ٹرمپ کا تجارتی ہتھیار اور چین کا جوابی وار
معاشیات کے طالب علموں کو یہ سبق تواتر سے پڑھایا جاتا ہے کہ ٹیرف بین الاقوامی تجارت میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور اس سے ملک کی معیشت کو بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔ جدید ماہرینِ معاشیات فری مارکیٹ اکانومی کا پرچار کرتے ہیں۔ مگر کتابوں میں ایک پرانی تھیوری بھی لکھی ہوئی ہے، جس کے مطابق ایک طاقت ور ملک مخصوص حالات میں اپنی درآمدات پر ٹیکس لگا کر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اس نظریے کو پچھلی صدی کے معیشت دان ایج ورتھ نے پیش کیا تھا؛ اس کی بنیاد یہ ہے کہ اگر کسی ملک کے پاس خاطر خواہ مارکیٹ پاور ہو تو وہ ٹیرف لگا کر غیر ملکی برآمد کنندگان کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اس کی منڈی میں اپنا مال بیچنے کے لیے قیمتیں کم کر دیں۔ یوں ایک بڑا ملک ٹیرف کے ذریعے شرائطِ تجارت (Terms of Trade) اپنے حق میں کر سکتا ہے۔ اب تک تو یہ ماڈل نصاب میں پڑھایا جانے والا ایک نظریہ ہی تھا، مگر اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کا ایک عملی حصہ بنا دیا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں ٹرمپ نے تجارت پر ٹیکس کو کامیابی سے بطور مذاکراتی ہتھیار استعمال کیا۔
ٹرمپ نے بڑی مہارت سے اپنی عوام کو اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ امریکہ کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور اس کی معاشی مشکلات کا سبب امریکہ کی اپنی میکرو اکنامک پالیسیاں نہیں، بلکہ دنیا کے دوسرے ملک امریکہ کے وسائل تجارتی عدم توازن کے ذریعے چوری کر رہے ہیں۔ دنیا کے اکثر ملک امریکی مال پر زیادہ ٹیکس لگاتے ہیں، جب کہ امریکہ میں ان کے مال پر ٹیکس کم ہے۔ دوسری بار کرسیِٔ صدارت سنبھالتے ہی ٹرمپ نے امریکی ایجنسیوں کو حکم دیا کہ وہ تجارتی خسارے کا آڈِٹ کریں اور مفصل رپورٹ دیں کہ کون کون سا ملک اپنی تجارتی پالیسی کے ذریعے امریکہ کو چونا لگا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے تجارت کو بطور ہتھیار محض معاشی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اس نے نافرمان حلیفوں اور مخالفین کو سزا دینے اور دیگر تزویراتی مفادات کے لیے بھی یہ ہتھیار استعمال کیا ہے۔ جیسے میکسیکو کو بارڈر کنٹرول کے مسئلے پر ان کی برآمدات پر ٹیکس بڑھانے کی دھمکی، اور پاکستان اور بھارت میں جنگ رکوانے کے لیے تجارتی سودے بازی کا استعمال۔ ٹرمپ کی دنیا میں تجارتی پالیسی وزارتِ تجارت سے نکل کر ’وار روم‘ میں پہنچ گئی ہے۔
لیکن کیا یہ ہتھیار واقعی موثر ہے؟ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، اس کی مارکیٹ پاور یقیناً بہت زیادہ ہے۔ اور وہ ٹیرف لگا کر تجارتی فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ مگر اس کی ایک حد ہے۔ یہ تھیوری کتابوں میں لکھی ہوئی اچھی لگتی ہے۔ کاغذ پہ بنے ہوئے خطوطِ بے پروا (Indifference curves) یا الجبرا کی مساواتیں علمی ذوق کی تسکین ضرور کرتی ہیں، مگر عملاً یہ ہتھیار زیادہ موثر نہیں ہے۔
تجارتی ٹیرف کو اس طرح بطور ہتھیار استعمال کرنے میں سب سے بڑا خطرہ دوسرے ملک کی طرف سے، جواب آن غزل کے طور پر، پلٹ کر وار کرنے کا ہے۔ جیسا کہ چین نے کیا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش تجارتی جنگ کی کلاسک مثال ہے۔ اس سال کے شروع میں ٹرمپ نے چین سے آنے والے تمام مال پر 10 فیصد ڈیوٹی لگا دی۔ جواب میں چین نے بھی امریکی اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی۔ اس کے ردِّ عمل میں امریکہ نے مارچ کے مہینے میں چینی برآمدات پر ڈیوٹی دُگنی کر دی۔
اُسی مہینے چین نے بھی جوابی ٹیرف بڑھا دیا۔ اپریل میں ٹرمپ نے چین پر ڈیوٹی میں پھر اضافہ کیا اور اسے 84 فیصد تک لے گیا۔ اس پر چین نے جو ردِّ عمل دیا اس سے اب امریکہ کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ چین نے جوابی وار کے طور پر نا صرف امریکی اشیاء پر امپورٹ ڈیوٹی مزید بڑھائی بلکہ نایاب زمینی دھاتوں پر ایکسپورٹ کنٹرول بھی لگا دیا، جس سے امریکہ کی سیمی کنڈکٹر، الیکٹرک کار اور دفاعی صنعت کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے۔ اس پر ٹرمپ نے چین پر سو فیصد ٹیرف کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ یہ اور بات کہ اگست میں دونوں ملکوں نے 90 دنوں کی تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، تا کہ مسائل بات چیت سے حل کیے جا سکیں۔
چین کی طرح یورپ اور کینیڈا کی طرف سے بھی جوابی اقدامات سامنے آئے ہیں، کیونکہ کچھ مخصوص شعبوں میں ان ممالک کو بھی مارکیٹ پاور حاصل ہے۔ بڑے ملکوں کی طرف سے ایسے ردِّ عمل کی وجہ سے ٹرمپ کو ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑا ہے۔ تو بڑے ملک اور بڑے تجارتی بلاک، جیسے برکس (BRICS) وغیرہ، اس ہتھیار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ البتہ اصل چیلنج پاکستان جیسے (معاشی طور پر) چھوٹے ممالک کے لیے ہے جو ہاتھیوں کی لڑائی میں خواہ مخواہ کچلے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی طرف سے امریکہ اور ٹرمپ کے ساتھ آج کل جس گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ پاکستان کسی حد تک اس تجارتی کشمکش کے برے اثرات سے بچا ہوا ہے۔ بڑے ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ کی وجہ سے دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجز مندی کا شکار ہیں، مگر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اب بھی خوب کاروبار ہو رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر صرف یہی کافی نہیں۔
وزیراعظم پاکستان ٹرمپ کی تعریف کر کے اور اسے نوبل انعام کے لیے نامزد کر کے کب تک اپنے ملک کو معاشی جھٹکوں سے بچا سکیں گے؟ اسی طرح چین کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم کہاں تک معاشی سہارا بن سکتے ہیں؟ بین الاقوامی تجارتی اور معاشی تعلقات میں نئے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ نیا زمانہ ہے ؛ اس کے لیے ٹھوس معاشی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایک تو پاکستان کا فی الحال، کچھ عرصے کے لیے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت رہنا ضروری ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ دوسرا، زرِ مبادلہ کے ذخائر مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کے لیے پرکشش سکیمیں متعارف کرانی چاہئیں اور ساتھ ہی غیر ضروری درآمدات کو کنٹرول کرنے اور برآمدات کو معیاری اور متنوع بنانے کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔
آخر میں، پاکستان کو چین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے تجارتی مقاصد کے لیے مزید منڈیوں کو ضرور تلاش کرنا چاہیے تاکہ کسی ایک طاقت پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ ہو۔ یوں پاکستان اس نئی عالمی تجارتی ترتیب میں نہ صرف خطرات سے بچ سکتا ہے بلکہ مواقع کو اپنی ترقی اور استحکام کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔


ماشاءاللہ بہت خوب