اکرام اساتذہ کا عالمی دن، لیکن ایسے ہیرے ڈھونڈیں کہاں سے؟
5 اکتوبر کو عالمی سطح پر ٹیچرز ڈے منایا جاتا ہے، اس دن معماران قوم کو ان کے اسٹوڈنٹس ہیپی ٹیچر ڈے کا ”فارورڈ“ پیغام بھیجتے ہیں اور یہ رسمی سا پیغام ہر سال کی طرح انہیں بڑی سہولت سے اپنے موبائل کی ”ریسویڈ آئٹم“ میں سے مل جاتا ہے، سوچ سمجھ کر لکھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کرنا پڑتی، عجب رسم محبت ہے جسے بناوٹی سے انداز میں ہر سال نبھایا جاتا ہے، دن منانے کی بحث اپنی جگہ، ہنڈرڈ ملین سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ٹیچرز پائے جاتے ہیں کیا انہیں ٹیچر کہنا مناسب ہو گا؟
کیا ہمارے ہاں کے ٹیچر اپنے مضمون کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں یا اپنا مضمون کم اور ثواب اینٹھنے کے چکروں میں اسلامیات پڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں؟
ایک ایسا سماج جہاں سوچنا، سوال کرنا اور ذرا سا ہٹ کر نقطہ نظر پیش کرنا وبال جان بن جائے وہاں کاہے کی تخلیق اور کہاں کے تخلیقی رویے، اس طرح کے معاشرے میں روبوٹس اور زومبیز کی بھرمار ہوتی ہے۔
اس طرح کی سوسائٹی میں ٹیچر تو درکنار والدین، ڈاکٹر، ڈسپنسر، مصلح، مبلغ اور انجینئر تک اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے مبرا و بے نیاز ہوتے ہیں اور دیانت دارانہ رویوں سے کوسوں دور ہوتے ہیں، اب اس طرح کا معاشرہ ”مس فٹ“ ہوتا ہے جس میں ہر کوئی اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے ہر طرف ٹانگیں پسارے ہوتا ہے کہ کہیں سے بھی اپنے حصے کا داؤ لگ جائے، داؤ باز اور جگاڑو لوگ کبھی بھی پروفیشنلی اونیسٹ نہیں ہوسکتے اور ہمارے ہاں سب سے فقدان بھی اسی چیز کا ہے۔
ٹیچر سکھانے والے کو کہتے ہیں کیا ہمارے ہاں واقعی اسٹوڈنٹس کو سکھایا جاتا ہے یا محض ریڈنگ کروائی جاتی ہے اور رٹا لگوایا جاتا ہے، کیا آپ کو اپنی زندگی کوئی ایسا ملا کہ جس نے آپ کو درست ریڈنگ کا انداز سکھلایا ہو اور خیالات سے جوجنے کا قرینہ دیا ہو؟
ٹیچر سوچنا سکھاتے ہیں، کیا ہمارے ہاں سنت سقراط، افلاطون اور ارسطو کا پالن کرنے والے استاد موجود ہیں یا صرف نقلی سلاسل کا بھرم رکھنا سکھایا جاتا ہے؟
ٹیچر جواب کی بجائے سوال کرنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، ایک بہترین ٹیچر بخوبی جانتا ہے کہ ایک اچھا سوال فکری مہمیز کی چابی ہوتا ہے جس سے سوالات کا لامتناہی سلسلہ تاعمر جاری رہتا ہے، کیا ہمارے ہاں کوئی ایسا نگینہ دستیاب ہے؟
ایک بہترین ٹیچر سرسری سی ریڈنگ کی بجائے الفاظ اور مفہوم کی تہہ میں اترنا سکھاتا ہے، الفاظ تو کم و بیش سب ہی پڑھ لیتے ہیں لیکن بیٹوین دی لائن پڑھنا کیا ہوتا ہے یہ جوہر نایاب ایک صاحب بصیرت شخص ہی بتلا سکتا ہے، کیا ایسا کوئی استاد کہیں دکھائی دیتا ہے؟
ایک سنجیدہ ٹیچر کیوں، کیا، کیسے اور ایسا ہی کیوں ایسے سوالاتی اسم اعظم سکھاتا ہے جس کی بدولت حقائق کی پرتیں عیاں ہوتی ہیں اور سنجیدہ طالب علم نت نئے تجربات سے گزرتا رہتا ہے، کہیں ایسا کوئی سالٹ آف دی ارتھ آپ کو ملا؟
ایک بہترین ٹیچر اسٹوڈنٹس کو کتاب اور مطالعہ کی طرف راغب کرتا ہے، کتاب، مطالعہ اور غور و فکر کی بدولت ہی انسان علم کی گہرائی میں اترتا ہے، کیا کوئی ایسا سٹوڈئیس دماغ آپ کو کہیں ملا؟
اگر تو کوئی ایسا شخص آپ کی زندگی میں موجود ہے اور حیات ہے تو رسمی پیغام رسانی کی بجائے گلے لگ کر اور بڑی محبت سے اسے کہیں ہیپی ٹیچر ڈے، اگر کوئی ایسا شخص نہیں ملا تو ڈھونڈیں، ایسے لوگ بھیڑ میں نہیں ملتے بلکہ کونوں کھدروں میں ملتے ہیں اور ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔

