میرے مطابق

کھٹمل، لال بیگ اور تحقیقاتی کمیٹی: ریلوے کی اصل داستان

anwar bhatti

بندن میاں آج اپنی فیس بک وال پر یوں محوِ تفریح تھے جیسے کوئی بزرگ چائے کے کھوکھے پر بیٹھ کر اخبار کے کالم ٹٹولتا ہے۔ کبھی کوئی سیاسی بیان، کبھی کوئی طنزیہ جملہ، کبھی کوئی دل چھو لینے والی تحریر، لیکن آج جو پوسٹ سامنے آئی اس نے تو بندن میاں کے دل کو ایسے ہلایا جیسے ریلوے کا پرانا انجن اسٹیشن پر ہانپتے ہوئے داخل ہوتا ہے۔ پوسٹ کچھ یوں تھی کہ جب بیچارے ڈرائیور، ایس ٹی ای اور گارڈ حضرات دن بھر کی مشقت کے بعد اپنے رننگ روم کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں آرام کرنے کے بجائے کھٹملوں کی بارات ان کا استقبال کرتی ہے۔ نیند کا جو خواب وہ ساتھ لاتے ہیں، وہی خواب کھٹمل اپنی دعوتِ ولیمہ میں کھا جاتے ہیں۔

بندن میاں نے سر پیٹ کر کہا، ہائے یہ رننگ روم نہ ہوئے، گویا کھٹملوں کے ڈانس کلب ہو گئے۔ ڈرائیور دن کو انجن کی سیٹی بجاتا ہے اور رات کو کھٹمل اپنی سیٹی بجا کر خون کی محفل سجاتے ہیں۔ ایس ٹی ای گارڈ دن کو ٹکٹ چیک کرتا ہے، رات کو کھٹمل اس کے جسم کے کونے کونے کی ”چیکنگ“ کرتے ہیں۔ بندن میاں نے سوچا کہ اگر یہی حال رہا تو ایک دن مسافر بھی اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے پہلے کھٹمل سے اجازت لیا کریں گے۔

اصل کمال تو تب ہوا جب انتظامیہ نے اپنی وضاحت پیش کی۔ وہ وضاحت پڑھ کر بندن میاں کے ہونٹوں پر ہنسی نہ رکی۔ انتظامیہ نے بڑے فخر سے کہا کہ کھٹمل ہمارے نہیں، یہ تو ڈرائیور، ایس ٹی ایز، گارڈ اور مسافر اپنے گھروں سے لاتے ہیں۔ گویا گھروں میں کھٹمل پالنے کا الزام بھی انہی پر۔ بندن میاں نے کہا بھئی سبحان اللہ، یہ بھی خوب رہا۔ اب اگر ٹرین پٹڑی سے اترے گی تو الزام ہو گا کہ ڈرائیور نے کھٹمل اپنی جیب میں ڈال کر انجن میں گھسا دیا تھا۔

انتظامیہ کی منطق ایسی ہی تھی جیسے بجلی نہ آئے تو کہا جائے کہ قصور پنکھے کا ہے جو گھومنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ یہ مسافر اور ملازمین اپنے بیگوں میں کھٹمل چھپا کر لاتے ہیں، اور وہیں سے یہ رننگ روم اور کوچنگ بوگیوں میں پھیلتے ہیں۔ بندن میاں نے طنز کرتے ہوئے کہا، واہ جی واہ، اب تو یہ ملازمین اور مسافروں کا سامان کسٹم کلیرنس کی طرز سے گزرے گا۔ شاید آئندہ اسٹیشن پر بورڈ لگ جائے کہ بیگ میں کھٹمل، لال بیگ اور کاکروچ لانے کی سخت ممانعت ہے۔

اب ذرا یہ سنئے، انتظامیہ نے نہ صرف کھٹمل بلکہ لال بیگ کو بھی بیچارے ڈرائیور، ایس ٹی ایز، گارڈ اور مسافروں کے کھاتے میں ڈال دیا۔ گویا رننگ روم اور کوچنگ بوگیاں اب نہ ہوئیں، کسی چڑیا گھر کی شاخ ہو گئیں جہاں کھٹمل، لال بیگ اور کاکروچ نے بیک وقت نمائش لگائی ہے۔ بندن میاں ہنس ہنس کر دُہرا ہو گئے اور کہنے لگے ریلوے کا یہ پیکج واقعی عوام دوست ہے۔ دنیا کی ٹرینوں میں اے سی، وائی فائی اور نرم بستر ملتے ہیں، ہماری ٹرین میں کھٹمل اور لال بیگ مفت کا اضافہ ہیں۔

اب آتی ہے اصل کمال کی بات۔ شنید ہے کہ ریلوے انتظامیہ اعلان کرنے جا رہی ہے کہ ان کھٹملوں، کاکروچ اور لال بیگوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ بندن میاں نے تصور کیا کہ اسٹیشن پر افسر بیٹھے ہیں، ملازمین اور مسافروں کا سامان بیگ چیک ہو رہے ہیں۔ ایک بیگ کھلا تو افسر نے نعرہ مارا یہ دیکھو، دو کھٹمل، ایک لال بیگ اور آدھا کاکروچ برآمد، پھر میڈیا پر بریکنگ نیوز چلے گی، کھٹمل مافیا کے خلاف بڑا آپریشن، ریلوے انتظامیہ کی شاندار کامیابی۔ بندن میاں نے کہا، بھئی اب تو ان کھٹملوں کو بھی ضمانت کرانے کے لیے وکیل رکھنا پڑے گا۔

وزیر ریلوے صاحب کا بھی فرمان آیا ہے کہ وہ صفائی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اسی لیے انہوں نے فی الحال ٹریک کی مرمت، بوگیوں کی حالت اور مسافروں کی سہولت کو نظر انداز کیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک سب سے بڑا دشمن کھٹمل، لال بیگ اور کاکروچ ہیں۔ بندن میاں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، واہ جناب، قومیں چاند پر پہنچ گئیں اور ہم کھٹمل کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔

اب ذرا بندن میاں کی آنکھوں میں ایک منظر دیکھیے۔ اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ اعلان ہوتا ہے۔ ریلوے کے لیے دس ارب اور کھٹمل، کاکروچ اور لال بیگ ریسرچ کے لیے بیس ارب مختص کیے گئے ہیں۔ پورا ایوان تالیاں بجا رہا ہے اور ارکان چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کھٹمل مکاؤ۔ ریل بچاؤ

بندن میاں نے مزید طنز کے تیر برسائے۔ کہنے لگے، یہ کھٹمل بھی بڑے سیاستدان نکلے۔ ہر حکومت میں جگہ بنا لیتے ہیں، ہر بستر پر قبضہ کر لیتے ہیں اور ہر کمیٹی کو ناکام کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کھٹمل اور سیاستدان میں فرق صرف اتنا ہے کہ کھٹمل رات کو خون چوستے ہیں اور سیاستدان دن کو۔

اب ذرا بندن میاں کا تخیل اور آگے بڑھا۔ ریلوے کے ہیڈکوارٹر میں اجلاس بلایا گیا۔ صدرِ اجلاس افسرِ اعلیٰ، جن کے سامنے تین فائلیں کھلی ہیں، ایک فائل کھٹملوں کی تفتیش کی، دوسری کاکروچ کی تحقیقات کی، اور تیسری لال بیگ کے خلاف آپریشن کی۔ ہر فائل پر سرخ رنگ سے لکھا ہے ”انتہائی خفیہ“ ۔ افسر صاحب نے بڑی سنجیدگی سے کہا، معزز ساتھیو جب تک ہم کھٹمل کا صفایا نہیں کرتے، ریلوے ترقی نہیں کر سکتی۔ ”کمرے میں بیٹھے تمام افسران نے اثبات میں سر ہلایا جیسے واقعی یہی سب سے بڑا قومی مسئلہ ہو۔

بندن میاں نے یہ بھی سوچا کہ شاید مستقبل میں ریلوے میں ایک نیا شعبہ قائم ہو جس کا نام ہو گا ”انسٹی ٹیوٹ آف بیڈ بگ اینڈ کاکروچ ریسرچ“ ۔ یہاں کھٹملوں پر پی ایچ ڈی ہوگی، لال بیگ پر ریسرچ پیپر لکھے جائیں گے، اور کاکروچ پر بین الاقوامی کانفرنسز منعقد ہوں گی۔ جبکہ ڈرائیور اب بھی اپنی تنخواہ کے لیے لائنوں میں لگے ہوں گے اور پنشنرز تڑپتے رہیں گے۔

اس سب کے بیچ بندن میاں نے آہ بھری اور کہا، ریلوے کی اصل تباہی نہ کرپشن ہے، نہ پٹڑیوں کا بوسیدہ ہونا، نہ بوگیوں کا ٹوٹا پھوٹا ڈھانچہ۔ اصل تباہی تو یہ کھٹمل، کاکروچ اور لال بیگ ہیں۔ اگر انہیں نکال دیا گیا تو ریلوے اگلے ہی دن تیز رفتاری سے جاپان اور چین کی ٹرینوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

اور یوں بندن میاں نے قلم رکھتے ہوئے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا، بھئی، ریلوے میں ملازمین اور مسافروں کی فکر بعد میں کیجیے گا، پہلے کھٹمل، کاکروچ اور لال بیگ کی خبر لیں انہیں مار بھگائیں۔ یہی اصل ترقی ہے، یہی اصل وژن ہے۔ اس سے نجات ملے گی تو ریل ترقی کرے گی۔

اب نعرہ لگاؤ۔ افسر مکاؤ، ریل بچاؤ۔ اوووو ہو، کیا ہوا؟ بندن میاں آپ بھی نا۔ ، اصل نعرہ یوں ہے کھٹمل بھگاؤ، ، ریل بچاؤ۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW