بلاگ

عورت اور بدلتے معاشرتی پیمانے

Ali Abbas Kazmi Chakwal

یہ موضوع بظاہر بہت سادہ لگتا ہے لیکن اگر اس کی تہہ میں اترا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کی گہری جڑوں میں پیوست وہ تضادات آشکار کرتا ہے جنہوں نے عورت کی زندگی کو صدیوں سے دوہرے معیاروں سے باندھ رکھا ہے۔ ہمارے سماجی ڈھانچے میں مردانگی کی برتری اور خاندان کی نام نہاد عزت کو عورت کی ذاتی حیثیت پر ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے، اس فریم ورک میں بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں ایک ایسے گھومتے ہوئے چکر میں پھنس جاتی ہیں جو نہ صرف ان کی زندگی کو محدود کرتا ہے بلکہ ان کی ذہنی دنیا کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ شوہر کی موت ہو یا شادی کا ٹوٹ جانا۔

دونوں ہی واقعات اپنے اندر صدمے اور تکلیف کا پہاڑ رکھتے ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ عورت کس حادثے سے گزری، اصل درد اس وقت شروع ہوتا ہے جب معاشرے کی آنکھوں میں اس کے لیے مشکوک سوالات، غیر ضروری نگرانی، کردار پر تبصرے اور اس کی نجی زندگی میں دخل اندازی جیسے تیر ازخود چلنے لگتے ہیں۔ بیوہ عورت کے لیے اگرچہ معاشرہ کچھ لمحوں کے لیے افسوس کا اظہار ضرور کرتا ہے، لیکن اس افسوس کے پیچھے بھی ایک عجیب قسم کی سنسنی اور تجسس چھپا ہوتا ہے۔ وہ کیسے رہتی ہے، کیسے اٹھتی بیٹھتی ہے، کیا پہنتی ہے، کس سے بات کرتی ہے۔ یہ سب اس کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ محلے داروں کے ”اجتماعی تجزیے“ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر وہ سفید لباس پہن لے تو لوگ اسے بدشگونی کے طعنے دیتے ہیں، اور اگر رنگین کپڑے پہننے کی جسارت کر لے تو فوراً انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں کہ ”ابھی چند دن بھی نہیں گزرے اور دیکھو کیسے رنگ پہن لیے!“ یعنی عورت کے دکھ پر بھی لوگوں کی مرضی کا راج۔

دوسری طرف طلاق یافتہ عورت کی کہانی اس سے بھی زیادہ کڑوی اور تکلیف دہ ہے، کیونکہ معاشرہ اس کے ماتھے پر ”طلاق“ کا لفظ یوں چپکا دیتا ہے جیسے یہ کوئی جرم ہو، جیسے طلاق اس نے خوشی خوشی لی ہو، جیسے شادی کا ٹوٹ جانا صرف عورت کی غلطی ہوتی ہے، چاہے شوہر کا رویہ جتنا بھی ظالمانہ یا ناقابلِ برداشت کیوں نہ ہو۔ وہی عورت جب بچے کی پرورش کا بوجھ بھی اٹھا رہی ہو تو اس کا ہر قدم جیسے کڑی آزمائش سے گزرتا ہے۔ نہ اسے گھر میں سکون ملتا ہے، نہ باہر کی دنیا میں۔ لوگ اسے مضبوطی سے زیادہ ”بوجھ“ کے ترازو میں تولتے ہیں، اسے مشورے کم اور فتوے زیادہ ملتے ہیں، گویا وہ زندگی نہیں گزار رہی بلکہ کسی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہو۔ دوسری شادی کی بات آئے تو عورت سے زیادہ لوگ اس کے بچوں کو مسئلہ بنا دیتے ہیں، جیسے بچے اس عورت کا حصہ نہیں بلکہ اس کی سزا ہوں۔ ایسے میں اس کے دن تھکا دینے والے اور راتیں لمبی ہوتی چلی جاتی ہیں، مگر معاشرہ اسے مضبوط کہنے کے بجائے ہمیشہ مشکوک نگاہ سے دیکھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بیوہ کے دکھ کو تسلیم کر لیا جاتا ہے، جبکہ طلاق یافتہ عورت کا دکھ آج بھی معاشرتی تنگ نظری کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں، یہ کہاں سوچتے ہیں
(ساحر لدھیانوی)

پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں عورت کو بچپن ہی سے صبر، خاموشی، پردہ، برداشت اور فرمانبرداری کے اصولوں پر تربیت دی جاتی ہے، شوہر کی جدائی کے بعد اس پر پابندیوں کی یہ زنجیریں مزید سخت کر دی جاتی ہیں۔ بیوہ ہو یا طلاق یافتہ، دونوں ہی عورتوں کو اپنی زندگی نئے سرے سے سنوارنے، تعلیم حاصل کرنے، روزگار اختیار کرنے یا معاشی خود مختاری کی طرف بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ خاندانی دباؤ ان پر یوں حاوی رہتا ہے کہ وراثت جیسے بنیادی حق سے بھی دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اور یوں وہ وقتی مصیبت سے نکلنے کے بجائے دائمی مالی کمزوری میں دھکیل دی جاتی ہیں۔ معاشرے کا عجیب تضاد یہ بھی ہے کہ مرد طلاق کے بعد بلا جھجک دوسری شادی کر لیتا ہے، اس کے لیے کوئی سوال نہیں اٹھتا، مگر عورت اگر دوسری شادی کا تصور بھی کرے تو اسے جلدباز، خود غرض یا بدکردار قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ رویے مذہبی نہیں بلکہ خالصتاً کلچرل ہیں، کیونکہ اسلام نے عورت کو وراثت، نکاح، نان و نفقہ، عدت، بچوں کی سرپرستی اور دوسری شادی کے مکمل حقوق دیے ہیں، مگر ہمارا معاشرہ مذہب کے نام پر صرف انہی باتوں کو آگے بڑھاتا ہے جو مردانہ سوچ کے موافق ہوں۔

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
(ساحر لدھیانوی)

اسلامی تعلیمات میں بیوہ کی کفالت، اس کے مالی حق کی حفاظت اور اس کے دوبارہ نکاح کی حوصلہ افزائی موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں کئی بیوائیں تھیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ بیوہ ہونا عیب نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت ہے جسے وقار اور عزت کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح طلاق یافتہ عورت کے لیے عدت کے دوران مکمل مدد، اس کے فیصلوں کا احترام اور بچوں کی سرپرستی میں اس کی رائے کو مقدم رکھنے کا حکم موجود ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں مذہب کے بجائے رسموں اور پدرشاہی اقدار کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عورت کو بحیثیت فرد نہیں بلکہ صرف بحیثیت بیوی دیکھا جاتا ہے اور جب یہ نسبت ختم ہو جائے تو گویا عورت کا مقام بھی ختم سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں تنہائی، معاشی غیر یقینی، ذہنی دباؤ، کردار کشی اور سماجی بے اعتمادی کے طوفان میں گھری رہتی ہیں، حالانکہ اگر انہیں سہارا دیا جائے، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کی عزت نفس کو پہچانا جائے تو یہی عورتیں اپنے بچوں کے لیے مضبوط مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ خاندان اپنے رویوں کا احتساب کریں اور وراثت کو عورت کا جائز حق سمجھ کر دیں۔ اسے خود مختار ہونے دیا جائے، اس کے فیصلوں کا احترام کیا جائے اور کمیونٹی میں ایسے پلیٹ فارم بنائے جائیں جہاں بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کو ذہنی، اخلاقی اور مالی مدد مل سکے۔ مساجد میں خطبات کے ذریعے لوگوں کو بتانا ہو گا کہ کلچرل پابندیوں کو مذہبی اصول سمجھ کر عورت کی زندگی تنگ کرنا دراصل دین کی نہیں، جہالت کی علامت ہے۔ مرد حضرات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، انہیں بیوہ یا طلاق یافتہ عورت سے شادی کو معیوب نہیں بلکہ باعثِ اجر سمجھنا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بیواؤں کی کفالت کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ ہمارے معاشرے کو اپنی اجتماعی منافقت سے نکلنا ہو گا، عورت کو بوجھ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھنا ہو گا۔ اگر ہم بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کو جینے کا حق دیں گے، انہیں عزت، سہارا اور معاشرتی قبولیت فراہم کریں گے تو یہی عورتیں نہ صرف اپنا مستقبل بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد مضبوط کر سکتی ہیں۔ ورنہ نا انصافی، تنگ نظری اور دوہرا معیار ہماری اجتماعی تباہی کو مزید تیز کرتا رہے گا۔ آخر میں سوال صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس تبدیلی کے لیے تیار ہیں یا روایات کے بوجھ تلے دبے رہ کر ہمیشہ اسی اندھی تقلید میں زندگی گزارتے رہیں گے؟ وقت یقیناً بدل جاتا ہے مگر معاشرے صرف تب بنتے ہیں جب ذہن بدلے جائیں اور آج سب سے زیادہ ضرورت اسی ذہنی تبدیلی کی ہے تاکہ عورت کو وہ مقام دیا جا سکے جس کی وہ بحیثیت انسان حق دار ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Muhammad Asif Shahzad
Muhammad Asif Shahzad
8 months ago

زبردست اور بہترین لاجواب تحریر مرشد کامل زبردست جناب

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW