بلاگ

روس کی رومانوی فضائیں اور یورپ کے دریائے وولگا کی حشر سامانیاں

tehzeeb hussain bercha

کسی  نے کیا خوب کہا ہے کہ ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں، اچھی موسیقی سنیں، فنون لطیفہ سے لگاؤ رکھیں، شہر کے ہنگاموں سے دُور ہفتے میں کم از کم ایک دن فطرت کے قریب ضرور گزاریں جہاں صرف ہوا، درختوں اور پرندوں کی صحبت میسّر ہو۔ آج سے 17 سال قبل لڑکپن کے ایّام میں بِڈلف ہاؤس لائبریری گلگت کے کسی کمرے کے کونے میں بیٹھے روسی ادیب میکسم گورکی کا ناول ”ماں“ پڑھ کر شاید ہمارے دل کے کسی کونے یا ذہن کے کسی گوشے میں بھی خیال ابھرا ہو گا کہ کاش زندگی میں کوئی ایسا لمحہ بھی آئے کہ اس عظیم لکھاری کے شہر میں کسی دن پڑاؤ ہو اور گورکی کے شہر نیژنی نووگورود کے گلی کوچوں میں کسی منوّر صبح طویل واک پر نکلیں اور شامیں دریائے وولگا کے کنارے گزاریں۔ شاید وہ وقت قبولیت کا تھا۔ کئی سال بعد اب اس خواب نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے اور بھلا ہو نیژنی نووگورود کی حکومت، روسی فیڈرل ایجنسی فار یوتھ افیئرز اور ورلڈ یوتھ فیسٹیول ڈائریکٹوریٹ کا جنہوں نے خوابوں کی تعبیر کا سامان مہیا کیا اور اس طلسماتی سرزمین کی فضاؤں میں اڑنے کا وسیلہ فراہم کیا۔

نیژنی نووگورود میں قدم رکھنا کسی خواب و خیال سے کم نہ تھا۔ اسلام آباد سے دبئی اور وہاں کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد ماسکو تک تقریباً 6 گھنٹے کی فلائٹ کے بعد بھی عشق کے امتحان ختم نہیں ہوئے تھے۔ ماسکو میں بھی کئی گھنٹے انتظار کے بعد 4 گھنٹے کی ٹرین کے سفر کے ذریعے جب ہم اس شہر میں پہنچے تو ایک خوشگوار اور منوّر صبح ہماری منتظر تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں اُسی شعبے اور پیشے کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں گھنٹوں کام کر کے بھی ذرّہ برابر تھکاوٹ محسوس نہ ہو۔ 35 گھنٹے سے سفر میں تھے مگر تھکاوٹ نہ ہونے کے برابر تھی لیکن ایک گھنٹے کا قیلولہ لیا اور ہم نیژنی نووگورود فیئر کی جانب روانہ ہوئے۔ شہر پہنچنے کی پہلی صبح ہمیں منتظمین کی طرف سے ٹریول کارڈ مہیا کیا گیا جس میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر مفت اور تقریباً تمام سیاحتی مقامات کی سیر اور سرکاری و تاریخی عمارت اور عجائب گھروں تک رسائی کا سامان موجود تھا۔ ایک سیّاح جو سیّاحت کا جنون رکھتا ہو اور نگری نگری آوارہ پھرنے کا متلاشی ہو اسے اب زندگی میں اور کیا چاہیے تھا سو ہم بھی اس شہر کے کرشمات اور فسوں میں کھوتے چلے گئے جب کہ ہم اس بات سے بھی باخبر تھے کہ آنے والے دنوں میں کئی واقعات ہماری زندگی کی حَسیں یادوں کا حصہ بننے والے تھے۔

نیژنی نووگورود وسطی روس میں دریائے اوکا اور یورپ کے طویل ترین دریائے وولگا کے سنگم میں روس کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر کی آبادی ساڑھے 12 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ ماسکو کے مشرق میں 420 کلومیٹر ( 260 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ روس کا ایک اہم اقتصادی، ٹرانسپورٹ، سائنسی، تعلیمی اور ثقافتی مرکز ہے اور روس میں دریائی سیاحت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ شہر کے تاریخی حصّے میں کئی جامعات، تھیٹرز، عجائب گھر اور گرجا گھر موجود ہیں۔ موسم نہایت دلفریب تھا سو ہم نے چند منٹوں کی واک کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے فیئر بلڈنگ کا رُخ کیا جہاں پانچ روزہ ورلڈ یوتھ فیسٹیول اسمبلی کا 2025 انعقاد کیا گیا تھا۔ 17 سے 21 ستمبر 2025 تک جاری رہنے والا عالمی یوتھ فیسٹیول دنیا بھر کے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں، باہمی تعاون اور عالمی ہم آہنگی کا مرکز تھا۔ اس فیسٹیول میں 120 سے زائد ممالک کے 2000 سے زیادہ نمائندے شریک تھے جن میں پاکستانی وفد کی نمایاں شرکت خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

شام کو اس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مقامی فنکاروں نے روسی خصوصاً اس ریجن کی ثقافت کے رنگ بکھیر دیے۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مہمانوں اور شرکاء کے نام خیرسگالی کا ایک خصوصی پیغام بھیجا تھا اور روسی نائب وزیرِاعظم دمتری چرنیشینکو نے روسی صدر کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ واضح رہے کہ اس تقریب میں اس ریجن کے گورنر گلیب نیکیتن نے بھی شرکت کی اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ افتتاحی تقریب کے بعد رات گئے ہم نے نیمارک ہوٹل آئی۔ ٹی پارک کا رخ کیا۔ نیمارک آئی۔ ٹی پارک اس شہر میں ایک نیا آئی۔ ٹی کیمپس ہے جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا اقدام ہے۔ اس منصوبے میں 11 یونیورسٹیاں اور کاروباری شراکت دار شامل ہیں۔ یہ ادارہ آئی۔ ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہم نیمارک ہوٹل پہنچے جہاں لاہور سے تعلق رکھنے والے ہمارے روم میٹ مدثر یاسین منتظر تھے۔ کسی سفر میں ہم خیال روم میٹ کی صحبت ملنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ مدثر درجنوں ممالک گھوم چکے ہیں اور کشادہ ذہن کے مالک ہیں۔ ہماری ہی طرح مال و زر کو حاصلِ زیست تصور نہیں کرتے بلکہ دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک کی سیّاحت کو انسان کی کامیابی و کامرانی اور مقصدِ حیات تصوّر کرتے ہیں۔

صبحِ کاذِب کی روشنی کمرے کے جھروکے سے اندر جھانک رہی تھی لیکن رات کی بے خوابی کے سبب آنکھوں میں نیند کا غلبہ تھا مگر آج زندگی عام سویروں سے ذرا مختلف تھی سو ہم نے تیاری کی اور شہر کے فیئر بلڈنگ کا رُخ کیا۔ فیسٹیول کے مقام کی رنگارنگی دیدنی تھی۔ روس میں بین الاقوامی لوگوں کے لیے کاروبار سے متعلق ایک سیشن میں شرکت کی اس کے بعد دو ماہ قبل روس کے شہر اورنبرگ میں منعقدہ یوریشیا گلوبل میں ملاقات ہونے والے ہمارے سربیا کے دوست سٹیفن اور یمن کے یونس کے ہمراہ شہر کی یاترا کا پلان مرتّب کیا اور کریملن کا رُخ کیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سب سے پہلے اس شہر کے مشہور چکالوف سیڑھیوں کے قریب پہنچ گئے۔ جمالیاتی ذوق سے آشنا سیّاح سیڑھیوں کی حشر سامانی میں کھوئے ہوئے نظر آرہے تھے۔ دریائے وولگا کے کنارے جب آپ کھڑے ہوں تو سامنے ایک طلسماتی منظر دیکھنے والوں کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے۔ سیڑھیوں کا یہ طویل سلسلہ نیچے دریا کے کنارے سے شروع ہو کر بل کھاتا ہوا شہر کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔ قدم بہ قدم بلندی کی جانب بڑھتے ہوئے ہر موڑ پر آپ کو ایک نئے منظر کا سامنا ہوتا ہے جبکہ عقبی جانب دریائے وولگا کا دلکش منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ کہیں دریا کے نیلے پانی کا منظر آنکھوں کو ٹھنڈی طراوت بخشتا ہے تو کہیں شہر کی عمارتیں اور گرجا گھر اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عمارتیں 1940 ء کی دہائی میں اسٹالن گراڈ کی فتح کی یاد میں تعمیر کی گئیں ہیں۔ آٹھ کے ہندسے کی شکل میں بنی 500 سے زائد سیڑھیوں کا یہ شاندار ڈیزائن سیّاحوں کے لئے دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ چوٹی پر پہنچ کر پورے شہر اور دریائے وولگا کا منظر آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔ شام کے وقت یہ سیڑھیاں مزید خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں، یوں لگتا ہے جیسے قمقموں کی تیز جگمگاتی روشنی نے اس خوبصورت شہر کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا دیے ہوں۔

