ایک اور شکست

پاکِستان اور بھارت کا میچ اس بار بھی وہ توقعات پوری نہ کر سکا جو شائقین رکھتے ہیں۔ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارت نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دی۔ یہ شکست محض ایک خسارہ نہیں، بلکہ کئی ایسے نقائص کا عکاس ہے جو ہماری کرکٹ ٹیم کو پیچھے لے جاتے ہیں۔
میچ کی شروعات پاکستان نے ٹھیک ویسے کی جیسے کرنے کی توقع تھی۔ بیٹنگ میں کچھ اچھے لمحات آئے، خاص طور پر صاحبزادہ فرحان نے نصف سنچری بنائی، تاہم مڈل اوورز میں دباؤ میں ناکامی نے پاکستان کو متاثر کیا۔ 171 رنز جو پاکستان نے بنائے وہ بھارت کے لیے چیلنجنگ مگر ناقابلِ تسخیر نہ تھے، خاص طور پر جب بھارت کے اوپنرز نے جارحانہ انداز اختیار کیا۔ بھارت نے آٹھ گیندیں باقی رکھتے ہوئے یہ ہدف پورا کیا۔
مگر میچ کی اصل کہانی کے چند ایسے مناظر ہیں جنہوں نے صرف کھیل نہیں بلکہ ٹیم کے رویّے اور ذہنیت کو بے نقاب کیا۔ سب سے پہلے فخر زمان کا وہ آؤٹ جس نے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا۔ تھرڈ امپائر نے فیصلہ دیا کہ گیند وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی، مگر ری پلے سے صاف نظر آیا گیند زمین سے ٹکرانے کے بعد وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں پہنچی۔ فخر زمان کی ناراضگی واضح طور پر نظر آئی۔ یہ معاملہ صرف اس کی اننگز کی تکلیف نہیں، بلکہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارے کھلاڑی جب ایسے موقعوں پر آتے ہیں تو نہ تو ان کے پاس کوئی موثر پلان ہوتا ہے نہ ہی وہ ذہنی طور پر اتنے مستحکم ہیں کہ ایسے فیصلوں کا مقابلہ کر سکیں۔
میچ کے دوران حارث رؤف اور بھارت کے اوپنر ابیشیک شرما کے درمیان لفظی گولہ باری بھی دیکھنے کو ملی۔ ابیشیک شرما نے بیٹنگ کے دوران جارحانہ انداز اپنایا، تو حارث رؤف نے مخالف کھلاڑی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
میچ کے دوران بھارتی شائقین کرکٹ کی طرف سے ٹرولنگ پر حارث رؤف نے جوابی وار بھی کیا، جس نے میڈیا اور شائقین کی توجہ فوراً اپنی طرف مبذول کرائی۔ حارث رؤف کا ”6۔ 0“ کا اشارہ۔ بھارت کی طرف سے ”کوہلی کوہلی“ کے نعروں کی شدت جب بڑھ گئی، تو رؤف نے جواباً ہاتھ اٹھائے، ”6۔ 0“ کا اشارہ دیا اور پھر طیارے کے گرنے جیسا اشارہ بھی دیا۔ یہ ایک سیاسی بیان بن گیا۔ یہ تمام حرکات دراصل جذباتیت کا نتیجہ ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارتی ٹیم نے اگرچہ دباؤ محسوس کیا، مگر وہ میچ سنبھالنے والی ٹیم تھی۔ بھارتی اوپنر شرما نے تیز رفتاری سے رنز بنائے، شبھمن گل نے بھی سپیڈ پکڑی۔ فیلڈنگ اور بولنگ میں پاکستان اپنا ردھم برقرار نہ رکھ سکی۔ پاکستان کی فیلڈنگ غلطیوں سے دوچار رہی، کیچ ڈراپ ہونا، گیندیں ضائع ہونا جیسی خامیوں نے بھارت کو میچ میں آگے آنے کا موقع دیا۔
اگر ہم ذرا تنقیدی نظر سے دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں قیادت کی واضح کمی ہے۔ کپتان سلمان علی آغا نے وہ کردار نبھایا جس کی توقع تھی، مگر فیصلے میدان میں موثر ثابت نہیں ہوئے۔ مثلاً بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی، بولرز کا استعمال، میچ کے دوران تبدیلیاں لانے کا وقت یہ سب وہ پہلو ہیں جہاں ٹیم کو بہتر رہنمائی چاہیے تھی مگر وہ نظر نہ آئی۔
ٹیلنٹ ہے، مگر اُس ٹیلنٹ کو میدان میں ثابت کرنا ایک الگ بات ہے۔ صاحبزادہ فرحان نے اچھی اننگز کھیلی، مگر اس کے بعد کوئی ایسا کھلاڑی سامنے نہ آیا جو میچ کا موڑ بدلتا۔ کھلاڑی دباؤ میں آ کر جلد آؤٹ ہوئے، یا وہ پیچیدہ گیندوں کا جواب نہ دے سکے۔ بولنگ میں بھی وہ یکسوئی نہیں تھی کہ گویا ٹیم پورے میچ کے دوران پلان کے تحت چل رہی ہو۔
کرکٹ کو سیاست اور جذبات سے جوڑا جانے لگا ہے۔ بھارت کے ساتھ حالیہ سیاسی کشیدگی، میڈیا میں چلنے والی باتیں، شائقین کی طرف سے کی گئی چھیڑ چھاڑ یہ چیزیں کھلاڑیوں کو بھی اثر انداز کرتی ہیں۔ بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کرکٹرز سے ہاتھ نہ ملانا، حارث رؤف کا ”6۔ 0“ کا اشارہ، فخر زمان کی ناراضگی، یہ سب دکھاتے ہیں کہ کس طرح سیاست کھیل کا حصہ بن چکی ہے۔
اس ہار نے پھر سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں خامیاں ہیں جو بار بار سامنے آتی ہیں۔ ہم ہر بار امید لگاتے ہیں کہ یہ وہ میچ ہو گا جس میں ٹیم بدلاؤ دکھائے گی، مگر عموماً وہ تبدیلی اندرونی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر بار ہار جاتے ہیں۔
اگر چیزیں بہتر ہوں گی تو ٹیم میں بہتری آ سکتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ذہنی طور پر مضبوط بنے۔ کھلاڑیوں کو سکھایا جائے کہ دباؤ میں کیسے رہنا ہے، غلط فیصلوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ ایسے کپتان کی ضرورت ہے جو نہ صرف ٹیم کو میدان میں متحرک رکھ سکے، بیٹنگ اور بولنگ کے پلان بنائے، غلطیوں سے سبق لے اور ٹیم کو ایک منظم انداز میں تیار کرے۔
تنظیم کا کام ہے کہ کھلاڑیوں کو ضروری سہولتیں ملیں، کوچز اور سپورٹنگ اسٹاف کی تربیت ہو، اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملے، تجربہ کے بدلے فیصلے کیے جائیں۔ اگر بورڈ زیرِ غور آئے تو فیلڈنگ پریکٹس، ذہنی تربیت، اور میچ پلاننگ پر خاص زور ہو۔ شائقین بھی توقع رکھتے ہیں کہ ٹیم محض جذباتی کارنامے نہ دکھائے بلکہ مستقل اور متوازن کارکردگی پیش کرے۔
یہ شکست ایک سنگ میل ہونا چاہیے نہ کہ معمول۔ میچ کے بعد کی کمیونٹی کی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ امیدوں کے ٹوٹنے سے تنگ آ چکے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا مناسب ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں وہ قابلیت ہے کہ وہ بھارت جیسے حریف کو شکست دے سکے، مگر وہ صلاحیت تبھی معنی رکھتی ہے جب ٹیم کے اندر جوڑ توڑ ہو، مقصد ہو، اور عقل مندی سے کھیل ہو۔ محض ہارنا یا جذباتی کارروائیاں کرنا کافی نہیں۔ اگر کھلاڑی نے اپنی غلطیوں سے سیکھا، کپتان نے حکمت عملی بنائی، بورڈ نے معاملہ سنجیدگی سے لیا تو آئندہ میچوں میں پاکستان وہ ٹیم بن سکتی ہے جس کے بارے میں لوگ عزت سے بولیں، نہ کہ مایوسی سے۔