امریکہ بھارت تجارتی جنگ اور پاکستان کے لیے مواقع

امریکہ اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا۔ ابتدائی طور پر ٹرمپ نے 25 فیصد ٹیکس لگایا تھا، جب کہ اضافی 25 فیصد محصولات 27 اگست سے روس سے خام تیل خریدنے پر نئی دہلی کو سزا کے طور پر نافذ کیے گئے۔ بھارت نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی زرعی منڈی کھولنے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پانچ ادوار کی بات چیت کسی مثبت نتیجے تک نہ پہنچنے کے بعد محصولات کا اطلاق کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال میں بھارت کی امریکہ کو برآمدات تقریباً 87 ارب ڈالر تھیں۔ ٹرمپ کے 50 فیصد محصولات کے بعد نئی دہلی کو اس تجارت کا تقریباً 40 تا 45 فیصد نقصان متوقع ہے، جو تقریباً 37 تا 40 ارب ڈالر کے برابر ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ”بیرونی دباؤ کا مقابلہ“ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے عوام کو یقین دلایا ہے کہ کسانوں، مویشی پالنے والوں اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے مفادات ان کی اولین ترجیح ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی نے گزشتہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی چار ٹیلی فون کالز کا جواب دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ وہ بات چیت کے نتائج کو غلط انداز میں پیش کریں گے، خاص طور پر حساس پاک بھارت معاملات پر۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان گزشتہ 25 برسوں میں استوار ہونے والے قریبی اسٹریٹجک تعلقات کو تاریخی اور غیر معمولی دھچکا لگا ہے۔
بظاہر اقتصادی معاملات نے بھارت امریکہ تعلقات کو خراب کیا ہے، لیکن درحقیقت جنوبی ایشیا کی اہم جغرافیائی سیاست نے دونوں اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں۔ بھارت پر 50 فیصد محصول لگانے کی وجہ ٹرمپ کی بھارتی وزیراعظم مودی سے ذاتی ناراضگی ہے، ورنہ امریکہ نے روس سے تیل و گیس خریدنے والے چین، ترکیہ و دیگر یورپی ممالک پر ماسکو سے تیل خریدنے کی پاداش میں اضافی محصول عائد نہیں کیا۔
امریکہ نے ہمیشہ نئی دہلی کو چین کے مقابل کے طور پر دیکھا اور سرد جنگ میں سوویت یونین کے ساتھ تعلقات کے باوجود گزشتہ 25 برسوں میں بھارت سے مضبوط اسٹرایٹجک تعلقات قائم کیے۔ برسوں تک بھارت نے اپنی معاشی اور فوجی طاقت کا اظہار کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کا اہم اسٹرایٹجک پارٹنر ثابت ہو سکتا ہے، مگر رواں سال مئی میں پاکستان کے ساتھ محدود جنگ نے بھارتی فوجی طاقت کے اس تاثر کو توڑ دیا۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان نے متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں شہرت یافتہ ”رافیل“ بھی شامل تھے۔
اس کمزور عسکری کارکردگی نے واشنگٹن میں بھارت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں اور ایک فطری سوال پیدا ہوا ہے کہ بھارت، چین کے خلاف کس حد تک موثر ثابت ہو سکتا ہے؟ اگر نئی دہلی، جس کا دفاعی بجٹ اسلام آباد سے نو گنا زیادہ ہے، ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والے ہمسائے کے سامنے بے بس ہو گیا تو بیجنگ کے مقابلے میں کس طرح کھڑا ہو سکے گا؟ چین کی معیشت بھارت سے ساڑھے چار گنا بڑی ہے، دفاعی اخراجات 2.7 گنا زیادہ ہیں اور فوجی افرادی قوت 1.4 گنا زیادہ ہے، جب کہ اس کے پاس ہتھیاروں اور ملٹری ٹیکنالوجی میں بھی مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے برتری موجود ہے۔
دوسری طرف، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مئی کی جھڑپ کے دوران پاکستان نے کھلے عام صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا کہ انہوں نے جنگ بندی میں مدد دی اور ایک بڑے ایٹمی بحران کو ٹالنے میں کردار ادا کیا۔ اس کے برعکس، بھارت نے کسی امریکی مداخلت سے انکار کیا اور ٹرمپ کے ثالثی دعوے کو مسترد کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کی ثالثی کو تسلیم کرنا اور بھارت کی جانب سے انکار، اسلام آباد کو واشنگٹن کے قریب آنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ ہی، ٹرمپ کا جنگ بندی اعلان بھارتی وزیر اعظم مودی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا، جس نے واشنگٹن نئی دہلی تعلقات میں دراڑیں ڈال دیں۔
جون میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پانچ روزہ دورہ امریکہ نے پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ پیدا کیا۔ ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں خصوصی ون آن ون لنچ دیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے انسداد دہشتگردی کے کردار، خطے میں اہمیت اور آئی ٹی، زراعت اور معدنیات میں مواقع کو اجاگر کیا اور پاکستان کو امریکی اسٹریٹجک و اقتصادی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
اس دورے کی کامیابی 31 جولائی کو واضح ہو گئی جب پاکستان اور امریکہ نے تجارتی معاہدہ کیا جس کے تحت پاکستانی اشیا پر محصولات کم کر کے 19 فیصد کر دیے گئے، جو کہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہیں۔ اس کے ساتھ توانائی، معدنیات، آئی ٹی، حتیٰ کہ کرپٹو کرنسی میں تعاون کے دروازے کھل گئے، ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مشترکہ منصوبے کا بھی عندیہ دیا ہے، جس سے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان کی کامیاب فوجی سفارتکاری اور داعش کے خلاف فعال تعاون نے واشنگٹن کو اسلام آباد کے قریب کر دیا ہے۔ ساتھ ہی امریکہ اپنی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی پر نظرثانی کرتا دکھائی دیتا ہے اور نئی دہلی پر مکمل انحصار کے بجائے متبادل شراکت دار کی تلاش میں ہے۔ بیجنگ اور تہران کے ساتھ اسلام آباد کے قریبی تعلقات واشنگٹن کے لیے اسے مزید اہم بناتے ہیں، جس سے پاکستان، امریکہ چین اور امریکہ ایران کشیدگی میں ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے ایک عرصہ بعد واشنگٹن اسلام آباد کو انسداد دہشت گردی میں تعاون سے آگے ایک پارٹنر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی بڑی وجہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ہے، جس میں پاکستان نے ماضی کی طرح کسی ایک بلاک یا سپر پاور کے ساتھ قریبی تعلقات کے بجائے، چین و امریکہ جیسے حریف ممالک کے ساتھ بیک وقت قریبی تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دے کر اسے چین کے دائرہ اثر میں مکمل جانے سے روکا جائے۔
اسلام آباد بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نظر آتا ہے اور انسداد دہشتگردی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 5.3 ارب ڈالر رہیں۔ کم محصولات اور بھارت امریکہ تجارتی جنگ کے تناظر میں پاکستان خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھارت کا مارکیٹ شیئر حاصل کر کے اپنی برآمدات کو دوگنا کر سکتا ہے۔ لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے برآمد کنندگان کو سہولت دینا، کاروباری لاگت کم کرنا اور بیوروکریٹک رکاوٹیں دور کرنا۔
غالب امکان ہے کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان موجودہ کشیدگی عارضی ثابت ہو گی اور دونوں دارالحکومت آنے والے دنوں میں دوبارہ قریبی تعلقات بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر واشنگٹن کے ساتھ طویل مدتی اور وسیع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرے جو انسداد دہشتگردی سے آگے بڑھ کر تجارت، سرمایہ کاری اور باعزت و برابر سفارتی تعلقات پر مبنی ہو۔ ساتھ ہی پاکستان کے پالیسی سازوں کو آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس نصیحت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ”پاکستان ایک دوست کو دوسرے پر قربان نہیں کرے گا“ ۔ یہ اصول خاص طور پر چین اور امریکہ کے ساتھ بیک وقت تعلقات میں اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے تاریخی سبق یہ ہے کہ اپنا تمام وزن کسی ایک سپر طاقت کے پلڑے میں ڈالنے کے بجائے، سب کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دے کر قومی مفاد کا حصول ممکن بنایا جائے۔