سہ پہر کا وقت تھا۔ موسم نہایت شاندار تھا۔ ہم اور ہمارے ساتھیوں نے چکالوف سیڑھیاں اترتے ہوئے اس شہر کی عظیم الشّان کریملن کی جانب چہل قدمی کا آغاز کیا۔ راستے میں ہمیں ڈینیل ملے جو ماسکو کے رہنے والے وی لاگر ہیں اور انہوں نے سیّاحت کے لیے یہاں کا رُخ کیا تھا۔ خوشی کی بات یہ تھی اسے انگریزی بولنے میں مہارت حاصل تھی۔ ڈینیل نے خوشی سے ہماری صحبت اختیار کی اور ہم نے سربیا اور یمن کے دوستوں کے ساتھ کریملن کا رخ کیا۔ کریملن سرخ اینٹوں سے بنا قلعہ ہے جو اپنی بلند و بالا دیواروں اور تیرہ برجوں کے ساتھ صدیوں پرانی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے جلوہ افروز ہے۔ دریائے وولگا اور اوکا کے سنگم پر واقع یہ قلعہ کبھی دشمنوں کے خلاف مضبوط حصار تھا مگر آج یہ شہر کی پہچان اور ثقافت کا مرکز ہے۔ اس کی بنیاد 16 ویں صدی کے اوائل میں رکھی گئی تھی۔ کبھی یہ خانیت قاذان کے خلاف ایک مضبوط گڑھ رہا اس کی دو کلومیٹر طویل فصیلیں اور برج قرونِ و سطیٰ کی لڑائیوں سے لے کر دوسری جنگِ عظیم کے دفاعی لڑائی تک صدیوں پرانی تاریخ کے نشان ہیں۔ اندر داخل ہوئے تو وسیع و عریض گھاس کے میدان خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے جبکہ پرانی یادگاریں اور عمارتیں ہر قدم پر ماضی اور حال کو جوڑتے ہوئے جلوہ افروز تھیں۔ بلند دیواروں پر کھڑے ہو کر جب پورے شہر اور دریا کا منظر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم سا گیا ہو اور اس قلعے کی پرانی دیواریں اپنی تاریخ پر مبنی کئی پرانی حکایات سنا رہی ہوں۔ اندرونی احاطے میں موجود ایک چرچ میں ناقوس بج رہے تھے اور سماعتوں میں رس گھول رہے تھے۔ ایک گھنٹے تک ہم کریملن کی یاترا کرتے رہے اور ہمارے سربیا اور یمن کے دوستوں نے واپسی کی راہ لی مگر ہم میکسم گورکی کے مجسمے پر حاضری دیے بغیر واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

غروب آفتاب کا وقت ہونے کے سبب فضا میں ایک عجیب خوبصورتی عود آئی تھی۔ ڈینیل اور ہم میکسم گورکی کے مجسمے کی تلاش میں نکل گئے۔ ہم نے بازار کا رخ کیا جہاں چوراہے میں ایستادہ منین اور پوزارسکی کے مجسمے بھی نہایت خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ سڑکوں پر زندگی اور بشاشت کی لہر رواں دواں تھی۔ ہم نے شہر کی بلندیوں کی جانب رُخ کیا جہاں ہماری مقامی دو دوشیزاؤں دانا اور انستاجیا کے علاوہ ان کے ساتھ فیسٹیول میں شرکت کے لیے آئے ہوئے آذربائجان کے نوجوان لیکچرار انار گادزیوف سے ملاقات ہوئی۔ جب ہم نے ان سے میکسم گورکی کے مجسمے کے بابت استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بھی اسی مقام کی جانب رواں دواں ہیں سو ہم سب شہر کی بلندی کی جانب ایک ساتھ گامزن ہوئے۔ آدھے گھنٹے کی واک کے بعد ہم اس مقام پر پہنچ گئے جہاں میکسم گورکی (مجسمہ) کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے شہر کی جانب رخ کیے فکر کی گہرائیوں میں غلطاں تھے۔ غروب آفتاب کا وقت تھا اور شہر کا نظارہ نہایت دلفریب تھا۔ تمام ساتھیوں نے منڈلی جمائی اور مختلف موضوعات پر طویل گفتگو ہوتی رہی۔ گو کہ ہم سب کچھ لمحے قبل زندگی میں پہلی بار ملے تھے مگر خوش گپیوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری برسوں سے ایک دوسرے سے شناسائی اور یارانہ ہو۔ کئی گھنٹوں کی رفاقت کے بعد ان خوبصورت لمحات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے ہوئے نشست برخاست کی۔ شدید تھکاوٹ کی وجہ سے ہم نے ہوٹل کا رخ کیا۔ ہوٹل میں کچھ دیر آرام کے بعد رات گئے ہم نے نیمارک ہوٹل سے پیدل مسافت طے کر کے ازبکستان کے ایک ریسٹورنٹ کا رخ کیا جہاں ازبک لغمن اور شاشلک (تکہ) کی لذّت کا حق الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔

روس میں آج ہمارا تیسرا دن تھا۔ ہم نے علی الصّبح نیمارک ہوٹل سے ناشتہ کرنے کے بعد فیئر بلڈنگ کا رُخ کیا۔ جہاں ہماری ملاقات پاکستانی وفد اور فیوچر ٹیم پاکستان کے روح رواں دانیال حیات سے ہوئی۔ موصوف با اخلاق اور اعلٰی ظرف شخصیت کے مالک ہیں اور درجنوں بار روس کا سفر کر چکے ہیں اور کئی پاکستانی وفود کی سربراہی کر چکے ہیں۔ پاکستانی وفد میں خواتین سمیت کئی نوعمر نوجوان حسین، احمد اور مدثر اشرف بھی شامل تھے۔ پاکستانی وفد کے ساتھ اگلے کئی روز تک یادگار رفاقت رہی اور پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نوجوانوں کا جذبہ دیکھ کر ہماری خوشی کا عالم دیدنی تھا۔

نیژنی نوووگورود میں آج ہمارا چوتھا دن تھا۔ فیئر بلڈنگ کے باہر ہم دھوپ سینکتے ہوئے کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ایک روسی دوشیزہ بجلی کی سی تیزی سے آئی اور بغلگیر ہوئی۔ غور سے دیکھا تو پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور یہ شناسا صورت دو ماہ قبل روس کے شہر اورنبرگ میں منعقدہ یوریشیا گلوبل کی ہماری اچھی دوست ساشا کی تھی۔ طویل گفتگو اور فیسٹیول میں وقت بتانے کے بعد ہم اور ساشا نے دریائے وولگا کی کشتی کے سفر کا پلان کیا۔ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہم دریائے وولگا کے کنارے کھڑے تھے۔ دریائے وولگا کے کنارے طویل واک کے بعد ہم نے کروز ٹرپ کے لیے کشتی کا رُخ کیا۔ ناؤ دریا کے پانیوں کے سُکوت کو توڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی اور بلندی پر کہیں کریملن کی عمارات قدیم ادوار کی شان و شوکت کی یاد دلاتی جلوہ افروز نظر آ رہی تھیں تو کہیں نظر کی آخری حد چکالوف سیڑھیوں اور شہر کی دیگر عمارات پر جا ٹھہرتی تھی۔ پانی کو چیرتی ہوئی کشتی کے سبب بننے والی لہروں کا فسوں ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور ہوا کے ٹھنڈے جھونکے گالوں کو چُھو کر گزر رہے تھے جبکہ دریا میں تیرتی کشتیوں کا نظارہ نہایت دلکش دکھائی دے رہا تھا۔ اس دریائی سفر میں ہمیں مستنصر حسین تارڑ کی ایک بات شدّت سے یاد آئی جس میں وہ کہتے ہیں کہ مالک نے چند منظر صرف آوارہ گردوں کے لئے تخلیق کیے ہیں اور کچھ ہوائیں صرف ان کے جسموں کو چھونے کے لئے بنائی ہیں جن کے دماغ میں آوارگی کا فتور ہوتا ہے کیونکہ دریائے وولگا جو یورپ کا سب سے بڑا اور سب سے طویل دریا ہے اس شہر کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ اسی دریا نے صدیوں سے اس شہر کی تجارتی اور معاشی اہمیت کو نمایاں رکھا ہے۔ رات گئے کاناوینو پُل پر بھی ساشا کی صحبت ساتھ رہی۔ جھلملاتی روشنیوں میں شہر ایک دلآویز منظر پیش کر رہا تھا اور ہم دلفریب کے نقوش دل و دماغ میں بسا کر رخصت ہوئے۔

روس میں قیام کے پانچویں روز جب ہم نے ہوٹل سے شہر کا رُخ کیا تو فضا میں ایک کہر آلود شگفتگی چھائی ہوئی تھی اور ٹھنڈی ہوا کے ہلکے جھونکے موسم کو مزید خوشگوار بنا رہے تھے۔ آج ہم نے اس شہر کے مشہور عجائب گھر اپارٹمنٹ آف میکسم گورکی کا رُخ کیا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں روسی ادیب میکسم گورکی 1902 ء سے 1904 ء تک اپنے خاندان کے ساتھ مقیم رہے۔ یہ اپارٹمنٹ انیسویں صدی کے وسط میں تعمیر شدہ ایک دلکش دو منزلہ عمارت میں واقع ہے جس میں پتھر اور لکڑی کی تعمیراتی خصوصیات نمایاں ہیں۔ یہاں گورکی کی تخلیقی زندگی کا ماحول آج بھی محفوظ ہے۔ انہوں نے ایٹ دی باٹم، سمر ریزیڈنٹس اور مدر (ماں ) کے ابتدائی مسودوں پر کام اسی عمارت میں کیا تھا۔ اصل فرنیچر، کتابیں، تصاویر اور ذاتی اشیاء یہاں محفوظ ہیں جنہیں دیکھ کر ایک لمحے کے انسان گورکی کی زندگی کے مختلف ادوار میں کھو جاتا ہے اور یہ عجائب گھر گورکی کی زندگی اور اُن کی تخلیقی و ذاتی زندگی کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔ یاد رہے کہ آج فیسٹیول کے شرکاء کے درمیان تحائف کے تبادلے کا دن تھا سو ہم نے فیسٹیول کی جائے اجتماع کی جانب جلد واپسی کی راہ لی۔ ہم پاکستان سے روسی دوستوں کے لیے کئی تحائف لے کر گئے تھے سو ان میں تقسیم کیے۔ اس دوران ہماری ملاقات دو مہینے قبل اورنبرگ میں بننے والی روسی خطے سکوف کی ہماری دوست ماریہ سے ہوئی۔ پیشے کے اعتبار سے یوتھ لیڈر اور انگریزی ٹیچر ہیں۔ نقش و نقوش میں جتنی خوش رو ہے اس کہیں زیادہ صاف و شفاف دل کی مالکہ ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنے خطے سکوف کی ٹریول گائیڈ بک، مقامی میٹھی روٹی (بریڈ) اور گرین ٹی کا تحفہ دیا۔ روسی نوجوان نسل کو دیکھ کر دل سے خوشی ہوتی ہے۔ ہنستے کھلکھلاتے چہرے اپنی منزل اور اپنے خوابوں کو پانے کی لگن میں مگن اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کی امنگ دل میں لیے سرگرداں نظر آتے ہیں ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ اعزازی طور پر بھی مقامی حکومتوں کے اقدامات میں بڑھ چڑھ کر ایسے حصہ لیتے ہیں جیسے انہیں کوئی معاوضہ دیا جا رہا ہو۔

آسمان پر دُور تلک جھومتے سیاہ بادل دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ آج ہم نے واپسی کے لیے رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ نیژنی نوووگورود سے ماسکو کی ٹرین تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں تھی اور گزشتہ سات دنوں کے زندگی سے بھرپور لمحات ہماری آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چل رہے تھے۔ اس شہر میں جب پہلی بار قدم رکھا تو ہمارے دل میں یہ ارمان تھا کہ اس شہر سے حسین یادوں کا پٹارا لیے جب رخصت ہوں تو اس کے گلی کوچوں اور تاریخی عمارات میں ہمارے قدموں کے نشان باقی رہیں اور اس شہر کی رومانی فضائیں اس بات کی گواہی دیں کہ پاکستان سے بھی ایک ایسے سیّاح نے یہاں کا رُخ کیا تھا جسے اس شہر کی خوبصورتی اور طلسماتی فسوں گری نے ایک عرصے تک زیرِ دام رکھا۔ سات دنوں میں جتنا ممکن ہو سکا اس نے جی بھر کے آوارہ گردی کی اور شہر کے بیچ چوراہے میں ایستادہ منین اور پوزارسکی کے مجسمے ہوں یا چکالوف سیڑھیاں، کریملن ہو یا بولشایا پوکرووسکایا اسٹریٹ، الیگزینڈر نیوسکی کیتھیڈرل ہو یا گورکی عجائب گھر، دریائے وولگا کی حَسین شامیں ہوں یا کاناوینو پُل کے رات کے پچھلے پہر روسی دوست ساشا کے ساتھ گزارے گئے خوبصورت لمحات۔ اس نے بھرپور کوشش کی کہ اس شہر کے قدرتی حُسن سے مزیّن مختلف مقامات، گلی کوچوں اور تاریخی عمارات کے در و دیوار کی سنائی جانے والی داستانوں کو سنے بغیر رخصت نہ ہو اور میکسم گورکی کے ان قدموں کے نشانات کو بھی کھوجنے کی کوشش کرے کہ جن گلی کوچوں میں لوگوں کی روز مرہ زندگی سے تحریک لے کر اس عظیم ادیب میکسم گورکی نے اعلیٰ پائے کا ادب تخلیق کیا تھا۔

یورپ کے سب سے بڑے اور سب سے طویل دریائے وولگا کا حَسیں منظر جو شہرکے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے
یورپ کے سب سے بڑے اور سب سے طویل دریائے وولگا کا حَسیں منظر جو شہرکے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے
ورلڈ یوتھ فیسٹیول اسمبلی کی اختتامی تقریب میں مختلف ممالک کے شرکاء رقص کرتے ہوئے
ورلڈ یوتھ فیسٹیول اسمبلی کی اختتامی تقریب میں مختلف ممالک کے شرکاء رقص کرتے ہوئے
میکسم گورگی کامجسمہ جس میں وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبے شہر کی جانب رخ کیے فکر کی گہرائیوں میں غلطاں ہیں۔
میکسم گورگی کامجسمہ جس میں وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبے شہر کی جانب رخ کیے فکر کی گہرائیوں میں غلطاں ہیں۔
کریملن میں موجود ایک چرچ کا حَسیں منظر۔
کریملن میں موجود ایک چرچ کا حَسیں منظر۔
کریملن کےسرخ اینٹوں سے بنے قدیم قلعہ کا ایک خوبصورت منظر
کریملن کےسرخ اینٹوں سے بنے قدیم قلعہ کا ایک خوبصورت منظر
کریملن قلعہ جواپنی بلند و بالا دیواروں میں صدیوں پرانی تاریخ سموئے جلوہ افروز ہے
کریملن قلعہ جواپنی بلند و بالا دیواروں میں صدیوں پرانی تاریخ سموئے جلوہ افروز ہے
شہر کی مشہورچکالوف سیڑھیوں کاایک دلآویز منظر۔
شہر کی مشہورچکالوف سیڑھیوں کاایک دلآویز منظر۔
شہر کے مشہور عجائب گھراپارٹمنٹ آف میکسم گورکی کا بیرونی منظر
شہر کے مشہور عجائب گھراپارٹمنٹ آف میکسم گورکی کا بیرونی منظر
شہر کے مشہور عجائب گھراپارٹمنٹ آف میکسم گورکی کے اندرونی احاطے کی ایک خوبصورت تصویر
شہر کے مشہور عجائب گھراپارٹمنٹ آف میکسم گورکی کے اندرونی احاطے کی ایک خوبصورت تصویر
شہر کے لینن اسکوائر کا ایک خوبصورت منظر
شہر کے لینن اسکوائر کا ایک خوبصورت منظر
روسی نائب وزیرِاعظم دمتری چرنیشینکو ورلڈ یوتھ فیسٹیول اسمبلی 2025 میں شرکت کے دوران اپنے تاثرات قلم بند کر رہے ہیں
روسی نائب وزیرِاعظم دمتری چرنیشینکو ورلڈ یوتھ فیسٹیول اسمبلی 2025 میں شرکت کے دوران اپنے تاثرات قلم بند کر رہے ہیں
اپارٹمنٹ آف میکسم گورکی عجائب گھر میں گورگی کی مطالعہ گاہ۔
اپارٹمنٹ آف میکسم گورکی عجائب گھر میں گورگی کی مطالعہ گاہ۔
رات کے پچھلے پہر نیژنی نووگورود فیئر بلڈنگ کا پُر کشش منظر۔
رات کے پچھلے پہر نیژنی نووگورود فیئر بلڈنگ کا پُر کشش منظر۔
دریائے اوکا کا ایک خوبصورت منظر۔
دریائے اوکا کا ایک خوبصورت منظر۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW