درج ذیل کہانی سر اینڈریو کلڈی کٹ ( 1884۔ 1951 ) کی کتاب Fires Burn Blue کی تیسری کہانی Grey Brothers سے ماخوذ ہے۔
خدا خدا کر کے ’کَرَن پور‘ کا ارضیاتی سروے مکمل ہوا جس میں واضح کیا گیا کہ پہاڑی علاقے کافی اور گرم مصالحوں کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔ سروے میں ایک حیرت انگیز بات بھی شامل تھی کہ اس جگہ ’نَوودّہ‘ کی وادی ایک ایسا مقام ہے جس کا سروے نہیں ہو سکا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم میں سے کوئی اِس جگہ نہیں جا سکتا۔ توہم پرستی کی داستانوں کے علاوہ بس اتنا ہی علم ہو سکا کہ دلدل، کھڑے پانی اور جنگلی بوٹیوں کے گلنے کی بدبو انسانی اور جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ انسان تو انسان کوئی چرند بھی اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔ اور اگر کوئی وہاں گیا تو واپس نہیں آ سکا سوائے ایک شخص کے جو نا صرف صحیح و سالم واپس آیا بلکہ اپنے ساتھ غیر مرئی طاقتیں بھی لایا۔ وہ ایک ہندوستانی سرکاری ملازم ’بھنور لعل‘ ہے جو نباتات اور حشرات جمع کر نے کا کام کرتا ہے۔ لہٰذا اگر ’نَوودّہ‘ کی وادی کا دوبارہ سروے کرانا مقصود ہو تو اُس شخص سے ضرور رابطہ قائم کیا جائے۔
…………………………
سروے رپورٹ بالآخر گورنر تک پہنچ گئی۔ اس ارضیاتی سروے کی تمام عرق ریزی اور معلومات ایک طرف اور یہ عجیب و غریب پراسرار اور طلسماتی شخص ’بھنور لعل‘ ایک طرف۔ مزید یہ کہ وہ سرکاری ریکارڈ جس میں بھنور سے متعلق معلومات تھیں کچھ عرصہ پہلے آتش زدگی کی نظر ہو گیا۔ بس یہ ہی معلوم ہو سکا کہ اس کی تعیناتی کَرَن پور کے میوزیم میں معاون محقق برائے علم الحشرات کے ہوئی تھی۔ بھنور لعل کا کام جنگلات سے مختلف حشرات کے نمونے زندہ یا مردہ مذکورہ میوزیم میں بھجوانا تھا۔ میوزیم کے کارکنوں نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ کَرَن پور میں اس کا کوئی دوست نہیں۔ جنگلوں اور بیابانوں میں رہنا مذاق نہیں لیکن بھنور لعل یہاں پھرتا رہتا اور میوزیم میں صرف تب آتا جب کوئی نایاب شے یا زہریلا نمونہ ہاتھ لگتا۔ ورنہ وہ اپنے راشن پانی کا انتظام وہیں سے کرتا اور سرکاری ڈاک کے ذریعے حشرات کے نمونے بھجواتا۔ اُس کے نمونوں میں مکڑیوں کی ایسی اقسام بھی ہوتیں جو اس سے پہلے کبھی کسی نے دیکھی نہ سُنیں۔ مگر پھر عجائب گھر کے ڈائریکٹر کو اطلاعات ملنے لگیں کہ اِس کے ساتھ مہمات پر جانے والا اسٹاف اور قلی ناخوش ہیں لہٰذا اس سلسلے میں کَرَن پور کے مہتمم کی سربراہی میں محکمہ جاتی انکوائری پہلے ہی چل رہی تھی۔
بھنور لعل کے خلاف انکوائری دو باتوں پر ہو رہی تھی۔ پہلی یہ کہ وہ حشرات الارض کی تمام تر تلاش ’نَوودّہ‘ کی وادی میں کرتا ہے جو پہلے ہی بیماریوں اور بھوت پریت کے لئے مشہور ہے۔ دوسری یہ کہ وادی میں حشرات کی تلاش خود کرتا ہے اور اس کے ماتحت اس کے حکم سے درخت کاٹ کر کُٹیا بناتے رہتے ہیں۔ اُسے اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھجوایا گیا اور ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم ہوا۔ اُس نے اپنی صفائی میں بتایا کہ ہر قسم کے حشرات کے لئے کَرَن پور اور اُس کے مضافات میں ’نَوودّہ‘ کی وادی سے زیادہ زرخیز کوئی اور جگہ نہیں۔ اسی لئے اُس نے اس وادی کا انتخاب کیا ہے۔ پھر اِن نمونوں کو موسموں سے بچانے کے لئے مناسب جگہ درکار ہے جس کے لئے اُس نے کُٹیا بنوائیں۔ انکوائری کرنے والا معقول افسر تھا۔ اُس نے تجویز پیش کی کہ خود بھنور لعل کے ساتھ ’نَوودّہ‘ جا کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہیے۔ جب یہ بات بھنور لعل کو بتائی گئی تو اُس نے کہا کہ یہ برسات کا موسم ہے آپ لوگوں کو مُشکل پیش آ سکتی ہے۔ واقعی انہیں دو راتیں بارش اور جونک زدہ جھاڑ جھنکاڑ میں رہنا پڑا اور دلدل میں بھی پھنسے۔ راستے میں ایسی چھوٹی خار دار جھاڑیاں ملیں جن کے کِیلوں کی مانند کانٹوں پر جوتوں کے ساتھ چلنا بھی عذاب تھا۔ لیکن تمام تکالیف کا ثمر انہیں اگلی صبح ایک اونچی جگہ پر بنائی ہوئی کُٹیا دیکھ کر مِل گیا۔
” آپ لوگ اور کیا اُمید کر رہے تھے؟“ حُجّت تمام کرتے ہوئے بھنور لعل نے ٹیم کے سربراہ سے پوچھا۔ ”جب بڑے حُجم کے نمونے آئیں گے تو یہ جگہ استعمال ہو گی“ ۔
” کس کے نمونے“ ٹیم کے سربراہ نے حیرت سے پوچھا۔
” ارے بھئی، مکڑیوں کے اور کِس کے۔ واپسی پر موقع ملا تو آپ کے سامنے پکڑوں گا“ ۔
…………………………
واپسی ایک مختلف راستے سے ہوئی اس لیے سفر دشوار نہیں رہا۔ ٹیم کے سربراہ کے سامنے ایک نافرمان اور سرکش ماتحت کا کیس تھا جو ذہنی مریض بھی تھا۔ یہ ایک اعلیٰ ظرف افسر تھا جسے بھنور لعل پر ترس آنے لگا۔ بے شک اس پورے علاقے میں ایسا محنتی کا رکُن نہیں تھا۔ بھنور لعل ایک عجیب و غریب کیس تھا۔ اُس کے تمام ماتحت اور ساتھی جنہوں نے اُس کے ساتھ مہمات میں شرکت کی، اس بات کے گواہ تھے کہ موصوف کو کبھی ملیریا نہیں ہوا۔ جب کہ اُس کے ساتھ جانے والے سب کے سب اس کا شکار ہو چکے تھے۔ اس کے ساتھیوں، کرن پور اور اُس کے مضافات میں رہنے والوں کو یقین تھا کہ اس کے پاس کوئی مافوق الفطرت طاقت ہے۔ بہرحال طے ہوا کہ واپس پہنچ کر بھنور لعل کا مکمل ڈاکٹری معائنہ کروایا جائے۔
یہ بھی خوب رہی کہ بھنور کے بجائے ٹیم کے سربراہ کو پہنچتے ہی اپنا علاج کرانا پڑا۔ وہ اور اُس کی پوری ٹیم کو ملیریا ہو گیا اور اتنا بھی موقع نہ ملا کہ وہ اپنے اس سفر کی باضابطہ رپورٹ اعلیٰ حکام کو دے سکیں۔ حالت بہتر ہونے پر جب ٹیم کا سربراہ اپنے دفتر گیا تو اُس کے نام بھنور لعل کا خط تھا۔
ڈائریکٹر میوزیمز
میں نے اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہٰذا ایک مہینے کی تنخواہ واپس کرنے کا پابند ہوں۔ اِس ضمن میں اپریل کے مہینے کی تنخواہ کا چیک لوٹا رہا ہوں۔
بھنور لعل، بتاریخ 5 مئی، 1897
کَرَن پور میں کوئی بھی نہ بتا سکا کہ استعفیٰ کے بعد بھنور لعل کہاں گیا۔ بس اتنا علم ہوا کہ وہ کَرَن پور سے باہر نہیں گیا۔ مہینے بعد اطلاع ملی کہ اسے نوودہ کے قریب ”کِچُوبہ“ کی ایک دُکان پر دیکھا گیا ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا کہ وہ اپنی کُٹیا میں ہے۔ ڈائریکٹر نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے پولیس کمشنر کو اُس کی ذہنی کیفیت اور موجودہ دیکھے جانے والے مقام کی نشاندہی کروا دی۔
کچوبہ، نوودہ کی وادی کے مغرب میں پہاڑی گاؤں تھا جس میں جھیل بھی تھی۔ ماہرین نے اس سروے کی بنیاد پر منصوبہ بنایا کہ زراعت کے لیے جھیل کے پانی کی ترسیل سُرنگوں کے ذریعے کی جائے۔ طے ہوا کہ آدھی رقم سرکار اور آدھی کمپنی برداشت کرے، جس کو 99 سال کے پٹے پر یہ علاقہ دیا جا رہا تھا۔ باقی علاقوں میں تو کچھ نہ کچھ آبادی تھی لیکن وادی نوودہ میں تو صرف ایک ہی شخص تھا جو کل تک تاجِ برطانیہ کے تحت تھا اب وہ ایک کمپنی کی نجی ملکیت میں رہ رہا تھا۔
بھنور لعل کی یہاں سے بیدخلی کی شاید ضرورت پیش نہ آتی اگر اُس کی ساکھ رُکاوٹ نہ بنتی۔ لوگوں کی اکثریت اُسے پراسرار قوتوں والا مانتی۔ وہ ایک ایسے مقام پر رہ رہا تھا جہاں جانے والا کبھی واپس نہ آیا۔ گورے مہم جو، اپنے پیش روؤں کا کھوج لگانے گئے لیکن خود گُم ہو گئے۔ لوگوں نے بتایا کہ بھنور کے کپڑے چیتھڑے ہو رہے تھے۔ داڑھی اور سر کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے اور وہ ننگے پاؤں تھا۔ اُس نے کسی سے دعا سلام نہیں لی۔ انتہائی ضرورت کی چند چیزیں اُٹھائیں اور جانے لگا۔ پہلے دو ایک دفعہ مارے خوف کے دُکاندار بولا نہیں تھا لیکن اب کی دفعہ اُس کو دیکھتے ہی پہلے پیسوں کا مطالبہ کیا، اس پر بھنور لعل نے اپنے جسم اور ہاتھوں کو زمین سے رگڑا اور ایک دم مکڑی کی طرح چل کر اپنے منہ سے سُرمئی رنگ کا لیس دار مواد پچکاری کی صورت دُکاندار کی جانب پھینکا۔ دُکاندار اور وہاں موجود لوگوں کو یقین ہو گیا کہ بھنور لعل کے پاس یقیناً شیطانی قوتیں ہیں۔ اس وجہ سے بھنور لعل پریشانی کا باعث بن رہا تھا۔ سُرنگوں کی تعمیر کے لئے کچوبہ کے مقامیوں کو بلایا گیا تو کہا گیا کہ جب تک بھنور لعل اس علاقے میں ہے کوئی مرد و زن نہیں جائے گا۔ قانونی تقاضے کے تحت بھنور لعل کو بے دخلی کا نوٹس بھجوانا تھا۔ لیکن نوٹس کون لے کر جائے؟ طے پایا کہ ڈھنڈورچی سے با آوازِ بُلند اِس کی بیدخلی کا اعلان کرایا جائے اور ایک نوٹس اس دُکان پر چسپاں کیا جائے جہاں بھنور لعل کھانے پینے کی چیزیں لینے آتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ ایک ہفتے بعد بھنور لعل دُکان پر آیا۔ جب اُس کی نظر نوٹس پر پڑی تو اُس کی بھنویں تَن گئیں۔ اُس نے نوٹس کو اُتار کر پھاڑا اور دُکان سے کاغذ قلم لے کر کھڑے کھڑے لکھنا شروع کیا۔
پولیس کمشنر کے لئے۔
” میں بھنور لعل نوودہ کا بادشاہ ہوں۔ یہاں کی وادیوں اور گھاٹیوں میں جو کچھ ہے میں اُس پر حکمران ہوں۔ کَرَن پور کے گورنر نے ہمیں اپنے تخت و سلطنت چھوڑنے کو کہا ہے جس سے ہم انکار کرتے ہیں۔ ہم یہاں اپنی سلطنت اور حکمرانی قائم رکھیں گے۔ اگر اُس نے بزور قوت ہم سے ہماری سلطنت چھین کر بیدخلی کرنا چاہی تو پھر اُس سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نِبٹا جائے گا“ ۔
بھنور لعل
…………………………
یہ جواب حکام تک پہنچ گیا۔ بات اوپر پہنچانی ضروری تھی۔ پولیس کمشنر اور چیف سیکریٹری سر جوڑ کر بیٹھے کہ جب تک ہم بھنور لعل کو اپنی تحویل میں نہیں لیتے گورنر کو یہ بات نہ بتائی جائے۔ کیوں کہ مسئلہ نوٹس کی تعمیل کا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ایک چار رُکنی ٹیم بنائی جائے جو بھنور لعل کو بہلا پھُسلا کر کَرن پُور لے آئے اور اس کا جسمانی اور ذہنی علاج کرایا جائے۔ نوٹس کا جواب اُس کی ذہنی علالت کی نشاندہی کر رہا تھا۔ ٹیم کا پہلا رُکن مجسٹریٹ، دوسرا ڈاکٹر، تیسرا پولیس افسر اور چوتھا ارضیاتی سروے کا ایک کارکُن تھا۔
سفر پر نکلنے سے پہلے ڈاکٹر کے علاوہ تینوں ارکان بھنور لعل کو پکڑنے کے منصوبے بنانے لگے۔ ڈاکٹر کافی دیر تو وہ خاموشی سے بیٹھ سنتا رہا پھر رہ نہ سکا۔ کہنے لگا ”آپ ایک کمزور اور ناتواں شخص کے لئے پریشان ہیں جو رپورٹوں کے مطابق چلتے ہوئے لڑکھڑاتا ہے۔ اُمید ہے ہم آسانی سے اُس تک پہنچ جائیں گے اور بہتر ہے کہ شام کے وقت اُس کی کُٹیا میں پہنچیں۔ شام کو سردی بڑھ جاتی ہے اور وہ کمزوری کی وجہ سے شام کو باہر نہیں نکلتا ہو گا۔ اُس سے زیادہ اپنی فکر کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خود نمونیا یا ملیریا کا شکار ہو جائیں“ ۔
…………………………
اگلے دِن وہ لوگ کچوبہ پہنچ گئے اور جنگل کے راستے نوودہ وادی کی طرف چلے۔ 5 بجے تک وہ ایک ایسی جگہ پر تھے جہاں سے اونچائی پر کُٹیا دکھائی دی۔ سورج کی تِرچھی شعاعوں نے ہر ایک چیز کے سائے مہیب کر دیے تھے۔ چاروں افراد کُٹیا کے قریب آ گئے۔ اچانک دھاتی گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔ آواز کے ساتھ ہی بھنور لعل کُٹیا کے دروازے پر نمودار ہوا۔ اُلجھے بال، پھٹے کپڑے اور کاندھے پر ایک بوسیدہ کمبل لٹک رہا تھا۔ ایک دُبلی پتلی کالی بلی اس کے قدموں میں لوٹ رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ لنگڑاتا ہوا کنارے پر آیا اور کوئی منتر پڑھنے لگا۔ پھر بلند آواز میں کہنے لگا۔
” مجھے سفید فام لوگوں کی بو آ رہی ہے“ ۔
مجسٹریٹ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور بلند آواز سے کہا۔
” ہاں یہ ہم ہیں۔ کیا تمہارے پاس آ جائیں؟“
بھنور لعل کے چہرے پر ایک طنزیہ مُسکراہٹ اُبھری اور اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اوپر پہنچ کر ڈاکٹر نے نرم لہجے میں کہا۔
” بھنور لعل، تم بہت بیمار ہو۔ میں ڈاکٹر ہوں اور ہم تمہیں لینے آئے ہیں تا کہ کَرَن پُور میں تمہارا علاج کرائیں“ ۔
بھنور لعل ہنسا۔ ”میں ضرور جاؤں گا مگر شاید تم سب نہ جا سکو۔ میرے بھوکے“ بھائی ”تمہارے منتظر ہیں“ ۔
” کون بھائی؟“ پولیس کمشنر نے فوراً پوچھا۔
” سُرمئی مکڑیاں“ بھنور لعل آہستہ سے بولا ”آؤ میرے ساتھ“ ۔
وہ چاروں بھنور لعل کے پیچھے کُٹیا میں داخل ہو گئے۔ کمرے کے درمیان چند لکڑیاں سُلگ رہی تھیں اور ایک طرف گھاس پھونس کا بستر بنا ہوا تھا۔ یہ ہی کمرے کی کُل متاع تھی۔ ایک دیوار میں بند دروازہ تھا۔ پورا کمرہ دھوئیں سے بھرا تھا۔ بھنور لعل سیدھا بند دروازے کی طرف گیا۔ اُسے کھولا اور ہٹ کر انہیں اندر آنے کی دعوت دی۔
” آؤ میرے بھائیوں سے ملو“ ۔
کمرے میں کوئی روزن نہیں تھا۔ اندر ملگجا اندھیرا تھا۔ انہوں نے دو بڑی موم بتیاں روشن کیں۔ پولیس افسر اور سروے کارُکن بتیاں پکڑے آگے تھے پھر مجسٹریٹ اور آخر میں ڈاکٹر کمرے کی طرف بڑھے جبکہ بھنور لعل ایک طرف کھڑا رہا۔ اندر کے منظر نے انہیں مبہوت کر دیا۔ کمرے کے فرش پر ہر طرف ناریل کی جسامت برابر مکڑیاں موجود تھیں جن کی سُرمئی ٹانگیں بالوں سے بھری ہوئی تھیں۔ پولیس افسر سمیت مجسٹریٹ اور سروے کارکن کے دل اُچھل کر حلق میں آ گئے۔ جبکہ ڈاکٹر نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظریں بھنور لعل سے نہیں ہٹائیں نہ ہی کمرے میں جھانکا۔ ڈاکٹر پوری توجہ سے اُس کا جائزہ لے رہا تھا۔ اسی دوران بھنور لعل نے جھُک کر فرش سے بُغدا اُٹھایا۔ وہ بُغدا ہاتھ میں لئے سیدھا ہوا ہی تھا کہ کٹیا کے دروازے سے ایک چوہا اور اُس کے پیچھے وہی مَریل کالی بلی اندر داخل ہوئے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے سیدھا دوسرے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ دونوں مکڑیوں کو پھلانگتے ہوئے دوبارہ دروازے سے باہر آئے تو بھنور لعل کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔ آنکھیں باہر اُبل آئیں۔ وہ چیختا ہوا آگے بڑھا اور بلی کو دبوچ لیا۔ اس چیخ پکار نے تینوں افراد کا ’طلسم‘ توڑ دیا۔ وہ ہوش میں آئے تو دیکھا کہ کہ کمرے میں مکڑیاں لڑھکی ہوئی ہیں اور ٹانگیں ہوا میں جھول رہی ہیں۔ اور وہ واقعی ناریل ہیں۔
…………………………
ڈاکٹر تیزی سے آگے بڑھا اور بھنور لعل کو پُشت کی طرف سے قابو کرنے لگا۔ ٹیم کے ارکان بھی لپک کر آئے۔ ایک نے اس سے چیختی ہوئی بلی چھینی۔ اسی وقت بھنور لعل ڈاکٹر کے بازوؤں میں جھول گیا۔ ڈاکٹر نے اسے فوراً زمین پر لٹایا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا، دل کا دورہ پڑنے سے بھنور لعل کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ بھنور لعل کی لاش دیوار کے ساتھ لِٹا کر کمبل سے ڈھانپ دی اور وہ چاروں گھاس پھونس کے بستر پر بیٹھ گئے۔ فیصلہ ہوا کہ صبح لاش کَرَن پُور لے جا کر گاؤں والوں کو اطمینان دلایا جائے کہ واقعی نوودہ کی وادی خالی ہو چکی ہے۔
” بھنور لعل کی ذہنی حالت میں کوئی شک نہیں رہا۔ وہ ناریل سے مکڑیاں بنا بنا کر ایک خیالی دنیا میں رہ رہا تھا۔ اس کے مرنے سے قصہ ختم ہو گیا ہے۔ اب گاؤں کے لوگ حکومت کی مدد کے لئے تیار ہوں گے“ ۔ ڈاکٹر نے حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا۔
پو پھٹے انہوں نے لکڑیوں کی مدد سے ایک اسٹریچر تیار کیا۔ لاش اسٹریچر پر ڈالی اور جب وہ گاؤں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا۔ گاؤں والوں کو قصہ سنا کر وہ لاش سمیت کَرَن پُور روانہ ہو گئے۔
لاش مُردہ خانے میں جمع کروا کر انہوں نے چیف سیکریٹری کو رپورٹ پیش کی جس نے اگلے دن چاروں کو بلوا بھیجا۔
” گورنر تمہاری کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے خصوصی انعام بھجوایا ہے اور ایک پیغام بھی کہ ڈائریکٹر میوزیم نے گورنر کو ایک قدیم مجلد رپورٹ بھجوائی ہے جس کا صفحہ نمبر 37 آپ لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہو گا۔“ ۔ چیف نے ان چاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
” آپ لوگ ابھی گورنر کے دفتر چلے جائیں۔ اُنہوں نے یہ مجلد رپورٹ انتظار گاہ کی میز پر رکھوائی ہے۔ گورنر مصروف ہیں لہٰذا آپ لوگ سیدھا وہیں چلے جائیں“ ۔
وہ چاروں انتظار گاہ پہنچے جہاں ایک میز پر بوسیدہ کتاب موجود تھی۔ اُس کی موٹی لال جلد پر جگہ جگہ سوراخ تھے۔ گورے مجسٹریٹ نے کتاب اُٹھائی۔ صفحہ 37 کھولا۔ سامنے ہی جلی حروف میں لکھا تھا۔ ”سُرمئی مکڑی“ ۔ عنوان دیکھتے ہی سب کے سب کتاب پر جھُک گئے۔ عنوان کے بعد یہ تحریر تھی۔
”کل ہی ہمارے پاس سرمئی مکڑی کے کچھ ’اجزا‘ آئے۔ مقامی لوگ اسے آدم خور مکڑی کہتے ہیں۔ جب اِن اجزا کو جوڑا گیا تو وہ اتنی بڑی مکڑی بن گئی جو اس پورے علاقے میں کبھی نہیں دیکھی گئی“ ۔
اچانک کتاب مجسٹریٹ کے ہاتھ سے نیچے گر گئی۔ ہاتھ اُٹھے کا اُٹھا رہ گیا۔ اُس نے چیخنا چاہا مگر آواز اس کے حلق سے نہ نکلی۔ وہ کٹے ہوئے شہتیر کی طرح نیچے گر گیا۔ ایک مکڑی اُس کے بازو پر رینگ رہی تھی اور لال جلد کے سوراخوں سے کئی ایک مکڑیاں رینگتی ہوئی باقی تینوں کے جوتوں اور لباس پر چڑھ رہی تھیں۔ جن کی ٹانگوں پر باریک باریک سرمئی بال روشنی میں چمک رہے تھے۔






