طاقت کی بانسری

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ میں جھانکنا پڑے گا، بہت زیادہ تاریخ میں جانا شاید مضر صحت ہو، اس لیے چند ایک مثالیں کافی ہوں گی، اور یاد رہے یہ مثالیں نظریات، دھرم، کرم اور بھرم سے ماورا ہوں گی، کیونکہ طاقت کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ہاں البتہ نظریات و دھرم ٹولز (tools) ضرور ہوتے ہیں، جن کا استعمال بوقت ضرورت کیا جاتا ہے، ہر دور کے لحاظ سے صرف طریقہ کار بدلتا ہے، گزشتہ دو ہزار سال میں جتنی سلطنتیں گزریں سب کا کم و بیش ایک ہی طریقہ واردات ہے یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس، پھر تیری بھینس کی۔
چند سو سال پہلے سلطنت عثمانیہ گزری، جب انہوں نے نعرہ لگا کر اپنے علاقے کو وسعت دینا شروع کی تو مملوکوں پر چڑھ دوڑے جو مسلمان تھے لیکن ترکوں کی طاقت کو کورنش بجا لانے پر آمادہ نہیں تھے، یوں مصر، شام، اور فلسطین جیسے علاقے سلطنت عثمانیہ میں آ گئے اور ”محفوظ“ ہو گئے، یہی مملوکوں کے خلاف عثمانیوں کا ٹرمپ کارڈ تھا، آئندہ نسلوں کے لیے تاریخ دانوں نے مملوکوں کی بینڈ بجا دی، ایسی بجائی کہ آج بھی سلطنت عثمانیہ پر بڑے بڑے ڈرامے بنا کر کمزور ملکوں کی عوام کی بینڈ بجانے کے لیے دکھائے جاتے ہیں، اسی طرح حجاز، جزیرہ نما عرب ( سعودی عرب، مڈل ایسٹ) اور دوسری طرف بالکنز (مشرقی یورپ) میں چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستیں بھی عثمانیوں کے ٹرمپ کارڈ کا شکار ہوئیں، صرف طریقہ کار ڈائریکٹ تھا اور آج کل ان ڈائریکٹ۔
جب سوویت یونین اپنا نظریہ لے کر میدان میں اترا تو اس نے بھی ایسا ہی ڈائریکٹ اور کہیں کہیں ان ڈائریکٹ طریقہ کار استعمال کیا، بہت سی ہمسایہ ریاستوں کو دھمکایا، ورغلایا اور کہیں للچایا، جو مان گئیں وہ ٹھیک جو نہ مانیں وہ سوویت بانسری کی دھنیں سنتی رہیں تا وقت کہ تقریباً مذہب بن چکا وہ نظریہ پتھریلے پہاڑوں میں کہیں لاپتہ ہو گیا۔
فخر کرنے کے لیے جو تاریخ ہمیں پڑھائی جاتی ہے اس میں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے آبا دوسرے ممالک کو صرف پیغام بھیجتے تھے کہ ہمارا نظریہ قبول کرو، مذہب میں آ جاؤ یا ٹیکس دو، نہیں تو لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ، پھر وہ حملہ آور ہوتے تھے، مانند برق، خدائی تلواریں ہاتھ میں پکڑے ان کی پٹائی اور ٹھکائی کرنے کے بعد ان کی عورتیں تک بانٹ لیتے تھے، یعنی کہ انتہائی ڈائریکٹ طریقہ، آج بھی ہمارے رائٹ ونگ کے اسکالرز، وہ بھی جو بیچ بیچ میں انگریزی کے مشکل لفظ بول سکتے ہیں ان واقعات کو سناتے ہوئے پھولے نہیں سماتے، سیاسی لیڈر اس دور کی مثالیں دے کر عوام کو ویسی ہی ریاستیں بنانے کے باغ دکھاتے ہیں۔
آج کی تاریخ میں (بظاہر) پرامن اور ترقی یافتہ ریاستیں جو کسی جنگ کا حصہ نہیں لیکن ترقی کر رہی ہیں اور ان کے عوام پھل پھول رہے ہیں، یاد رہے یہ تمام ریاستیں کسی نہ کسی صورت طاقتور ممالک کو جزیہ ادا کر رہی ہیں، ہاں لیکن اگر جب بھی کسی طاقتور ترین ملک کو ان ممالک کے کسی بھی علاقے کی ضرورت پڑی تو وہ کسی جزیے کی پرواہ نہیں کرے گا، باقی رہے نام اللہ کا۔
مثالوں کا ایک انبار ہے، قصہ مختصر، دنیا میں ہمیشہ نظریات بلا دھرم و نا دھرم صرف اوزار ہیں، دنیا کی تمام لڑائیاں اور جنگیں وسائل پر قبضے کی ہیں، باقی کھبا، سجا صرف رعایا کے لیے ہے، طاقتوروں کا نظریہ صرف طاقت ہے۔
طاقتوروں کے لیے رعایا اور بین الاقوامی قانون صرف باسو، دانو اور ہاشو ہے۔
