اٹلی میں پاکستانیوں کے خلاف ہنگامہ

کیمرے کے سامنے آنے کا شوق اور مقامی زبان سے نا واقفیت کا خمیازہ کیسے بھگتا جاتا ہے اگر اس کو دیکھنا ہے تو اٹلی کے شہر پورتو ماجیورے جہاں پر پاکستانیوں کی تعداد اب ایک تہائی ہو چکی ہے وہاں جا کر دیکھیں ایک ستر سالہ پاکستانی باریش بزرگ نے کیسے پورے اٹلی کی سیاست اور صحافت میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ بابا جی محمد اشرف کوایک اٹالین صحافی نے ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران پوچھا بابا جی آپ کیا کہتے ہیں کہ عورت کو آزاد ہونا چاہیے۔ وہ فرمانے لگے آزاد؟ یعنی گشتی۔ یہ مہذب ترجمہ کیا ہے میں نے۔ بس یہ ایک جملہ تھا کہ پورے اٹالین میڈیا پر پراپیگنڈہ کا سیلاب امڈ آیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ایک اطالوی پارلیمنٹرین اس بات کو باقاعدہ پارلیمنٹ میں جناب سپیکر کے سامنے لے گیا کہ ایک پاکستانی امام ہماری عورتوں کے بارے میں ایسے جذبات رکھتے ہیں۔ ایک طرف مقامی پاکستانی اس کی وضاحت دے رہے ہیں کہ یہ بابا جی امام مسجد نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ہماری کمیونٹی کے ترجمان ہیں تو دوسری جانب شہر میں ہنگامے کا عالم یہ ہے کہ شہر میں خواتین کی تنظیموں نے مظاہرے شروع کر دیے ہیں کہ ایسی سوچ رکھنے والوں کو اٹلی سے ملک بدر کیا جائے
اب بابا جی سب میڈیا کو وضاحتیں دے رہے ہیں۔ مجھے سوال کی ہی سمجھ نہیں آئی تھی۔ کہ پوچھا کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ پوری ویڈیو دیکھیں تو وہ ایک اطالوی خاتون صحافی کو بڑے شوق سے اپنے موبائل سے اپنی تصاویر دکھا رہے تھے۔ جب وہ اپنے الفاظ سے آزاد خواتین کو بد کردار کہہ رہے تھے اس وقت شاید وہ یہ بھول چکے تھے کہ وہ ایک با اختیار صحافی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ وہ اسے نہ صرف اپنی تصویریں دکھا رہے تھے بلکہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ وہ شہر کے میئر کے ساتھ بھی تصویر کھنچوا چکے ہیں۔ اور وہ تصویر بھی مسجد میں بنی ہوئی ہے۔ اگر آزاد عورتیں واقعی ان کی نظر میں بد کردار ہیں، تو ایک آزاد خاتون صحافی کو اپنی تصویریں کس نیت سے دکھا رہے تھے؟ کیا یہ گناہ نہیں تھا؟
بعد میں یہی صحافی اپنے پروگرام میں شہر کے میئر کو لائیو کال کرتی ہے اور کہتی ہے کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنواتے ہیں جو عورتوں کے بارے میں ایسے خیالات رکھتا ہے۔ اٹالین میئر بے چارہ خیر سگالی میں ہی رگڑا گیا۔ آئندہ وہ مسجد جانے سے پہلے یقیناً کئی بار سوچے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ آپ شاخوں کو جتنا مرضی کوس لیں، جب تک برائی کی جڑ کو نہیں پکڑیں گے، ایسے مسائل اٹھتے ہی رہیں گے۔ تو مسئلے کی بنیادی جڑ یہ ہے کہ ہم ایک ملٹی کلچرل معاشرے میں آ کر رہائش تو اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں مہنگی مسجدیں بھی بنا لیتے ہیں، لیکن وہاں اپنے امام کے طور پر ایسے شخص کا انتخاب کرتے ہیں جسے سماجیات، اخلاقیات اور عمرانیات کی الف بے تک کا علم نہیں ہوتا۔ جو آج کی دنیا سے ہزار سال پیچھے کھڑا ہے۔ یا پھر ہم مذہب سوشل میڈیا سے لیتے ہیں، ایسے مولوی، ایسے قاری سے جو کسی دوسرے نظریے والے کے سامنے کبھی بیٹھا تک نہیں۔
ہمارے ہاں ایسے مبلغین کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے دوسرے کے گھر بھیجنے کی تیاری شروع کر دینی چاہیے، کہ وہ انسان تھوڑی ہے جس کی اپنی مرضی، اپنی رائے یا اپنا مستقبل ہو سکتا ہے۔ ایسے مولوی کا کلپ وائرل ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ جو عورت شادی نہ کرے وہ ”پبلک پراپرٹی“ ہے۔ یا وہ جو کہتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے گھر سے نہیں نکل سکتی تو کیا ان کے مطابق اگر کسی عورت کا بھائی، شوہر یا باپ موجود نہ ہو تو وہ نہ جاب کر سکتی ہے، نہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے اور نہ سبزی لینے جا سکتی ہے؟ او ر پھر وہ مولوی بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ میں تمہاری چار چار سال کی چار بچیوں سے شادی کروا دوں گا۔ یعنی عورت صرف ایک آبجیکٹ ہی تو ہے۔
یہ ساری بچگانہ تشریحات آپ اٹلی جیسے ملک میں کیسے لاگو کریں گے، جہاں کی وزیراعظم جارجیا میلونی خود ایک عورت ہے اور وہ شادی شدہ بھی نہیں؟ اگر آپ اس کی چوائس کو ”بد کرداری“ کہتے ہیں تو آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ اسی عورت کے دستخطوں سے جاری شدہ قانون، صحت، روزگار اور ریاستی سہولتیں استعمال کرتے ہیں۔ آپ کے مولوی کی تشریح اس معاشرے کے لیے نہیں ہے۔ اگر آپ کو مسئلہ ہے تو یہاں سے کوچ کر جائیں۔ بلکہ اب تو آپ پنجاب بھی نہیں جا سکتے، وہاں بھی سربراہ ایک عورت ہے۔
اس شہر کی پاکستانی کمیونٹی اس معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلمان خواتین نے بڑے بھرپور طریقے سے مظاہروں میں شرکت کر کے اس غلط سوچ کی مذمت کی۔ لیکن پورے یورپ میں ہمیں اب ایک پالیسی بنانا ہو گی۔ ایسے مذہبی رہنما آگے لانے ہوں گے جو قرآن مجید کے اس حکم کی پیروی کریں کہ ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ“ (سورۃ النحل، آیت 125 ) ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
ہمارے لوگ معاشرے کی نزاکت نہیں سمجھ رہے۔ اٹالین میڈیا ان دنوں خوف اور نفرت کے جنون میں مبتلا ہے۔ روم میں مسلمانوں نے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی ہے، جس کو مسلمانوں کی پارٹی کا نام دیا ہے۔ یہ بھی عجیب ہی حرکت ہے۔ ایک متنوع معاشرے میں مشترکہ جدوجہد کا پیغام ہی قابل قبول ہوتا ہے۔ تقسیم قابل قبول نہیں ہوتی اسی لئے میڈیا اب پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ ”یہ لوگ روم پر قبضہ کرنے آرہے ہیں“ ، ”یہ شریعت نافذ کریں گے“ ، ”یہ عورتوں کی آزادی ختم کر دیں گے“ ۔
ایسے ماحول میں میری گزارش ہے کہ خدارا سنبھل جائیں۔ اپنی جہالت سے دوسروں کی زندگیاں عذاب نہ بنائیں۔ اپنے تنگ نظر خیالات اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والے مولوی کی تعلیمات اپنے تک ہی محدود رکھیں، ان کا برملا اظہار نہ کریں۔ اگر آپ کو دین کا فہم نہیں، تو منہ بند رکھیں۔ کیونکہ آپ کا ایک جاہلانہ بیان اسلام کے آفاقی پیغام کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ آپ دوسروں کے نظریات کو گالی دیں گے، تو بدلے میں وہ بھی آپ کی اقدار کو گالی دیں گے۔ میری اٹلی کی تمام تنظیموں سے درخواست ہے کہ مذہبی رواداری، اخلاقی اقدار اور مخالف نظریات کے احترام پر ورکشاپس کا اہتمام کریں۔ جس ملک میں رہتے ہیں، اس کے قوانین کا احترام کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ جاہل لوگ پاکستانیوں پر ویزوں کی پابندی لگوا کر ہی دم لیں گے۔
