میرے مطابق

قبولیت کی گھڑی

Dr Muhammad Shafiq Gill

مولوی حضرات ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان کو ہر لمحہ دعا کرتے رہنا چاہیے نجانے کون سی گھڑی قبولیت کی گھڑی ہو۔ لیکن ساتھ ہی اس بات سے بھی ڈراتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ بے دھیانی میں بولے چند الفاظ قبولیت پاکر عمر بھر کا مسئلہ بن جائیں۔ اکثر شادی شدہ لوگ مولوی حضرات کی اور کوئی بات مانیں نہ مانیں اس بات سے ہمیشہ اتفاق کرتے ہیں اور اپنے منہ سے ”وہ چند الفاظ“ کہلوانے کا سارا الزام بھی مولوی حضرات پر ہی ڈالتے ہیں۔ غالباً یہ وہ آخری الفاظ ہیں جو شادی شدہ مرد باآواز بلند کہتا ہے۔ ویسے تو شادی کے بعد مرد کسی گنتی میں نہیں رہتا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر طرح کی گنتی میں شوہروں کو ہمیشہ بے زبانوں میں ہی شمار کیا گیا ہے۔

انسان ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور اسے ترقی کے لئے اچھی بات بھی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو انگلینڈ میں مسلسل بہتر معیار (Continous Quality Improvement) کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اسے اپنے کام میں اپنانے کی ترغیب بھی۔ لیکن واضح رہے یہاں انسان سے مراد شوہر بالکل نہیں ہے ورنہ ہر طرف

”ستارہ“ سے آگے جہاں اور بھی ہیں

کی صورتحال نظر آئے گی۔ کئی ندیدے تو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ جب بندہ پیٹ بھر کر کھا لے اور کہیں سے پلاوَ کا تھال آ جائے تو انسان کو ماضی کو بھول کر حال میں جینا چاہیے۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ ایسا ندیدا پن حال اور مستقبل دونوں کا برا حال کر سکتا ہے۔ اس لئے بھرے ہوئے پیٹ والوں کو عام طور پر یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ پلاوَ کی طرف لپکنے سے پہلے چشم تصور سے مستقبل میں ضرور جھانک لیں تاکہ ”نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے“ جیسی کیفیت سے بچا جا سکے۔

ہمارے بھولے بھالے سیاستدان عرصہ دراز تک مقبولیت کے زور پر اقتدار کے سپنے دیکھتے ہیں لیکن جلد یا بدیر انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ مقبولیت اقتدار کے دروازے تک تو لے جا سکتی ہے لیکن اس سے آگے کا سفر قبولیت کی گھڑی پر منحصر ہے۔ قبولیت برقرار نہ رہے تو دو تہائی اکثریت بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔ کائیاں امیدوار تو قبولیت کا سرٹیفکیٹ لئے بغیر الیکشن کا ڈول ہی نہیں ڈالتے۔ اس صورت مقبولیت جیسی خرافات کا دھڑکا بھی نہیں رہتا۔ سنا ہے قبولیت معجزہ کر سکتی ہے اور آخری لمحوں میں ناممکن کو ممکن میں بدل سکتی ہے۔ ہر الیکشن اس معجزے پر ہمارے ایمان کو اور مضبوط کرتا ہے۔

دعا اور اس کی قبولیت کا نقطہ نظر بھی ہر ایک کا اپنا اپنا ہے۔ سنا ہے کچے کے ایک سینئر ڈاکو کسی مشکل کام سے پہلے دعا ضرور کرتے اور واردات کی کامیابی کی صورت میں یہی فرماتے کہ کل رات یقیناً قبولیت کی گھڑی تھی جو اچھا مال ہاتھ آیا۔ جونئیر ڈاکو ہمیشہ ان کی روحانی پہنچ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔ کئی افواہ ساز قسم کے رپورٹر تو یہ بھی پھیلا رہے ہیں کہ اکثر سینئر سرکاری افسران بھی کسی بڑے پروجیکٹ میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے دعا کے لئے انہی سے رجوع کرتے ہیں۔

قول اور فعل کا تضاد تو سنا تھا لیکن قول اور سوچ کا تضاد اس سے بھی خطرناک چیز ہے۔ غالباً اسی لئے تو ثواب نیت سے مشروط کر دیا گیا ورنہ شعبدہ بازی ہی دنیا کا سب سے بڑا مذہب قرار پاتی۔

ہمیں یہی پڑھایا گیا ہے کہ دعا ہمیشہ دل سے نکلنی چاہیے ورنہ زبان سے نکلنے والی دعا کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ شنید ہے کہ ایک دفعہ سندھ کے ڈاکوؤں نے تبلیغی جماعت والوں کی بس روک لی اور جماعت کے امیر سے اپنے ”کاروبار“ میں برکت کی دعا کروانے کے بعد ہی آگے بڑھنے دیا۔ قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا لمحہ تھا کہ امیر جماعت نے سچے دل سے دعا کی کہ ”یارب میرے قول اور سوچ کے تضاد کو قبول فرما ورنہ یہ گھڑی قبولیت کی گھڑی ہرگز نہ ہو“ ۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے یار لوگ مسجد میں امام صاحب کی یہ دعا سن کر کہ ”یا اللہ سچا انسان بنا دے جو کسی کا حق نہ مارے“ بظاہر آمین کہتے ہوئے دل میں یہ سوچ کر ہی اندر سے کانپ رہے ہوتے ہیں کہ اگر دعا واقع قبول ہو گئی تو کاروبار یا نوکری کیسے چلے گی؟

انسان فطرتاً جلد باز اور بے صبرا ہے۔ آج کل لوگ سلام پھیرتے ہی موبائل دیکھتے ہیں۔ شاید کوئی قبولیت کی ایپ ہے جو فوراً اپڈیٹ ہو جاتی ہے۔

سری لنکا میں ایک مسلم مزار، ہندو مندر، اور بدھ مندر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اگرچہ ہر جگہ طریقہ واردات ذرا مختلف تھا لیکن تینوں میں ”گناہ کر اور تجوری میں ڈال“ سکیم کے تحت مناسب رقم کے عوض فوری قبولیت کی سند عطا کی جاتی تھی۔ مذہبی تقدس کا ماحول بنانے کے لئے اگربتی، آگ اور راگ کا بھی بہترین انتظام تھا۔ نجانے کیوں تینوں جگہ کیمرے کے استعمال پر پابندی تھی حالانکہ کاروبار کی تشہیر کے علاوہ ہمارا اور کیا مقصد ہو سکتا تھا۔ ہم نے چھپ چھپا کر تصویر لینے کا سوچا لیکن اردگرد منڈلاتے مذہبی مشٹنڈوں کی صحت دیکھ کر ارادہ ترک کر دیا۔ بعد میں ہمارے ایک گدی نشین دوست نے تحمل کے ساتھ یہ لطیف نکتہ سمجھایا کہ جیسے موبائل کا استعمال جہاز کی پرواز پر اثرانداز ہوتا ہے بالکل ویسے ہی کیمرے کے استعمال سے نہ صرف دعا کی پرواز میں خلل آ سکتا ہے بلکہ تصویر کشی دان کردہ رقم میں سے برکت بھی نکال لیتی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ناپ تول کر پیش کیا گیا نذرانہ خاک قبول ہو گا۔ کاش کوئی یہ بات اوقاف اور انکم ٹیکس کے محکموں کو بھی سمجھا دے جو ہر وقت مزاروں پر چندے کے ڈبے سونگھتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ویسے بھی جس کا ایمان کچا اور سوچ منتشر ہو اسے ایسی بابرکت جگہوں پر جانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے آج کل ہر ادارہ آنلائن ڈونیشن کا بہترین نظام پیش کرتا ہے۔ آپ اسے استعمال کریں اور مقدس مقامات کی بے حرمتی سے بچیں۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے دریافت کیا کہ اگر رقم دے کر ہی بخشوانے ہیں تو پھر کچھ اور گناہ بھی لپیٹ لیں۔ اس پر وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کہ جس تیزی سے افراط زر بڑھ رہا ہے اور قبولیت کے ریٹ اوپر جا رہے ہیں اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ جیسے گناہگار آنے والے وقت کے حساب سے مناسب رقم کا انتظام کر سکیں گے؟

لگے ہاتھوں ہم نے پوچھ ہی لیا کہ غریب گناہگاروں کے لئے کیا انتظام ہے؟ کہنے لگے کہ ویسے تو جو لوگ گناہ کا مالی کفارہ ادا نہ کر سکیں انہیں چاہیے براہ راست اپنے پروردگار سے ہی معافی مانگیں اور خوامخواہ مزاروں پر آ کر لنگر پر بوجھ نہ بنیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ہر طرح کا نذرانہ قبول کر لیتے ہیں۔ اکثر غریبوں کو خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کچھ دے سکتے ہیں۔ مال و زر، ووٹ اور عزت تو ایک طرف ہمارے مجاور تو تن کے کپڑے اور بدن کی کھال تک اتروا لیتے ہیں۔

ان کا اپنے تمام چاہنے والوں کے لئے ایک ہی مشورہ تھا کہ آپ کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو بخشش کو کبھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ بس آپ جب بھی معقول انتظام کے ساتھ ہماری چوکھٹ پر پہنچ جائیں وہی قبولیت کی گھڑی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW