زندگی اور ادب کا بھی آپس میں ایک عجیب تعلق ہے، دونوں ایک دوسرے سے نہ جدا کیے جا سکتے ہیں اور نہ وہ ایک دوسرے کے مکمل عکاس ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے مابین تخیل ایک ایسا تخلیقی جغرافیہ پیدا کرتا ہے جہاں زندگی اور ادب کی سرحدیں کہیں نہ کہیں مل جاتی ہیں۔ اگر زندگی مکمل طور پر ادب کی مانند ہو جائے تو وہ زندگی نہیں رہے گی اور اگر ادب کُلی طور پر محض زندگی کا ترجمان اور عکاس ہو جائے تو افسانویت معدوم ہو جائے گی اور ادب صحافت کی طرح محض عارضی عبارت ہی رہ جائے گا۔ تضاد اور ہم آہنگی کی دوئی ہی ادب اور زندگی کو تخلیقی امتزاج کے قالب میں ڈھال دیتی ہے۔ ادب اور زندگی کا یہ جدلی تعلق ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں دنیا کی دیگر زبانوں کے ادب کے ساتھ ساتھ روسی ادب نے بھی بڑے کمالات دکھائے۔ ٹالسٹائی نے اپنے ناول ”جنگ اور امن“ میں نتاشا روستووا جیسا کردار تخلیق کیا جو کہ روایتی سیاسی معنوں میں اگر انقلابی نہ بھی تھی تب بھی وہ اس دور کے روسی سماج میں روحانی و اخلاقی شعار اور نئے قومی شعور کی نمائندہ ضرور تھیں۔ ٹالسٹائی کے ایک اور ناول آنا کاریننا میں انا سماجی اور اخلاقی بغاوت کی نقیب بن کر ابھرتی ہے۔ روایتی اور تنگ نظر روسی پدری سماج عورت کو اپنے احساسات، خواہشات اور وجودی بحرانات سے نجات تو کیا ان کے محض اظہار کی اجازت دینے سے بھی قاصر تھا لیکن انا نے اس نام نہاد اجازت کو اپنے باغیانہ وجود سے بے معنی کر دیا۔ دوستووسکی کے ناول ”جرم اور سزا“ میں سونیا مارمیلا سیاسی بغاوت سے پہلے اخلاقی بغاوت کو اہم سمجھتی ہے اور اس باغیانہ رویے کی مجسم صورت بن کر اُبھرتی ہے۔ ایوان ترگنیف کی لیزا روس کے محنت کش طبقات کی نجات کے سوال سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ یوں نئے ادب کا نیا ادب سماج کے ارتقائی عمل سے آگے بڑھ کر وہ کردار تخلیق کر دیتا ہے جو ابھی سماج میں پیدا ہی نہیں ہوتے لیکن ادب انہیں سماج سے پہلے جنم دے دیتا ہے۔ ایسے کئی کرداروں کی لمبی فہرست میں نکولائی چرنی شیفسکی کی ویرا پاولوونا روسی ادب کی ایک اور غیر معمولی اور انقلابی کردار کی حامل نسوانی شخصیت ہیں جو عورت کی آزادی، معاشی خودمختاری اور اشتراکی آدرشوں کی عکاس ہے، جو پدری سماج کے سارے رجعت پسند اور آزادی دشمن شکنجوں کو منہدم کر دیتی ہے۔
سندھ کے سماج میں بھی ستر اور اسی کی دہائیوں میں ایسے کردار نظر آئے جو روسی ناولوں میں ہمیں جابجا ملتے ہیں۔ اسی کی دہائی میں لاڑکانہ کی تحصیل قمبر کے شیخ محلے سے ایک دبلی پتلی اور دھیمے آواز والی لڑکی نمودار ہوئی جن کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ ان روسی ناولوں کی گنجان گلیوں سے ہوتی ہوئی ویرا پاولوونا کا نیا جنم لے کر نمودار ہوئی تھیں اور اب پُنر جنم انہیں سندھ کی سرزمین پر لے آیا تھا۔ تاریخ اور دنیا میں تصورات، آدرش، روایات اور تفکر کی طرح انسانی وجود بھی مختلف روپ دھار کر سفر کیا کرتے ہیں۔ وجود کا تغیر سنسار میں اپنے پھیرے لگاتا رہتا ہے۔ یہ آدرشی وجودی پھیرا ویرا پاولوونا کو اس بار سندھ میں لے آیا تھا۔ یہ اس دبلی پتلی شرمیلی لڑکی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کے اندر وہ آگ ہے جو انسان نے سب سے پہلے جلائی تھی اور جو انقلابی آدرشوں کے غیر محسوس امتزاج سے سندھ کی دھرتی کو ایک ایسا کردار عطا کرے گی جو ابھی اس سرزمین پر ناولوں میں بھی نمودار نہیں ہوئے تھے۔ ہاں شاہ لطیف کی سورمیوں میں یہ تمام اوصاف بہتے آبشار کے شور کی طرح اپنی شدت محسوس کرواتے ہیں۔ وہ شاہ لطیف کی سورمیوں کا نیا جنم تھیں۔ محض غیر روایتی نہیں بلکہ روایت شکن، بہادر، آدرشی، عاشق، مسافر، اپنے عشق اور آدرشی سفر کے راستے میں سب کچھ قربان کردینے والی، خود قیاسی کے تصور سے بھی پاک، انقلابی شعور اور شعار کی تجسیم، بظاہر کارکن دراصل رہنما، انقلابی تدبر اور حکمت عملیوں کی کاریگر، شاہ لطیف کے کرداروں کی طرح باطن میں خاص اور ظاہر میں عام کامریڈ زاہدہ شیخ!
میں ان سے پہلی بار 1987 میں ملا جب میں نے ان کا ہفت روزہ معیار کے لیے انٹرویو کیا، تب تک ان کے انقلابی وجود کی کُلیت ابھی جُز بننے کے مرحلے میں تھی۔ وہ میری بڑی بہن اور والدہ کی دوست اور میری بھی بڑی بہن تھیں۔ اس عجب لڑکی کا جنم ایک تعلیم یافتہ گھرانے اور ایسی کمیونٹی میں ہوا جہاں گھاٹے کا سودا کرنے کا تصور بھی معیوب تھا، لیکن یہ لڑکی اپنے مستقبل کے لیے ”گھاٹے کے سودے“ کا انتخاب کر چکی تھی۔ روایت پسند شریف گھرانے کی یہ لڑکی پدر شاہی سماج کی بظاہر شریفانہ روایات کے تہوں میں چھپے ہوئے طاقت کے ڈھانچوں کے تانے بانے کو سمجھے بغیر روایت شکنی کا ایک لاشعوری نامیاتی مظہر تھی۔ متوسط طبقے کے جن ”تعلیم یافتہ“ گھرانوں میں لڑکیوں کے لیے ”بہشتی زیور“ جیسی کتابیں متبرک سمجھی جاتی ہیں وہاں اس کے ہاتھوں میں ”ذلتوں کے مارے لوگ“، ”یانگ مو کا ناول“، ’’نوجوانوں کا گیت‘‘، ’’نیلی نوٹ بک‘‘، ’’ماں‘‘ اور ’’ویٹنامی کہانیوں‘‘ جیسی کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ اس کو نہیں معلوم تھا کہ وہ خود ’’نوجوانوں کا گیت‘‘ کی تاؤ چھینگ کا زندہ کردار تھیں۔ شاہ لطیف نے سورماؤں کے تصورات تخلیق کیے تھے لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ ایسے زندہ کردار سماج میں نمودار ہوں۔ زاہدہ شیخ شاہ جو رسالو کے ابیات سے ہی نمودار ہوئی تھیں۔ تاریخ میں تصورات زندہ کرداروں کو تلاش کرتے ہیں، وہ ایسے غیر معمولی کرداروں کا غیر محسوس انداز میں تعاقب کرتے ہیں، ان کے ساتھ رہنے لگتے ہیں اور بالآخر ان کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں، ہماری اور سندھ کی اس انقلابی بیٹی زاہدہ شیخ کا وجود ایک ایسا ہی مظہر تھا۔
جیسے شاہ لطیف کے لازوال کردار سسی نے اپنے پُنہوں کے لیے بھنبھور کو الوداع کہا تھا اسی طرح زاہدہ شیخ نے اپنے انقلابی آدرشوں کے لیے اپنا گھر چھوڑا، وہ سندھیانی تحریک کی بانی کارکنوں اور رہنماؤں میں سے تھیں۔ آج جو سندھیانی تحریک ملک میں خواتین کی سب سے منظم، عوامی اور انقلابی تنظیم ہیں تو اس میں زاہدہ شیخ جیسی سورماؤں کے وہ گھر گھر اور گلی گلی اور گاؤں گاؤں کے انتھک سفر شامل ہیں جو کبھی میڈیا کی زینت نہیں بنتے، ان کی کوئی خبر نہیں آتی اور یہی ان کے جوہر اور محرک کا حقیقی حسن ہوتا ہے۔ میں نے اسی کی دہائی سے لے کر ایک بھائی اور ساتھی کے طور پر ان کو قریب سے دیکھا اور دیکھنے والے کے پاس حیرت اور فخر کے احساسات کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ کالاباغ ڈیم کے خلاف سندھ کی مثالی تحریک ہو، سندھ میں شہری دہشت گردی کا اژدھا سامنے ہو، جاگیرداری اور بدبودار قبائلی نظام کی آزادی دشمن اور انسان دشمن شکلیں ہوں، سندھ کی وحدت کو درپیش خطرات ہوں، ننگی آمریت ہو یا ملک میں جعلی جمہوریت کے ناٹک ہوں، اپنے دریا اور وطنی وحدت کی پرامن جمہوری جنگ ہو، زاہدہ شیخ ہر جگہ ایک انقلابی شیرنی کی طرح گرجتی تھیں، وطن کی انقلابی بیٹی کی طرح دل میں اس کے تحفظ کا تہیہ کر لیتی تھیں اور یہ تہیہ ایسا ہی رہا جیسا کہ فیض صاحب نے کہا تھا کہ
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
زاہدہ شیخ نے اس تہمتِ عشق کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا۔ تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک وہ جدوجہد کے بازار میں پابجولاں چلتی رہیں، مست رقصاں اور خوں بداماں چلتی رہیں، ان کی راہ کو روایتی اور آدرشوں کے جوہر اور جرات سے محروم لوگ طنز اور قیاسی نظروں سے دیکھتے رہے اور وہ اپنے قافلے اور سفر کو ”سب شہرِ جاناں“ بنا کر چلتی رہیں۔ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی زاہدہ شیخ پورے سندھ میں دیہاتی خواتین کے ساتھ عام بسوں میں انقلابی تبلیغ اور تنظیم کاری کے لیے ہر وقت روبہ سفر رہتیں۔ وہ ”انگارے‘‘ والی ڈاکٹر رشید جہاں کا نیا روپ تھیں، بہادر، نڈر، روایت شکن اور انتھک۔ لوگ اچھے اور بڑے کام بھی کرتے ہیں لیکن اس کو عیاں کرنا بھی لازمی سمجھتے ہیں، زاہدہ شیخ کی مٹی اور طرح کی تھی، انقلابی آدرشوں کے کوزہ گر نے ان کے باطن کی تشکیل دریا کے اس پوتر پانی سے کی تھی جس کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ خود اپنے قطرے میں مکمل دریا ہوتا ہے، جیسے دھرتی کی چیکی مٹی اپنے ذرے کو بھی دھرتی سمجھتی ہے۔ زاہدہ شیخ اس لحاظ سے بھی کمال تھیں کہ وہ بڑے اور خاص کام بھی عام سمجھ کر کرتی تھیں، بڑے لوگ اندر میں ایسے ہی ہوتے ہیں۔
زاہدہ شیخ سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کمال پڑھاکو انسان تھیں، ان کو بولنے اور لکھنے کا سلیقہ بھی خوب آتا تھا۔ رسول بخش پلیجو کی آخری زوجہ تھیں، میں ان کے گھر کا فرد تھا۔ پلیجو صاحب کے بیڈ روم میں لمبی نشستیں کرنے کا حق اور اختیار مردوں میں زندگی بھر صرف مجھے حاصل تھا۔ پلیجو صاحب اور میں ادب، سیاست اور تاریخ پر لمبی لمبی نشستیں کرتے اور وہ اپنے معمول کے کام بھی کرتیں اور ہمارے ساتھ بھی گفتگو اور بزم میں شامل رہتیں۔ جہاں رائے کا اختلاف محسوس ہوتا تو بلا جھجک برملا اس کا اظہار کرتیں چاہے وہ بات میری ہو یا پلیجو صاحب کی۔ پلیجو صاحب خود ایک یگانہ انسان تھے، کل وقتی انقلابی، سیاسی اور عالمانہ زندگی گزارتے تھے لیکن اگر 1986 میں سات سالہ جیل کی قید کے بعد اگر ایسی زندگی گزارنا ان کے لیے ممکن تھا تو اس کے پیچھے کامریڈ زاہدہ شیخ تھیں۔ انقلاب اور سندھ کی طرح ان کا پلیجو صاحب سے بھی والہانہ عشق تھا۔ اگرچہ پلیجو صاحب ان کے فکری، علمی اور سیاسی استاد بھی تھے لیکن وہ خوش قسمت تھے کہ زندگی کے آخری دور میں ان کو کامریڈ زاہدہ شیخ جیسی ہم سفر اور شریکِ حیات ملیں۔
بڑے لوگ اپنے مزاج میں فقیر ہوتے ہیں، میں نے زندگی میں زاہدہ شیخ کو اپنے وجود میں فقیر پایا، ایسے فقیر جو زندگی میں عملی طور پر نظر کم آتے ہیں وہ تو شاہ لطیف کے سر رام کلی میں نظر آتے ہیں۔ وہ رام کلی کی جوگن تھیں، انقلابی اور آدرشی جوگن۔ قربانی کو فرض سمجھا، روایت شکنی کو غالب کی زبانی ”تمنا کا دوسرا قدم“ سمجھا، زندگی کو عشق میں تمام کرنے کا سامان سمجھا، ذاتی غم کو کبھی اظہار کی اجازت نہ دی، خوشی کو لمحے کا انعام سمجھا، سفر کو زندگی کی معنویت سمجھا، حاصل کو لاحاصل کا حادثہ سمجھا، شعور کو ناکافی اور ارپنا اور کمٹمنٹ کو شعار کا شیوہ سمجھا، وقت کو آدرشوں کی امانت اور احساس کو خلوت کا وجودی راز سمجھا۔ ایسی ہی تھیں ہماری اور سندھ کی کامریڈ زاہدہ شیخ!
کچھ لمحے ابھاگی ہوتے ہیں، وہ درد کی شدت بڑھا دیتے ہیں، محرومی کا احساس رَستے وجودی زخم کی طرح گہرا اور تازہ کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک لمحے میں چھ جنوری 2018 کو خبر آئی کہ کامریڈ زاہدہ شیخ حیدرآباد سول ہسپتال لال بتی میں ہیں۔ خبر سن کر وجود لرز گیا، غیر یقینی کی دلدل میں ڈوبتے دل کے ساتھ لال بتی پہنچا تو سامنے اسٹریچر پر وہی اسی کی دہائی کی دبلی پتلی لڑکی پرکیف سوئی ہوئیں تھی۔ پلیجو صاحب بھی گہری اداس خاموشی میں چپ چاپ کھڑے تھے، کوئی کسی سے کہتا بھی تو کیا کہ فیض صاحب کے الفاظ میں دلِ وحشی نے ٹھہرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انقلابی آدرشوں اور جہد کی حرارت سے گرم وجود سرد ہو چکا تھا، ایسی حالت میں گہری خاموشی ہی خود فریب دلاسا دے سکتی تھی۔ ان سے بے تکلفی تھی، دل کا اور آدرشوں کا اٹوٹ رشتہ تھا، ان کے تیس سالہ انقلابی زندگی کے تمام سفر کے عکس اور پرچھائیاں میرے تصور کی اسکرین پر متحرک تھیں۔ مجھے لگا کہ جیسے وہ واپس ان انقلابی ناولوں میں چلی گئیں جہاں سے آئیں تھیں اور سرخ سویرے میں دوبارہ ملنے کا وچن دے کر چپ چاپ اَلوپ ہو گئیں!







Thanks for introducing with such a great personality