
”ہوں! تو گویا تم موت کی وادی سے لوٹ کر آئی ہو؟“
راجشاہی پان پر ڈھیر سارا کتھا تھوپتے ہوئے اس نے یہ بات اس سے یوں پوچھی، جیسے وہ کرکٹ کا کوئی میچ دیکھ کر آئی ہو۔
وہ کرسی پر ٹھسے سے بیٹھی تھی، سامنے ڈیسک پر خالی جار کی شیشی میں روکھتو ریدی کی بیلیں سفید دھاگوں سے لپٹی بہت دور کھڑکی تک چلی گئی تھیں۔ پتہ بہار کی دو ٹہنیاں دوسری شیشی میں پڑی تھیں۔ اپلائیڈ سائیکلوجی کی چند کتابیں ڈیسک پر اِدھر اُدھر بکھری پڑی تھیں۔
تمباکو کو انڈیلنے کے بعد اس نے گلوری منہ میں رکھی اور اس کی طرف متوجہ ہوئی جو بستر پر اوندھی لیٹی اس کی ان حرکتوں کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
” ڈوب مرو کہیں۔ عورتوں کی طرح تمباکو کھاتی ہو۔ ہے کوئی لڑکی والی بات تم میں؟“ اس نے جل کر کہا۔
” میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔“
”مائی گاڈ! کمبخت! ذرا اپنے اندازِ استفسار کو تو دیکھ۔“
”دیکھو بھئی! سنجیدگی سے بتاؤ کہ اس نے تمہیں کیسے اُٹھایا؟ کہاں کہاں لے کر گیا، کیسا برتاؤ کیا؟“
”ہو تم پوری بدمعاش۔“
”تو تم مجھے اپنی شرافت کی داستان ہی سنا ڈالو۔“ اس نے عینک اتار کر میز پر رکھی اور بولی۔
اور سر کو تکیے میں گھساتے ہوئے اس نے جواباً کہا۔
” بی جہاں آرا! گلے پڑا ڈھول بجانا ہی پڑتا ہے، اب جب میں اس کی سپرداری میں تھی تو جو کچھ بھی بن پڑا اس نے میری جان بچانے کے لئے کیا۔“
”دیکھو! بچپن میں پڑھی بائبل کے ایک دو جملے یاد آئے ہیں لو تم بھی سنو!“
وہ تھوڑی دیر چپ رہی۔ چشمہ اٹھا کر دوبارہ لگاتے ہوئے بولی۔
”اور یسوع نے کہا اس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کرتا کہ اپنی جان تک اپنے دوستوں کے لئے خطرے میں ڈال دے۔ کہو کیا کہتی ہو؟“
”بھیجے میں عقل نہیں رہی، نفسیات پڑھتے پڑھتے قطعی آؤٹ ہو گئی ہو۔ چلو اٹھو! چائے پلاؤ۔“
اور عین اس وقت رقیہ زیب النساء چہرے پر ہلدی تھوپے، پیٹی کوٹ اور بغیر آستین کے بلاؤز میں اندر آئی۔
گڈ گاڈ! بنگال کی لڑکیوں کو ہلدی سے اتنا پریم کیوں ہے؟ بس رات ہوئی اور ان کے منہ پیلے ہوئے۔
” اے سومی! شلپی کا بابا کیا تمہارا لوکل گارجین ہے؟“
وہ بستر پر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔
” ہاں تمہیں کچھ اعتراض ہے؟“
اس نے مسکراتی آنکھوں سے اس نیم پاگل لڑکی کو دیکھا تھا۔
”مجھے تو نہیں ہاں وہ سلمیٰ بہت پریشان ہے۔“
”کیوں؟ سلمیٰ کو کیا تکلیف ہے؟“
جہاں آرا نے کپ اسے پکڑاتے ہوئے کہا۔
”رقیہ زیب النساء ان قصوں کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ بادل تمہیں کب پروپوز کر رہا ہے؟“
”ارے بادل! لعنت بھیجو اس پر۔ میں نے تو اسے ریجیکٹ کر دیا ہے۔“
اور گھونٹ گھونٹ چائے پیتی جہاں آرا کھلکھلا کر ہنسی اور اُردو میں اونچی آواز میں بولی۔
” جواب نہیں اس بانکی سجیلی نار کا۔“
اس کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔ کپ لرزا اور گرم گرم چائے اس کے ہاتھوں پر گر پڑی۔
”مار ڈالا ظالم۔“
اس نے ہاتھوں کو صاف کیا، ان پر برنول کی ہلکی سی تہہ لگائی اور بولی۔
” سنو رقیہ! بھئی خوبصورتی کو زنگ لگ جائے گا۔ شادی کر لو کہیں جلدی جلدی۔“
اور اس کے جانے کے بعد جہاں آرا نے اس سے پوچھا۔
” یہ چکر کیا ہے؟ کچھ بتاؤ بھی۔“
”ارے بی بی! چکر تو کچھ بھی نہیں۔ بس اسی احمق نے چکر بنا دیا ہے۔ ڈھاکہ کی ہائی کلاس سوسائٹی میں موو کرنے والا لڑکا اور شادی کرتا اس رقیہ زیب النساء سے کوئی تُک کی بات ہے۔“
”نیچے نہیں چلو گی؟ مجھے فون کرنا ہے۔“ اس نے پاؤں میں چپل پہنتے ہوئے کہا۔
”تم نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ چھپاتی ہو ہم سے۔ بتائے دیتے ہیں کہ محبت کر بیٹھی ہو۔“
”محبت اور شلپی سے؟ نہایت احمق ہو تم، نظریاتی اختلاف ہے۔ نظریاتی اختلاف میری جان! اس ملک کو بنانے میں میرے عزیزوں کا خون بہا۔ اس کی حفاظت کے لئے میرا سارا خاندان دفاع میں لڑ مر رہا ہے۔ ٹھیک ہے، اس نے میری جان بچائی، مجھے اس کی قدر ہے۔ پر اس سے زیادہ کچھ نہیں۔“
”یہ تم لوگوں میں کیا برائی ہے کہ سارا دفاع خود سے منسوب کرتے ہو اور مشرقی پاکستان کو قطعی نظر انداز کر جاتے ہو۔“ جہاں آرا نے لفٹ میں داخل ہو کر ایک تلے کا بٹن دبایا۔
”تم نے غلط سمجھا۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ مشرقی پاکستان کے نمایاں کردار ادا کرنے پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔“
”وہ سترہ دن ہماری قومی زندگی کے سنہری دن تھے۔ میں تو کہتی ہوں ایک بار اور لڑائی ہو جائے۔ سارے اختلافات خود ہی دھل جائیں گے۔“
اس کے لہجے میں بہت حسرت تھی۔
”ارے جہاں آرا! اب تو اختلاف دُھلتے نظر نہیں آتے، خود غرض لیڈروں نے بیڑا غرق کر دیا ہے۔“
”آڈیٹوریم میں لگے آٹومیٹک فون پر اس نے ڈھاکہ چھاؤنی میں میجر منور سے بات کی وہ ٹرنک کال یا وائرلیس پر اس کے گھر والوں کی خیریت دریافت کر کے اسے اطلاع دی۔ کینٹین میں بریانی کھاتے ہوئے اس کی نظر رقیہ ہال کی جی ایس پر پڑی جو لڑکیوں کے ایک گروہ میں کھڑی دھواں دھار باتیں کر رہی تھیں۔“
”ایسا نہیں ہو سکتا۔“ وہ جہاں آرا سے بولی تھی۔
چھاترو یونین کی اس مینن گروپ میں پھوٹ ڈلوا دیں، جی ایس اور وی پی اس بار الیکشن میں الٹ جائیں تو مزہ آ جائے۔ ”
”اسے الٹنا اتنا آسان سمجھ لیا ہے تم نے میری جان! یہ ہندو کی چہیتی ہے، خیال رکھنا۔“
اور جب وہ کھا پی کر باہر جانے لگیں۔ کینٹین کے دادو نے انہیں پکار کر کہا تھا۔
” اعطا آیا ہوا ہے، کیا کھاؤ گی نہیں۔“
”ارے کیوں نہیں کھائیں گے دادو!“
وہ اسے خریدنے کے لئے تیزی سے واپس پلٹی۔
اور جہاں آرا نے خود سے کہا تھا، اف توبہ کتنی چٹوری ہے!
باہر روشن انہیں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ مجھ پر ڈپریشن کا شدید دورہ پڑا ہے۔ موڈ ایک دم بیزار ہے۔ طبیعت گھومنے پھرنے کو چاہتی ہے۔
”تو پھر آج پرانے ڈھاکہ کی صحرا نوردی کریں؟“
اور اسی حالت میں وہ تینوں رکشے میں لد گئیں، اولڈ ڈھاکہ کی پیچ در پیچ گلیوں میں پھرتے ہوئے اسے یوں لگا جیسے تاریخ کے طاقچے میں سجی کتاب دھم سے سامنے آ پڑی ہے اور اوراق تیز ہوا سے پھڑپھڑانے لگے ہیں۔ کہیں کہیں اب بھی کسی گلی کو سجاتی ماضی کی کوئی حویلی جس کے روغن اترے وسیع چوبی دروازے اور کھڑکیاں، شکستہ حال بلند و بالا چبوترے، باہر سے اندر کا حال بتاتے اس وقت کتاب میں رکھے سوکھے پھول کی سی داستان سناتے نظر آتے تھے۔ ان گلیوں کے سینوں میں بنگال کے سلاطین کے بھاری بھرکم قدموں کی چاپ کہیں دفن ہو گی۔ ان فضاؤں میں مغل شاہوں کی عظمتوں اور جاہ و جلال کے عکس محفوظ ہوں گے۔ قلعہ لال باغ، کبھی یہ قلعہ اورنگ آباد تھا۔ جب قلعہ اورنگ آباد ہو گا تو فن تعمیر کا ایک نادر اور دل کش نمونہ ہو گا۔ اب قلعہ لال باغ ہے تو شکستہ پا۔ نام بدلنے کے ساتھ ساتھ صورت بھی بدل گئی ہے۔ اسے اورنگ زیب کے بیٹے شہزادہ اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔ بڑے سے بورڈ پر لکھے ہوئے تاریخی حوالے پڑھتے پڑھتے اس نے کتنی دیر لگا دی۔ اگلی دونوں بُرجیوں پر ایک حسرت زدہ نگاہ ڈالتے ہوئے وہ پلٹی۔ جہاں آرا ذرا دُور بکتے چنے خریدنے چلی گئی۔ روشن اور وہ قریب ہی پری بی بی کے مقبرے کی طرف بڑھ گئیں۔ شکست و ریخت سے دوچار نواب شائستہ خان کی دلاری بیٹی کا مزار۔
اندر اور باہر کی بند اور کھلی آنکھوں نے عروج اور زوال کے کتنے سلسلے پل جھپکتے میں دیکھ ڈالے تھے۔ صدر گھاٹ پر تو میلہ لگا ہوا تھا، پھلوں اور سبزیوں کے ڈھیروں پر غریب لوگوں کے جتھے خریداری میں مصروف تھے۔ صدر گھاٹ کے بازار اندر ہی اندر پھیلے ہوئے تھے جہاں ضرورت کی ہر چیز سستے داموں بکتی ہے۔ دفعتہ جہاں آرا نے انگشت شہادت سے ایک سمت اشارہ کیا۔ ”دیکھتی ہو اس طرف!“
اس کے نگاہیں اٹھانے پر مغلیہ طرز تعمیر کی چند عمارات بصارت میں آئیں۔ استفہامیہ انداز میں اس نے جہاں آرا کی طرف دیکھا۔
” ڈھاکہ کے نوابوں کی تاریخی عمارات ہیں۔ وہ احسن منزل ہے جہاں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
”تو پھر وہاں جانا لازم ہے۔“ اس نے گویا اعلان کیا۔
”نہیں! اس کی زیارت پھر کسی وقت پر اٹھا رکھو۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔“
روشن آگے بڑھنے کے قطعی موڈ میں نہیں تھی۔
” ہرگز نہیں، مائی گاڈ! کہیں یہ ممکن ہے کہ میں اس جگہ کو سلام کیے بغیر چلی جاؤں جہاں بنگال کے چند جیالوں نے آزادی کے اولین خواب کو تعبیر دینے کی پہلی کوشش کی۔“
”سنو! ماضی کو دہرانا چھوڑ دو۔ بنگال کو اب اپنے اس کردا ر پر بھی افسوس ہے۔“
جہاں آرا کی آنکھوں میں ننگے حقائق ناچ رہے تھے۔
پر اس جذباتی لڑکی کے لئے تو اب واپسی ممکن ہی نہیں تھی۔ بھاگنے لگی۔ بھاگتی گئی اور پھر جیسے وہ وسیع و عریض احسن منزل کے عین سامنے گھاس کے قطعے میں آ کھڑی ہوئی۔ شہ نشینوں، غلام گردشوں، برجیوں اور طویل برآمدوں والی عظیم الشان دو منزلہ احسن منزل جس کے گرد اس نے دیوانہ وار چکر لگایا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر آواز دے۔
”نواب سلیم اللہ! تم لوگ کہاں ہو؟ دیکھو تو سہی، تمہارے گھروں کی دیواروں پر پاکستان کاجو نقشہ تمہارے ہاتھوں نے بنایا تھا، وہ اب بدل رہا ہے۔ تم جیسی تاریخ کے دھارے کو بدلنے والی کوئی شخصیت اب بنگال میں کیوں پیدا نہیں ہو رہی؟“
پھر جیسے اُس کی آنکھوں سے ڈھیر سارے آنسو بہہ نکلے، جنہیں اپنے پلو سے صاف کرتے ہوئے وہ چپ چاپ گردن جھکائے افسردہ چال چلتی ان کے پاس آ گئی۔
پھر وہ ریز گھاٹ گئیں۔ یہاں دریا کے کنارے دو منزلہ بلبل اکیڈمی تھی۔ وہ اندر چلی گئیں۔ ٹھنڈے اور تاریک کمرے بھائیں بھائیں کر رہے تھے۔ ایک کمرے میں گٹار بج رہا تھا، بجانے والا بہت مہارت سے بجا رہا تھا۔ فرش پر بیٹھے چند لوگ سن رہے تھے۔
وہ تو خاصی محو ہو گئی۔ پر روشن جلد ہی انہیں وہاں سے گھسیٹ کر لے گئی۔
اور جب وہ واپس ہال آر ہی تھیں تو اس نے کہا۔
” چلو!“ مدھومیتا ”بنگالی فلم“ جیون تھیکے نیا ”دیکھنے چلتے ہیں۔ بہت شور ہے اس کا۔“
پر فلم دیکھ کر ڈپریشن کا وہ دورہ جو صرف روشن پر پڑا تھا، اب تینوں پر پڑ گیا، انٹرول میں ہی اٹھ بھاگیں۔
”دیکھو ذرا ان کی دیدہ دلیری! فلم بنانے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔“
”مارشل لا کا زمانہ ہے۔ سنسر بورڈ نے اسے پاس کیسے کر دیا؟“
جہاں آرا غصے سے چیخ رہی تھی۔
اور وہ گم صم رکشے کے ایک کونے میں گھسی صرف یہ سوچ رہی تھی۔
” کیا یہ واقعی غلام ہیں؟ اور مغربی پاکستان کی کالونی بنے ہوئے ہیں!“
(جاری ہے )
