اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ اردو ادب کی دنیا میں شناخت کیوں نہیں ہے۔ اس کے لکھنے والوں کو وہ پذیرائی کیوں نہیں ملی جو دنیا کی دوسری زبانوں کے ادب اور ادیبوں کو ملتی ہے۔ جہاں تک میں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ دنیا بھر میں ادب اپنی نثری تخلیقات، اس کے تنوع اور بھر پور اظہار کی بدولت سفر کرتا ہے۔ ہمارے اپنے ملک میں نثر نگاروں کو اور خاص طور پر ناول اور افسانہ نگاروں کو پذیرائی نہیں ملتی تو بھلا دنیا میں کیسے ملے گی۔ ادبی لحاظ سے ہم مشاعرہ پرست قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ معذرت کے ساتھ کہ یہاں دو چار سطحی یا غیر ادبی زبان میں چالو قسم کی غزلیں کہہ کر اسٹیج مل جاتا ہے اور نو آموز شخص بلند پایہ شاعروں کے درمیان بٹھایا اور سنا جاتا ہے۔
دوسری طرف ایک افسانہ نگار کتنے بھی افسانے تخلیق کر لے، اسے پلیٹ فارم میسر نہیں آتا۔ جب وہ اپنی کوششوں سے کتاب چھپواتا ہے تو قاری میسر نہیں آتا۔ کسی چائے خانے کی فٹ پاتھ پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے، ہوا میں دھویں کے مرغولے بناتا ہوا بہ انداز جون ایلیا شعر سناتا ہوا متشاعر نکتہ رس سمجھا جاتا ہے، مگر سماجی زندگی سے جڑے ہوئے ان گنت مسائل و کشمکش کا ادراک رکھنے والا گھر کے کسی کونے میں کتابوں میں سر کھپاتا اور معاشرتی حقیقتوں کو آشکار کرتا ہوا افسانہ و ناول نگار سماج میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیا محض اس لئے کہ ہمارے خمیر میں کئی نسلوں سے شاعری کی نشو و نما کی گئی ہے۔ نہیں یہ بات محض اتنی سی نہیں ہے۔
2016 سے پہلے میں پاکستان میں ہی رہتا تھا اور وہاں کی ادبی و سماجی زندگی بسر کرتا تھا۔ تب بھی میں افسانے کی مجلسیں کم کم ہی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ اکثر ادبی نشستوں میں ایسے لوگوں کو شرکت کرتے دیکھا جو صرف اپنی غزل سنانے کے لئے آتے تھے۔ کبھی کبھی تو یہ بھی دیکھا کہ بعض شعراء قدرے تاخیر سے صرف اس لئے تشریف آتے کہ اکثر نشستوں میں افسانہ پہلے سنا جاتا تھا اور اس کے بعد مشاعرہ ہوتا تھا۔ بہت سے شاعر حضرات افسانے والے سیشن میں حصہ ہی نہیں لیتے تھے۔ میں ایسے سینئر شعراء کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے کبھی کسی افسانے یا نثر پارے پر گفتگو ہی نہیں کی۔ انہیں صرف اپنی غزل سنانے سے دلچسپی ہوا کرتی تھی۔
میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بہ نسبت افسانہ لکھنے کے شعر کہنا قدرے آسان ہے۔ افسانہ، ناول یا کوئی اور نثر پارہ تخلیق کرنے کے لئے بہت توجہ، مطالعہ، سماجی آگہی اور فکری تنوع درکار ہوتا ہے، جبکہ شاعری کے لئے ناکام عشق ہی کافی ہے۔
پاکستان میں رہتے ہوئے یہ سب دیکھنے اور اپنی ڈگر نہ چھوڑنے کے بعد جب میں امریکہ آیا تو کچھ اور حیرتیں منکشف ہوئیں جن کے بارے میں پہلے سے جاننے کے باوجود وہ میری توجہ کا مرکز کبھی نا تھیں۔ یہ تھیں شاعر بنانے کی فیکٹریاں۔ یہ بات تیس سال پہلے میرے مشاہدے میں اس وقت آنے لگی تھی کہ جب بیرون ملک مقیم اردو زبان بولنے والے شاعروں کی ایک کے بعد ایک کھیپ سامنے آنا شروع ہوئی۔ ان کی شاعری پر رسائل میں تبصرے شائع ہوتے بلکہ گوشے اور نمبر شائع ہوتے۔ ان کے شاعری کے مجموعوں کی تقاریب شہر میں بڑے اہتمام سے منعقد کی جاتیں۔ اور یہ بات اور مزید دلچسپ ہوجاتی جب شہر کے بڑے بڑے ادیب، نقاد اور دانشور ان تقاریب میں صدارت کرتے دکھائی دیتے۔ میری آنکھوں نے بعض سینئر شاعر اور اردو ادب کے پروفیسر حضرات کو بیرون ملک مقیم ان شاعر و شاعرات کو عہد حاضر کا غالب، فیض و اقبال قرار دیتے ہوئے بھی دیکھا۔ اب وہ سب کہنے والے اس دنیا میں نہیں ہیں اور جن کے بارے میں کہا گیا، وہ بھی کہاں اور کس حال میں ہیں، کچھ معلوم نہیں ہے۔
یہ بات تو ہم سب ہی جانتے تھے کہ اس تمام کرم فرمائی کے پیچھے ڈالر اور پونڈ ہوا کرتے تھے۔ انہی ڈالروں کے حصول کے لئے ایسے ایسے لوگوں کو شاعر بنایا گیا جن کی ادب سے کوئی وابستگی نہیں تھی۔ باقاعدہ ایک پیکیج کے ذریعے ان کی غزلیات کے مجموعے مرتب کیے جاتے، اشاعت و تقریب اجراء کا اہتمام کیا جاتا، تصویریں اخبارات و رسائل کی زینت بنتیں۔ یہ سب جاننے کے وجود جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ مجھے اس کاریگری سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اس دنیا میں ہمہ وقت ایسا بہت کچھ ہوتا رہتا ہے جسے سن کر ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں رہتے ہوئے میرے سامنے ادبی سطح پر برسوں ایسا ہوتا رہا۔ نشستوں میں اپنے ادیب دوستوں کے درمیان اس پر گفتگو بھی کرتے اور اکثر اس رجحان کی مذمت بھی کرتے لیکن کوئی خاص توجہ نہیں دیتے تھے۔ مگر 2016 کے بعد میں نے اسے قریب سے دیکھنا شروع کیا۔ کیوں کہ اب میں خود وہاں مقیم تھا جہاں ڈالر خرچ کرنے والے ادیب و شاعر حضرات رہتے ہیں۔
یہاں رہتے ہوئے بہت سے لوگوں سے ملا، بعض تقاریب میں شرکت بھی کی، لیکن اکثر گفتگو میں ادبی گہرائی اور خالص ادبی موضوعات کو نا پید ہی پایا ہے۔ ایسے حضرات کو بھی شعر پڑھتے ہوئے سنا جو شاعری کے رموز سے بھی واقف نہیں تھے۔ یوں بھی موجودہ غزل کا ایک بہت بڑا نقص یہ بھی ہے کہ اگر کسی کو ردیف و قافیہ فٹ کرنا آ گیا تو وہ غزل کہہ ڈالتا ہے۔ خیال کی گہرائی اور معنویت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
شکاگو میں رہتے ہوئے میں نے جاننے کی کوشش کی کہ ایسی نشستوں کا پتا چلے جہاں افسانے پر گفتگو ہوتی ہو، مگر میں ناکام رہا۔ یہاں رہتے ہوئے میں نے خود کو لکھنے لکھانے سے جوڑے رکھنے کے لئے جو کچھ کیا وہ ایک اور مضمون کا متقاضی ہے۔
ہیوسٹن منتقل ہونے کے بعد یہاں سنا کہ ادبی تنظیمیں خاصی سر گرم ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کو چلو یہاں نثر نگاری کا پلیٹ فارم میسر آئے گا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ یہاں بھی شاعروں، متشاعروں اور مشاعروں کی بہتات ہے۔ پاکستان سے اکثر شعراء یہاں آتے رہتے ہیں۔ اُن کی آمد کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے، کچھ تو خود ہی یہ فریضہ انجام دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی آمد اور دستیابی کی تاریخیں بیان کرتے ہیں۔ ان کے اعزاز میں یہاں سرگرم افراد تقاریب منعقد کرتے ہیں، مگر مجھے اس دن بہت دکھ ہوا جب بہت ہی معروف اور قابل قدر افسانہ نگار اخلاق احمد ہیوسٹن آئے اور کچھ دن یہاں قیام کیا، مگر کسی ادبی تنظیم نے ان کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد نہیں کی۔ کوئی افسانہ نہیں سنا گیا۔ میں کسی ادبی تنظیم کا رکن نہیں تھا، ورنہ میں یہ کر گزرتا، البتہ میں نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا اور ہم نے بہت سے افسوسناک پہلوؤں پر بات بھی کی۔ اس سے زیادہ دو افسانہ نگار کچھ کر نہیں سکتے تھے۔
ابھی کچھ دن پہلے ایک اردو کانفرنس کی خبر میری نظر سے گزری۔ دیکھ کر خوشی ہوئی اور دل میں خیال گزرا کہ مجھے اس میں نہ صرف شریک ہونا چاہیے بلکہ کسی بھی سطح پر حصہ بھی لینا چاہیے۔ مگر جب میری کانفرنس کے منتظم سے فون پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے یہ بتا کر میرے تجسس اور خواہش کی عمارت کو مسمار کر دیا کہ دو روزہ کانفرنس میں افسانے کا کوئی سیشن ہی نہیں ہے۔ میرے سوال کرنے پر بتایا کہ لوگ افسانہ سننے اور اس پر گفتگو کرنے ہی نہیں آتے۔ اس لئے ہم نے افسانے کا سیشن رکھا ہی نہیں ہے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ اگر میں اس میں آپ کے ساتھ شامل ہونا چاہوں تو انہوں نے بڑی رسانیت سے جواب دیا کہ پھر مجھے آپ کو اکاموڈیٹ کرنا ہو گا اور یہ میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ فون کی اس مختصر گفتگو کے اختتام پر میرے لئے ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہو گیا تھا کہ اگر منتظمین اردو زبان و ادب کی ایک اہم صنف کو جگہ دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں تو پھر اس ساری کارگزاری کا مقصد کیا ہے۔
یہ بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری اردو شاعری اور بالخصوص غزل، دوسری زبانیں بولنے والوں کے درمیان کوئی پہچان نہیں بنا سکتی۔ یہاں فکشن کتنا لکھا جاتا ہے اس کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ یہاں کی لائبریریوں میں فکشن کے شیلف کتابوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
افسوس ہمارے ہاں مشہور اور جلدی مشہور ہونے کی وبا پھیل چکی ہے۔ اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے بہت سے سینیئر اور جو نیئر شعراء اس وبا کو ہوا دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔


واہ زبردست امین الدین نےایک آفسوس ناک حقیقت کو بیان کیا ہے ییقینا” افسانے اور ناول کی طرف وہ توجہ نہیں دی جاتی میں نے اپنے روزانہ لائیو ٹاک شو” عامرفہیم شو” میں کہانی کی رات کے نام سے ڈول ڈالا جس میں تین افسانہ نگاروں سے ان کے افسانے سُنتے اور تبصرہ کرتے پہلے پہل زیادہ تعداد نہیں ہوتی تھی لیکن اب کہانی کی رات کا انتظار کیا جاتا ہےفویا ہم کوشش کریں تو ایسی محفلیں رواج پا سکتی ہیں
عامرفہیم