بلاگ

زوال ایسا کہ جس کو کبھی زوال نہ ہو

khalid javed chaudhary

گاؤں کے پورے ماحول کو چاند کی خوبصورت اور ٹھنڈی روشنی نے اپنی آغوش میں لے کر اس کے قدرتی حُسن کو دوبالا کر دیا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دن بھر کے کام کاج سے تھکے ہوئے کسانوں اور مزدوروں کو لوری سناتے ہوئے انہیں نیند کی خوبصورت اور پُرسکون وادیوں کی طرف لیے جار ہے تھے۔ گو کہ ابھی رات کا آغاز ہی تھا۔ نو بجے کا وقت تھا لیکن گاؤں کی رات تو غروب ِ آفتاب کے ساتھ ہی شروع ہو جایا کرتی تھی۔ رات کا کھانا مغرب کے آگے پیچھے ہی کھا لیا جایا کرتا تھا اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہی سونے کی تیاری ہو جایا کرتی تھی۔

صرف پکے نمازی ہی عشاء کا انتظار کیا کرتے اور باقی سب لوگ عموماً لمبی تان کر سو جاتے اور اُن کے ساتھ نماز عشاء کی طوالت سے گھبرائے ہوئے کچھ نمازی بھی شامل ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن آج 18 مارچ 1982 ء کو گاؤں کے چوک میں غیر معمولی چہل پہل اور رونق نظر آ رہی تھی۔ جس کا اہتمام سر شام ہی بڑے جوش و خروش کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔ چوک میں دور دور تک چارپائیاں بجھائی گئی تھیں۔ جن پر گاؤں کی نوجوان نسل کے بیشتر نمائندے براجمان اپنے سامنے چلتے ہوئے ٹی وی پر بغور نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ جو ایک اونچے میز پر رکھا ہوا تھا۔ تاکہ انہیں ٹی وی دیکھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

ہمارے گاؤں میں کئی چھوٹی موٹی برادریاں تھیں اور اُن کے درمیان چپقلش اور عداوت بھی چلتی رہتی۔ یہاں پر سیدوں اور ارائیوں کی دو بڑی برادریاں موجود تھیں۔ اُن دونوں برادریوں کے درمیان کئی بار لڑائی بھڑائی اور سر پھٹول جیسے معاملات ہو چکے تھے۔ لیکن آج اس ساری مخالفت اور مخاصمت کے باوجود سب برادریوں کے نمائندے نہ صرف یہاں پر موجود تھے۔ بلکہ وہ اتحاد و اتفاق اور وحدت کی ایک ہی رسی میں پروئے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اتنی دیر میں حافظ ادریس عشاء کی نماز پڑھا کر گھر جانے کے لیے مسجد سے باہر نکلے۔ مسجد سے اُن کے گھر کا راستہ چوک میں سے ہو کر جاتا تھا۔ مولوی صاحب دھیمے مزاج، دھیمی گفتار اور دھیمی آواز کے مالک تھے۔ جمعہ کا خطبہ سننے کے لیے لوگوں کو اُن کے قریب آ کر بیٹھنا پڑتا اور بغور انہیں سننا پڑتا۔

ہمارے گاؤں کے ایک باسی خان وٹو عموماً مولوی صاحب کو کہا کرتے کہ مولوی صاحب اگر ہم دونوں اپنی اپنی آوازوں کو باہم تبدیل کرنے کے اہل ہوتے تو ہم دونوں کے مسائل بہت اچھے طریقے سے حل ہو جاتے۔ میں نے رات کو اپنی اہلیہ کے ساتھ کوئی خفیہ بات بھی کرنا ہو تو وہ بھی سات گھروں میں سنائی دے جاتی ہے۔ جب کہ آپ کی آواز ہمیں مسجد میں بھی صحیح طور پر سنائی نہیں دیتی۔ اس کی آواز اس قدر بلند تھی کہ وہ اپنی زمینوں پر بات کر رہا ہوتا تو وہ بھی گاؤں میں سنائی دیا کرتی۔ مولوی صاحب انتہائی سادہ لوح تھے۔ عصرِ حاضر میں مذہب کو کاروبار اور مساجد کو دکانیں بنانے والے علماء کے رویوں کے بالکل برعکس فرقہ پرستی سے پاک ایک بہت بڑے عالم تھے۔

ہمارے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ مولوی صاحب علم کا ایک ایسا سمندر ہیں جس کی وسعت اور گہرائی کا انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے۔ گو کہ انہوں نے اپنی پوری عمر ایک چھوٹے سے گاؤں میں مسجد کی امامت کرتے ہوئے گزار دی۔ لیکن اس طویل عرصے میں اُن کے قول و فعل سے یہاں کے باشندوں کو اُن کے شیعہ، سنی، اہل ِحدیث، یا دیوبندی ہونے کے بارے میں کبھی بھی علم نہ ہو سکا۔ سبھی فرقوں کے پیروکار بلاخوف و خطر انہیں اپنا امام تسلیم کیا کرتے اور اُن کی امامت میں اپنے اپنے عقیدے کے مطابق نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔

مولوی صاحب جب چوک میں پہنچے تو انہوں نے یہاں پر خلاف معمول نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ٹی وی دیکھنے میں مشغول پایا۔ اُن کے دریافت کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ آج ممبئی میں پانچویں ہاکی ورلڈ کپ کا فائنل میچ مغربی جرمنی اور پاکستان کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے چار ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ 1971 ء، 1973 ء، 1975 ء اور 1978 ء میں منعقد ہو چکے تھے اور ان چار ٹورنامنٹ میں سے 1971 ء اور 1978 ء کے دو ٹورنامنٹ پاکستان جیت چکا تھا۔ آج کے اس فائنل میچ میں پاکستان ٹیم کی قیادت سلیم شیروانی کر رہے تھے۔ جو پاکستان ٹیم کے گول کیپر بھی تھے۔ آج پاکستانی ہاکی ٹیم کی کہکشاں فلائنگ ہارس سمیع اللہ، اس کے بھائی کلیم اللہ، حسن سردار، اختر رسول، اور حنیف خان، جیسے ستاروں کی روشنی سے جگمگا رہی تھی۔

صورت حالات سے آگاہی کے بعد موقع محل کی نزاکت کے پیش نظر مولوی صاحب نے بھی گھر جانے کی بجائے میچ دیکھنے کو ہی ترجیح دی اور یہاں پر بچھی ہوئی چارپائیوں میں سے ایک پر تشریف فرما ہو گئے۔ اُن کو اس طرح بیٹھے ہوئے دیکھ کر یٰسین دوڑ کر اپنے گھر سے ایک کُرسی اُٹھا لایا اور انہیں اس کرسی پر بیٹھا دیا گیا۔ مولوی صاحب کو ہاکی کی گیم کے اصول و ضوابط کے بارے میں تو کوئی خاص علم نہیں تھا لیکن اُن کے خیال میں کفار اور مسلمانوں کے درمیان ایک مقابلہ ہونے جا رہا تھا۔

کرسی پر بیٹھتے ہی انہوں نے اس مجمع کی امامت بھی ازخود ہی سنبھال لی تھی۔ میچ شروع ہونے جا رہا تھا۔ کھلاڑی اپنی اپنی پوزیشنز سنبھال رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے شائقین سے بلند آواز میں درود شریف کا ورد کرنے کو کہا اس ورد کی گونج میں میچ شروع ہو چکا تھا۔ بالکل آغاز میں ہی ایک پاکستانی کھلاڑی کا فاؤل ہوا۔ جرمن کھلاڑی نے بال کو ہٹ لگائی، بال حنیف خان نے پکڑا اور بال کو لے کر وہ آگے بڑھے جرمن کھلاڑیوں کو اپنی طرف رش کرتے ہوئے دیکھ کر انہوں نے بال فلائنگ ہارس سمیع اللہ کی طرف پھینکا۔ اب سمیع اللہ بال کر لے کر آگے بڑھے۔ تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد انہوں نے جرمن ڈی کے قریب موجود کلیم اللہ کو پاس دیا۔ کلیم اللہ بال کو لے کر ڈی میں داخل ہوئے اور بال کو سیدھا گول میں پھینک دیا۔ اس طرح درود شریف کی گونج ختم ہونے سے پہلے میچ شروع ہونے کے صرف ایک منٹ بعد پاکستانی ٹیم کو مخالف ٹیم پر ایک گول کی برتری حاصل ہو چکی تھی۔

سارا پنڈال پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا اور نعروں کی ان آوازوں میں مولوی ادریس کی دھیمی سی آواز بھی شامل تھی۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک شائقین کا یہ مجمع نہایت توجہ اور دل چسپی کے ساتھ میچ دیکھنے میں مصروف رہا۔ جب کبھی ریفری مغربی جرمنی کی ٹیم کو پاکستانی ٹیم کے خلاف کوئی ہٹ دیتا پینلٹی یا پینلٹی کارنر دیتا تو مولوی صاحب کو یوں لگتا کہ وہ مسلمان ٹیم کے خلاف کافر ٹیم کی حمایت کر رہا ہے اور مولوی صاحب گاہے بگاہے اس کا اظہار بھی کرتے جا رہے تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد درود شریف کا ورد بھی جاری رہتا۔ آخر کار خدا خدا کر کے میچ کے اختتام پذیر ہونے کی سیٹی بجی تو پورا گاؤں اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ کیوں کہ پاکستانی ٹیم تین ایک کے مقابلے میں یہ فائنل میچ جیت کر ورلڈ کپ جیت چکی تھی۔ یہ پانچواں ورلڈ کپ تھا۔ پاکستان میں ہاکی کے عروج کا یہ ایک سنہری دور تھا۔ اس دور میں گاؤں کی سطح پر فٹ بال اور والی بال بہت مقبول کھیل تھے اور شہروں میں فٹ بال اور ہاکی کے کھیل جابجا کھیلے جایا کرتے تھے۔ ٹینس، بیڈ منٹن، سکواش، اور ٹیبل ٹینس، طبقہ امراء کے کھیل سمجھے جاتے تھے۔ کرکٹ بھی کھیلی جاتی تھی لیکن پاکستانی قوم ابھی کرکٹ  مینیا کے مرض میں مبتلا نہیں ہوئی تھی۔

ضیاء الحق نے ہر آمر کی طرح لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کرکٹ کو فروغ دینا شروع کیا۔ اس دور میں عمران خان کرکٹ کے بامِ عروج پر نمودار ہوئے اور 1992 ء میں ورلڈ کپ جیت کر ایسی لازوال شہرت حاصل کی جو آج بھی اُن کے ساتھ ساتھ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ باقی کھیلوں کو بھی جاری و ساری رکھا جاتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ہمارا قومی کھیل ہاکی زوال پذیر ہوتا ہی چلا گیا۔ فٹ بال کا کھیل تو پہلے ہی اندرونِ ملک تک ہی محدود تھا۔ رہ گئی کرکٹ تو عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہاں آئے روز میچ فکسنگ کے سیکنڈلز آتے رہے اور رہی سہی کسر پاکستان کرکٹ بورڈ میں نان پروفیشنلز کی سیاسی تقرریوں نے نکال دی اور آج ہم باقی تمام میدانوں کی طرح کھیلوں کے میدان میں بھی بین الاقوامی سطح پر بالکل تہی دستی کا شکار ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے تمام ادارے ہی انحطاط، پستی اور زوال کا شکار ہوتے چلے گئے ہیں تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
4 Comments
عارف احمد
عارف احمد
10 months ago

ہاکی کے زوال کے لئے خود ہاکی کے لوگ ذمہ دار ہیں۔ پروفیشنل یا نان پرو کا یہاں کوئی تعلق نہیں۔
ضیا صاحب 88 میں جاچکے تھے اس کے باوجود پاکستان 1992 میں بھی عالمی نمبر 1 تھا۔ ظاہر ہے اس سیاست دانوں کے دور میں جو ہوا اس پر جو کہنا چاہتے ہیں کہیں اور لکھیں مگر ضیا کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت ہے۔
یورپ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ ایشیائی ممالک ان سے بہت آگے ہیں متعدد ایسے قوانین تبدیل کردئیے جن سے ہمیں اور انڈیا

عارف احمد
عارف احمد
10 months ago

دونوں کی ہاکی کو نقصان پہنچا۔ ان کا حال تو ایک وقت میں ہم سے بھی برا ہوتا تھا۔
ہاکی میں سیاست ایک الگ کہانی تھی۔
کیری پیکر اور محدود اوورز کی کرکٹ کے بعد سے دنیا بھر میں کرکٹ مقبول ہوتی گئی ساتھ اس میں پیسہ آتا گیا۔ جب کہ ہاکی کا حال دنیا بھر میں بد سے بدتر اور کھیل مہنگے سے مہنگا ترین ہوگیا۔
اس میں اب سب سے بڑا خرچ اب قدرتی گھاس کی بجائے مختلف طرح کی آسٹرو ٹرف یا بلیو ٹرف تھیں

عارف احمد
عارف احمد
10 months ago

مجھے یاد ہے ہمارے کھلاڑی دس بارہ سال تک قدرتی گھاس پر کھیل کر عالمی مقابلوں میں جاتے جہاں آسٹرو ٹرف ہوتی مگر پھر بھی جیت جاتے تھے۔ مگر یہ ان کی صحت اور کھیل کے لئے نقصان دہ ہوتا۔ پھر کئی سال بعد پاکستان میں محض کراچی میں ایک ٹرف لگی جو دہائیوں چلی۔ پاکستان میں اب بھی شاید پانچ سے دس ٹرف ہونگیں۔ ہاکی اور گیند خود بہت مہنگی ہوچکی ہیں۔ پیسہ کھیل میں ہے نہیں //

عارف احمد
عارف احمد
10 months ago

رہی سہی کسر 18 ویں ترمیم نے پوری کردی جس کی رو سے 2010 سے کھیل ایک صوبائی کام ہے۔ تو ہاکی ہو کرکٹ یا ایتھلیٹکس کون اس پر پیسہ خرچ کرے گا؟
وفاق کھیل کی ترویج یا اسٹیڈیم کے لئے کہاں سے پیسہ لائے۔ صوبے مال بنانے کے لئے تیار ہیں مگر وفاقی ادارے یا قومی ٹیم کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں۔

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW