر پہنچتے ہی اپنی ہم سفر، ایک بے ہوش زچہ دل شاد کو ، اس حالت میں بے یار و مددگار چھوڑ کر اپنی راہ لیتی ہیں، ہند و پاک کے عوام کا سفر کے حوالے سے یہ بیان کردہ انداز بالکل نامانوس، اجنبی اور غیر تاریخی ہے۔ اسی طرح گاؤں کی مسجد کے امام کی جوان بیٹی کا لفظ ”مہاجر“ سے ناواقف ہونا، مصطفی خان سیمابی کی کوٹھی میں نوکروں کے کمرے میں گراموفون بجنا جیسی جزئیات اس تشکیل کردہ منظرنامے کو دھندلاتی ہیں۔
آخری حصے کے آغاز پر الگ ”کراچی“ کی سرخی جمائی گئی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو حصوں پر مصنف، بالترتیب چمکور اور لاہور لکھنا بھول گئے ہیں، دل شاد ریفیوجی اسپیشل ٹرین میں کراچی پہنچتی ہے، پھر مہاجر کیمپ سے کراچی اسٹیشن پہنچنے کے بعد اور عیدگاہ کے میدان کی جھونپڑی تک پہنچنے سے قبل کے کچھ مختلف اور الگ الگ مناظر ہیں، غالب امکان یہی ہے کہ ان مناظر کی کی بنیاد پر اسے ناولٹ کے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کا آغاز کیا گیا ہو گا۔ یہ مناظر سماج اور سماج میں پھیلتی تفریق، رنگینی، کاروباری رجحانات اور حالات کو بیان کر رہے ہیں لیکن ان کی عدم موجودگی سے کہانی کی اثر پذیری اور دیگر خصوصیات پر فرق نہیں پڑتا۔ مصنف کی مذہب، ادب اور قومیت کے حوالے سے مخصوص سوچ پہلے حصے میں سکھوں کے مسجد میں دل شاد سے سلوک کے حوالے سے اس جملے میں نظر آتی ہے :
” انھیں یہ فخر ہوتا کہ وہ گن گن کر ساڑھے تیرہ سو برس کی اذانوں اور نمازوں کا بدلہ چکا رہے ہیں“
سکھ مذہب کے تناظر میں تقسیم کے بعد فسادات سے کفر و اسلام کی تاریخی کش مکش کی یہ تعبیر مصنف سے غیرارادی طور پر سرزد ہوئی ہے یا وہ اپنے نظریات کے اظہار سے باز نہیں رکھ سکے، اس سطحی فکر کا اندازہ آخری حصے میں گاندھی جی جیسی شخصیت کے نصب کیے گئے بت کے حوالے سے اس جملے سے بھی لگایا جاسکتا ہے :
” چیف کورٹ اور اسمبلی ہال کے درمیان مہاتما گاندھی کا بت پہرے پر چوکس کھڑا ہے کہ کہیں انصاف اور سیاست ایک دوسرے کے قریب نہ آنے پائیں۔ “
مزید آگے جا کر وہ نو زائیدہ ریاست میں تیزی سے سرایت کرتے تعصبات کن طرف اشارہ کرتے ہوئے پنجابی سندھی تکرار پر ہندو راہ گیر کے کنڈکٹر اور ڈرائیور کو داد کے طور پر بیڑی پیش کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔
ان سطحی جملوں کو مصنف اور ان کے با اختیار متعلقین کی جانب سے ”قومی فکر نو کی نصابی تشکیل“ کے پہلو سے غیر اہم قرار نہیں دیا جاسکتا جسے بعد میں نئی قوم کی تعمیر میں جنگی بنیادوں پر نافذ کیا گیا۔ سکھوں کے جتھوں کے فساد یہ حملوں کے عرصے کو ظہور اسلام سے جوڑنا اور گاندھی جی جیسے سیاسی راہ نما کو انصاف و سیاست کے حوالے سے نشانہ بنانا نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ بھی ہے۔ انتساب میں شہدا کی زندگی کے متعلق قرآنی آیت کے متاثر کن حوالے کی بے مثال تشبیہ کی مانند اختتام پر مصنف نے عنوانات اور کہانی کی آخری سطور سے مطابقت کرتے ہوئے سورۃ الرحمن کی کچھ آیات درج کی ہیں جسے مجموعی معاشرتی رویے پر طنز اور چوٹ کی فنی طور پر ناکام لیکن زوردار کوشش کہا جا سکتا ہے۔ مصنف کا غالباً اس عبارت سے عنوانات کو مزید جسٹیفائی کرنا مقصود ہو گا اس حصے کی عدم موجودگی اختتام کو زیادہ بامعنی بنا سکتی تھی۔
شہاب کی یہ کہانی موضوع اور موقع کے حوالے سے برجستہ، حسب حال اور عمدہ ہے، لیکن اس میں فنی اور فکری اعتبار سے بہترین ہونے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ اس زمانے میں پروف ریڈنگ کے شعبے کی باقاعدہ موجودگی اور مصنف کے نامی ادباء سے تعلقات کے باوجود کتابت کی اغلاط کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مثلاً زیر نظر نسخوں میں رب المشرقین اور رب المغربین کے قرآنی اجزا میں، اعراب کی غلطی کا پایا جانا۔ اپنے مذہبی رجحانات کے باوجود مذہبی اعتبار سے اشارات اور طنزیہ پیرائے کو برتنے کی کوشش اپنی وحدت میں تو بھرپور ہے لیکن کہانی کے مجموعی تاثر کے ساتھ یہ قدرے بے جوڑ معلوم ہوتی ہے۔ زبان و بیان اور لفظیات کے اعتبار سے بھی کئی غیر خوش کن حصے اس تصنیف کی مداحی پر سوالیہ نشان ہیں مثلاً
آنسوؤں کا نمکین پانی اس کے ہونٹوں پر پہاڑی چشموں کی طرح ابل رہا تھا ”
”۔ جو کوئی گناہ کبیرہ سرزد کر کے گھر سے بھاگ گئی تھی۔“
”۔ تار کا احاطہ باندھا ہوا تھا“
”جیسے چتاؤں کے شعلوں میں دیوتاؤں کے لاشے جل رہے ہوں“
” اس نے چوروں کی طرح دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا“ ،
”ایک پارسن لڑکی۔ قہقہے لگا رہی تھی“
مصنف نے اس کمی کو شاید قبل و بعد کے مشمولات سے پورا کرنے کی کام یاب کوشش کی، ممتاز شیریں کا دیباچہ موجودہ دستیاب اشاعتوں میں شامل نہیں، اس کے حوالے سے بھی مشمولہ مضامین میں یہی بتایا گیا ہے کہ اس میں ”یا خدا“ کے متن کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ ”یا خدا“ کو ”ایڈیشنوں پر ایڈیشنز“ شائع ہونے سے اسے مقبول ادب میں تو بے جھجک شمار کیا جا سکتا ہے لیکن مشمولہ مضامین، مصنف اور ان کے مداحین کی خواہش کے احترام میں اس مختصر تصنیف کو فکری و فنی اغلاط کے باوجود مثالی ہرگز تصور نہیں کیا جا سکتا۔

Bilal Anjum