طالب حسین درد: جوگ کا شہنشاہ

دسمبر 2014 کی ایک سرد رات کو پنجاب کے معروف لوک گلوکار طالب حسین درد تلہ گنگ کے گاؤں اکوال ایک شادی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی محفلِ موسیقی کی تقریب میں اپنے سُروں کا جادو جگانے آئے۔ چند دن قبل پنجاب کے لوک گیتوں کے شہنشاہ منصور علی ملنگی انتقال کر گئے تھے۔ افسوس کہ منصور ملنگی سے میری ملاقات نہ ہو سکی، باوجود اس کے کہ ان سے فون پر دو دفعہ بات بھی ہوئی تھی۔ تاہم جیسے ہی پتہ چلا کہ طالب حسین درد اکوال آ رہے ہیں تو ان سے فون پر رابطہ کر کے اکوال میں ملاقات طے کی۔
طالب حسین درد کے ساتھ ان کے بیٹے عمران طالب بھی تھے۔ پنجاب کے اس عظیم لوک گلوکار سے ملاقات کرنے کے لیے میں اپنے دوست علی خان کے ہمراہ تلہ گنگ گیا تاکہ میں ڈان اخبار میں ان پر چند الفاظ لکھ سکوں۔ اپنے گاؤں ڈھکو کے دو اور دوست ڈاکٹر سجاد اور مشتاق بھی ساتھ تھے۔ اکوال میں محفلِ موسیقی کے آغاز سے پہلے طالب حسین درد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ نحیف نظر آ رہے تھے اور ان کی روشن آنکھوں سے کوئی دکھ چھلک رہا تھا۔
غالباً یہ منصور ملنگی کے وچھوڑے کا دکھ تھا۔ گلوکار تو تھے ہی بڑے، طالب حسین درد انتہائی شریف النفس، با اخلاق، عاجز، ملنسار اور سادہ طبیعت کے انسان تھے۔ منصور ملنگی کی طرح پنجاب کے ہر کونے میں بسنے والے پنجابیوں کے محبوب گلوکار تھے۔ خاص طور پر خوشاب، تلہ گنگ اور چکوال کے دیہات میں طالب حسین درد کو شوق سے نہ صرف سنا جاتا تھا بلکہ آج بھی کھیتوں میں ہل چلاتے ٹریکٹرز اور نوجوانوں سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے لوگوں کے موبائلز سے طالب حسین درد کی درد بھری سریلی آواز ہی گونجتی ہے۔
اپنی رہتل اور وسیب کے تقدس اور اہمیت کو سمجھنے والی خواتین بھی طالب حسین درد کو شوق سے سنتی ہیں۔ بارہ تیرہ برس گزرے ہیں کہ ایک الہڑ پنجابن سے فیس بک پر شناسائی ہوئی تھی۔ وہ طالب حسین درد کی آواز کی اسیر تھی اور ان سے ملنے ان کے گاؤں جاتی تھی۔ چند ہفتے قبل چکوال کی ایک خاتون سے موسیقی پر بات ہو رہی تھی۔ یک دم مجھے یہ سننے کو ملا، ”مجھے ٹی ایچ پین بہت پسند ہے“ ۔
میں نے پوچھا کہ ٹی ایچ پین کون تو جواب ملا کہ طالب حسین درد، جنہیں وہ پیار سے ٹی ایچ پین کہتی ہیں۔
خوشاب، تلہ گنگ اور چکوال میں آج بھی ان کے سننے والے انہیں بابا طالب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ منصور ملنگی کی طرح انہوں نے پنجابی دوہڑوں اور ماہیے کو ایک نیا کلاسیکل ٹچ دیا۔
معروف شاعر مہر غلام محمد درد کے گانے اور دوہڑے گانے کی وجہ سے ضلع جھنگ کے گاؤں خانوآنہ میں 1955 میں پیدا ہونے والے اس گلوکار نے اپنے نام کے ساتھ لفظ ”درد“ کا اضافہ کیا۔ مہر غلام محمد درر کو اس سے بڑا کوئی اور خراجِ تحسین شاید ہی مل سکتا۔ جھنگ کی دھرتی پر آسمانوں کی کوئی خواص عنایت ہے کہ یہاں سے جو گلوکار بھی اٹھتا ہے اس کی آواز میں ایک الگ ہی مٹھاس اور درد ہوتا ہے۔ منصور ملنگی کا تعلق بھی ضلع جھنگ سے ہی تھا۔
اس ملاقات میں طالب حسین درد کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما ہمیشہ کہتے ہیں کہ لوک گلوکار قوم کا اثاثہ ہیں لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لیے وہ کبھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے نہ ہی خود اس فن کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ لوک موسیقی عوام کی موسیقی ہے۔ یہ ایک فن ہے جو ہماری پہچان ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے لوک فنکار خاموشی سے جیتے اور مر جاتے ہیں۔
وہ ان لوک فنکاروں کا ذکر کر رہے تھے جن کو قضا اٹھا لے گئی تھی۔ جیسے منصور ملنگی اور مہر غلام محمد درد۔
منصور ملنگی کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طالب حسین درر نے کہا تھا کہ ”منصور جیسا کوئی گلوکار نہیں تھا، وہ ایک عظیم انسان ہونے کے ساتھ ساتھ لوک موسیقی کے بھی واحد بادشاہ تھے۔ مہر غلام محمد درد نے کئی دوہڑے، ماہیے اور گیت لکھے، لوک موسیقی کے یہ دو عظیم نام خاموشی سے چل بسے اور حکومت کی طرف سے ایک بھی شخص تعزیت کے لیے نہیں آیا“ ۔
طالب حسین درد نے بچپن میں ہی گانا شروع کیا اور لاہور چلے گئے جہاں انہیں شام چوراسی گھرانے کے عظیم کلاسیکل گلوکار استاد سلامت علی خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ استاد سلامت علی خان کا اثر طالب حسین درر کے گیتوں میں واضح جھلکتا ہے کیونکہ وہ راگ جوگ، بہروی اور پہاڑی کے ساتھ کلاسیکی انداز میں لوک گیت گاتے تھے۔
انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے اپنے نام کے ساتھ ’درد‘ کا لفظ اس لیے شامل کیا کیونکہ میرا پسندیدہ شاعر مہر غلام محمد درد ہے۔
ان کے بیٹے عمران حسین طالب بھی ایک باصلاحیت گلوکار کے طور پر ابھرے ہیں جو اکثر اپنے والد کے ساتھ مل کر پرفارم کرتے تھے۔ عمران طالب کی آواز میں بھی ایک الگ ہی جادو ہے جو سننے والوں کو جکڑ لیتا ہے۔
چکوال کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طالب حسین درد نے کہا تھا کہ چکوال میرے گھر کی طرح ہے۔ میں نے صرف اکوال گاؤں میں دو سو سے زائد بار پرفارم کیا ہے۔
طالب حسین درر کے کئی گانے اور بے شمار دوہڑے آج بھی شوق سے سنے جاتے ہیں۔ تاہم ان کے گانے ’گھڑ سنیاریا چھلا ”کا جواب نہیں۔ یہ گانا طالب حسین درد نے کسی وکھرے ڈھنگ سے گایا ہے اور پھر اس کے دوہڑے بھی بے مثال ہیں۔
اکوال میں سجنے والی محفل کے دوران میں نے دیکھا کہ سامعین اپنی اپنی پسند کے گانے اور دوہڑے کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھ کر طالب حسین درد کے آگے بطور فرمائش رکھ رہے تھے۔ اور طالب حسین درد اپنے سننے والوں کی فرمائشیں پوری کر رہے تھے۔ میں نے بھی اپنی پسند کا دوہڑا لکھ کر طالب حسین درر کے آگے رکھا۔
جہڑی رات آوے سنگ سجنڑاں دے اوہدی جھب کیوں ہوندی اے دھمی
جہڑی رات سجنڑ تو نکھڑ ونجیوے، اوہ ہو کیوں ویندی اے لمی
اللہ جانڑیں نکھڑیاں سجنڑاں دی پوری کیوں نہیں ہوندی کمی
ہوندا علم حیات اُنہاں کوئی نہیں ولنڑاں، اکھ وت وی راہندی اے جمی
(جس رات محبوب کا وصل میسر ہو اس کی سحر جلد کیوں ہو جاتی ہے؟
جس رات محبوب بچھڑ جائے وہ طویل کیوں ہو جاتی ہے؟
اللہ جانے بچھڑے ہووں کی کمی پوری کیوں نہی ہوتی؟
حیات یہ علم ہوتا ہے کہ انہوں نے پلٹنا نہیں لیکن آنکھ پھر بھی ان کی راہ پر جمی رہتی ہے )
یہ دوہڑا ان دنوں میرے اعصاب پر چھایا ہوا تھا۔ دوہڑا گانے سے پہلے طالب حسین درد نے بھری پنڈال میں میرا تعارف کرواتے ہوئے کہا، ”ایہہ اک دوہڑے دی فرمائش آئی اے۔ نبیل صاحب دی طرفو جہڑے چکوال تو آئے نے اور ڈان اخبار دے ایڈیٹر نے“ ۔ (ایک دوہڑے کی فرمائش آئی ہے، نبیل صاحب کی طرف سے جو چکوال سے آئے ہیں اور ڈان اخبار کے ایڈیٹر ہیں )
یوں طالب حسین درر نے اکوال گاؤں میں سجی اس محفل میں مجھے ڈان اخبار کے ادنیٰ سے ضلعی نمائندہ سے اٹھا کر ڈان اخبار کا ایڈیٹر بنا دیا تھا۔
جوگ کا یہ شہنشاہ 17 مارچ 2019 کو اونچے آسمانوں کا تارا بن گیا۔
