ٹلہ جوگیاں : تاریخ، جوگ کی روایت اور خاموشی کی تہذیب
ٹلہ جوگیاں کی طرف سفر دراصل کسی مقام کی طرف نہیں، ایک تاریخی کیفیت کی طرف پیش قدمی ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں فاصلے میلوں سے نہیں، خاموشی کی تہوں سے ناپے جاتے ہیں۔ جہلم کے میدانوں سے نکلتے ہی راستے کا لہجہ بدلنے لگتا ہے، جیسے فطرت خود اپنی آواز آہستہ کر لیتی ہو۔ سڑک کے دونوں جانب پھیلے کھیت، بکھرے درخت، اور دور نیلگوں پہاڑوں کا دھندلا سایہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اب آدمی تاریخ کے اس حصے میں داخل ہو رہا ہے جہاں وقت نے رفتار کم کر دی ہے، اور ماضی کی یاد نے گہرائی اختیار کر لی ہے۔
اسی سفر میں دینہ آتا ہے سادہ، غیر نمائشی، مگر تہذیبی طور پر غیر معمولی شہر۔ یہی وہ جگہ ہے جس نے اردو شاعری کو گلزار جیسا لب و لہجہ دیا، ایسا لہجہ جس میں لفظ سے زیادہ وقفہ بولتا ہے، اور آواز سے زیادہ خاموشی گفتگو کرتی ہے۔ جہلم کے دریا کو دیکھتے ہوئے گلزار کا شعر محض یاد نہیں آتا، پورے منظر پر طاری ہو جاتا ہے :
ذِکر جہلم کا ہے، بات ہے دِینے کی
چاند پُکھراج کا، رات پشمینے کی
دینہ سے آگے راستہ قلعہ روہتاس کی طرف مڑتا ہے، اور یہاں آ کر زمین پر بچھے پتھر اچانک طاقت کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ بلند و بالا فصیلیں، بھاری دروازے، محدود داخلی راستے اور دور تک پھیلی لمبی دیواریں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ تاریخ صرف مراقبے اور تپسیا سے نہیں بنتی، بلکہ جنگ، سیاست اور خوف سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی میں اس قلعے کو اس ارادے سے تعمیر کروایا تھا کہ مغل بادشاہ ہمایوں کی واپسی کے راستے مسدود کیے جائیں۔ اسی روہتاس کے سائے میں ایک قدیم گردوارہ بھی موجود ہے اور یہ خاموش، کم توجہ یافتہ ہوتے ہوئے بھی اس خطے کی مشترکہ تہذیب کا گواہ ہے۔ یہ گردوارہ آج بھی جیسے آنے والوں کا منتظر ہے، بالکل ویسے ہی جیسے تاریخ خود چاہتی ہو کہ کوئی اسے سنے، سمجھے اور آگے بڑھائے۔
قلعہ، گردوارہ اور آگے جا کر ٹلہ جوگ کی پہاڑی، یہ تینوں مل کر اس سچ کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ یہاں مذہب کبھی محض شناخت نہیں تھا، محبت اور ہم آہنگی کا مکالمہ تھا اور طاقت کے سائے میں بھی روحانیت نے سانس لی ہے۔
روہتاس سے آگے سفر ایک اور رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ سڑک اب فصیلوں اور دروازوں سے نکل کر دیہات کی طرف بڑھتی ہے۔ چکیام، جنڈالہ، پنڈوری، چنہوٹ، کسیال، بنگیال، ڈھانگری اور بھیٹ گراں جیسے گاؤں راستے میں آتے ہیں۔ ایسے گاؤں جو آج بھی اپنی خوبصورتی، سادگی اور زندہ دلی کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ یہاں زندگی ابھی تک کسی حد تک اپنی اصل صورت میں موجود ہے۔ راستے میں مال مویشی آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں، کھیتوں میں کام کرتے لوگ، درختوں کے نیچے بیٹھے بزرگ، اور بچوں کی بے ساختہ آوازیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ شہروں کی طرف گاؤں کا مزاج ابھی پوری طرح نہیں بدلا۔
ان بستیوں کے لوگوں کے چہروں پر ایک ایسی مسکراہٹ ہے جو کسی دکھاوے کی محتاج نہیں ہے بلکہ وہ مسکراہٹ مطمئن ہونے کی علامت ہے اور کم وسائل مگر کشادہ دل کے ساتھ جینے کی علامت بھی ہے۔ یہاں زندگی اب بھی نسبتاً سادہ ہے، اور شاید اسی سادگی میں وہ وقار پوشیدہ ہے جو شہری زندگی میں بتدریج ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
بھیٹ گراں سے آگے ٹلہ جوگیاں کی طرف اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے پہاڑ پر چڑھائی ہے، پیدل جائیں تو قریب دو گھنٹے کا راستہ ہے۔ یہ راستہ اگرچہ جسمانی طور پر تھکا دینے والا ہے، مگر روحانی طور پر غیر معمولی طور پر کشادہ۔ خاموش درخت، ٹھنڈی ہوا اور قدم قدم پر بدلتا منظر آدمی کو تھکن سے زیادہ اپنے اندر اترنے کا موقع دیتا ہے۔ اب ایک متبادل راستہ موٹر سائیکل کے لیے بھی بنا دیا گیا ہے، جو سہولت تو فراہم کرتا ہے، مگر اس خاموش تدریجی چڑھائی کی اصل کیفیت کو کسی حد تک کم کر دیتا ہے۔
اوپر پہنچ کر منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ نمک کے پہاڑی سلسلے کا یہ بلند شاخہ، سطحِ سمندر سے قریب ایک ہزار میٹر بلند، صدیوں پرانے پتھروں اور درختوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ برصغیر کی روحانی تاریخ کا ایک گہرا باب ہے۔ روایت ہے کہ یہ جگہ بدھ عہد سے بھی پہلے مراقبے اور گوشہ نشینی کے لیے استعمال ہوتی رہی، اور بعد ازاں گورکھ ناتھ اور ناتھ پنتھ کے جوگیوں کا مرکز بنی۔
یہ ایک ٹیلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں صدیوں تک انسان نے خود کو جانچنے، توڑنے اور پھر نئے سرے سے جوڑنے کی کوشش کی۔
گورکھ ناتھ کی روایت کے مطابق جوگ ترکِ دنیا نہیں تھا، بلکہ دنیا کو اس کی اصل صورت میں دیکھنے کا ہنر تھا۔ دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کا ایک نرالا انداز تھا۔ جوگ لباس، جٹاؤں یا راکھ کا نام نہیں، بلکہ انا کو اتارنے، سانس کو ضبط میں رکھنے اور خاموشی میں خود سے ملاقات کرنے کا عمل تھا۔
گورکھ ناتھ کا نام ٹلہ جوگیاں کے ساتھ اس طرح جڑا ہے جیسے روح جسم کے ساتھ۔ گورکھ ناتھ کے کن پھٹے ہوئے جوگی اپنے پاؤں میں لامحدود سفر کی دھول لئے اس پورے خطے میں کئی زمانوں تک بھٹکتے رہے اور اندر کی امن اور شانتی کو تلاش کرتے رہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی نے بھی اپنی شاعری میں انھیں جوگیوں کے سفر کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
روایت ہے کہ اس کے بعد بال ناتھ نے یہاں طویل عرصہ قیام کیا اور اس مقام کو ایک منظم روحانی تجربہ گاہ میں بدل دیا۔ بال ناتھ کی نسبت سے یہ ٹیلہ صرف ایک تاریخی جگہ نہیں رہا بلکہ ایک راستہ بن گیا، ایسا راستہ جہاں سے گزرنے والا کچھ نہ کچھ چھوڑ کر جاتا اور کچھ نہ کچھ پا کر لوٹتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بابا نانک اور جوگیوں کے مکالمے تاریخ کا حصہ بنے۔ ایسے مکالمے جو مناظرہ نہیں تھے، تلاش تھے۔ بابا نانک نے یہاں چالیس دن قیام کیا اور پھر اپنی اگلی منزل کو روانہ ہوئے۔ یہی وہ ٹیلہ ہے جہاں رانجھے نے جوگ اختیار کیا، اور یہی جوگ وارث شاہ کی ہیر میں عشق، بغاوت اور باطن کی جستجو کی علامت بن گیا۔ یوں ٹلہ جوگیاں مذہب، تصوف، لوک روایت اور ادب سب کا مشترکہ حوالہ بن گیا، اور شاید اسی لیے کسی ایک شناخت میں قید نہ ہو سکا۔
مغلیہ دور میں بھی اس مقام کی روحانی اہمیت کم نہ ہوئی۔ روایت ہے کہ ہمایوں یہاں آ کر رکا، اور اکبر، اپنی تمام تر شاہی سلطنت کی طاقت کے باوجود، اس ٹیلے کی فقیرانہ خاموشی کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوا۔ شاید اسی ٹیلے نے بادشاہوں کو یہ سبق دیا کہ تخت و تاج عارضی ہیں، اور خاموشی کی سلطنت کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ مگر تاریخ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ خاموشی اور جوگ اور تپسیا کے ساتھ جنگ و جبر، ظلم و بربریت بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے جب پنجاب کو تہس نہس کیا تو ٹلہ جوگیاں بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آیا۔ خانقاہیں اجڑ گئیں، حجرے ویران ہو گئے، اور جوگی جان بچا کر منتشر ہو گئے۔ یوں یہ مقام ایک بار پھر خاموش ہوا مگر اس بار ویرانی کی خاموشی میں لمبے عرصے تک چپ سادھے بس پڑا رہا۔
انیسویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ٹلہ جوگیاں کو جزوی بحالی ملی۔ کچھ عمارات کی مرمت ہوئی، اور جوگیوں کی محدود واپسی بھی ہوئی، مگر وہ مرکز جو کبھی پورے برصغیر کے متلاشیوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا، مکمل طور پر دوبارہ زندہ نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود یہ جگہ کبھی خالی نہیں ہوئی۔ آج بھی شکستہ حجرے، ویران تالاب، اداس مندر اور خاموش راہداریاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہاں کبھی زندگی کی ایک اور ہی رفتار تھی۔
ٹلہ جوگیاں برصغیر کے ان نادر مقامات میں سے ہے جہاں تاریخ کو پڑھا نہیں جاتا، محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ جگہ نقشے پر ایک ٹیلہ ضرور ہے، مگر اپنے اندر صدیوں کی ریاضت، خاموشی، شکست و بحالی، اور انسانی باطن کی تلاش کی ایسی داستان سمیٹے ہوئے ہے جو کسی ایک مذہب، ایک عہد یا ایک سلطنت تک محدود نہیں۔
آج مگر ایک نئی تشویش اس خاموشی میں شامل ہو چکی ہے۔ ان دنوں ٹلہ جوگیاں میں مرمت اور بحالی کے نام پر کام جاری ہے، مگر یہ عمل اطمینان کے بجائے اضطراب پیدا کرتا ہے۔ ازسرِ نو تعمیر کے نام پر اس مقام کی اصل عمارات، تاریخی ساخت اور وقت کے نشانات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حفاظت کے نام پر وہ سب کچھ مٹا دیا جائے جو اس مقام کی روح کا حصہ ہے۔ ٹلہ جوگیاں کو مرمت سے زیادہ فہم کی ضرورت ہے، ایسی فہم جو شکستگی، خاموشی اور پرانے پن کو بھی ورثہ مان سکے۔
ٹلہ جوگیاں سے کھڑے ہو کر نگاہ دوڑائیں تو دور تک جہلم کے پہاڑ، گاؤں اور میدان ایک وسیع منظر میں سمٹ آتے ہیں۔ ٹلہ جوگیاں سے واپسی پر قدم نیچے کی سمت ہوتے ہیں، مگر دل وہیں رہ جاتا ہے۔ اس ٹیلے پر جہاں تاریخ شور نہیں مچاتی، جہاں سوال نہیں پوچھے جاتے، اور جہاں انسان، لمحہ بھر کے لیے ہی سہی، خود سے آ ملتا ہے۔
ٹلہ جوگیاں محض ماضی نہیں، ایک احساس ہے اور احساس کبھی کھنڈر نہیں ہوتے۔




