تکیہ تارڑ کا پھیرا

سویرے اٹھا تو اس سوال کا سامنا تھا کہ تارڑ صاحب کی کون سی کتاب تادیر باقی رہے گی۔ میرا خیال تو خس و خاشاک زمانے کے بارے میں ہے کہ وہ تارڑ صاحب کو ہمیشہ زندہ رکھے گی جبکہ قبلہ زاہد بلال صاحب کا خیال راکھ اور بہاؤ کے بارے میں ہے۔
سوچا کیوں نہ تارڑ صاحب سے ہی جاکر پوچھ لوں، وہ ماڈل ٹاؤن پارک کے مرکزی گیٹ میں اندر دائیں جانب تکیہ تارڑ پر سویرے سویرے اپنے محبت کرنے والوں کے ساتھ محفل لگاتے ہیں۔
سویرے اٹھا، تیار ہوا، چھوٹے بھائی کے ہمراہ وہاں جا پہنچا۔ عقب میں بیٹھے دوست سے پوچھا کہ میں ان کے ساتھ جا بیٹھوں، کہنے لگا سلام کریں اور بیٹھ جائیں۔ ہم نے سلام کیا اور جا بیٹھے۔ تارڑ صاحب پوچھنے لگے، کیسے آنا ہوا، میں نے کہا آپ سے اک سوال پوچھنے چلا آیا ہوں۔
وہ بگڑ گئے، کہنے لگے پہلے اپنا تعارف کروا کر یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے امتحان پاس کرو پھر سوال کرنا۔ میں نے کہا سوال اہم ہے تعارف نہیں، وہ اور بگڑ گئے اور کہنے لگے نہ کرواؤ تعارف، سوال بھی کوئی نہیں کر سکتے۔ کہنے لگے یہاں سب نہیں آ سکتے، کچھ کو تو بالکل اجازت نہیں۔
میں نے کہا تعارف کرواتا ہوں، وہ بگڑے رہے، کہنے لگے مجھے کیا تمھارے تعارف سے، وہ تو روٹھ گئے تھے۔ میں نے بتایا کہیں پڑھاتا ہوں مگر ہوں طالب علم، سوال لیے پھرتا ہوں۔ وہاں بیٹھے لوگ کہنے لگے کیا پڑھا ہے ان کا، ہم بھی تو جانیں۔ میں نے بتایا تقریباً ان کا سب کام پڑھا ہے، کچھ تو بہت غور سے، اس لیے تو سوال لیے پھرتا ہوں۔
آوازیں آئیں کہ اس نے پڑھا ہے، یہ سوال پوچھ سکتا ہے۔ کہنے لگے تم نے مجھے بہت ستایا ہے، میں تھک گیا ہوں تم سے مکالمہ کر کے۔ میں بزرگ تارڑ صاحب کا یہ کہنا سن کر اندر سے شرمندہ ہوا۔ میں نے کہا آپ نے بھی تو اس کا نام تکیہ تارڑ رکھا ہے اور جو فقیر کا ڈیرہ ہو اس میں کیسی روک ٹوک، اس میں کیسا تعارف۔ کہنے لگے ہم اپنے ہاں اپنے پروٹوکول سے ملتے ہیں۔
کہنے لگے اب پوچھ بھی چکو۔ میں نے پوچھا آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی کون سی کتاب باقی رہے گی۔ کمال عاجزی سے کہنے لگے جیسے سب مٹ گیا ہم بھی مٹ جائیں گے، ہمارا کام بھی باقی نہیں رہے گا۔ یہ تو دل لگی ہے جو جلد چلی جائے گی۔ میں پوچھنا چاہتا تھا کہ بہت صدیوں سے بہت کام باقی رہ گیا ہے، آپ کا کام کیوں نہیں جیتا رہے گا۔ میں نے نہیں پوچھا کہ کہیں وہ پھر نہ بگڑ بیٹھیں۔
کہنے لگے اور پوچھو، میں نے پوچھا ہمارے ہاں کے سب بڑے ناول ستاون اور سنتالیس میں کیوں پھنس کے رہ گئے ہیں، آپ بھی تو۔ کہنے لگے ہم نے یہ سانحے بھگتے ہیں ہم ان سے باہر کیسے نکلیں۔ بات ذرا بڑھی تو میں نے سوال بدل کر پوچھا، آپ کو اپنا کون سا کام سب سے زیادہ پسند ہے۔ کہنے لگا سب کیونکہ میں نے سب سوچ سمجھ کر لکھا ہے۔
کسی نے سوال پوچھا تو انھوں نے میرے سوال کا جواب دے دیا۔ کہنے لگے اس پار ایک فہرست بنی ہے برصغیر کے دس بڑے ادیبوں کی، اس میں میرے نام کے سامنے میری تین کتابوں کے نام ہیں راکھ، بہاؤ اور خس و خاشاک زمانے، اور وہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ کون سی سب سے بہتر ہے۔ پھر انھوں نے جرمنی میں ایک تقریب کی صدارت کا واقع سنایا جس میں کسی نے عینی آپی پر کام کیا تھا، مگر اس نے پرچا راکھ پر پڑھا۔
وہ اس بات پر بڑے اداس تھے کہ ہم جو دیکھتے ہیں وہ کہہ نہیں سکتے، لکھ نہیں سکتے، اور تیسری دنیا میں یہ کچھ زیادہ ہے مگر پہلی دنیا بھی اس سے محفوظ نہیں۔
ان کا خیال ہے کہ صوفی لوگ وہ اصل نگینے تھے جنہوں نے زندگی کو درست سمجھا اور اس کا راز پا گئے، اور وہ ہی بہت زندہ رہیں گے۔ ایک اور اچھی بات انھوں نے کہی کہ یار کسی اور کی بات نہ کریں مجھ سے میرے کام کے بارے میں بات کریں۔
وہ کہنے لگے سب سے بڑا ادب روسیوں نے پیدا کیا ہے، وہ ٹالسٹائی کا ذکر بار بار کرتے رہے۔ میں پوچھنا چاہتا تھا کہ روسی ادب کو یہ عظمت کیسے ملی، میں نے نہیں پوچھا، پہلی نشست میں پہلے ہی کچھ زیادہ بول چکا تھا، پوچھ چکا تھا۔ وہ اب جانے والے تھے، مجھے بھی یار لوگوں کے فون آرہے تھے، میں نے ان سے اجازت چاہی۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئے، کمال شفقت بھرے لہجے میں کہنے لگے تم نے مجھے تھکا دیا مگر تم نے میرے کام کو غور سے پڑھا ہے اور مجھے اس کی خوشی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کبھی کبھی آپ کی زیارت کو آ جایا کروں گا، کہنے لگے شوق سے، ہم بات کریں گے ادب پر، زندگی پر۔ ہم نے ان کے ساتھ تصویر بنوائی اور تیزی سے چلے آئے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک بڑے آدمی کی سنگت میں بیٹھ آیا ہوں، میں بھاگ بھرا ہو گیا ہوں، نہیں معلوم۔
