بلاگ

پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ: خاموشی نہیں، آگاہی ضروری

mubashara sultan

عورت کی زندگی میں کچھ مرحلے ایسے آتے ہیں جنہیں وقت خاموشی سے بدل دیتا ہے۔ جیسے بچپن سے لڑکپن، اور پھر لڑکپن سے جوانی کا سفر۔ انہی میں ایک مرحلہ ایسا بھی ہے جو برسوں کی عادتوں اور جسمانی ترتیب کو بدل دیتا ہے۔ یہی ہے مینوپاز۔ عام طور پر عورت اس کے بعد سکون اور ٹھہراؤ کی امید رکھتی ہے، مگر اگر کئی برسوں بعد اچانک دوبارہ بلیڈنگ شروع ہو جائے تو یہ لمحہ اکثر خوف اور سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ وقتی ہے؟ کیا یہ معمول کی بات ہے؟ یا پھر کوئی ایسا اشارہ ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے؟

دنیا بھر کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ کوئی غیر معمولی شے نہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق چار سے گیارہ فیصد خواتین اس کا سامنا کرتی ہیں۔ لیکن اس عام ہونے کے باوجود یہ ہمیشہ بے ضرر نہیں ہوتی۔ امریکی نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ رحم کے کینسر کی تقریباً نوّے فیصد مریض خواتین میں سب سے پہلی علامت یہی پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ ہوتی ہے۔ یورپی جائنیکالوجیکل سوسائٹی کی سفارشات بھی یہی کہتی ہیں کہ چاہے یہ ہلکی سی اسپاٹنگ ہو یا ہیوی بلیڈنگ، اس کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں صحت کے مسائل پر بات کرنا ویسے ہی مشکل ہے، اور خواتین کی تولیدی صحت سے متعلق موضوعات پر خاموشی مزید گہری ہے۔ لاہور کے ایک تدریسی اسپتال میں ہونے والی تحقیق کے مطابق پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ والی خواتین میں تقریباً سات فیصد میں اینڈومیٹریل کینسر پایا گیا۔ یہ شرح کم نہیں ہے، لیکن بدقسمتی سے زیادہ تر خواتین یا تو وقت پر ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں یا پھر لاعلمی کے باعث یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ یہ بھی کسی حد تک ”عام“ ہے۔ ایک سینئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ناہید اکرام نے انٹرویو میں کہا تھا: ”یہ خاموشی بیماری سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اکثر کیسز دیر سے سامنے آتے ہیں اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔“

اس بلیڈنگ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ وجوہات نسبتاً بے ضرر ہیں جیسے رحم کی جھلی (endometrium) کا زیادہ بڑھ جانا، یا کوئی پولِپ بن جانا۔ بعض اوقات ہارمونل دوائیں، خون پتلا کرنے والی ادویات یا حتیٰ کہ شدید ذہنی دباؤ بھی اس کو متحرک کر سکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف کچھ وجوہات نہایت سنگین بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً رحم یا گریوا کے کینسر کے ابتدائی مراحل۔ اسی لیے اس علامت کو کبھی بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ کی علامات میں سب سے عام ہے اچانک پیڈ کا بھر جانا یا معمول سے ہٹ کر بلیڈنگ کا سلسلہ۔ بعض خواتین صرف ہلکی اسپاٹنگ محسوس کرتی ہیں جو ایک دو دن میں ختم ہو جاتی ہے، جب کہ کچھ خواتین کو شدید ہیوی بلیڈنگ کا سامنا ہوتا ہے جس سے کمزوری اور خون کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ درد، دباؤ، پیٹ کے نچلے حصے میں کھچاؤ یا مسلسل تھکن بھی اس کے ساتھ جڑی علامات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ گھبراہٹ کے بجائے ہوش مندی دکھائی جائے اور فوری طور پر گائناکالوجسٹ سے رجوع کیا جائے۔ ڈاکٹر مریضہ کا طبی معائنہ کریں گے، بعض اوقات الٹراساؤنڈ تجویز کیا جاتا ہے تاکہ رحم کی اندرونی جھلی کو دیکھا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑے تو بایوپسی بھی کی جاتی ہے تاکہ کینسر یا کسی اور بیماری کا امکان ختم کیا جا سکے۔ جدید دور میں hysteroscopy جیسی تکنیک بھی استعمال ہوتی ہے جس سے ڈاکٹر براہِ راست رحم کی اندرونی سطح کو دیکھ سکتا ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر کے سامنے انہیں کیا پوچھنا چاہیے اور اپنی علامات کو کیسے بیان کرنا ہے۔ یہ نہ صرف تشخیص کو مشکل بنا دیتا ہے بلکہ علاج کے فیصلے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ خواتین کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ ڈاکٹر سے صاف صاف سوال کریں : یہ بلیڈنگ کیوں ہوئی؟ اس کی مزید جانچ کس طرح ہو گی؟ علاج کے آپشنز کیا ہیں؟ اور ان کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس کیا ہو سکتے ہیں؟

بین الاقوامی سطح پر کئی ہیلتھ کیئر آرگنائزیشنز اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خواتین کو پوسٹ مینوپاز ہیلتھ ایجوکیشن دی جائے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ 2022 میں ہیلتھ ایجوکیشن ریسرچ کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ صرف 18 فیصد خواتین نے اپنی مینوپاز علامات کے بارے میں کسی ڈاکٹر سے بات کی تھی۔ باقی سب یا تو گھر میں گھریلو ٹوٹکوں پر اکتفا کرتی رہیں یا پھر خاموشی سے برداشت کرتی رہیں۔ اس لاپروائی کے نتیجے میں بیماری اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ بڑھ چکی ہوتی ہے اور علاج مشکل یا مہنگا ہو جاتا ہے۔

لہٰذا یہ وقت ہے کہ ہم اپنی خواتین کو زیادہ شعور دیں۔ پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کا بھی معاملہ ہے۔ جب ایک عورت اپنے جسم کی سن رہی ہو اور وقت پر قدم اٹھا رہی ہو تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بچا سکتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بڑھاپا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نیا باب ہے۔ لیکن یہ باب صحت مند تبھی ہو سکتا ہے جب ہم اپنی علامات کو پہچانیں، ان پر کھل کر بات کریں اور بروقت علاج کی طرف جائیں۔ پوسٹ مینوپاز بلیڈنگ ایک ایسی علامت ہے جو اگرچہ خوف پیدا کرتی ہے، مگر بروقت توجہ اور علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ خواتین اپنی صحت کے حق میں آواز بلند کریں اور معاشرہ ان کی اس آواز کو سننے کا حوصلہ پیدا کرے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW