عدمیت کا عفریت
ہم جس سماجی فضا میں سانس لیتے ہیں، وہ ہر ذی روح شے کے اندر یکساں طور پر داخل ہوتی ہے۔ یوں یہ آب و ہوا ہماری اندر کی دنیا پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر سماجی ہوا آلودہ ہو گی تو یہ ہمارے ذہن اور روح کو بھی آلودہ کر دیتی ہے۔ یہی کچھ پاکستانی سماج میں ذہن کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہم کلچرل عدمیت یعنی نہلزم کی اندھی کھائی کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش میں اس کے اندر اتنے چلے گئے ہیں کہ اب یہ کھائی ہمیں کھا کر ہم میں تاریکیاں انڈیل رہی ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں عدمیت اور ہمارے ذہنوں کی تاریکیوں کے تعلق کی جراحت کی جائے گی۔
عدمیت نے نہ صرف مذہبی ذہن بلکہ پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کو متاثر کیا ہے۔ اس کا مظاہرہ ہمیں آئے دن مذہبیت پرستوں، سیکولرز، لبرلز، بائیں بازو اور ملحدوں کی مختلف معاملات کے متعلق آرا کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی وفات پر بعض حلقوں نے اس بنا پر تنقید کی کہ انھوں نے ساری زندگی صرف تہذیب اور مکالمے کی بات کی مگر طاقت کو چیلنج نہیں کیا۔ کیا بدتہذیبی، سازشی تھیوریز، عدم برداشت، خود گوئی اور خود دیدنی یعنی سیلفی کے اس دور میں تہذیب، علم اور مکالمے کی بات کرنا کیا انقلابی عمل نہیں ہے؟ اگرچہ اس معاملے میں بعض لوگ استثنا ہیں، مگر سماجی میڈیا پر ڈاکٹر عارفہ کی رحلت پر کچھ جانے پہچانے ناموں نے ان پر جو تنقید کی وہ بعض اوقات ذاتیات کی حدوں کو چھوتی ہے۔
ہم اتنی کنفیوز قوم ہیں کہ ایک ہی معاملے پر چھ سات مختلف آرا ایک ساتھ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کوئی رائے ہی نہیں رکھتے ہیں۔ اس ملک میں اگر کوئی گروہ نظام کے خلاف بندوق اٹھا لے تو اسے اندھی بغاوت کہا جاتا ہے کیونکہ تشدد کے مرتکب گروہ کے پاس مستقبل کے بارے میں ہمارے جیسا نظریہ نہیں ہے۔ نائن الیون کے بعد کا دہشت گردی کا بیانیہ پاکستانی لیفٹ کے انقلاب کو اور لبرلز کی عقل کو کھا گیا۔ پاکستانی لبرلز نے تو اس واقعے کے بعد مذہب اور اس سے وابستہ تشدد کو مغرب کو سمجھانے کے لئے اسلامزم کو باقاعدہ طور پر ایک صنعت میں تبدیل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چوبیس سالوں میں پاکستانی لبرلز اسلامزم کے بارے میں چبائی ہوئی باتوں کی جگالی کو علم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ویسے جتنا پیسہ تشدد میں ہے، اس کا عشر عشیر بھی امن میں نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلے پانچ دہائیوں سے اسلامی ٹچ والی صنعت سے ہمارا مذہبی طبقہ بہت مستفید ہوا ہے۔
پاکستان میں ایک گروہ وہ ہے جو ریاست کے بیانیے کے رد میں مقامی بیانیہ تشکیل دینے کے چکر میں مراجعت کر کے ماضی سے ایسے مردوں کو دوسروں پہ مسلط کرنا چاہتا ہے جو ملک میں بسے دوسری اقوام کے معروض اور تاریخ سے مطابقت ہی نہیں رکھتے ہیں۔ ایک یوٹیوبر رنجیت سنگھ اور راجہ داہر کو اچھا ثابت کرنے کے چکر میں تاریخ نویسی کے بنیادوں اصولوں کو نظرانداز کر کے ایک کلی نظریہ سب پہ منطبق کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ گلگت میں بیٹھا شخص رنجیت سنگھ اور راجہ داہر سے کیا نسبت پیدا کر سکتا ہے؟ ویسے بھی گلگت بلتستان میں سکھوں کو ٹھوس تاریخی وجوہات کی وجہ سے ظلم و بربریت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہاں اگر کسی شخصیت کے نظریات اگر ہماری وجودی حالات کی تفہیم میں مدد کر رہے ہیں تو فکری انسیت خود بخود بنتی ہے۔ مگر داہر، قاسم اور رنجیت فکر سے عاری جنگجو تھے۔
اسی طرح پچھلے دنوں پاکستان کے ایک معروف فکری پلیٹ فارم پہ پاکستانی تاریخ کے ایک مشہور پروفیسر کی گفتگو سننے کو ملی۔ سوال جواب کے سیشن میں ایک بندہ تحریک پاکستان کے بانیوں اور ان کا شراب اور عورتوں سے تعلق کے حوالے سے نہایت عامیانہ طریقے سے سوال کر رہا تھا۔ مجھے لگا کہ یہ کوئی مولوی ہے جو شراب اور عورت سے نفرت کے متعلق اظہار کر کے اپنا بھڑاس نکال رہا ہے۔ کسی دوست نے بتایا کہ یہ سوشل میڈیا پہ پاکستان کا مشہور ملحدی ”دانشور“ ہے۔ یہاں تو شدت پسند مولوی اور اندھے ملحد کے درمیان حد تفریق ختم ہو گئی ہے۔ گو کہ لیبل الگ ہیں مگر سوچنے کی ساخت یکساں ہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدمیت کے عفریت نے مذہبی اور ملحدی شدت پسند دونوں کو نگل لیا ہے۔ عدمیت/ نہلزم ہے ہی یہ کہ ہم کسی انسانی قدر، سچائی اور اچھائی کے انکاری بن جاتے ہیں۔ یوں جدید انسان کے پاؤں تلے وہ کشش ثقل ختم ہو جاتی ہے جو اس کو کھڑا ہونے کے قابل بناتی ہے اور راہ کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں انسان ایک خلا میں تیر رہا ہوتا ہے جہاں کوئی سمت اور شخصیت نہیں ہوتی ہے۔ اسی لئے فریڈرک نطشے نے عدمیت کو جدیدیت کا عارضہ کہا ہے۔
چونکہ عدمیت میں انسان کے پاس ذہنی کشش ثقل نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ کسی فکر کے بغیر لوگوں اور دنیا سے تفاعل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ”دانشور“ ہر جگہ ہر چیز اور تصور کو کسی فکری پیمانے پہ نہیں بلکہ اپنی فطرت ثانیہ کی وجہ سے مسترد کرتا پھرتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اچھا پہنتا، کھاتا پیتا اور جیتا ہے، تو ہمیں خوش ہونا چاہیے۔ پاکستانی اسلام سے ہم اس لئے بیزار ہیں کہ یہ ہم سے خوشیاں چھین کر خالی پابندیاں ہی لگا رہا ہے۔ رہی بات شراب کی تو اسلام فقہی طور پہ اس کا مخالف اور سماجی طور پر اس کا سب سے بڑا حامی رہا ہے۔ کیا غیر وہابی عرب ریاستیں اور وسطی ایشیائی ممالک جہاں شراب پہ پابندی نہیں ہے مسلمان نہیں ہیں؟ اسی لئے عربی میں شراب کی شاعری کو شاعری کی عروس یعنی دلہن کہا جاتا ہے۔ ویسے الکوحل، بوز اور وائن کے الفاظ عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔ شراب اور طعام کے اردگرد جو سیاست ہوتی تھی اس کو رزم و بزم کہا جاتا تھا۔ چودھویں صدی عیسوی میں محمد یعقوب الفیروز آبادی نے اپنی لغت میں شراب کے لئے 357 مختلف نام استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح شراب کی محفل کے آداب پر باقاعدہ طور پر مینوئلز یعنی ہدایت نامے لکھے گئے ہیں۔ حافظ شیرازی، ان کی غزلیں اسلامی سماجوں کی جمالیات کا جزو لاینفک ہیں۔ شراب اور حسن کے متعلق ان کی شاعری اعلیٰ ترین شاعرانہ تخیل کا عمدہ نمونہ ہیں۔ اگر ہم جمالیات کو انسانی زندگی سے اٹھا دیں تو ہمارے پاس خالی ننگی حقیقت رہ جاتی ہے جس سے حیوان کو روزمرہ سامنا ہوتا ہے۔ جمالیات کے بغیر مذہب انسان نہیں صرف حیوان ہی پیدا کر سکتا ہے۔ بقول نطشے انسان آرٹ اس لئے تخلیق کرتا ہے تاکہ وہ حقیقت کے ہاتھوں مر نا جائے۔ حیوان انسان سے اس لئے مختلف ہے کہ وہ آرٹ پیدا نہیں کر سکتا اور ننگی حقیقت کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔
آج کل پاکستان کا فکری منظر نامہ ایک ایسا منظر پیش کر رہا ہے جہاں عدمیت کے ہاتھوں پر ہر جگہ ذہن کے حصے بخرے ہو کر مر رہے ہیں۔ یعنی ہر طرف افراتفری ہے جہاں ذہن ایک سمت کی بجائے ہر جگہ بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں ہر مکتب فکر کو سماجی ذہنیت کی وہیل مچھلی نے نگل لیا ہے، مگر وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جس سماج کے معدے میں تعفن اور اندھیرا پھیلا ہوا ہے اس کے ذمہ دار دوسرے لوگ ہیں۔ وہ اس مغالطے میں ہیں کہ وہ روشنی کے پیامبر ہیں۔ مگر وہیل کے پیٹ میں موجود ان لوگوں کو آگاہی نہیں ہے کہ وہ ایک عفریت کے وجود میں موجود ہیں۔ اپنی اس وجودی کیفیت سے ناشناشی کی وجہ سے کوئی بھی اس وہیل مچھلی کے بطن کو چیر پھاڑ کر باہر نکلنے کی سعی نہیں کرتا ہے بلکہ ایک دوسرے کو فکری طور پر چیرنے کے درپے ہیں۔ کارل مارکس یا فریڈرک نطشے کا کمال یہ تھا کہ وہ وقت اور مروج فکر کے عفریت کے پیٹ کو چاک کر کے وسیع تناظر میں انسان اور سماج کو دیکھنے کے قابل ہوئے تھے۔ اسی لئے تو ان دونوں کو جدید فلسفے اور پرولتاریوں کے پیغمبر کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ذہن واقعاتی ہو گیا ہے۔ اسی لئے تو ہماری فکر و نظر حالات حاضرہ کے قیدی بن گئے ہیں۔
یاد رکھیں! حضرت یونس کو بھی ایک دیو قامت مچھلی نے نگل لیا تھا۔ وہ اس کے پیٹ سے تب ہی نکلنے میں کامیاب ہوئے جب ان کو اپنی غلطی کا ادراک ہوا۔ جارج آرویل نے اپنے مضمون ”وہیل کے شکم کے اندر“ میں اس استعارے کو بائبل سے مستعار لیا اور اس کے ذریعے انھوں نے سماج میں مروج اس فکری بے حسی کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا ہے جو سماجی اُتَھل پُتَھل کے دور میں دانشوروں اور ادیبوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ معروف فلسطینی دانشور ایڈورڈ سعید نے اس استعارے کے معنی کو اور وسعت دی۔ وہ آرویل کے وہیل کے پیٹ کے اندر کے استعارے کو ان دانشوروں کو بیان کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے، جو استعماری نظام میں پیوست ہو کر اپنے لئے ایک آرام دہ جگہ حاصل کرتے ہیں اور عوام اور محکوم طبقوں کی وجودی کیفیت سے لاعلم ہو جاتے ہیں۔ یوں دانشور طبقہ انتقاد کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہاں تنقید اور انتقاد میں تفریق کرنا لازمی ہے۔ انتقاد میں کسی بھی فکر یا ادبی شہ پارے کے محاسن اور خامیوں کو دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ تنقید میں صرف خامیوں کو دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تنقید ہوتی ہے کریٹیک نہیں۔ اس لئے ہم ہر معاملے کو یک رخے انداز میں دیکھتے ہیں۔ نتیجے میں ہماری فکر بھی یک رخی یا یک جہت ہو جاتی ہے جو راسخ العقیدگی کو جنم دیتی ہے۔
دانشورانہ بے حسی اور یک رخی کا صرف ہم ہی نہیں مغرب بھی اس کا شکار ہے۔ یہ غزہ کے معاملے پر مغرب کے ان دانشوروں کے رویوں سے عیاں ہوتی ہے جنہوں نے فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس کی حمایت کی۔ ان لوگوں میں یرگن ہیبرماس، جارڈن پیٹرسن، سلوار جیجک اور یوال حریری شامل ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے لبرل دانشور ہیں جو فلسطینیوں کو تشدد کا قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ یہ موقف فلسطین کے تنازعہ کی گہری سمجھ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ مذہبیوں کو زچ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا سطروں میں بیان کی گئی یک رخی اور بے حسی پاکستانی دانشور طبقے میں بھی پائی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم میں دانشورانہ بے حسی کے ساتھ ساتھ فکری بے بضاعتی بھی ہے۔ اس بے بضاعتی کے سبب ہمارے مذہبی، لیفٹسٹ، لبرل اور ملحد چیزوں کو ان کے تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ ہم باہر کی حقیقت پر اپنے نظریات فکر اور موضوعی جذبات کی پرتیں چڑھانا چاہتے ہیں۔ تبھی تو استعمار کا مذہب کے متعلق بتائی ہوئی تعریف اور بیانیے کو لے کر ہم صرف مذہب کے پیچھے پڑے گئے ہیں۔ یوں مذہب دیگر مسائل کی نسبت بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ نتیجے میں ہم بڑے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ مذہبیوں کو چھوڑیں۔ وہ جدیدیت میں ہیں ہی ناکام۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی ملحد، لبرل، لیفٹ یا سیکولر نے ایڈورڈ سعید، چارلس ٹیلر، محمد آرکون، فیصل دیوجی، طلال اسد، جارج آورویل یا پال ریکیور کی طرح مذہبی استعاروں کو استعمال کر کے نئے معنی عطا کر کے ان کے مفہوم کو وسعت دی ہے؟ کیا ہمارے دانشوروں نے مذہبی استعاروں کو عصر حاضر کے سیکولر معاملات کو سمجھانے اور نئی روح عصر کو تشکیل دینے کے لئے استعمال کیا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمارے دانشورانہ ذہن کے ساتھ بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے جس کہ متعلق ہمارے دانشور بھی لاعلم ہیں۔
ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے اندر کے اندھیروں پر روشنی ڈالنے کی بجائے ایک دیوقامت ٹارچ لے کر دوسروں کے اندر موجود اندھیروں پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے تو سماج میں روشن خیالی کم اور خام خیالی زیادہ پائی جاتی ہے۔

