کالم۔

ایس سی او کا پیغام: مغرب کے مثبت جواب کا انتظار

nadeem akhtar

یہ خیال درست ثابت ہوا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا 25 واں سربراہی اجلاس ایک نئے عالمی نظام کی سمت متعین کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس تاریخی اجلاس میں دنیا کے جن 24 ملکوں نے شرکت کی وہ اپنی جگہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں چار ایٹمی ملک، دنیا کی دوسری اور چوتھی سب سے بڑی معیشت رکھنے والے دو ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے دو مستقل رکن ملک شامل تھے۔ مزید براں، یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ تنظیم میں شامل ملکوں کے سیاسی نظام ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔

چین میں یک جماعتی سوشلسٹ، روس میں صدارتی، بھارت اور پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام جبکہ ایران میں مذہبی حکومت اور دیگر رکن ممالک میں مختلف طرز کے سیاسی نظام قائم ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تجزیہ نگاروں کی نظریں اس نکتے پر مرکوز تھیں کہ تنظیم میں شامل مختلف سیاسی اور نظریاتی نظام رکھنے والے ملک، کس حد تک مغرب کی مخالفت کا خطرہ مول لینے کی ہمت کرسکیں گے۔ یہ اندازے بھی لگائے جا رہے تھے کہ تنظیم کے تین طاقتور ملک یعنی چین، روس اور بھارت ایک متبادل عالمی نظام کی تشکیل کے لیے کس سطح تک ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کے لیے تیار ہوں گے۔ تاہم، دو روزہ اجلاس کے دوران یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ نہ صرف ان تین بڑے ملکوں بلکہ اجلاس میں شریک تمام ممالک نے ایک متفقہ اعلامیے کی منظوری میں بڑی گرم جوشی سے اپنا کردار ادا کیا اور کسی بھی موقع پر، سیاسی یا نظریاتی اختلاف کو اس راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

سربراہی اجلاس کا طویل اور ہمہ جہت اعلامیہ صدر شی کے اس جملے کی ترجمانی کرتا ہے کہ ’ہمیں ہمیشہ بالا دستی اور پاور پالیٹکس کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے کے ساتھ ایک حقیقی کثیر الجہتی نظام پر عمل کرنا چاہیے۔ ‘ اعلامیہ میں ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے عزم کے ساتھ ملکوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کے احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت جیسے اصولوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ اور ایس پی او کے چارٹر پر عمل درآمد کی بات کہی گئی ہے۔ یہ اعلامیہ ایک ایسے نئے کثیر قطبی اور کثیر الجہتی عالمی نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو امریکہ کی بالا دستی والے موجودہ عالمی نظام سے یکسر مختلف ہے جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد مغرب نے تشکیل دیا تھا۔

اس دلچسپ سوال پر کم غور کیا جاتا ہے کہ اتنے متضاد سیاسی نظام، نظریات اور شناخت رکھنے والے ملک جو پہلے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے وہ اپنی جداگانہ شناخت برقرار رکھتے ہوئے آج متحد کیوں ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ یورپ 15 ویں صدی میں بد ترین معاشی بحران کا شکار تھا، جن ملکوں کے پاس زیادہ بحری طاقت تھی وہ تجارت کے لیے نئی دنیا کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ یہ یورپی نوآبادیاتی دور کی ابتدا تھی۔ 18 ویں صدی میں صنعتی انقلاب برپا ہوا، یورپ میں قومی ریاستیں وجود میں آ گئیں اور ان کے درمیان ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ پر نوآبادیاتی قبضے کی جنگ شروع ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں دنیا کا بڑا حصہ چند یورپی ممالک کے قبضے میں چلا گیا، وسائل کی بھیانک لوٹ مار کے ساتھ غیر سفید فام دنیا کو ”مہذب“ بھی بنایا جانے لگا۔

منڈیوں پر قبضے کے لیے یورپ کے ملکوں کے درمیان دو عالمی جنگیں ہوئیں جن سے یہ ملک کمزور ہو کر قومی آزادی کی تحریکوں کے سامنے پسپا ہو گئے اور نوآزاد ریاستوں کا اقتدار ان سیاسی جماعتوں کے پاس منتقل ہو گیا جو آزادی کی تحریکوں کی قیادت کر رہی تھیں۔ جن ملکوں میں کمیونسٹ طاقتور تھے وہاں اشتراکی نظام آ گیا، جہاں معتدل جمہوری سیاسی جماعتیں غالب تھیں وہاں ریاست نے جمہوری یا نیم جمہوری نظام اپنا لیا، جن ملکوں میں تحریک آزادی کی قیادت سخت گیر قوم پرست جماعتیں کر رہی تھی ان پر شخصی یا یک جماعتی نظام مسلط ہو گیا، اس طرح نوآبادیاتی نظام کے ختم ہونے کے بعد دنیا کے نو آزاد ملک مختلف شناختوں میں تقسیم ہو گئے۔

تاہم، بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین اور مغربی بلاک میں سرد جنگ کا آغاز ہوا جس کے بعد دنیا میں شخصی، فوجی اور آمرانہ نظام کا دور دورہ ہو گیا۔ نوآبادیاتی اور سرد جنگ کا دور تو گزر گیا لیکن دنیا کے ملکوں کی نظریاتی اور سیاسی شناختیں بدستور باقی رہیں۔ ماضی کے مذکورہ بالا دو ادوار میں ان ملکوں کے درمیان جو تنازعات پیدا کیے گئے وہ اب بھی برقرار ہیں۔ ملک، تاریخ کے تجربے سے نہیں ارتقائی جبر سے مجبور ہو کر خود کو تبدیل کرتے ہیں جیسا کہ آج کی 21 ویں صدی میں ہو رہا ہے۔ صنعتی دور کئی مرحلوں سے گزرا لیکن دنیا کو متحد نہ کر سکا لیکن صرف پچھلے 35 سالوں کے دوران، ہائی ٹیک انقلاب نے معاشی معجزے دکھائے اور ترقی پذیر ملکوں کی تقدیر بدل دی۔ اس انقلاب نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی معیشتوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ اب سیاسی، نظری اور شناختی بنیادوں پر لڑنے کا دور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

21 صدی کی باہم پیوست ہوتی کثیر الجہتی دنیا کو پائیدار ترقی کے لیے دباوٴ اور دھمکیوں سے آزاد ایک پرامن عالمی ماحول درکار ہے۔ مغرب چوں کہ اپنے عالمی نظام ہیں لچک پیدا کر کے یہ ماحول تخلیق کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا لہٰذا نئی ابھرتی ہوئی معیشتیں ایس سی او اور برکس جیسی تنظیموں کے ذریعے خود کو منظم کر رہی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس بار بار امریکہ اور مغرب کو یہ پیغام دے چکی ہیں کہ وہ مغرب مخالف نہیں ہیں، مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب لڑ کر نہیں بلکہ مل کر ترقی کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ایک نئے منصفانہ عالمی نظام کی ضرورت ہے۔

مغرب کی جانب سے اس پیغام کا مثبت جواب اگر 2026 کی 18 ویں برکس سربراہی کانفرنس سے پہلے آ گیا تو دنیا ایک بہت بڑے معاشی و سیاسی بحران سے بچ جائے گی۔

Loading

Facebook Comments Box

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Irfan shah
Irfan shah
9 months ago

Fruitful article

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW