میرے مطابق

غزہ کی جنگ کے بعد کی دنیا

Shahid Saeed Ahmed

یہ مضمون ہندوستانی مصنف پنکج مشرا کی 2025 کے اوائل میں شائع ہوئی کتاب ’دی ورلڈ آفٹر غزہ‘ کا اُس کے اپنے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایک تعارف ہے۔ حال میں ہوئے سیز فائر سے پہلے چھپی اس کتاب کے عنوان سے جنگ کے خاتمہ کے بعد کی دنیا مُراد نہیں تھی بلکہ غزہ میں شروع کی گئی نسل کُشی کے دوران مغربی لبرل جمہوریتوں کی بے اعتنائی، رضامندی اور اس میں شرکت سے عالمی نظام میں مزید نمایاں ہوئے اخلاقی خلا اور انحطاط کی طرف ایک اشارہ ہے۔ مشرا نے اس کتاب میں اسرائیل کی طرف سے جاری اس نسل کُشی کے پس منظر میں موجود یہودیوں کے اپنے ایسے ہی تجربہ یعنی جنگ عظیم دوئم کے دوران ہولوکاسٹ سے جُڑے مظلومیت کے بیانیہ کو فلسطینیوں پر استعماری تسلط اور اُن سے نسلی عصبیت کے الزامات کے خلاف ڈھال بنا لینے کے احوال کو بھی بیان کیا ہے۔

مشرا لکھتا ہے کہ ہولوکاسٹ کے برعکس غزہ کے مکین جہاں اپنی آنے والی موت کی پیش گوئی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے گھنٹوں پہلے سے کر رہے تھے وہاں اُن کے قاتل اپنے کارناموں کو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے میں لطف لیتے رہے۔ مغربی دنیا کی طرف سے جبکہ نسل کُشی کی اس روزانہ نشریات کو اگر جھٹلایا نہیں گیا تو بس ایک مبہم کوریج ہی دی گئی ہے بشمول امریکہ اور برطانیہ کے لیڈران کے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس پر اسرائیل کی جنگ کے دفاع میں حملے اور ں یویارک ٹائمز کے مدیروں کی طرف سے اپنے عملہ کو یہ ہدایات کہ مہاجر کیمپ، مقبوضہ علاقہ اور نسل کشی جیسے الفاظ کو اپنے مضامین میں استعمال کرنے سے گُریز کیا جائے۔

2024 کے آخر تک دنیا میں بہت سے لوگ جو چاہے غزہ میں موت کے میدانوں سے بہت دُور تھے یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ایک ایسی زمین میں گھسیٹے جا رہے ہیں جہاں اذیت، ناکامی، تکلیف اور تھکن کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ غزہ کو دُور سے دیکھ رہے لوگوں کے تجربہ کے لئے ایسا کہنا جذباتی مبالغہ آرائی تو لگتی ہے مگر ایک فلسطینی باپ کی گود میں اٹھائی اپنے بچے کی بغیر سر کی لاش کی تصویر کا اثر ویسا ہی تھا جیسا پکاسو کی بنائی پینٹنگ؛ گورنیکا، جو 1936 میں شروع ہوئی سپینش سول وار میں فضائی بمباری میں انسانوں اور جانوروں کے قتل کے دوران اُن کی چیخوں کی عکاس تھی، کی نمائش کے وقت دنیا میں پیدا ہوا تھا۔

غزہ کی یہ جنگ بھی آخرکار ماضی کا حصہ بن جائے گی اور گزرتا وقت نئے اُبھرے زخموں کو ہموار کر چکا ہو گا۔ لیکن اس آفت کی تباہی کے نشانات دہائیوں غزہ کی زمین میں موجود رہیں گے ؛ زخمی جسموں میں، یتیم بچوں میں، اس کے شہروں کے ملبے میں، بے گھر لوگوں اور اجتماعی سوگ کی مستقل موجودگی کے احساس میں۔ اور وہ جو ہزاروں کے قتل اور طاقتوروں کی بے اعتنائی یا اُن کی طرف سے نسل کُشی کو دی جا رہی داد کو دُور بیٹھے بے چارگی سے دیکھ رہے تھے، سالوں اس اندرونی زخم کو پالتے رہیں گے۔

مغربی لیڈران کے لئے یہ مشکل نہیں تھا کہ وہ 7 اکتوبر کو جنگی جرائم میں ملوث فلسطینیوں کے احتساب کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں نسل کُشی کر رہی ایک شدت پسند حکومت کی غیر مشروط امداد کو روک دیں۔ پھر کیوں امریکی صدر بائیڈن کی طرف سے فلسطینوں کے حملہ میں اسرائیلی بچوں کے سر قلم کرنے کی ایسی ویڈیوز دیکھنے کا دعویٰ کیا گیا جو موجود ہی نہیں تھیں؟ پھر کیوں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر جو خود انسانی حقوق کا وکیل رہا ہے کی طرف سے اسرائیل کے غزہ کے مکینوں کی بجلی اور پانی روکنے کو حق بجانب اور لیبر پارٹی کے سیز فائر کے حامی ارکان کو سزا کا اشارہ دیا گیا؟ کیوں ارب پتی بزنس لیڈران کی طرف سے امریکی یونیورسٹیوں میں چل رہے احتجاج کو نشانہ بنایا گیا؟ کیوں فیکلٹی ارکان اور جرنلسٹس کو نوکریوں سے نکالا اور اسرائیل کے حق میں اُٹھے نوجوانوں کو نوکریوں کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا؟ کیوں مغرب نے، جو یوکرائن کے لوگوں کے دفاع اور انہیں پناہ دینے میں اتنا پیش پیش تھا، فلسطینوں کو انسانی ہمدردی کے دائرے سے باہر رکھا؟

بہت سے لوگوں کے لئے ان سب سوالوں کا ممکنہ جواب مغرب کی ظاہری اور مخفی نسلی عصبیت کی روشنی میں ہی دیا جا سکتا ہے۔ برطانوی ادیب اور شاعر جارج اورول جس کا ادبی اثاثہ مطلق العنانی کی مخالفت پر مشتمل ہے نے 1945 میں فلسطین کو رنگ و نسل کا مسئلہ قرار دیا تھا۔ گاندھی نے بھی فلسطین کے مسئلہ کو اسی روشنی میں دیکھا اور صیہونی لیڈران سے عربوں کے خلاف دہشت گردی نا کرنے کی اپیل کی۔ جبکہ نیلسن مینڈیلا نے ساؤتھ افریقہ میں سفید فام لوگوں کی نسلی امتیازی پالیسیوں سے ملی آزادی کو تب تک نامکمل قرار دیا جب تک فلسطین آزادی حاصل نہیں کر لیتا۔

اسرائیلی نسلی تفریق کی پالیسیوں کی روشنی میں بہت سے لوگ اُس کی کافی آبادی مشرق وسطیٰ سے یہودیوں کی آبادکاری پر مشتمل ہونے کے باوجود اُسے سفید فام اکثریت والے مغربی ملکوں سے نسبت اور اُسکی غاصبانہ پالیسیوں کو مغرب کی دہشت گردی کے خلاف تباہ کن جنگ سے مطابقت دیتے ہیں۔ جس جنگ نے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بہت بڑے حصوں کی تباہی، ڈرون سے کی گئی ہلاکتوں اور گوانٹاناموبے جیسی اندھی جیل کی موجودگی سے ثابت کیا کہ کتنی آسانی سے براؤن اور سیاہ فام جسموں کو پکڑا اور انہیں تمام بین الاقوامی اصول اور قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے توڑا اور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

1967 میں ایرانی ماہر سماجیات علی شریعتی نے گہری رنگت والے لوگوں کی طرف سے جو پوچھا وہ دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنا معنی برقرار رکھے ہوئے ہے ؛ مغرب اور عیسائیت ہولوکاسٹ کا معاوضہ کیسے اسلامی فلسطین کی شکل میں ادا کر سکتے ہیں؟ پولینڈ جہاں یہودیوں پر بدترین تشدد ہوا اُس کا ایک حصہ وہ کیوں ان کی آبادکاری کے لئے وقف نہیں کرتے؟ وہ جرمنی کی ایک ریاست کیوں اس کام کے لئے مُختص نہیں کرتے؟ عیسائیت دو ہزار سال سے یہودیوں پر خود کیے تشدد کا معاوضہ اسلام کی جیب سے کیوں ادا کرنا چاہتی ہے؟ مغرب اپنے کیے جرائم کی ادائیگی مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جیبوں سے کیوں کروانا چاہتا ہے؟

تو ان سوالات کی وضاحت کے طور پر مزید یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا مغرب کا جرمن نازیوں اور کمیونسٹ مطلق العنانی کے جرائم پر توجہ مرکوز رکھوانا اپنے نسلی امتیاز کے اصلی گناہ پر پردہ ڈالے رکھنے کی کوشش تو نہیں ہے۔ جہاں دنیا میں یہودیوں سے نفرت کے نئے اطوار پیدا ہوئے ہیں وہیں ان مُلکوں جہاں یہودیوں کو اجنبی اور معاشرتی طور پر ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا، اب نئی پیدا ہو چُکی یہود پسندی کی وضاحت کیسے کی جائے؟ مغرب میں تیزی سے مقبولیت پا رہی دائیں بازو کی سیاست میں ایک نئے رجحان کے بعد یہ اب محض ایک علمی بحث رہ بھی نہیں گئی اور اس نے مغرب کے لبرل ڈیموکریسی کے خود ساختہ تصور کو دھندلا دیا ہے۔ یعنی تاریخی طور پر اینٹی سیمیٹک، سفید فام قوم و نسل پرست ہنگری کے وکٹر اوربان سے لے کر امریکن ایونجیلیکلوں کے اسرائیل کے دفاع میں اکٹھے ہو جانے کا رجحان۔

مشرا کتاب کے دیباچہ کے آخر میں لکھتا ہے کہ اگلے صفحات میں وہ ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس سے بھی اہم اُس کی کوشش یہ ہو گی کہ وہ ان سوالوں کو درست طریقہ سے فریم کر چکا ہو تاکہ ہم اس ارتقا کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ مغربی جمہوریتوں کی طرف سے پہنچائے اس گھاؤ کا ارتقا جس نے دوسری جنگ عظیم میں فاشزم کی شکست کے بعد مشترکہ انسانیت، بین الاقوامی قانونی اور سیاسی اصولوں کی کم از کم پاسداری کا وہم دُور کر دیا ہے۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کُشی نے بہت سے مُلکوں کو غزہ سے پہلے کی دنیا سے کھینچ کر ایک اور ہی دنیا میں دھکیل دیا ہے اور میں اس حقیقت سے آشکار ہوں کہ میں جو لکھ رہا ہوں وہ ایک کم سمجھ میں آئے ماضی اور خوفناک مستقبل کے درمیان خلا میں موجود ہے اور جسے جلدی سے پُر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ یہ کتاب اکیسویں صدی کے اس نمائندہ واقعہ کے اصل یا ماضی اور اُس کے نتائج کا صرف ایک غیر وابستہ احاطہ کرتی ہے ؛ یہ بہت سے عالمانہ اور تحقیقی کاموں سے منور ہونے کے باوجود ایک ذاتی فہم و دانش کا سفر ہے۔

غزہ سے براہ راست نشر ہوئی نسل کُشی نے دُور سے دیکھ رہے انسانوں میں ایک مجرمانہ احساس پیدا کر دیا ہے اور میں نے اس لئے بھی اس موضوع پر لکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ قرض اُن لوگوں کے سر پر ہے جو بے گناہوں کو مرتا دیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میں یک جہتی کے اس یقین کے تحت لکھ رہا ہوں جو غزہ پر جنگ کے بعد کی اس دنیا کے بیشتر انسانوں کو اب بھی بغیر رنگ و نسل کی تفریق کے جوڑتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW