تعلیم پر اقلیت کی اجارہ داری
گٹن برگ کے چھاپہ خانہ کی ایجاد انسانی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس سے یہ امید بڑھی کہ تعلیم، جو اس وقت تک اشرافیہ اور مذہبی ان داتاؤں کی باندی تھی، اب عوام کو میسر آئے گی اور ان کی جہالت اور غربت کا مداوا کرے گی۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور ہوتا ہوا نظر بھی نہیں آ رہا۔
امریکی ماہر معیشت پروفیسر جیفری سیکس نے فریڈرک اینگلز کی شہرہ آفاق کتاب ”خاندان۔ ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز“ کے تاریخی مادیت کے فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کتاب ”عالمگیریت کا زمانہ“ میں واضح تاریخی حقائق کی بنیاد پر یہ بات ثابت کی ہے کہ تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اور تاریخی ضروریات کے پیش نظر انسان نے حروف تہجی اور اعداد کو ایجاد کیا۔ لیکن انسانیت کی وہ ایجاد جو تاریخی دھارے کو موڑ سکتی تھی اس پر اس وقت کی اشرافیہ اور مذہبی ان داتاؤں نے قبضہ کر لیا۔ اور عوام اس کے اکتساب سے محروم رہے۔ اپنی کتاب کے تاریخی مادیت کے استدلال کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ انسانی ضرورتوں کے ایک خاص موقع پر گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کر کے یہ امید دلائی کہ اب ”تعلیم سب کے لئے“ کا دور شروع ہوا جاتا ہے۔ جیفری سیکس جس چیز کا اپنی مخصوص علمی ساخت کی بنیاد پر ذکر نہیں کرتا وہ سماج کی طبقاتی ساخت ہے۔ سماج کی اس طبقاتی ساخت نے حروف تہجی اور اعداد کی ایجاد کو ایک مخصوص طبقہ کی جھولی میں ڈال دیا۔ اور پھر 15 صدی عیسوی کی چھاپہ خانہ کی ایجاد پر بھی اشرافیہ اور مذہبی ناخداؤں نے اپنی اجارہ داری قائم کر کے انسانیت کو اس کے فوائد سے محروم کر دیا۔
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنی تاریخی ضروریات اور تاریخی سوالات کی روشنی میں نت نئی ایجادات کرتا رہا ہے۔ اور یہ عمل آج بھی جاری و ساری ہے۔ اشرافیہ ہر نئی ایجاد کے میٹھے پھل پر قبضہ کر لیتی ہے اور عوام الناس کو صرف دو وقت کی روٹی یا اساطیری طفل تسلیوں تک محدود کر دیتی ہے۔
جب گٹن برگ نے چھاپہ خانہ ایجاد کیا تھا اس وقت دنیا میں مرکنٹائل ازم کا زمانہ تھا۔ اسے تجارت کا زمانہ بھی کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں فوجوں اور تجار کے کٹھ جوڑ سے تجارت پروان چڑھی۔ مرکنٹائل ازم کے بطن سے نوآبادیاتی نظام وجود پذیر ہوا۔ ان نوآبادیاتی طاقتوں نے اپنی کالونیوں میں مقامی آبادیوں کو تہ تیغ کیا اور ان کے وسائل لوٹ کر اپنے اپنے مادر وطن میں لے گئے۔ ہیگل کی جدلیات کے مطابق اس معاشی نظام کی کوکھ سے اس کے تضادات نے جنم لیا۔ کارل مارکس کے تاریخی جدلیات کے نظریہ کے مطابق یہ تضادات نئے نظام کو جگہ دیتے ہیں۔ اسی طرح ہوا اور ان تضادات سے ایک نیا نظام پروان چڑھا۔ جسے سرمایہ داری کا نام دیا گیا۔ سرمایہ داری کے سرخیل ماہر معیشت ایڈم اسمتھ نے مادی جدلیات کے فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے مرکنٹائل ازم کے تضادات کا حل اپنی کتاب ”قوموں کی دولت“ میں منڈی کی معیشت کے فلسفہ سے دیا۔ سرمایہ داری اور منڈی کی معیشت ایک ہی سکے کے دو نام ہیں۔ اس نظام نے آج پوری دنیا کو، بلا تخصیص ملک۔ مذہب اور علاقہ، اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس نظام کی بدولت جو ارتکاز دولت اور ارتکاز غربت ہوئی ہے اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس ارتکاز دولت کے چہرے سے نقاب نوچتے ہوئے ”ورلڈ ان ایکویلیٹی رپورٹ 2026“ نے بتایا ہے کہ دنیا کی 50 فیصد آبادی صرف 2 فیصد دولت کی مالک ہے جبکہ اوپری 10 فیصد کے پاس 75 فیصد دولت ہے۔ اسی طرح علاقائی ارتکاز دولت کو بے نقاب کرتے ہوئے یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا کے 6 خطوں میں اس 10 فیصد اشرافیہ کے پاس 70 فیصد یا اس سے زیادہ ارتکاز دولت ہے ماسوائے 2 خطوں کے۔ جن کی اشرافیہ کی دولت بھی 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
اسی طرح کی ایک رپورٹ ”ورلڈ ہیومن کیپیٹل ایکسپینڈیچر 2025“ اور بھارتی وغیرہم 2024 ء کے مطابق سب صحارا افریقہ ( 220 یورو فی طالب علم) ۔ جنوب و جنوب مشرقی ایشیا ( 593 یورو فی طالب علم) اور مڈل ایسٹ و نارتھ افریقہ ( 1444 یورو فی طالبعلم) اپنی اپنی پبلک تعلیم پر دنیا کے عمومی بینچ مارک ( 1642 یورو فی طالبعلم) سے کم خرچ کر رہے ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ اخراجات امریکہ و اوشیانیا ( 9025 یورو فی طالبعلم) اور یورپ ( 7433 یورو فیطالبعلم) کے خطوں میں کیے جا رہے ہیں۔ باقی کے تین خطے، لاطینی امریکہ ( 1823 یورو فی طالبعلم) ۔ روس و سنٹرل ایشیا ( 2518 یورو فی طالبعلم) اور مشرقی ایشیا ( 2942 یورو فی طالبعلم) عمومی بینچ مارک سے تھوڑا تھوڑا اوپر ہیں۔
یہ تعلیمی اخراجات ان ساختی محرکات کو مزید گہرا کرتے ہیں جو سرمایہ داری کا مطمح نظر ہے۔ یعنی طبقاتی سماج اور خطے تاکہ لوگوں کی محنت کو مستقل طور پر لوٹا جاتا رہے۔ اس سے غریب ممالک اور خطے فزیکل انفراسٹرکچر۔ لرنگ ریسورسز۔ ڈیجیٹل ریسورسز اور آرگنائزیشنل ریسورسز مہیا نہیں کر پاتے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی معیار پر فرق پڑتا ہے جو نئی طرح کے تعلیمی طبقات پیدا کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کا ”ڈیجیٹل انقلاب“ بھی اسی تاریخی نمونے کا اسیر ہے۔ یہ انقلاب جو ”علم سب کے لئے“ کا نیا وعدہ لے کر آیا تھا آج چند عالمی ٹیکنالوجی دیو قوتوں کی باندی بن چکا ہے۔ اس نئے علم کے دروازوں کی چابیاں انہی کے پاس ہیں۔ اور یہ کمپنیاں سامراجی مالیاتی سرمایہ کی ملکیت ہیں۔ انھوں نے غریب ممالک اور محروم طبقوں کے درمیان ایک ”ڈیجیٹل دیوار“ بنا دی ہے۔ جس سے تیز انٹرنیٹ۔ جدید آلات اور معیاری آن لائن تعلیمی مواد تک رسائی ایک مہنگا سودا بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی کا خواب مارکیٹ فورسز کے ہاتھوں اسیر ہو کر لرننگ پاورٹی کے اندھیروں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گٹن برگ کے چھاپہ خانہ سے جنم لینے والا عالمی خواندگی کا خواب سرمائے کی نظر ہو چکا ہے۔
مالیاتی ریسورسز کی کمی ٹیچرز کی ٹریننگ۔ ان کی تنخواہوں۔ غیر حاضری۔ اخلاقی گراوٹ اور بیگانگی کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ چیز ممالک کے اندر دیہی اور شہری۔ جنس۔ ذات پات۔ نسلی اور قومی تقسیم کو گہرا کرتی ہے۔ جس سے لا محالہ تعلیم کی مقدار اور معیار پر فرق پڑتا ہے۔ ورلڈ بنک کی 2022 کی ”لرننگ پاورٹی“ پر رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے اور طبقاتی تقسیم کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب صحارا کے بچوں میں لرننگ پاورٹی 86 فیصد ہے۔ جبکہ جنوبی ایشیا میں 59 فیصد اور لاطینی امریکہ میں 48 فیصد ہے۔ جبکہ امیر ملکوں میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ گویا مختلف انفراسٹرکچرز کی کمی ان کی ادراکی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ جس سے ہیومن کیپیٹل کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں جو اختراع اور پیداواری صلاحیتوں کو کھا جاتی ہیں۔ اس سے دنیا میں وہ پیداواری رشتے بنتے ہیں جو طبقاتی تقسیم کو مستقل برقرار رکھتے ہیں۔ انہی پیداواری رشتوں کی کھوج کارل مارکس نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”داس کیپیٹل“ میں لگائی۔ اور بتایا کہ یہ پیداواری رشتے کس طرح استحصال کو ممکن اور مستقل بناتے ہیں۔ اس طبقاتی ڈھانچہ اور تقسیم پر امریکی معیشت دان اور برنی سینڈر جیسے سیاست دان بھی بلبلا اٹھے ہیں کیونکہ یہ طبقاتی نظام صرف غریب ملکوں اور خطوں سے ہی لوٹ کھسوٹ کر کے انھیں مستقل غربت کی گہری کھائیوں میں نہیں دھکیل رہا بلکہ ان کے اپنے لوگوں کے منہ سے بھی نوالہ چھین رہا ہے۔ اس ساختیاتی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام میں گٹن برگ سے شروع ہو کر ڈیجیٹل دور تک ”تعلیم سب کے لئے“ کا وعدہ استحصال کی ایک نئی اور پیچیدہ شکل میں ڈھلتا ہوا نظر آتا ہے۔

