بلاگ

پاکستان پیپلز پارٹی کے اٹھاون برس

سیاست اصول، قربانی اور عوامی حاکمیت کی داستان

muhammad asad solangi

پاکستان کی سیاست میں بہت سی جماعتیں آئیں، کچھ مقبول ہوئیں، کچھ ماند پڑ گئیں، کچھ نے اقتدار دیکھا مگر عوام سے منہ موڑ لیا۔ مگر تاریخ کے سخت امتحانوں میں صرف وہی جماعتیں زندہ رہتی ہیں جن کا وجود محض کرسی سے نہیں، نظریے سے جڑا ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی انہی چند جماعتوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کا ہر باب جدوجہد، ہر سطر قربانی، اور ہر لفظ عوامی حقوق کی جنگ سے لکھا گیا ہے۔

58 برس پہلے جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، تو انہوں نے پاکستان میں پہلی بار طاقت کے سرچشمے کو محلّات سے نکال کر عوام کے ہاتھ میں رکھنے کی بات کی۔ انہوں نے ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کیا، اس سوچ کو توڑا کہ اقتدار چند خاندانوں کی وراثت ہے۔ بھٹو شہید نے یہ تصور دیا کہ پاکستان کا مستقبل وہی لکھے گا جس کے ہاتھ میں ہل، جس کی چھت پر پیاسا پنکھا، اور جس کے گھر میں رات کا اندھیرا ہے۔

یہ جماعت اسی دن عوام کی تھی، عوام کی ہے، اور عوام کی رہے گی۔
پیپلز پارٹی کے 58 سال محض سیاسی سال نہیں۔ یہ مسلسل مزاحمت کی شاندار مثال ہیں۔

آمریت کی کوڑے برساتی کوٹھڑیوں سے لے کر عدالتوں کی غیر عادلانہ سزاؤں تک، لیاقت باغ کے لہو سے گڑھی خدا بخش کی مٹی تک۔ ہر موڑ پر اس پارٹی نے یہ ثابت کیا کہ نظریہ جسم سے بڑا ہوتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جان دی مگر نظریہ نہ دیا۔
بینظیر بھٹو نے وطن لوٹ کر موت کو چیلنج کیا مگر عوام کو تنہا نہ چھوڑا۔
یہ قربانیاں آج بھی پیپلز پارٹی کو پاکستان کی واحد عوامی اور نظریاتی قوت بناتی ہیں۔

بے نظیر بھٹو شہید نے جب آمریت کی سیاہی میں جمہوریت کا چراغ جلایا تو یہ بتایا کہ قیادت تخت سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ وہ چلی گئیں مگر جمہوریت کی وہ روشنی آج بھی پاکستان کی سیاست کا واحد بڑا ستون ہے۔

آج قیادت بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو سیاست میں جدید سوچ، عالمی فہم اور عوامی درد کا مجموعہ ہے۔ بلاول بھٹو کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست کوئی وقتی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخی تسلسل ہے :

ذوالفقار علی بھٹو کی جرات،
بینظیر بھٹو کی استقامت،
آصف علی زرداری کی حکمت،
اور بلاول بھٹو کی تازہ وژنری سیاست۔
یہ سب مل کر پیپلز پارٹی کو آنے والے پاکستان کی سیاسی ریڑھ کی ہڈی بنا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سیاسی میراث صرف جذبات نہیں۔ کارکردگی کے سنگِ میل بھی ہیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، پارلیمان کی بالادستی۔ یہ سب اس بات کے ثبوت ہیں کہ یہ جماعت صرف نعرے نہیں لگاتی، عوام کے لیے فیصلے بھی کرتی ہے۔

پاکستان آج سیاسی تقسیم، معاشی بحران اور ادارہ جاتی کھینچا تانی کا شکار ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے 58 سال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کا نظام طاقت کے توازن پر نہیں بلکہ اصولوں پر کھڑا ہو۔

یہی اصول بھٹو نے دیے،
انہی اصولوں پر بینظیر نے جان دی،
انہی اصولوں کو بلاول بھٹو نئے دور کی سیاست کی زبان دے رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کا یومِ تاسیس صرف جشن نہیں۔ عہد کا تجدید نامہ ہے۔

یہ اس بات کا اعلان ہے کہ عوام کے حق، جمہوریت کی بقا اور پاکستان کی وحدت کے لیے یہ جماعت آج بھی وہی پہلی صف والی پارٹی ہے جو ہر قیمت پر اصول کی سیاست کرتی ہے، چاہے اس کے بدلے کنارہ کشی، مخالفت یا قربانی ہی کیوں نہ ملے۔

58 برس بعد بھی پیپلز پارٹی پاکستان کی وہ سیاسی دھڑکن ہے جسے کوئی غیر جمہوری سازش بند نہیں کر سکتی۔
کیونکہ یہ پارٹی نظریے سے بنی، قربانی سے پلی، اور عوام کے دلوں میں بسی ہے۔ اور دلوں سے نکالی نہیں

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW